بیمار معاشروں کے سائیکو پیتھ مسیحا
آج کل ہمارا علاقہ ”میاں چنوں“ خاصا سوشل میڈیائی سا بنا ہوا ہے، حالیہ دنوں میں پیش آنے والا ایک افسوسناک واقعہ جس میں ایک مسیحا جن کا نام ڈاکٹر رفیق گجر ہے جو کہ خاصے منجھے ہوئے گائناکالوجسٹ ہیں جن کے تجربے کا متبادل شاید ہی کوئی میاں چنوں میں ہو پر ایک مریضہ کے ساتھ عصمت دری کا الزام لگایا گیا ہے۔
متاثرہ خاتون کے شوہر کا اصرار ہے کہ ڈاکٹر نے اس کی بیوی کے ساتھ نازیبا حرکات کرنے کی کوشش کی ہے، یہی بات اس نے ڈاکٹر کی موجودگی میں ایک وڈیو کلپ کی صورت میں کی ہے جو کہ خاصا وائرل ہو چکا ہے، ڈاکٹر صاحب ایک باریش اور دیندار انسان ہیں لیکن دیندار ہونا کسی کے بلند کردار ہونے کی کوئی ٹھوس دلیل نہیں ہوتا نا!
کوئی بھی لبادہ، اہلیت یا ڈگری کسی انسان کے پروفیشنلی دیانت دار یا وفادار ہونے کی ضمانت نہیں ہوتی تاوقتیکہ وہ خود اس کا عملی مظاہرہ سماج میں پیش نہ کرے، شنید ہے کہ ڈاکٹر صاحب کے متعلق اس طرح کی شکایات پہلے بھی موصول ہوتی رہی ہیں جب وہ تحصیل ہیڈکوارٹر موجودہ ارشد ندیم اولمپئن ہسپتال میں سرکاری ملازم ہوا کرتے تھے لیکن یہاں نحیف آوازوں پر کون کان دھرتا ہے؟
متاثرہ خاتون کے شوہر کو بہرحال یہ کریڈٹ ضرور جاتا ہے کہ اس نے نا صرف آواز بلند کی بلکہ وڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر بھی اپ لوڈ کر دی تاکہ سند رہے اور لوگوں کی ہمت بندھائی کہ ظلم کے خلاف خاموش مت رہیں، یہ سب کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا، کون اپنی عزت کو داؤ پر لگاتا ہے بھائی؟
اس نے نا صرف وڈیو بنائی ہے بلکہ ڈاکٹر صاحب سے ڈائریکٹ سوال پوچھ کر اس کا حقیقی چہرہ بھی منظر عام پر لایا ہے؟
اس واقعے کے بعد ایک عجیب سا رجحان دیکھنے کو مل رہا ہے جو کہ خاصا حیران کن ہے، ہمارے کچھ مذہبی دوست ڈاکٹر صاحب کو اپنے طور پر معصوم ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ یہ سرٹیفکیٹ دینا ان کے دائرہ کار میں نہیں آتا، الزام عائد ہونے یا مقدمہ درج ہونے کے بعد یہ استحقاق صرف عدالت یا انکوائری کمیشن کو حاصل ہوتا ہے۔
دوسری طرف کچھ ایسے ہمارے دوست بھی ہیں جو متاثرہ فریق کے خوب لتے رہے ہیں کہ جیسے اس نے کسی مقدس ہستی پر کوئی الزام لگا دیا ہو، بھائی ڈاکٹر ایک انسان ہے اسے انسان ہی رہنے دیں ماورائی درجہِ دینے کی کیا ضرورت ہے؟
اگر کوئی کسی معاشرتی نقص یا مکروہ کردار کی نشاندہی کرتا ہے تو اسے سراہا جانا چاہیے تاکہ معاشرے میں سدھار کی کوئی راہ نکلے، مصلحتی کارپٹ کے نیچے گندگی چھپانے والی قوموں میں ترقی کی بجائے تنزلی، بلند نظری کی بجائے منافقانہ رویے پنپنے لگتے ہیں۔
معاملہ عدالت میں ہے، شنید ہے کہ پنجاب حکومت نے بھی اس واقعے کا نوٹس لے لیا ہے، اب فیصلہ عدالت نے کرنا ہے کہ ڈاکٹر صاحب قصور وار ہیں یا متاثرہ فریق؟
ہمیں اپنے طور پر کسی کو بھی بدکردار ٹھہرانے سے گریز کرنا چاہیے اور خواہ مخواہ میں سرٹیفکیٹ بانٹنے سے احتراز برتنا چاہیے، اگر ڈاکٹر صاحب بے قصور ہیں تو انہیں باعزت رہائی ملنی چاہیے اور اگر قصور وار ہیں تو قرار واقعی سزا ملنی چاہیے تاکہ دوسرے مسیحا بھی عبرت پکڑیں۔
گھٹن زدہ سماج میں اس طرح کے کردار وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں، بڑا معاشرتی المیہ یہ ہے کہ اس طرح کے ہوس زدہ پروفیشنلز مذہبی لبادہ اوڑھ لیتے ہیں جس کی آڑ میں وہ آزادانہ طور پر اپنی ہوس پوری کرتے ہیں، معذرت کے ساتھ ہمارے معاشرے میں ہر ڈیپارٹمنٹ میں ایسے افراد موجود ہیں جو اپنی ہوس پوری کرنے کے لیے اختیاراتی طاقت کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے لوگوں کا جنسی و مالیاتی استحصال کرتے ہیں۔
ہمارے ہاں ظاہری عبادات کا تو خاصا زور ہے لیکن ایسے باصلاحیت لوگ بہت کم ملیں گے جو اپنے کام کو عبادت اور انسانی فریضہ سمجھ کر ادا کرتے ہوں گے، بھلے یہ مثال کسی کو ناگوار گزرے لیکن معاشرتی حقائق اسی سمت اشارہ کرتے ہیں۔
ڈاکٹرز، ٹیچرز اور دیگر پیشوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جن کا کوئی لمحہ عبادت سے خالی نہیں ہوتا لیکن اپنے عہدے کے حقیقی فرائض کو پورے کرنے سے کوسوں دور رہتے ہیں، اگر آپ دنیاوی معاملات میں بددیانت ہیں تو بالکل بددیانت ہیں اس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہو سکتی، جبکہ اخروی معاملات کا فیصلہ تو قادر مطلق کے ہاتھ میں ہے اسی نے طے کرنا ہے کہ آپ کیا تھے، ہمارا سروکار تو دنیا کی حد تک ہے جو آپ ہیں سو ہیں۔
بدقسمتی سے مسیحاؤں میں فاصلاتی رجحان، تکبر و رعونت، بدکلامی اور ٹھرکی پن کچھ زیادہ پایا جاتا ہے، سرکاری ہسپتالوں میں تو ڈاکٹرز مریضوں سے بات کرنا تک گوارا نہیں کرتے، یہ سب پروٹوکول بازیاں تو فقط پرائیویٹ ہسپتالوں کے چونچلے ہوتے ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں تو سہولیات کا خاصا فقدان پایا جاتا ہے۔




