اردو ادب میں بائیو ٹیررازم کے موضوع کی غیر موجودگی


1۔ بائیو ٹیرر ازم ( حیاتیاتی دہشت گردی)

یہ ایک سنگین اور خطرناک قسم کی دہشت گردی ہے جس میں خطرناک حیاتیاتی ایجنٹس (جراثیم، وائرس، بیکٹیریا، یا زہریلے مواد) کو استعمال کر کے انسانوں، جانوروں یا پودوں کو نقصان پہنچایا جاتا ہے، خوف و ہراس پھیلایا جاتا ہے، یا معاشی و سماجی نظام کو درہم برہم کیا جاتا ہے۔ گزشتہ برسوں میں انسانی سماج کووڈ جیسی بیماری سے برسرِ پیکار رہا جس سے وبائی امراض کی تباہ کن طاقت کا بخوبی اندازہ ہو چکا ہے۔ دنیا بھر میں پھیلے وائرسز کی مختلف شکلیں اور ان کے محرکات کا جائزہ لیا جائے تو بہت سی حیران کن معلومات سامنے آتی ہیں۔ اس قسم کے موضوعات عمومی طور پر تو صحافیانہ اور سائنسی متون کا حصہ ہوتے ہیں تاہم ادب اور ادیب بھی ان سے الگ نہیں رہ سکتے۔ مختلف زبانوں کے ادب میں اس سلسلے میں بہت سے تخلیقات سامنے آئی ہیں اور آتی رہتی ہیں۔ انگریزی میں تو بے شمار ناولز اور فلمیں اس موضوع پر موجود ہیں جیسے کہ:

1۔ دا کوبرا ایونٹ

انیس سو اٹھانوے میں تحریر کردہ ناول، جس میں ایک وائرس کا حملہ دکھایا جاتا ہے جو انسانی ذہن کو متاثر کرتا ہے اور انسان کو تشدد کی طرف مائل کرتا ہے۔ تخلیق کیے جانے والے وائرس کا نام کوبرا رکھا جاتا ہے۔ اس ناول نے جس نیورولوجیکل وائرس کی طرف توجہ دلائی اس پر بل کلنٹن بھی متوجہ ہوئے اور انہوں نے بائیو دہشت گردی سے متعلق قانون سازی کی طرف توجہ دلائی۔ رچرڈ پریسٹن اس کے ناول نگار تھے۔

2۔ دا ہاٹ زون

یہ ناول انیس سو پچانوے میں شائع ہوا اور اس ناول کے تخلیق کار بھی رچرڈ پریسٹن تھے۔ یہ سچی کہانی پر مبنی ناول تھا۔ اس میں ایبولا دیگر وائرسز اور ان سے متعلقہ بائیولوجیکل ہتھیاروں کے پھیلاؤ سے متعلق ذکر تھا۔

3۔ آؤٹ بریک

انیس سو ستاسی میں یہ ناول منظرِ عام پر آیا جسے رابن کُک نے تحریر کیا تھا۔ اس ناول پر بعد ازاں فلم بھی بنی۔ ڈاکٹر مریسا جوں جوں اس وبا پر تحقیق کرتی ہے تو اس پر یہ بات واضح ہوتی چلی جاتی ہے کہ اس وائرس اور اس کے پھیلاؤ کے پیچھے انسانی ہاتھ شامل ہے۔

4۔ پینڈیمک

یہ ناول دو ہزار تئیس میں منظرِ عام پر آیا۔ اس کے مصنف اے جی رڈلز ہیں۔ یہ بھی ایبولا کی طرح کے وائرس کی کہانی ہے۔ یہ ناول بیسٹ سیلر بھی رہا ہے۔

اس کے علاوہ بے شمار ناولز اور فلمیں بائیو ٹیررازم پر بنی ہوئی ہیں۔ جن میں انسانی شرارت واضح طور پر دکھائی گئی ہے۔ میں سوچ رہا تھا کہ اردو میں بائیو ٹیررازم پر کوئی ناول آپ کی نظر سے گزرا ہے؟ اگر گزرا ہے تو ضرور بتائیے اور نہیں گزرا تو اس کی کیا وجوہات ہو سکتی ہیں؟ دوسری طرف جاسوسی کہانیوں میں زہریلے مادوں اور گیسز کا ذکر تو ملتا ہے تاہم بائیو ٹیررازم بطورِ خاص کیوں ناول نگاروں کی اذہان سے محو رہا؟

شاید اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اردو ادب میں زیادہ تر موضوعات شناخت، روایات، سماجی ناہمواری، غربت، طبقاتی کشمش، سیاسی اور ارضی سانحات سے متعلق رہے۔ زیادہ تر موضوعات تو آزادی اور مابعد نو آبادیاتی مسائل سے متعلق رہے۔ اس ضمن میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ اردو ناول ابھی فکری، ارضی اور معاشی ابہام سے ہی نہیں نکل پایا تو ایسے میں بائیو ٹیررازم جیسے موضوعات پر کون کیا لکھے، سمجھے؟ غالب امکان یہی ہے کہ سائبر ٹیررازم سے متعلق اردو اب میں تخلیقات سے متعلق میرا علم بہت کم ہو، احباب اس ضمن میں معلومات شیئر کر کے شکریہ کا موقع عطا فرمائیں۔

Facebook Comments HS