تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد


ایوب خان کا دور، جو اکثر سنہری دور کہلایا جاتا ہے، اتنا چمک دار تھا کہ آنکھیں چندھیا جائیں۔ ملک میں دن دونی اور رات چوگنی ترقی کا ایسا شور تھا کہ اگر کسی نے رات کو آنکھ کھولی تو لگا جیسے کوئی نیا صنعتی انقلاب برپا ہو چکا ہو۔ سڑکیں، ڈیم، صنعتیں اور وہ مشہور و معروف ”ترقی“ جو صرف چند خاص علاقوں اور خاص طبقات تک محدود تھی۔ سب ایوب خان کی حکومت کے چمکتے دمکتے کارنامے تھے۔ ترقی ایسی تھی جیسے شادی کی ویڈیو میں صرف دولہا کے قریبی رشتہ داروں کو فوکس کیا گیا ہو، باقی سب دھند میں گم۔ سڑکیں بنیں، ڈیم کھڑے ہوئے، صنعتیں کھڑی ہو گئیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے کوئی دکان کے شو کیس میں صرف مہنگے برانڈز رکھے، اور اندر رکھے پرانے مال پر پردہ ڈال دے۔

خود کو فیلڈ مارشل بنانے والے ایوب خان کے طرز حکمرانی کے قصیدے کچھ ایسے گائے گئے کہ یوں محسوس ہوا جیسے پاکستان کو ایک پیارے، فرمانبردار، اور تھوڑے سے آمر باپ کی ضرورت تھی، جو لاٹھی سے بھی پیار کرتا ہے اور تقریر میں جمہوریت کا ذکر بھی۔ ایک ایسا حکمران جو عوام کو ”غیر ضروری آزادی“ سے بچا کر رکھتا تھا، تاکہ وہ کہیں اپنی قسمت کے فیصلے خود نہ کرنے لگیں۔ شاید اسی لیے کسی دل جلے نے، جو سوشل اسٹڈیز کی کتاب پڑھتے ہوئے جذباتی ہو گیا ہو گا، دل سے کہا ہو گا ”تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد ۔“ یعنی ایوب خان کے جانے کے بعد ہمیں احساس ہوا کہ آمر ہو تو ایسا ہو! جو کم از کم صاف کپڑے پہنتا تھا، انگریزی بولتا تھا اور معیشت کے گراف کو ویسے ہی سیدھا رکھتا جیسے ایک فوجی اپنی لائن۔ مگر سوال یہ ہے کہ لوگ انہیں یاد کیوں کرتے ہیں؟ یقیناً ہر کسی کی وجہ مختلف ہے : سرمایہ داروں کو یاد آتا ہے وہ دور جب صرف چند فیکٹریوں میں ترقی ہوتی تھی، جیسے شربت میں چینی، نیچے بیٹھے عوام کے حصے میں صرف پانی آتا تھا۔

ایوب خان دورِ حکومت کو جمہوریت کا ہلکا سا رنگ دے کر پیش کیا گیا، جیسے کسی تلخ قہوے میں چینی کا ایک دانہ۔ تاکہ کڑواہٹ مکمل محسوس نہ ہو۔ ”بنیادی جمہوریت“ ایسی چیز تھی جیسے کسی بچے کو کھلونا تھما کر کہا جائے : ”دیکھو، تم بھی اب بڑے ہو گئے ہو!“

سیاستدانوں کو یاد آتا ہے کہ کیسے ایوب خان نے سیاست کو اتنا نچوڑا کہ وہ ”بنیادی جمہوریت“ کے نام پر بس چند چنے ہوئے افراد تک محدود ہو گئی۔ جمہوریت تھی، مگر صرف ایلیٹ کلب کے ممبران کے لیے۔ طلبا کو یاد آتا ہے کہ کیسے احتجاج کرنے پر ان پر گولیاں چلتی تھیں، مگر امن و امان کی تعریف میں حکومتی ترجمان ان کا ذکر تک نہ کرتے تھے۔ ادیب اور صحافی شاید اس لیے یاد کرتے ہیں کہ اُن دنوں قلم کو اتنا توانا بنایا گیا کہ وہ صرف حکومت کے حق میں لکھنے کی طاقت رکھتا تھا۔ آزادیٔ اظہار کی سہولت تھی، بس شرط یہ تھی کہ اظہار حکومت کا پسندیدہ ہو۔ ایوب خان کے جانے کے بعد بھی اُن کی روح پاکستانی سیاست پر چھائی رہی۔ کبھی جنرل کے روپ میں، کبھی مارشل لا کے سائے میں، اور کبھی ”کنٹرولڈ ڈیموکریسی“ کے ماڈل کی شکل میں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اُنہیں یاد کرنے والے آج بھی فخریہ کہتے ہیں ”ہم نے ترقی دیکھی ہے، مگر صرف ٹی وی پر۔“

ان کے حامیوں کے نزدیک وہ ایک عظیم منتظم، صاف ستھرا فوجی اور انگریزی بولنے والا باپ جیسا حکمران تھا۔ جو اپنی عوام کو اتنی ہی آزادی دیتا تھا جتنی کسی پرانے زمانے کے اسکول ماسٹر کی چھڑی کے سائے میں بچے کو ملی ہو۔

