خواب، محبت اور زندگی 24
لاہور واپسی
لاہور میں ہم نے کرشن نگر کی ایک نو تعمیر شدہ عمارت میں ایک فلیٹ کرائے پر لیا۔ یہ ایک اچھا کشادہ فلیٹ تھا۔ امی کے زیادہ تر رشتہ دار لاہور میں مقیم تھے۔ ان میں سے زیادہ تر پارٹیشن کے وقت امرتسر سے آ کر لاہور کی گوالمنڈی میں رہنے لگے تھے۔ جب کہ چند گلبرگ میں رہ رہے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ امی کے ساتھ ہم خالہ کے دیور ہمایوں صادق کے گھر گئے تو ساتھ والی کوٹھی سے مشہور اداکارہ نگہت سلطانہ اپنے بچے کو گود میں اٹھائے ہوئے آ گئی۔ تب پڑوسیوں میں ایسی ہی بے تکلفی ہوتی تھی۔ اس نے سادہ سا سفید جوڑا پہن رکھا تھا اور کوئی میک اپ نہیں کیا ہوا تھا۔ وہ مشہور ہدایت کار حسن طارق کی بیوی تھی جو امی اور ہمایوں چچا کی طرح امرتسر کی کشمیری برادری سے تعلق رکھتے تھے اور جیسا کہ ہم سنتے آئے تھے ”کشمیریوں کی نانی ایک ہوتی ہے ”۔ اس لئے سب ہی کی ایک دوسرے سے جان پہچان نکل آتی تھی۔
لاہور میں ہماری زندگی اچھی گزر رہی تھی مگر امی کو ایک مرتبہ پھر ہمیں کسی اچھے اسکول میں داخل کرانے کا پہاڑ جیسا مسئلہ حل کرنا تھا۔ ہماری پڑھائی کا نقصان نہ ہو اس لئے انہوں نے عارضی طور پر ہمیں محلے کے ایک اسکول میں بھیجنا شروع کر دیا۔ نئے اسکول میں خود کو ایڈجسٹ کرنا اور نئی سہیلیاں بنانا بھی ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ جلد ہی میں نے نوٹس کیا کہ کلاس کی ساری لڑکیوں نے ایک لڑکی کے خلاف محاذ بنا رکھا ہے۔ معلوم یہ ہوا کہ وہ لڑکی ایک دوسرے فرقے سے تعلق رکھتی تھی اور دیگر لڑکیاں ہر وقت اسے مذہبی بحث میں گھسیٹتی رہتی تھیں مگر وہ لڑکی بڑے اعتماد سے ان کے اعتراضات کے تاریخی حوالوں سے جواب دیتی تھی۔ اس کا اکیلا پن دیکھ کر میں نے سب کو چھوڑ کر اس لڑکی سے دوستی کر لی اور جلد ہی ہماری گاڑھی چھننے لگی۔ میں نے زندگی میں ہمیشہ کمزوروں اور مظلوموں کا ساتھ دیا۔ اس کے پیچھے کوئی سیاسی نظریہ یا فلسفہ نہیں تھا بلکہ یہ جبلی ہمدردی اور درد مندی تھی جو مجھے اکیلے پڑ جانے والے کمزور اور مظلوم لوگوں کی طرف کھینچتی تھی۔ مجھے اکثر اس کی مذہبی معلومات پر حیرت بھی ہوتی تھی۔ بعد میں اندازہ ہوا کہ بچپن سے مجالس میں شرکت کرنے کی وجہ سے ان کی معلومات بھی زیادہ ہوتی ہیں اور تخلیقی صلاحیتیں بھی شروع سے جلا پانے لگتی ہیں۔ ویسے بھی اکثریت کے تعصب کا مقابلہ کرنے کے لئے اقلیت کو اپنے آپ کو علم و فہم اور شعور سے آراستہ کرنا پڑتا ہے۔ وہ شوقیہ علم حاصل نہیں کرتے بلکہ اپنی بقا کے لئے کرتے ہیں۔ بہرحال مجھے جلد ہی وہ اسکول چھوڑنا پڑا کیونکہ ہمایوں چچا کی بیگم نے اپنے تعلقات استعمال کر کے مجھے لیڈی مکلیگن اسکول میں داخل کروا دیا تھا۔
