خیبر پختونخوا میں گورننس کا بحران


ہماری مملکت اس وقت سماجی، معاشی اور سیاسی ٹرانسفارمیشن کے جس نازک عمل سے گزر رہی ہے، اس میں فرد اور ریاست کے مابین باہمی اعتماد کے مضبوط رشتوں کے علاوہ قومی سطح کی مربوط سوچ اور ایسے کلیئر بیانیہ کی ضرورت تھی جو افراد کی شخصی آرزوؤں اور اجتماعی ذمہ داریوں میں مطابقت پیدا کر کے اُن کے کردار کو قومی بہبود کے مطابق بناتا لاریب یہ ایسی مربوط مساعی ہوتی جو وفاق کی چاروں اکائیوں کے مابین بامعنی ربط پیدا کر کے قومی وحدت کو متشکل کر سکتی تھی مگر افسوس کے دو چھوٹے صوبوں کو حالات کے رحم و کرم پہ چھوڑ دیا گیا۔ جیسے جنگ دہشتگردی کے ہاتھوں پامال شدہ صوبے خیبر پختون خوا میں گورننس کی ناکامیوں، بدعنوانی کے بڑھتے طوفان اور بنیادی سہولیات کے فقدان نے ایک ایسے معاشرے میں اضطراب کو گہرا کر دیا جو افلاس کو اپنی عظمت کی راہ میں رکاوٹ سمجھتا ہے، یہاں کرپشن نے اعلی تعلیم یافتہ لوگوں کی بصیرت کو کند کر دیا، اگر اوپر کی کمائی نہ ملے تو اُن کا عمل انہضام بگڑ جاتا ہے۔ مختلف اداروں کی طرف سے شائع کردہ رپورٹس کے مطابق خیبر پختونخوا بدعنوانی کے لحاظ سے ملک کا سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ بن گیا، انسدادِ بدعنوانی کی تنظیموں کی تحقیق سے ظاہر ہوا کہ یہاں سرکاری محکموں میں رشوت، اقربا پروری اور مالی بے ضابطگیوں کی شرح دیگر صوبوں کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔ تعلیم، صحت، پولیس اور خاص طور پہ سی اینڈ ڈبلیو، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، ایریگیشن اور ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن جیسے سروسسز فراہم کرنے والے محکمے بدعنوانی کی دلدل میں گہرائی تک اتر چکے ہیں۔ عوامی خدمات کے محکموں میں بدعنوانی نے نہ صرف سسٹم کی افادیت کو بیکار بنا دیا بلکہ عام شہری کے ریاستی ڈھانچے پر سے اعتماد کو بھی متزلزل کر دیا، یہاں عام آدمی کے لئے انصاف کا حصول، باعزت روزگار کے مواقع اور تعلیم و صحت کی سہولیات بتدریج سکڑنے اور ریاستی اداروں سے بہتری کی امیدیں کم ہونے کی وجہ سے مایوسی کی تہہ دبیز ہو رہی ہے، یہ صورتحال صوبہ کی انتظامی اتھارٹی کو کمزور کر کے ایسے عوامی ردعمل کو جنم دے گی جس کے نتائج معاشرے کے لئے خطرناک ہو سکتے ہیں، اگر بروقت اصلاحات کی راہ ہموار نہ بنائی گئی تو یہ صورتِ حال صوبے میں پہلے سے موجود بدامنی کی آگ کو مزید بھڑکا سکتی ہے۔