سرمایہ داروں کو وہ دور یوں یاد آتا ہے جیسے پرانی فیکٹری کی مشین جسے صرف اونچا طبقہ چلاتا تھا، نیچے کھڑے مزدور صرف شور برداشت کرتے تھے۔ سیاست دانوں کو یاد آتا ہے کہ کیسے انہیں صرف اتنی آزادی دی گئی جتنی مرغی کو پنجرے میں پر پھیلانے کی اجازت ہوتی ہے۔ خوبصورتی سے قابو، نظم سے پابند۔

اس دور کے طلبا کا تو نصیب ہی خراب تھا۔ اگر آواز بلند کی تو جواب میں گولی ملی، اور اگر خاموش رہے تو نصاب میں ترمیم۔ تب کے اخبارات ایسے تھے جیسے پرانے گراموفون، صرف ایک ہی ریکارڈ بار بار چلتا: ”حکومت کی تعریف، حکومت کی تعریف، حکومت کی تعریف۔“

ادیبوں اور صحافیوں کی حالت ایسے تھی جیسے شاعری کی محفل میں وہ شاعر جو صرف بادشاہ کی شان میں قصیدے کہنے پر انعام پاتا ہو۔ باقی سب صرف داد کے امیدوار۔

ایوب خان کے جانے کے بعد بھی اُن کا اندازِ حکمرانی ویسا ہی مقبول رہا جیسے پرانی فلموں کا ولن، کبھی وردی میں، کبھی سوٹ میں، کبھی کنٹرولڈ ڈیموکریسی کے لبادے میں۔ جمہوریت، آزادیٔ اظہار اور عوامی رائے جیسے الفاظ صرف تقریروں میں اچھے لگتے تھے، جیسے شادی کارڈ میں لکھا ہوا ”سادگی سے انجام پائے گی“ حقیقت اس کے برعکس۔

تو جب کوئی آج کہتا ہے ”ہم نے ترقی دیکھی ہے“ ، تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی دادا ابو کہہ رہے ہوں ”ہم نے چاند پر قدم رکھا تھا۔ خواب میں۔“

ایوب خان کا دور واقعی یادگار تھا۔ بالکل ویسا ہی جیسے پرانی ڈائری کا وہ صفحہ جس پر صرف سنہرے خواب لکھے ہوں اور نیچے دھندلا سا نوٹ:

”حقیقت کیا ہے؟ بعد میں دیکھی جائے گی۔“

Facebook Comments HS

نعمان یاور

نعمان یاور پرنٹ اور الیکٹرانک صحافت میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور ان دنوں ایک نجی ٹی وی چینل سے وابستہ ہیں

nauman-yawar has 153 posts and counting.See all posts by nauman-yawar

2 thoughts on “تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد

  • 22/05/2025 at 3:23 شام
    Permalink

    معاملہ ایسا بھی نہیں تھا۔
    رہا طالب علم یا مزدور تو اگر اس کو ایوبی دور میں گولی ملی تو کیا اس کے بعد کے ادوار میں روح افزا پلایا جاتا تھا۔
    حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ "اچھا” اس دور میں ہوا اسی کو مثال بناکر بھٹو نے صنعتوں اداروں کمپنیوں ہوٹلوں تعلیمی اداروں اور بنکوں کو قومیالیا۔ اس کے بعد آج کی تاریخ میں کسی بھی چیز کا موازنہ ممکن ہی نہیں ہے۔
    ایوب، مشرف اور ضیا ادوار جیست بھی تھے عوم کے پیٹ میں روٹی جارہی تھی، نلکے میں پانی آتا تھا۔ تار میں بجلی ہوتی تھی۔ اسپتال میں دوا مل جاتی تھی اسکول میں داخلہ اور بغیر سفارش نوکری بھی۔
    ان ادوار کا واحد مسئلہ یہ ہوتا تھا کہ بس بھونکنے کی آزادی نہیں ہوتی تھی۔

    • 22/05/2025 at 4:04 شام
      Permalink

      1952 میں دلیپ کمار کی ہندوستانی فلم "آن” میں ایک گانا جس کے شاعر شکیل بدایونی تھے۔
      تجھے کھو دیا ہم نے پانے کے بعد تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد
      بھٹو کے دور میں جب لوگوں کا سرمایہ صفر ہوگیا اور آدھا پاکستان ویسے بھی جاچکا تھا تو پاکستان بھر میں چلنے والے ٹرکوں کے پیچھے ایوب خان کی تصویر نمودار ہونا شروع ہوگئی جس کے نیچے محض لکھا ہوتا تھا
      "تیرے جانے کے بعد، تیری یاد آئی

      اس زمانے میں زیادہ چلن صوبہ سرحد کے ٹرکوں میں زیادہ تھا۔ 1988 کے بعد یہ یاد کبھی کبھارضیا صاحب کی تصویر کے ساتھ نظر آنا شروع ہوگئی تھی۔
      اس مضمون میں متعدد باتیں ایسی ہیں جو بھٹو کے دور میں مارکیٹ کی گئیں اور اب آج کا نام نہاد پڑھا لکھا طبقہ اس کو حرف آخر اور سچ سمجھتا ہے۔ وگرنہ ایوب کے دس سال میں معاملات اتنے برے بھی نہیں تھے ۔
      فوجی حکمرانوں کا المیہ یہ ہوتا ہے کہ ان کے جانے کے بعد ان کی legacy کو بڑھانے والا کوئی نہیں ہوتا یوں راتوں رات ان کے کئے کرائے پر پانی پھر جاتا ہے۔

Comments are closed.