کیا ہم نے کبھی فرض سے انکار کیا؟


 

ایس بی جون

” مجھے اکثر یہ شکایت سننے کو ملتی تھی کہ ہم کرسچن لوگوں کو آگے بڑھنے کے کم مواقع ملتے ہیں۔ میں ہمیشہ اُنہیں کہتا کہ اقلیت کو اکثریت کا مقابلہ کرنے کے لئے بہت سخت محنت کرنا پڑتی ہے اور یہ ایک عالمی حقیقت ہے۔ فنکار کو اُس کے مذہب اور نام سے نہیں اُس کے کام سے واہ واہ یا ستائش ملتی ہے۔ مجھے بھی میری عمر بھر کی محنت اور کاوشوں کا صلہ 2011 میں مِلا جب صدرِ پاکستان نے مجھے تمغہ حسن کارکردگی دیا“ ۔ یہ بات مجھے سنی بنجامن جون المعروف ایس بی جون (اکتوبر 1930 سے جون 2021 ) نے اپنے انٹرویو کے دوران بتائی۔

جون بھائی نے 1959 میں نمائش کے لئے پیش ہونے والی فلم ’سویرا‘ میں ماسٹر منظور حسین شاہ عالمی والے کی موسیقی میں فیاضؔ ہاشمی صاحب کا لکھا ہو گیت ریکارڈ کرایا جو مقبول زدِعام ہو کر ایس بی جون کی شخصیت کا حصہ بن گیا۔ آج یہ گیت کلاسیِک کا درجہ حاصل کر چکا ہے :

تو جو نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے
یہ مانا کہ محفل جواں ہے حسیں ہے

آج 66 سال بعد بھی جَون بھائی کی آواز میں یہ گیت روزِ اول کی طرح مقبول ہے۔ اِس گیت کو بعد کے آنے والے فنکاروں نے بھی ٹیلی وژن چینلوں پر پیش کیا۔ لیکن جَون بھائی کے گائے ہوئے گیت کی نقل کوئی نہ کر سکا۔ ایس بی جون نے 1971 کی جنگ میں ساقی جا وید کے لکھے ہوئے ایک ملی نغمے کو کمپوز کیا اور اپنی آواز میں ریکارڈ کروایا۔

اے ارضِ وطن تو ہی بتا تیری صدا پر
کیا ہم نے کبھی فرض سے ا نکار کیا ہے

گویا پاکستان کی اقلیتیں کہہ رہی ہیں کہ جنگ ہو یا امن! ہم نے اپنے فرائض نہایت ذمہ داری سے ادا کیے اور جنگوں میں اپنے وطن کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ بھی پیش کیا مثلاً

ائر کموڈور بلونت کمار داس

ائر کموڈور بلونت کمار داس 1948 اور 1965 کی جنگوں میں لڑنے والے واحد ہندو افسر تھے۔ یہ پاک فضائیہ کے پہلے سینئر ہندو افسر ہیں جنہوں نے 1948 اور 1965 کی جنگیں لڑیں۔ ان کی اہمیت قطعاً کسی سے کم نہیں۔

میجر جنرل کیزاد مانیک سوپاری والا

پاکستانی فوج کے ایک اور اعلیٰ افسر میجر جنرل کیزاد مانیک سوپاری والا کا تعلق پارسی مذہب سے تھا۔

اسکواڈرن لیڈر پیٹر کرسٹی

’ ماسٹر فائٹر‘ کا خطاب پانے والے اسکواڈرن لیڈر پیٹر کرسٹی 7 ویں بمبار اسکواڈرن کے نیویگیٹر تھے۔ انہیں 1965 کی جنگ کے دوران B۔ 57 اڑانے پر ستارہ جرات سے نوازا گیا۔ اسکواڈرن لیڈر پیٹر کرسٹی 6 دسمبر 1971 کو بھارتی ائر فورس کے بیس جام نگر کی اینٹ سے اینٹ بجا کر واپسی پر ملک اور قوم کی خاطر شہید ہو گئے۔ انہیں تمغہ جرات ( 1965 ) ، ستارہ جرات ( 1971 ) سے نوازا گیا۔


اسکواڈرن لیڈر سیسل چوہدری

پھر سسل چوہدری کا نام بھلا کوئی کیسے بھول سکتا ہے۔ یہ 1965 کی جنگ میں لاہور شہر کے اوپر ڈاگ فائٹ اور 6 ستمبر ہلواڑہ ایر بیس کے ”رن وے“ کی اینٹ سے اینٹ بجا کر ’ہلواڑہ پیٹنے‘ والے معرکہ کے ہیرو ہیں۔ ہم ان کے یوں بھی شکر گزار ہیں کہ ان کے وجہ سے نیا محاورہ ”ہلواڑہ پیٹنا“ وجود میں آیا۔ سیسل چوہدری نے 1971 کی جنگ میں اسکواڈرن لیڈر کی حیثیت سے بھی حصہ لیا۔ انہیں 1965 کے معرکہ میں ستارہ جرات اور 1971 کی جنگ میں تمغہ جرات دیا گیا۔ جون بھائی کا ایک امتیاز یہ بھی ہے کہ سیسل چوہدری اُن کی بیٹی کے چچا سسر تھے۔ یہ میرے لئے بھی ایک اعزاز ہے کہ میں لاہور میں دو مرتبہ جناب سیسل چوہدری سے ملا۔

