لارنس آف عربیہ: ایک متنازع تاریخی کردار


الحمرا آرٹ کونسل کے زیر اہتمام مختلف تقریبات منعقد ہوتی ہیں۔ ادبی ہو یا تخلیقی کسی علاقے کی روایت ہو یا ثقافتی ورثہ۔ ان میں جا کر ہمیشہ احساس طراوت ہوتا ہے۔ پچھلے دنوں لارنس ان لاہور کے عنوان سے اجوکا تھیٹر کے زیر اہتمام چند نئے چہروں کے ساتھ دلچسپ کھیل دیکھنے کا ملا۔ جس میں ہر اداکار کی اداکاری اس کے فن کے عروج کا منہ بولتا ثبوت تھا۔

پا منظر اتنا جاندار تھا کہ پیش منظر کی تو کیا ہی بات ہوتی۔ اسے دیکھتے ہی خیال گزرا کہ لارنس آف لاہور کی متنازع شخصیت کا کچھ بیان ہو جائے۔

لارنس آف عربیہ کا اصل نام تھامس ایڈورڈ لارنس تھا، جو ایک برطانوی ماہرِ آثارِ قدیمہ، فوجی افسر اور مصنف تھا۔ اس کا شمار ان افراد میں ہوتا ہے جنہوں نے پہلی جنگ عظیم کے دوران عرب بغاوت میں نہ صرف فعال کردار ادا کیا بلکہ عرب دنیا کی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ مغربی دنیا میں اسے ایک ہیرو اور مہم جو کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، مگر مشرقی مؤرخین کی نظر میں وہ ایک سامراجی منصوبے کا حصہ اور عربوں کے ساتھ فریب دہی کا علامتی چہرہ ہے۔

پہلی جنگ عظیم کے دوران سلطنتِ عثمانیہ نے جرمنی کے ساتھ اتحاد کر کے برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف محاذ کھولا۔ برطانیہ نے عرب قبائل کو سلطنتِ عثمانیہ کے خلاف ابھارنے کے لیے خفیہ سفارت کاری کی، اور اسی منصوبے کے تحت لارنس کو عرب دنیا میں متحرک کیا گیا۔ اس نے شریف حسین اور ان کے بیٹے فیصل سے روابط قائم کیے، اور عرب قبائل کو گوریلا جنگ کی تربیت دی۔ اس کا سب سے نمایاں کارنامہ عقبہ شہر کی فتح تھا، جو جنگی حکمت عملی کا مثالی نمونہ سمجھا جاتا ہے۔

لارنس کی موجودگی نے عرب بغاوت کو ایک منظم شکل دی، مگر اس کا اصل مقصد برطانوی مفادات کا تحفظ تھا۔ اس نے عربوں کو آزادی کا خواب دکھایا، جبکہ برطانیہ خفیہ طور پر فرانس کے ساتھ سائیکس۔ پیکو معاہدے کے ذریعے مشرق وسطیٰ کی تقسیم کا منصوبہ بنا چکا تھا۔ اس دوغلی پالیسی نے عرب قوم پرستوں کو گہرے دھوکے میں مبتلا کیا۔

لارنس ایک پیچیدہ شخصیت کا حامل تھا۔ وہ ایک طرف مشرقی تہذیب کا مداح نظر آتا ہے، اور دوسری جانب سامراجی نظام کا فعال رکن بھی۔ اس کی خودنوشت Seven Pillars of Wisdom نہ صرف اس کی یادداشتوں پر مشتمل ہے بلکہ اس میں اس کے اندرونی تضادات اور اخلاقی کشمکش بھی جھلکتی ہے۔ وہ عربوں کی بہادری اور خلوص کا معترف تھا، مگر برطانوی پالیسی کے تحت کام کرنے پر مجبور رہا۔

اس کے خط اور تحریریں ظاہر کرتی ہیں کہ وہ اپنی پالیسیوں کے اخلاقی پہلو سے نالاں تھا، خصوصاً جب اسے احساس ہوا کہ عربوں سے کیا گیا وعدہ محض ایک سیاسی چال تھا۔ اس احساس ندامت نے اسے جنگ کے بعد خاموش زندگی اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔

