صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 42 : تسکینِ تلاطم


”بہتیرے کہتے ہیں کہ کون ہم کو کچھ بھلا دکھائے گا؟ اَے خداوند! تُو اپنی رُوشنی ہمارے اُوپر ظاہر کر۔ تُو نے میرے دل میں وہ خوشی بخشی ہے جو اُن کو اُن کے اناج اور مَے کی فراوانی کے وقت حاصل ہوتی ہے۔ میں امن سے لیٹوں گا اور سو جاؤں گا، کیوں کہ، اَے خداوند، تُو ہی مجھے اکیلا، سلامتی سے بسنے دیتا ہے۔“ زبور 4 : 6۔ 8

ڈئیر شاہد،

بھئی سب سے پہلے تو میں تمہارا اور بھابھی کا بے حد شکر گزار ہوں کہ تم نے مریم کو ہم سے ملانے کے لیے بھیجا۔ ہمارے گھر میں تو گویا چودھویں کا چاند نکل آیا۔ ہم اسے اپنے گھر میں چلتے پھرتے دیکھتے تو بے اختیار ہمارے ہونٹوں پر مسکراہٹ آجاتی۔ تمہیں معلوم ہے کہ میری اور گلوریا کی ہمیشہ تمنّا رہی کہ ہمارے یہاں ایک بیٹی پیدا ہو، مگر خدا کو منظور نہیں تھا۔ جب مریم نے ہمارے گھر میں قدم رکھا تو ایک مانوس سی خوشبو اور اپنائیت کا احساس ہوا۔ ایسا لگا جیسے وہ برسوں سے اسی گھر کا حصہ ہو اور ہمیں ایک پلی پَلائی بیٹی مل گئی ہو۔ گلوریا بھی بے حد خوش ہے اور ہم دونوں اکثر مریم کے اندازِ گفتگو اور اس کے لطیف تبصروں کو یاد کر کے ہنستے ہیں۔ تم نے اُسے واقعی شاندار تربیت دی ہے۔

ہمارے دوست بھی مریم سے بے حد متاثر ہوئے ہیں۔ جب سے وہ اُس سے ملے ہیں، مستقل ان کے مبارکباد کے فون آرہے ہیں۔ انہوں نے مریم کو جو تحفے دیے، وہ میں نے ایک کارٹن میں پیک کروا کر پی آئی اے کی کارگو سروس کو دے دیے ہیں۔ اس کی رسید اس خط سے منسلک ہے۔ اگلے ہفتے پی آئی اے والے تمہارے گھر پہنچا دیں گے۔

ہمیں بے انتہا خوشی ہے کہ عارف اور مریم نے اکٹھے زندگی گزارنے کے لیے ایک دوسرے کا انتخاب کیا ہے۔ ہم نے عارف کی تربیت میں ہمیشہ خیال رکھا ہے کہ وہ ایک بردبار، سنجیدہ اور با اخلاق نوجوان بنے، اور اب مریم کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے لیے بنے ہیں۔ ان کے مزاجوں میں ہم آہنگی ہے، اقدار میں قربت ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ دونوں ایک دوسرے کی عزت کرتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ ان کی جوڑی کامیاب ہوگی اور وہ ایک دوسرے کو خوش رکھیں گے۔ اب یہی دعا ہے کہ اُن کی زندگی محبت، سکون اور رحمتوں سے بھرپور ہو۔

شادی کے انتظامات کے سلسلے میں میں نے عارف سے پوچھا تھا۔ اُس نے ہم پر چھوڑ دیا ہے۔ ہمارا بس چلے تو کل ہی مریم کو لینے آجائیں۔ تم بھی اُس سے معلوم کرو کہ اُس کا کیا پروگرام ہے۔

خیر اندیش
عادل پیٹر

جب مریم عادل کا خط پڑھ کر انکل شاہد کو واپس دینے لگی تو لاکھ ضبط کرنے کے باوجود ایک آنسو اُس خط پر ٹپک ہی پڑا۔ اس نے جلدی سے اُسے ہتھیلی سے صاف کرنے کی کوشش کی تو وہ مزید پھیل گیا۔

”کیوں بیٹی، خیریت؟“ اُن کی نظریں مریم پر جمی ہوئی تھیں۔
”جی پاپا، کچھ نہیں، بس یوں ہی۔“
”میں دیکھ رہا ہوں کہ تم خوش نہیں معلوم ہوتیں۔“
”نہیں پاپا، میں بہت خوش ہوں،“ مریم کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی، مگر نظریں جھکی ہوئی تھیں۔

