سفر حج۔ حصہ سوئم


میں اس وقت مدینے میں ہوں اور اپنے حج کے سفر کا تیسرا حصہ لکھ رہا ہوں۔ پہلے حصے میں بلاوا، دوسرے میں دوستوں کا پیار اور اب دوست، احباب کے پیغامات اور محبتیں سمیٹتے جہاز کے منتظر تھے جہاں 3 فلائٹیں یکے بعد دیگرے نکلنی تھیں جدہ کی فلائیٹ پی آئی اے کی تھی اور فلائیٹ 10 بجے نکلنی تھی اور مسافروں کو شام 4 بجے سے ائر پورٹ بلوایا ہوا تھا جو احرام باندھ کر آئے تھے ان میں سے اکثریت فلائیٹ سے پہلے ہی دم واجب کرا چکی تھی کیونکہ برداشت کی بھی حد تھی۔ ہم مدینہ کو جا رہے تھے اس لیے ہم صرف ان کے دم گن سکتے تھے۔ جو خود سے بہت اچھی طرح واقف ہوتے ہیں ان لوگوں نے احرام نہیں باندھا تھا وہ جہاز چلنے سے کچھ دیر قبل احرام باندھتے ہیں یا کچھ اس وقت احرام باندھتے ہیں جب جہاز میں میقات کی اناؤنسمنٹ ہوتی ہے۔ مجھے یاد ہے عمرے کے ایک سفر میں جہاز میں اناؤنسمنٹ ہوئی کہ احرام باندھ لیں لو جی آدھے جہاز میں لائن لگ گئی واش روم کے باہر ایک بزرگ نے زور سے کہا اوئے جلدی آ جاؤ باہر یہ بس نہیں کہ میقات پہ روک کے کھڑا ہو۔

ہمارا جہاز جب اڑنا شروع ہوا تو کچھ دیر میں میں نے نوٹ کیا کہ اکثریت حرمین کاروان والوں کی طرف سے جانے والوں کی ہے۔ بازو میں بیٹھے حضرت سے پتہ چلا کہ اس جہاز میں 190 افراد اسی کاروان کے ہیں اور یہ مسلک اہل تشیع کا کاروان ہے اور جو مجھے یہ بتا رہے ہیں وہ خود بھی اسی کاروان میں ڈاکٹر کے فرائض انجام دیتے ہوئے اپنے 18 ویں حج کو گامزن ہیں۔

کچھ دیر گفتگو سے مجھے پتہ چلا کہ گورنمنٹ اسکیم میں ہی حج ہے اس کاروان کا بھی مگر خود فرمانے لگے کہ ہم نے 1 لاکھ فی حاجی زیادہ دیا ہے۔ میں نے کہا قبلہ ہوٹل، سہولیات، کھانا، وغیرہ سب تو وہی ہے تو پھر پیسے زیادہ کیوں؟ مسکرائے موبائل نکالا اور بولے یہ دیکھیں واٹس ایپ گروپ جہاں پل پل کی اطلاعات، اذکار، وظائف، تسبیحات بتائے جاتے ہیں۔ میں نے کہا ڈاکٹر صاحب یہ کام تو فری میں کتنے ہی واٹس ایپ چینل و گروپ کر رہے ہیں یہ دیکھئے میرے پاس خود 3، 4 گروپس ایسے موجود ہیں پھر کہنے لگے 2 والنٹیئرز ہوتے ہیں اور ایک ڈاکٹر ہر وقت موجود ہوتا ہے۔ میں نے کہا ڈاکٹر صاحب یہ سب کچھ تو گورنمنٹ حج میں پہلے سے موجود ہے۔ آپ نہیں سمجھیں گے ہمارے ساتھ ایک اہل تشیع عالم بھی ہوتا ہے جو قدم قدم پہ رہنمائی کرتا ہے۔ عالم تو اتنی مہنگی چیز نہیں ہے۔ مجھے فی حاجی لاکھ والی بات سمجھ نہیں آئی۔ خیر مسلسل سوالات سے وہ تھوڑے خائف ہوئے فوراً کہا آپ سنی ہیں علی بھائی اس لیے آپ کو۔ میں نے فوراً بات کاٹی اور کہا نہیں ڈاکٹر صاحب میں سنی نہیں۔ انہوں نے دو تین اور حربے آزمائے اور میرے جواب سن کے بولے اماں تم شیعہ ہو؟ میں نے مسکرا کر کہا قطعی نہیں۔ لیکن سنیں میں آپ کو شیعہ مولوی سستا کروا کے دے سکتا ہوں لاکھ روپے فی حاجی زیادہ ہیں ڈاکٹر صاحب۔ وہ بہت مشکل سے مسکرائے۔

ایک اہم بات جو رہ گئی اور جو مجھے بہت حوصلہ افزا اور خوش کن لگی وہ یہ کہ صحیح بخاری میں ایک حدیث کا خلاصہ ہے کہ ایک صحابی آئے اور آپ ﷺ سے فقر و فاقہ کی شکایت کی، پھر دوسرے صاحب آئے اور راستوں کی بدامنی کی شکایت کی، اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: عدی! تم نے مقام حیرہ دیکھا ہے؟ (جو کوفہ کے پاس ایک بستی ہے ) میں نے عرض کیا کہ میں نے دیکھا تو نہیں، البتہ اس کا نام میں نے سنا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تمہاری زندگی کچھ اور لمبی ہوئی تو تم دیکھو گے کہ ہودج میں ایک عورت اکیلی حیرہ سے سفر کرے گی اور (مکہ پہنچ کر ) کعبہ کا طواف کرے گی اور اللہ کے سوا اسے کسی کا بھی خوف نہ ہو گا۔ اس کے بعد روایت میں آگے جا کر یہ بات مینشن ہے کہ عدی بن حاتم فرماتے ہیں کہ انہوں نے اپنی زندگی میں ہی ہودج کی ایک عورت کو دیکھا کہ وہ حیرہ سے سفر کے لئے نکلی اور پھر اس نے کعبے کا طواف کیا اور اسے خد اکے سوا کسی کا ڈر و خوف نہیں تھا۔

روایت بتانے کا مقصد یہ ہے کہ اس سفر میں ایک خاتون کراچی سے تنہا اس سفر حج کو نکلیں اور بخدا ان میں کسی قسم کا ڈر اور خوف نہ پایا۔ ان کا اطمینان اور سفر کی خوشی دیکھ کر مجھے یہ حدیث یاد آئی۔

Facebook Comments HS