مورخ صاحب
یونیورسٹی میں جب شعبہ تاریخ میں داخلہ لینے گیا تو جس شخصیت کا نام سب سے زیادہ کانوں میں گونجا وہ مورخ صاحب کا تھا۔ اُس دن کیونکہ وقت مختصر تھا اور کام بہت زیادہ اس لئے ملاقات نہ ہو سکی مگر دل میں ٹھان لی کہ جب ایم اے تاریخ میں داخلہ مل جائے گا تو ان سے بھرپور استفادہ حاصل کرنے کی کوشش کروں گا تاکہ پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک کی تاریخ پر بھی دسترس حاصل ہو سکے۔ آخر وہ دن بھی آ گیا جب یہ خوشخبری ملی کہ مجھے شعبہ تاریخ میں داخلہ مل گیا ہے اور یوں مورخ صاحب سے جس استفادے کا میں خواب دیکھ رہا تھا اُس کی تعبیر ملنے والی ہے۔ مجھے آج بھی وہ پہلا دن یاد ہے جب میں کلاس میں داخل ہوا اور میرے سامنے ایک پروفیسر صاحب مقدمہ ابن خلدون کے اوپر کچھ بحث کر رہے تھے جس کے دوران وہ بہت مشکل مشکل مثالوں سے بات کو سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے۔ ”کیا یہ مورخ صاحب ہیں؟“ ، میں نے ساتھ والے سے پوچھا تو اُس نے سر کے اشارے سے انکار کر دیا جس کے بعد میں نے مزید اُن کی باتیں سننا وقت کا زیاں سمجھا کیونکہ میں گھر سے نیت باندھ کر آیا تھا کہ مورخ صاحب کو سننا ہے اور ان کے علاوہ کسی کو نہیں سننا۔ چنانچہ اُن کے پورے لیکچر کے دوران اپنے پاس وہ سوالات نوٹ کرتا رہا جو میں نے مورخ صاحب سے پوچھنے تھے جیسے علمِ تاریخ کی اہمیت، اس کے اہم اصول، علم تاریخ کو پڑھنے اور سمجھنے کا صحیح طریقہ، یونانی تہذیب کا باقی تہذیبوں سے تقابل وغیرہ۔ یہ سوالات لکھ لینے کے بعد میں انتظار کی گھڑیاں گِن گِن کر گزارنے لگا کہ کب مورخ صاحب آئیں گے اور میری علم کی پیاس بجھائیں گے۔ خوش قسمتی سے مجھے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا کیونکہ گیارہ بجے جب اگلے لیکچر کا وقت ہوا تو جس شخصیت نے کلاس میں قدم رنجہ فرمایا وہ عزت مآب مورخ صاحب تھے۔ اُف! کیا شخصیت تھی۔ بکھرے بال، جینز کی پینٹ کے اوپر قمیص، پاؤں میں پشاوری جوتا، آنکھوں پہ چشمہ جس کا ایک شیشہ ٹوٹا ہوا اور بڑھی ہوئی شیو چیخ چیخ کر بتا رہی تھی موصوف علم میں اتنے ڈوبے ہوئے ہیں کہ اپنے ارد گرد کسی چیز کا خیال نہیں۔
” میں آپ سے عرض کر رہا تھا کہ تاریخ۔ آج ویسے کیا تاریخ ہے؟“ ، اُنہوں نے سوال پوچھا، ”سر آج انتیس فروری ہے“ ، ایک دوست نے جواب دیا۔ ”ہاں انتیس فروری اور کل ہوگی تیس فروری“ ۔ مجھ سمیت سب کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔ ”بھئی تیس فروری کو تاریخ میں بہت اہمیت حاصل ہے۔ یہ بہت اہم دن ہے اور اہم کیوں نہ ہو کہ میں خود تیس فروری کو پیدا ہوا تھا“ ۔ تیس فروری کی اہمیت پر میں ہمہ تن سنجیدگی سے غور کر رہا تھا جبکہ میرے باقی کلاس فیلوز مزے لے کر مسکرا رہے تھے۔ ”سر ویسے کیا آپ ایک دن آگے یا پیچھے پیدا نہیں ہوسکتے تھے۔ میرا مطلب ہے کہ آخر تیس فروری ہی کیوں؟“ ، دوسرے کلاس فیلو نے سوال پوچھا جس کے جواب میں موصوف نے اس دن کی اہمیت پر ایک دھواں دھار تقریر شروع کردی، جس میں اُن کے بقول ہماری تاریخ کا ہر اہم واقعہ تیس فروری کو پیش آیا ہے۔ اس کے لئے دلیل میں چندر گپت موریہ کی مثال سامنے لائے، جس کے مطابق یہ عظیم بادشاہ جس دن پیدا ہوا تھا وہ تیس فروری تھا۔ اُن کے بقول تیس فروری کو جن شخصیات کا جنم ہوتا ہے وہ اپنی زندگی میں غیر معمولی کارنامے سر انجام دیتی ہیں اگر نہیں یقین تو سلطانہ ڈاکو کو دیکھ لو جو تیس فروری کو پیدا ہوئی تھی۔ مورخ صاحب کے بقول اسکندر اعظم ساری دنیا فتح کر لیتا اگر وہ تیس فروری کو پیدا ہوتا مگر وہ محض ایک دن کی وجہ سے مار کھا گیا کہ تیس کی بجائے انتیس فروری کو اُس وقت پیدا ہوا جب دن ڈھل رہا تھا اور رات نمودار ہو رہی تھی۔ ”مگر سر یہ فروری تو عیسوی کیلنڈر میں آتا ہے جو یسوع مسیح کی پیدائش کے بعد بنا، ایسے میں وہ لوگ جو یسوع مسیح کی پیدائش سے پہلے پیدا ہوئے تھے اُن کے بارے میں ہمیں کیسے پتہ کہ وہ تیس فروری کو پیدا ہوئے تھے یا انتیس کو؟“ ، ایک لڑکی کا یہ سوال سن کر پہلے دلہن کی طرح شرمائے پھر دونوں ہاتھ پیچھے باندھ کر مخاطب ہوئے، ”ایک تو لڑکیوں کا مسئلہ یہ ہے کہ ہر بات میں کیڑے نکالتی ہیں۔ جبکہ کیڑا باتوں میں نہیں امرود میں ہوتا ہے“ ۔ ایک زور دار قہقہہ بلند ہوا جس کے بعد لڑکی نے شر مندہ ہو کر نیچے دیکھنا شروع کر دیا۔ ”اب دیکھو نا ایک اندرون شہر کی گلی محلے سے اٹھ کر آنے والی لڑکی کو کیا پتہ تاریخ کیا ہوتی ہے۔ انہیں تو بس اتنا پتہ ہوتا ہے کہ آج دودھ والے کو پیسے دینے کی تاریخ ہے تو کل بجلی کا بل جمع کرانے کی آخری تاریخ۔ ورنہ میٹر کٹ جائے گا اور ہمارا گھر اندھیرے میں ڈوب جائے گا“ ۔ اس کے بعد اُن کی تقریر کا رخ اندرون شہر کی بے ہنگم گلیوں اور رہن سہن کی طرف ہو گیا جو اُن کے بقول شہر کی ساری خوبصورتی کو خراب کر رہے ہیں۔ ”سر آپ اکتیس اپریل کے بارے میں بات کر رہے تھے“ ۔ ایک کونے میں بیٹھے لڑکے نے ٹوکا، ”ہاں۔ بالکل بہت اچھا کیا آپ نے یاد دلا دیا۔ اکتیس اپریل۔ بھئی واہ کیا تاریخ ہے۔ اکتیس اپریل جب ہمارے عظیم ہیرو محمد بن قاسم ہڑپہ میں پیدا ہوئے تھے اور محض سترہ سال کی عمر میں قطب الدین ایبک کو شکست دے کر فاتح راولپنڈی کا ٹائٹل جیت گئے تھے۔ تاریخ ِ پشاور کے مطابق یہ بہت بڑا مقابلہ تھا جس میں محمد بن قاسم نے فلائنگ ککس مار مار کر ایبک کا منہ ٹیڑھا کر دیا تھا“ ۔ اس دوران اُن کی آواز میں اتنا جوش اور ولولہ پیدا ہو گیا جیسے وہ کفر اسلام کی جنگ کا حال بتا رہے ہوں۔ اب وہ ڈائس پہ ہاتھ رکھ کر باقاعدہ ایک جوشیلے مقرر کی طرح ہوا میں مکے لہرا کر اس جنگ کا نقشہ کھینچ رہے تھے جو اُن کے بقول اکتیس اپریل کی رات پاکستانی وقت کے مطابق گیارہ بجے وزیر آباد میں استاد اللہ رکھا پہلوان کے اکھاڑے میں کھیلی گئی جس میں دو گھنٹے سخت مقابلے کے بعد غیاث الدین بلبن نے رضیہ سلطانہ کو شکست ِ فاش سے دوچار کیا۔ ”مگر سر! لڑائی تو محمد بن قاسم اور ایبک کی ہوئی تھی، پھر یہ درمیان میں بلبن اور رضیہ سلطانہ کہاں سے کود پڑے“ ۔ میں نے سوال کیا، ”دیکھو میرے عزیز۔ تاریخ اسی کا نام ہے۔ یہاں کسی بھی وقت انہونی ہو کر رہتی ہے۔ لہذا ذہن پہ زیادہ زور مت دو۔ ورنہ تاریخ کا علم نہیں حاصل کر پاؤ گے“ ۔
ان کے جملوں کے درمیان تمام کلاس ”واہ واہ۔ سبحان اللہ۔ کیا بات ہے سر۔ کیا کہنے“ جیسے الفاظ کے ساتھ اُن کے علم تاریخ کو داد دے رہے تھے جبکہ میں اپنا سر پکڑ کر بیٹھا یہ سوچ رہا تھا کہ یہ کون سی تاریخ ہے اور یہ کس قسم کے مورخ صاحب ہیں۔