لارنس آف عربیہ کی شخصیت پر دو متضاد زاویہ ہائے نظر پائے جاتے ہیں۔ مغربی مؤرخین اور میڈیا نے اسے ایک رومانوی ہیرو اور مشرق وسطیٰ کا نجات دہندہ بنا کر پیش کیا۔ 1962 کی فلم Lawrence of Arabia نے اس تاثر کو مزید تقویت دی۔ تاہم مشرقی مؤرخین خصوصاً عرب اہلِ قلم نے اسے سامراجی دھوکہ باز اور عربوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے والا شخص قرار دیا۔ ایڈورڈ سعید جیسے نقادوں نے لارنس کو ”استعماری تخیل“ کی علامت قرار دیا ہے۔

لارنس آف عربیہ کی شخصیت نہایت متنازع اور پیچیدہ ہے۔ وہ بیک وقت ایک محبِ مشرق، سپاہی، مصنف اور سامراجی پالیسی کا آلہ کار تھا۔ تاریخ اسے نہ مکمل طور پر ہیرو مانتی ہے نہ مکمل طور پر غدار، مگر اس کی کہانی مشرق وسطیٰ کی تاریخ کے ایک اہم اور تلخ باب کی نمائندگی ضرور کرتی ہے۔ آج بھی جب مشرق وسطیٰ میں سامراجی اثرات کا تجزیہ کیا جاتا ہے، لارنس آف عربیہ کا نام ایک مرکزی کردار کے طور پر سامنے آتا ہے۔

 

Facebook Comments HS

One thought on “لارنس آف عربیہ: ایک متنازع تاریخی کردار

  • 23/05/2025 at 10:18 صبح
    Permalink

    لارنس کی زندگی عرب بغاوت اور عثمانیہ سلطنت کی تباہی کے بعد بے انتہا بدل گئی تھی۔ بے پناہ شہرت سے وہ اکتا گیا تھا۔ بنیادی طور پر وہ جاسوس تھا اور اچھے جاسوس کے لئے ضروری ہے کہ وہ نہ پہچانا جاسکے۔

    کرنل ٹی ای لارنس نے کرنیلی چھوڑ کر رائل ایئرفورس میں ایئرمین کی نوکری کرلی اور کارپورل بن کر پہلی ہی پوسٹنگ کراچی کے ڈرگ روڈ اسٹیشن (اب فیصل ایئر بیس) پر کی۔

    یہاں اس کے پاس وقت ہی وقت تھا۔ اس نے کچھ کتابیں اور یادداشت مرتب کیں۔ متعدد لوگوں کو خطوط لکھے جو اب ادب اور تاریخ کا حصہ ہیں اور اس وقت کے کراچی کے بارے میں قاری کو آگاہ کرتا ہے۔
    ان دنوں کراچی سے لاہور ہر ہفتے کم از کم ایک رائل ایئر فورس کا جہاز جاتا تھا۔
    لارنس آف عربیہ جو اب ٹی ای شا بن چکا تھا۔ اس پر لاہور جاتا اور وہاں کہتے ہیں کہ اس نے خود کو مسلمان ظاہر کرکے ایک کشمیری خاتون سے شادی جس کے والد ایک بار / ہوٹل یا کلب چلاتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ بعد میں اس خاتون نے یہ جاننے کے بعد کہ شوہر مسلمان نہیں ۔۔۔ محلے کے امام صاحب سے شکایت کی۔ اب راوی یہ بھی کہتا ہے کہ لارنس کے طلاق نہ دینے پر گاما پہلوان نے ٹی ای شا کی پھینٹی لگائی اور یوں خاتون کی جان چھوٹی۔
    معتبر لوگ کہتے ہیں کہ اس کے بعد اس خاتون کی شادی کشمیری راہ نما شیخ عبداللہ سے ہوئی یعنی وہ خاتون بیگم اکبر جہاں تھیں۔

    اسی دوران کہا جاتا ہے کہ ٹی ای شا قبائلی علاقوں میراں شاہ وغیرہ میں جاتا رہا اور وہاں ایک پراسرار "پیر صاحب” یعنی بابا کی شکل میں قبائلیوں کو متاثر کرتا رہا )عربی زبان اسے ویسے بی شان دار آتی تھی۔ کہتے ہیں یہ وہاں سے شاہ افغانستان کے خلاف تحریک چلاتا رہا اسی طرح جیسے عثمانیہ سلطنت کو توڑا تھا اس کا مشن افغانستان کو توڑنا تھا۔
    مگر اس کی شادی اور گاما پہلوان کے پھینٹے نے معاملہ خراب کردیا۔

    پاکستان ایئرفورس نے آج بھی لارنس اف عربیہ جس بیرک میں رہا کرتا تھا اسے محفوظ کرکے رکھا ہوا ہے۔

Comments are closed.