لاہور کا دانہ پانی زیادہ عرصہ تک ہمارے نصیب میں نہیں لکھا تھا کیونکہ اچانک حکومت نے سیاسی وجوہات کی بنا پر امریکن پیس کور کو دیس نکالا دے دیا۔ ابی ایک مرتبہ پھر بے روزگار ہو گئے۔ ہم سب بے حد پریشان تھے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس رات میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک دریا کے کنارے کھڑی ہوں اور ابی دوسرے کنارے سے کشتی میں کھڑے ہو کر چپو چلاتے ہوئے میری طرف آ رہے ہیں۔ کشتی میں میری طرف والے کنارے پر پہنچ کر انہوں نے مجھے دیکھ کر فخریہ انداز میں کہا: دیکھا! میں نے پار کر لیا۔
میرا خواب سچا ثابت ہوا کیونکہ اگلے روز جب ابی اپنے واجبات کا حساب کر کے دفتر سے واپس آ رہے تھے تو راستے میں ان کی سابقہ کراچی والی کمپنی کے مالک کا بیٹا ٹکرا گیا جو کسی کام سے لاہور آیا ہوا تھا۔ ابی کو دیکھتے ہی وہ بولا ”قریشی صاحب، آپ ہمیں چھوڑ کر کیوں آ گئے۔ ہمیں آج بھی آپ کی ضرورت ہے ”۔ ظاہر ہے ابی نے اسے یہ نہیں بتایا کہ ان کا دفتر بند ہو چکا ہے اور وہ بے روزگار ہو گئے ہیں۔ ابی نے اسے کہا کہ کراچی میں مکانات کے کرائے بہت زیادہ ہیں، اس لئے انہیں لاہور آنا پڑا۔ اس پر وہ بولا کہ میری ویدر ٹاور کے پاس کمپنی کا ایک فلیٹ خالی پڑا ہے، وہ آپ استعمال کریں اور ہمارے دفتر میں پھر سے کام شروع کر دیں۔ ابی واقعی خوش قسمت تھے کہ بے روزگاری کے اگلے دن ہی انہیں نوکری مل گئی اور میرے خواب کے مطابق انہوں نے مالی مشکلات اور مسائل کا دریا پار کر لیا۔
کراچی واپسی :Living with the Marx ’s Perennial Hoarders
یوں چند ماہ بعد ہی ہم دوبارہ کراچی میں موجود تھے۔ کراچی نے ایک بار پھر ہمیں اپنی بانہوں میں سمیٹ لیا تھا اور ہمیں تو ویسے بھی ہر تبدیلی کو خوش آمدید کہنے کی عادت تھی یا پھر شاید ہمارے پاؤں میں چکر تھا یا ہم پاکستان کے مارکو پولو یا ابن بطوطہ بن چکے تھے۔ ہم نے ان کی طرح شاہراہ ریشم پر سفر تو نہیں کیا لیکن ہم ان کا دیسی ماڈل بنتے جا رہے تھے۔ کراچی میں جس بلڈنگ میں ہمیں فلیٹ ملا تھا، اس کے دیگر سارے فلیٹس میں کچھی میمن برادری کے لوگ رہتے تھے۔ ان سب کا تعلق کراچی کے کاروباری طبقے سے تھا۔ یہ دوستانہ مزاج کے سادہ لوگ تھے، جلد ہی ہماری ان سے دوستی ہو گئی۔ اب سوچتی ہوں کہ اس چھوٹے سے فلیٹ میں ہم سب کیسے سما گئے تھے لیکن اس وقت ان باتوں کی کوئی اہمیت نہیں تھی اور ہم ہنسی خوشی رہ رہے تھے۔
(جاری ہے )