ائر وائس مارشل اور ڈپٹی چیف آف ائر سٹاف ایرک گورڈن ہال

ایرک گورڈن ہال بھی ایک اہم نام ہے۔ یہ 1922 میں برما کے ایک عیسائی گھرانے میں پیدا ہوئے جو بعد میں لاہور منتقل ہو گیا۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز فائٹر پائلٹ کے طور پر کیا او ر 1943 میں رائل ائر فورس میں بھرتی ہوئے۔ تقسیم کے بعد انہوں نے پاکستان ائر فورس میں خدمات انجام دینے کا فیصلہ کیا اور رسالپور میں پی اے ایف بیس پر تعینات ہوئے۔ 1948 کی جنگ کے دوران انہوں نے نمبر 6 اسکواڈرن میں خدمات انجام دیں۔ بالآخر وہ ائر وائس مارشل اور ڈپٹی چیف آف ائر سٹاف کے عہدے پر فائز ہوئے۔ 1965 کی جنگ میں انہوں نے پاکستان کے اٹامک انرجی کمیشن کے بانی چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دیں اور ڈرامائی مہم جوئی ’ہرکولیس بمبار‘ کی منصوبہ بندی کی۔ انہیں ہلالِ جرات، ہلالِ امتیاز اور ستارہ جرات سے نوازا گیا۔

ائر کموڈور نذیر لطیف

ائر کموڈور نذیر لطیف 1927 میں راولپنڈی کے ایک عیسائی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کو 1965 اور 1971 کی جنگوں میں دو مرتبہ ستارہ جرات سے نوازا گیا۔ نذیر لطیف کا شمار پاک فضائیہ کے نامور ہوا بازوں میں ہوتا تھا۔ ان کا انتقال 2011 میں ہوا۔

ونگ کمانڈر مروین لیسلی مڈل کوٹ

1940 میں پیدا ہونے والے ونگ کمانڈر مروین لیسلی مڈل کوٹ نے پاکستان ائر فورس میں فائٹر پائلٹ کے طور پر خدمات انجام دیں۔ کمانڈر لیسلی کا تعلق لاہور کے ایک عیسائی گھرانے سے تھا۔ انہیں 1965 کی جنگ میں ستارہ جرات اور 1971 کی جنگ میں ستارہ بسالت دیا گیا۔ انہوں نے 1968 میں اُردن اسرائیل تنازعہ میں بھی حصہ لیا تھا جس پر انہیں اردن کے اعلیٰ ترین فوجی اعزاز سے نوازا گیا۔ کمانڈر لیسلی 1971 کی جنگ کے دوران پاکستان کا دفاع کرتے ہوئے شہید ہو گئے۔ ان کی شہادت کے بعد اردن کے شاہ حسین نے ان کی اہلیہ کو خط میں لکھا: ”بہن! کمانڈر لیسلی کی موت میرا ذاتی نقصان ہے، میری خواہش ہے کہ جب لیسلی کی میت کو پاکستان کے پرچم میں لپیٹ کر آخری رسومات کے لیے رکھا جائے تو برائے مہربانی اس کے سر کے نیچے اردن کا پرچم رکھ دیں“

میجر جنرل جولین معظم جیمز

پاکستان کی 76 سالہ تاریخ میں کئی مسیحی افسران میجر جنرل کے عہدے تک پہنچے۔ ان میں میجر جنرل جولین معظم جیمز، میجر جنرل نول اسرائیل کھوکھر اور میجر جنرل جولین پیٹر شامل ہیں۔ میجر جنرل جولین معظم جیمز اسپیشل سروسز گروپ کے پہلے عیسائی کمانڈو افسر کے طور پر قابل ذکر ہیں جنہیں میجر جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی۔ میجر جنرل جولین معظم جیمز کے بڑے بھائی فرخ جیمز نے بھی فوج میں خدمات انجام دیں اور بطور میجر ریٹائر ہوئے۔

کامران بشیر مسیح

ابھی حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران ہمارے کامران مسیح کا بھی بہت نام ہوا اور بھرپور پذیرائی ہوئی۔ کامران مسیح ملک بھر میں نسلی اور مذہبی حدود سے بالاتر ہو کر اتحاد کی علامت بن گئے۔ ان کو عوامی خراج تحسین ڈیجیٹل انداز میں بھی پیش کیا گیا۔ جلد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی ایک ٹرینڈنگ موضوع بن گیا۔ لائیو کوریج اور وائرل مواد نے اس کی کہانی کو دنیا بھر میں مقبول کر دیا۔

بات شروع ہوئی تھی کہ پاکستان کی اقلیتوں نے امن و جنگ میں اپنا بھرپور فرض نبھایا اور یہ اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر ثابت بھی کیا۔ پاکستان زندہ باد۔ پاکستان کی اقلیتیں زندہ باد!

Facebook Comments HS