اعداد و شمار کبھی جھوٹ نہیں بولتے۔ یا شاید بولتے ہیں؟


گزرے کل سینٹ کی ایک قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینٹر ایمل ولی خان اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے چیئرمین کے درمیان کچھ تلخ کلامی ہوئی۔ میرے خیال مین تلخ کلامی کی وجہ سینیٹر صاحب پر ذاتی نوعیت کے حملے سے زیادہ سینیٹر صاحب کی طرف سے اجتماعی نوعیت کے مسئلے کو اجاگر کرنا تھا۔ جس کے لئے ان کی تعریف لازماً بنتی ہے۔

یہ مسئلہ ہے انٹرنیٹ تک رسائی کے اعداد و شمار میں ہیرا پھیری کا۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے مطابق نومبر دو ہزار چوبیس تک ملک کی تقریباً 57.6 فیصد آبادی تھری جی یا فور جی انٹرنیٹ سروسز استعمال کر رہی تھی۔ بظاہر یہ ایک امید افزا تصویر پیش کرتی ہے، لیکن جب ہم دیہی اور دور دراز علاقوں کی زمینی حقیقت پر نظر ڈالتے ہیں، جہاں ملک کی تقریباً 63 فیصد آبادی مقیم  ہے تو صورتحال بالکل مختلف نظر آتی ہے۔ بلوچستان، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، اندرون سندھ، اور جنوبی پنجاب جیسے علاقوں میں لوگ اکثر مظاہروں کی صورت میں انٹرنیٹ تک رسائی کا مطالبہ کرتے ہیں یا چھتوں پر چڑھ کر یا میلوں کا فاصلہ طے کر کے مستحکم سگنل کی تلاش میں ہوتے ہیں۔

اس خلا کو پُر کرنے کے لیے حکومت نے ڈیجیٹل پاکستان پالیسی کے تحت کئی ایسے منصوبے متعارف کروائے ہیں، جن کا مقصد فورجی نیٹ ورک کی رسائی کو وسیع کرنا اور مستقبل میں فائیو جی انٹرنیٹ کے لئے بنیاد فراہم کرنا ہے

تاہم، سرکاری رپورٹس میں دکھائے گئے اعداد و شمار اور صارفین کے انٹرنیٹ کو استعمال کرنے کے تجربات میں نمایاں فرق ہے جس نے عوام میں شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے، اور ان ریگولیٹری اعداد و شمار پر اعتماد کو متزلزل کر دیا ہے۔

یہ مسئلہ صرف پاکستان تک محدود نہیں ہے۔ ایشیا پیسیفک ریجنل انٹرنیٹ گورننس فورم دو ہزار بائیس میں ایک پاکستانی شریک کار نے جی  ایس ایم اے کی رپورٹ کا حوالہ دیا، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایشیا پیسیفک کی تقریباً 96  فیصد آبادی موبائل براڈبینڈ تک رسائی رکھتی ہے۔ تاہم، فورم میں موجود شرکا نے ان دعوؤں کی درستگی پر سوال اٹھاتے ہوئے انہیں ”حد سے زیادہ پرامید“ قرار دیا، کیونکہ خطے میں آج بھی بڑی تعداد میں لوگ ”ناقابل رسائی“ یا ”منقطع“ کنیکٹیویٹی کا سامنا کر رہے ہیں۔

ملائیشیا کی یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی ساراواک میں، میری ٹیم اور میں معیاری انٹرنیٹ تک صارف کی رسائی کو بہتر بنانے کے لئے ایک جامع حکمت عملی کے تحت کام کر رہے ہیں۔ ہم پالیسی سیمینارز کا انعقاد کرتے ہیں تاکہ متعلقہ فریقین کو ایک جگہ جمع کر کے مکالمے کو فروغ دیا جا سکے، عوام کو ان کے ڈیجیٹل حقوق سے متعلق آگاہی دی جا سکے، اور ایسے ٹولز، ایپلیکیشنز اور طریقہ کار بنائے جا سکیں جو صارفین کو فیصلے کرنے اور معیاری انٹرنیٹ سروسز کے لیے آواز بلند کرنے کا اختیار دیں۔ ہماری یہ کاوشیں صرف نچلی سطح پر شعور اور بیداری پیدا کرنے تک محدود نہیں بلکہ ہم پالیسی سازی کے نظام میں جامع تبدیلیوں کو فروغ دینے کی بھی کوشش کرتے ہیں، تا کہ نئے اور ڈیجیٹل دور میں ترقی کے مواقع سب کے لیے مساوی اور شمولیتی بنائی جا سکیں۔