پچھلی تین دہائیوں سے جاری جنگ دہشتگردی کی کبھی نہ تھمنے والی جدلیات نے خیبرپختون خوا کے سرکاری محکموں کے نظم و ضبط اور صوبہ بھر کے بنیادی ڈھانچے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کے علاوہ ریاست کی اہمیت اور حکمرانی کے تصور کو بھی ملتبس کر دیا، یہاں ناقص گورننس کا مطلب اکثر محض حکم چلانا سمجھا گیا حالانکہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں گورننس، شفافیت، احتساب، قانون کی حکمرانی اور عوامی شرکت کے اصولوں پر مبنی نظام ہائے حکومت سے متصور ہوتی ہے لیکن ہمارے ہاں سسٹم کی بے ثباتی کی بدولت بے یقینی، عدم تحفظ اور افلاس کے خوف نے لوگ کو لوٹ مار کا بازار گرم کر کے ریاستی نظم و ضبط کو پراگندہ اور سوسائٹی کے اجتماعی وجود کو خطرات سے دوچار کرنے کی طرف مائل کر دیا، یہاں تمام تر سیاسی اثر و رسوخ بھی حصول دولت اور اقربا پروری پہ مرتکز ہے، جس کے نتیجہ میں پیشہ ورانہ اہلیت بے معنی ہوتی گئی، بلدیاتی نظام ہو یا صوبائی سطح پر پالیسی سازی میرٹ کی بجائے بیشتر فیصلے طاقتوروں کی ایما اور اعلی طبقات کے مفاد کو پیش نظر رکھ کر کیے جا رہے ہیں، اس لئے عام شہری خود کو فیصلہ سازی کے عمل اور ریاستی امور سے لاتعلق سمجھتا ہے۔ جب ادارے کمزور، فیصلے غیر شفاف اور قانون کا کوڑا صرف کمزور کی پیٹھ پر برسے تو یہ سب کچھ ناکام گورننس کی علامات کو ظاہر کرتا ہے۔ اسی لئے آج ہمارے صوبہ کا سب سے بڑا ایشو گورننس کا بحران ہے، یہ آشوب صرف حصول زر کی ہوس تک محدود نہیں بلکہ قومی امانتوں میں خیانت کا پرسپشن دراصل ریاستی نظام پر سے عوام کے اعتماد کو ختم کرنے کا محرک بن رہا ہے، بین الاقوامی ادارے جیسے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل ہر سال صوبہ خیبر پختونخوا کو کرپشن کے حوالے سے تنزلی کی طرف جاتے دیکھتی ہے لیکن داخلی سطح پر ہمارے ارباب بست و کشاد میں فکرمندی اور سنجیدگی کا فقدان اجتماعی بقاء کے لئے سنجیدہ خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ بدقسمتی سے یہاں احتساب کے ادارے خود متنازعہ بن چکے ہیں بلکہ انسداد بدعنوانی کا محکمہ، بدعنوانی کی بیخ کنی کی بجائے کرپشن کو ریگولیٹ کرنے کا ذریعہ بن گیا، انسداد بدعنوانی کے اداروں میں کام کرنے والے پولیس اہلکاروں نے سرکاری ملازمین کو ہراساں کر کے مال وصول کرنے کی خاطر ایسے درخواست گزار رکھے ہوئے ہیں جن کا کرمنل ریکارڈ موجود ہے لیکن اوپر بیٹھے اعلی افسران ماتحت اہلکاروں سے یہ نہیں پوچھتے کہ سرکاری ملازمین کے خلاف درجنوں شکایات دائر کرنے والے یہ پیشہ ور درخواست گزار کون ہیں اور ان کی دائر کردہ سینکڑوں درخواستوں کو شفاف انکوائری کے ذریعے منطقی انجام تک پہنچانے کی بجائے خاموشی سے ”فائل“ کیوں کر دیا جاتا ہے؟

دوسری جانب ہر سطح پر محرومیوں کا شکار تعلیم یافتہ اور بے روزگار نوجوان مایوسی کے اندھیروں میں ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں، تجارت میں کساد بازاری اور کسان اپنی فصل کی قیمت وصول کرنے کے مواقع کھو رہا ہے، وقت کے ساتھ مایوسی غصے میں بدلتی دکھائی دیتی ہے، یہی غصہ احتجاج، ریاستی اداروں پر عدم اعتماد اور گاہے بگاہے پُرتشدد مظاہروں کی صورت میں سامنے آ رہا ہے، اگر طالع آزما اٹھ کھڑے ہوئے تو کمر توڑ مہنگائی اور ریاستی اداروں کے جبر سے نالاں متوسط طبقہ سڑکوں پر آنے میں دیر نہیں کرے گا۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ جب عوام ریاست سے مایوس ہوں گے تو ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسے غیر ریاستی عناصر اس خلا کو پُر کرنے کے لئے آگے بڑھ سکتے ہیں۔ انتہا پسندی، لسانی تقسیم اور مذہبی شدت پسندی دراصل اسی قسم کے خلا کے اندر پنپتی ہیں۔ اس تمام صورتحال سے نکلنے کے لیے پُر امن اصلاحات کی ضرورت تھی لیکن ہمارے ارباب بست و کشاد اپنے غرور کی وجہ سے بقاء کے تقاضوں سے بے خبر ہیں۔ بھلائی اسی میں ہے کہ جلد از جلد دفاعی ادارے سیاسی مداخلت سے ہاتھ کھینچ کر اپنی پیشہ ورانہ حیثیت کو بحال کرنے پہ توجہ دیں۔ احتساب کا نظام شفاف اور غیرجانبدار ہونے کے علاوہ تمام اداروں اور شخصیات پہ یکساں طور پر نافذ ہونا چاہیے۔ مملکت کے تمام شہریوں کے لئے تعلیم، صحت اور روزگار کے یکساں موقع پیدا کرنے کی خاطر ریاستی وسائل کا رخ عوام کی فلاح کی طرف موڑا جائے۔ پاکستان کو اس وقت ایک ایسے بیانیے کی ضرورت ہے جو صرف سیاست دانوں یا حکمرانوں کی ترجیحات کے مطابق نہیں بلکہ عام شہری کے مفروضوں کی تصدیق اور امیدوں کی تسکین سے مزّین ہو۔ ریاست کو یہ سمجھنا ہو گا کہ سندھ، بلوچستان اور خیبر پختون خوا میں عوامی اشتعال کوئی وقتی مظاہرہ نہیں بلکہ سنجیدہ انتباہ ہے۔ اگر عوام کو مایوسی کے اندھیروں سے نکالنا مقصود ہے، تو سماجی انصاف کی فراہمی کے لئے گورننس کے نظام کو بہتر بنانا ہو گا بصورت دیگر وہ دن دور نہیں جب یہ اشتعال کبھی نہ تھمنے والی خانہ جنگی کی صورت اختیار کر لے گا۔

Facebook Comments HS