”بیٹی، اگر کوئی مسئلہ ہے تو بتاؤ۔“
”کوئی مسئلہ نہیں ہے، پاپا،“ مریم کے لبوں پر مسکراہٹ، مگر لہجے میں جھنجھلاہٹ تھی، ”انکل عادل کا خط پڑھ کر جذباتی ہو گئی تھی۔“

”تو پھر تم کب شادی کے لیے تیار ہوگی؟“

”ابھی تو میں اپنا تحقیقی مقالہ لکھ کر فارغ ہوئی ہوں۔ اب مجھے اسے ٹائپ کروانا اور کمیٹی کو پیش کرنا ہے۔ اگر یہ منظور ہو گیا تو مجھے اُس کے دفاع کے مرحلے سے گزرنا پڑے گا۔“

”اور اِس سب میں کتنا وقت لگے گا؟“

”ٹائپ کروانے اور پیش کرنے میں تین مہینے تو لگیں گے۔ پھر منظوری اور دفاع میں مزید چھ مہینے لگ سکتے ہیں مگر اس کے لیے میں واپس آ سکتی ہوں۔“

”مطلب یہ کہ ہم عادل کو تین مہینے کے بعد کی تاریخ دے دیں۔“
”جی۔“
***

مریم کو چٹاگانگ سے واپس آئے ایک ہفتہ گزر چکا تھا مگر وہ اب بھی سخت الجھن میں مبتلا تھی۔ دانی ایل بھوت بن کر اس سے چمٹ گیا تھا۔ ہر بار جب وہ اس کے تصور میں آ کھڑا ہوتا تو وہ سر کو جھٹک کر اسے شطرنج کے مہرے کی طرح اٹھا کر عارف کو اُس کی جگہ کھڑا کر دیتی، مگر یہ کھیل وہ زیادہ دیر نہیں کھیل پاتی تھی۔ اُس کے لیے دانی ایل نے سانس کا روپ دھار لیا تھا جو کسی بھینی بھینی، نرم رو خوشبو کی مانند اُس میں داخل ہو کر بس جاتا اور خود کو اُس میں چھوڑ کر اُسی نرم روی سے نکل جاتا۔ اُس نے کئی بار سوچا کہ وہ دانی ایل کے گھر جاکر اُس سے ملے، مگر ہر بار اُس نے اپنے پاؤں میں پڑی زنجیر کے تالے کو کِلِک کر کے بند کر دیا۔ وہ خود کو سمجھا سمجھا کر تھک گئی تھی کہ عارف اُس کا مستقبل ہے جب کہ دانی ایل اب اُس کے ماضی کی کتاب کا آخری باب ہے، مگر شومئی قسمت سے اُس کتاب کا آخری ورق کسی نے پھاڑ دیا تھا اور وہ اُسی کو ڈھونڈتی پھر رہی تھی۔

خدا خدا کر کے اتوار آیا اور مریم نے چرچ جانے کا فیصلہ کر لیا۔ پچھلا اتوار تو سفر کی تھکن اُتارنے کی نذر ہو گیا تھا۔ کپڑے بدلتے وقت اس کے ذہن میں ایک جھماکا سا ہوا اور ایک سوال اُس کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ کیا اُس کے چرچ جانے کا مقصد صرف دانی ایل سے ملنا تھا؟ اس نے اپنا سر جھٹک کر اِس سوال کو اپنے سامنے سے ہٹا دیا۔

جب وہ چرچ میں داخل ہوئی تو پادری پال منبر پر آچکے تھے اور اپنے لکھے ہوئے نکات پر آخری نظر ڈال رہے تھے۔ مریم دروازے کے نزدیک ہی ایک خالی نشست پر بیٹھ گئی۔ اچانک اُسے احساس ہوا کہ اسٹیج پر رکھا ہوا پیانو خاموش تھا، بلکہ اس کے اوپر کی روشنیاں بھی بجھی ہوئی تھیں۔ سروس کے دوران وہ مستقل اسی ادھیڑ بُن میں لگی رہی کہ دانی ایل وہاں کیوں نہیں تھا۔ اسے قطعی یاد نہیں رہا کہ پادری پال نے بائبل کی کون سی آیات کی تلاوت کی تھی، اپنے خطبے میں کیا کہا تھا، کون سے حمدیہ گیت گائے گئے تھے اور الوداعی دعا کا مضمون کیا تھا۔ اُسے اُس وقت ہوش آیا جب پادری پال حاضرین کو رخصت کرنے کے لیے دروازے پر آ کر کھڑے ہو گئے۔ وہ اپنی نشست پر بیٹھی رہی حتیٰ کہ وہ آخری فیملی کو رخصت کر کے مڑے اور اُن کی نظر مریم پر پڑی جو اٹھ کر اُن کی طرف بڑھ رہی تھی۔