اگرچہ سرکاری رپورٹوں میں دیے گئے اعداد و شمار متاثر کن دکھائی دیتے ہیں، لیکن ہم میں سے بہت سے صارفین ایک ہی سوال بار بار پوچھتے ہیں : اگر یہ اعداد و شمار درست ہیں، تو پھر دیہی پاکستان میں لوگ آج بھی کیوں چھتوں پر چڑھ کر یا میلوں کا سفر کر کے سگنل تلاش کرتے ہیں؟ کیا یہ اعداد و شمار زمینی حقیقت کی درست عکاسی کرتے ہیں، یا یہ بڑے پیمانے پر موجود عدم مساوات کو چھپا رہے ہیں؟ اس سوال کا جواب جاننے کیے لئے ضروری ہے کہ اس پراسیس کا بھی تجزیہ کریں جس کے تحت یہ اعداد و شمار مرتب کیے جاتے ہیں۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی جیسے ریگولیٹری اداروں کی رپورٹس شہری علاقوں سے جمع کیے گئے ڈیٹا پر مشتمل ہوتی ہیں یہ پی ٹی اے کی پچھلے سال کی تیسری سہ ماہی کی رپورٹ سے بھی واضح ہے جو کہ انٹرنیٹ کی کوالٹی کی جانچ کے لئے پاکستان کے اٹھارہ شہروں میں کیے گئے سروے پر مشتمل ہے اس میں صوبہ خیبر پختونخوا سے ہنگو اور صوابی کے اضلاع شامل ہیں۔ تاہم، جب یہ معلومات ثانوی رپورٹس یا میڈیا کے ذریعے مشتہر کی جاتی ہیں تو کنیکٹیویٹی کے اعداد و شمار پورے ملک کے لیے عمومی طور پر پیش کیے جاتے ہیں۔ اور ویسا تاثر دیا جاتا ہے جیسا کہ پورے ملک میں ”سب کچھ اچھا ہے“ ۔

اگرچہ ”ڈیجیٹل پاکستان پالیسی“ جیسے متعدد قومی اقدامات کنیکٹیویٹی کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن ان منصوبوں کی تکمیل کے بعد کی نگرانی میں بڑے خلاء پائے جاتے ہیں۔

یہ سوالات اپنی جگہ پر برقرار رہتے ہیں کہ ان سروسز مین کوالٹی کی نگرانی کون کرے گا۔ خاص طور پر دیہی یا نظر انداز شدہ علاقوں کے صارفین سروس کی بندش کی شکایت کس سے اور کیسے کریں گے

اور ان علاقوں میں ناقص کوریج فراہم کرنے والے آپریٹرز کے لیے احتساب کا کیا نظام ہے۔ کئی دیہی علاقوں میں صارفین کو صرف ایک نیٹ ورک تک رسائی حاصل ہوتی ہے، جس کے بند ہونے پر وہ متبادل سے محروم اور شکایت یا ازالے کے کسی موثر نظام کے بغیر رہ جاتے ہیں۔

اس مسئلے کے حل کے لئے ہم نے اے پی این آئی سی کی مدد سے myspeed۔ site ایک ٹول بنایا ہے جس سے عام صارف اپنے علاقے میں انٹرنیٹ کی سہولت کی جانچ کر سکتا ہے اس کے علاوہ صارف یہ بھی دیکھ سکتا ہے کہ اس کے علاقے میں دوسرے صارفین کو کس کوالٹی کا انٹرنیٹ فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس وقت چونکہ یہ ویب سائٹ اور ٹول نیا ہے لیکن ہمیں امید ہے کہ جتنے زیادہ لوگ اسے استعمال کریں گے اتنا ہی زیادہ ڈیٹا صارفین کو میسر ہو گا اور وہ ایک اچھا فیصلہ کر سکیں گے۔

Facebook Comments HS