”بیٹی، تمہاری دو غیر حاضریاں لگ گئی ہیں،“ انہوں نے مسکرا کر کہا۔
”فادر، میں ایسٹ پاکستان گئی ہوئی تھی۔“
”اچھا، اپنی ہونے والی سسرال گئی تھیں،“ پادری پال نے کہا، ”چلو، دفتر میں بیٹھ کر باتیں کریں گے۔“

مریم نے محسوس کیا کہ پادری پال کی حرکات و سکنات میں وہ تیزی نہیں رہی تھی جو کچھ عرصہ پہلے تک ہوتی تھی۔ اسے یاد آیا کہ ایک مرتبہ انہوں نے بتایا تھا کہ ان کی پیدائش 1896 کی تھی، لہٰذا اُن کی عمر 70 سال ہو گئی تھی۔

”آج بغیر موسیقی کے حمدیہ گیت گائے گئے،“ مریم نے پادری پال کے سامنے کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
”کیوں کہ پیانو بجانے والا چلا گیا۔“
”کہاں چلا گیا؟“ مریم کے گلے میں گولا سا پھنس گیا۔

”بیٹی، تُم اُس کا خیال چھوڑ دو،“ پادری پال کے لہجے میں کچھ تیزی تھی، ”اُس نے اپنا تبادلہ پنڈی میں کرا لیا ہے تاکہ تُم سکون سے اپنی ازدواجی زندگی کی ابتدا کر سکو۔“

مریم نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ نظریں جھکائے اپنی انگلیوں سے کھیلتی رہی۔ پادری پال خاموشی سے اس کے چہرے کی کیفیت دیکھتے رہے اور پھر بولے، ”تمہیں انتظار کرنا پڑے گا۔ تم اپنے فیصلے پر قائم رہو گی تو خوش رہو گی۔“

”اب تو مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ کون سا فیصلہ صحیح ہے اور کون سا غلط ہے،“ مریم نے اپنے پرس سے رومال نکالا اور آنسو پونچھنے لگی۔

”ایک بات یاد رکھو مریم۔ اگر ہم کوئی بزنس شروع کرنا چاہتے ہیں اور ہمیں بزنس کا کوئی تجربہ نہیں ہوتا، تو ہم اپنے ساتھ ایک تجربہ کار پارٹنر کو ملا لیتے ہیں جو ہمارا ہاتھ پکڑ کر ہمیں آگے بڑھاتا ہے۔ تم بھی اپنے فیصلوں میں ایک ایسے پارٹنر کو شامل کرلو جو کبھی غلط فیصلے نہیں کرتا، اور فیصلہ کرنے سے پہلے اس سے مدد مانگ لیا کرو۔“

”فادر، مجھے ڈر لگ رہا ہے،“ مریم کے جذبات کا بند ٹوٹ گیا، اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ پادری پال خاموشی سے بیٹھے مریم کا طوفان گزر جانے کا انتظار کرتے رہے یہاں تک کہ اُس کے آنسو تھم گئے اور اس نے گہرا سانس لیا۔

”کِس بات کا ڈر ہے؟“ انہوں نے سرگوشی میں پوچھا۔
”فادر، وہ لوگ بہت امیر ہیں اور مجھے امیروں کے طور طریقے نہیں آتے۔“
”مگر تمہارے پارٹنر کو تو آتے ہیں،“ پادری پال نے مسکرا کر کہا، ”وہ تمہیں سکھا دے گا۔“
”I don ’t know father،“ مریم نے جواب دیا، ”میں وہاں احساس کمتری کا شکار ہو گئی تھی۔“
”مگر کیا انہوں نے تمہیں محبت دی؟“

”مجھے وہاں بے حد پیار ملا، مگر مجھے یہی تو خوف ہے کہ میں اُن کی محبت کا بوجھ نہیں سنبھال سکوں گی،“ مریم نے سر اٹھا کر پادری پال کی طرف دیکھا۔ رو رو کر اُس کی آنکھیں سرخ ہو گئی تھیں۔

”بیٹی، محبت میں بوجھ نہیں ہوتا۔ ہمارا کام تو بس محبت کا جواب محبت سے دینا ہوتا ہے۔“

مریم اپنے دل کی بھڑاس نکال کر خود کو ہلکا محسوس کر رہی تھی۔ اس نے اپنا رومال نکال کر پرس میں رکھا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔

”شکریہ فادر، آپ کے مشوروں نے مجھے بہت سہارا دیا ہے۔“
پادری پال نے کھڑے ہو کر مریم کے سر پر ہاتھ رکھا اور بولے، ”خدا تمہاری مدد کرے گا۔“

Facebook Comments HS