ناول لہو رنگ فلسطین


تاریخ کو فکشن کے ساتھ جوڑ کر پڑھنا اور سمجھنا میرا محبوب مشغلہ ہے۔ اس لیے کہ جو سچ اکثر تاریخ کی کتب میں طاقتور حکمرانوں کی منشاء و صوابدید پر ان کے من پسند مؤرخین اپنی مرتبہ تاریخی کتب میں درج کرتے ہیں، وہ وقت کے حقیقی سچ سے مختلف و متضاد ہوا کرتا ہے۔ تاریخ گہنانے کے صدیوں سے جاری عمل میں اگر کہیں تاریخ اپنی حقیقی صورت میں دکھائی دیتی ہے تو فقط انہی ادیبوں اور شعراء کے ہاں، جو حاکمین ِ وقت کے جور و ستم کے آگے زباں بندی کا پاس رکھتے ہوئے، اس سچ کو فکشن و شاعری کا ایسا عمدہ لبادہ پہناتے ہیں، کہ پڑھنے والا حساس ذہن ادب میں تاریخ کو آئینے کی مانند دیکھتا ہے اور ماضی کے حقائق کا سراغ ڈھونڈ نکالتا ہے۔

کچھ عرصہ قبل فیض فیسٹول میں سلمیٰ اعوان صاحبہ کے ناول لہو رنگ فلسطین پر بات کرنے کا اتفاق ہوا۔ یہ اس سنگین و حساس عالمی مسئلے کو اس کی مبادیات سے سمجھنے کا نادر موقع تھا، سو میں نے کوشش کی کہ سلمیٰ آپا کی کتاب کے ساتھ ساتھ عالمی نوعیت کے حامل اس دردناک مسلم نسل کشی کو ذرا گہرائی سے سمجھ سکوں، جو ان دنوں ایک پھانس کی صورت ہم سبھی کے دلوں میں چبھتی ہے۔

2013 میں تخلیق کیا گیا سلمیٰ آپا کا یہ ناول اسی دردناک مسئلے کی کلیدی وجوہات کا تعین کرتا ہے۔ عصرِ حاضر کے اس ہمیشہ رسنے والے زخم پر اس سے قبل 1979 ء میں فلسطینی نژاد امریکی دانشور ایڈورڈ سعید نے جو کچھ لکھا تھا وہ آج بھی تاریخ کی ایسی اہم دستاویز ہے جو اس مسئلے کی تاریخی جڑوں کو سمجھنے کے حوالے سے سند کی حیثیت رکھتی ہے۔

فلسطینیوں کا موقف دیانتداری اور کھرے انداز سے اپنی کتاب ”مسئلۂ فلسطین“ میں پیش کرنے والے ایڈورڈ سعید ( 1935۔ 2003 ) وہ حقیقی دانشور تھے جنھوں نے پہلی بار اس مسئلے کو اس کے صحیح تناظر میں دیکھنے اور عالمی دنیا کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی۔ تب انھوں نے اس مسئلے پر عالمی دنیا کی مکر و فریب سے بھری سیاست، مغرب کے نام نہاد لبرل و دانشور طبقے کی مصنوعیت اور اس مسئلے پر ان کی عیارانہ سازشوں اور پالیسیوں کو ثبوتوں اور مستند حوالوں کے ساتھ اس کتاب میں پیش کیا تھا۔ یہ اس کتاب کا ڈر ہی تھا کہ جس کی بدولت اسے اپنی اشاعت کے فوراً بعد کتب خانوں اور بازاروں سے غائب کرا دیا گیا تھا۔

ایڈورڈ سعید کی یہ عجب خوش قسمتی تھی کہ جتنا اس کتاب کو منظرِ عام سے ہٹانے پر زور دیا گیا اتنا ہی یہ کتاب دنیا کے طول و عرض میں خفیہ پھیلنا شروع ہو گئی۔ پاکستان میں 1991 میں شاہد حمید صاحب کے ترجمے کے بعد اسے پہلی بار لاہور سے شائع کرایا گیا۔ اب 2021 سے یہ ترجمہ ادارہ بک کارنر جہلم چھاپ رہا ہے جو اس موضوع پر لکھے گئے سلمیٰ اعوان کے ناول ”لہو رنگ فلسطین“ کا بھی ناشر ہے۔ سلمیٰ آپا کے اس ناول کو پڑھنے سے قبل اگر ایڈورڈ سعید کی کتاب ”مسئلہ فلسطین“ پڑھ لی جائے تو چند چیزیں قاری کے ذہن میں صاف ہو جاتی ہیں اور وہ اس ناول کا کرب زیادہ گہرائی سے اپنی روح میں اترتا محسوس کرتا ہے۔

اپنی کتاب میں ایڈورڈ سعید نے فلسطین سے جڑے جن بنیادی مباحث پر بات کی ان میں صیہونیت کیا ہے؟ یہ کہاں سے آئی؟ اس کا فروغ کیسے جدوجہد سے کیا گیا؟ اس سب کے لیے مغربی سیاست دانوں نے مکرو فریب سے کیا کیا جال بچھائے؟ نام نہاد مغربی دانشور و لبرل طبقے نے شاعروں، ادیبوں، نقادوں اور سفرنامہ نگاروں کے ذریعے کیسے اس خطے میں آباد کاری کا راستہ استوار کیا؟ بقول ایڈورڈ سعید:

”اہلِ مغرب کو یہ بات قطعاً اہم نظر نہیں آتی کہ مسلمان پسماندہ ہی سہی لیکن ان کا ایک اپنا طرزِ حیات تھا اور انسان ہونے کے ناتے انھیں یہ حق حاصل تھا کہ وہ اس طرزِ حیات کو اپنائے رکھیں اور اس پر چلتے رہیں۔ اہلِ مغرب کو اس بات میں بھی کوئی اہمیت نظر نہیں آتی کہ“ زمین ”کے ساتھ مسلمانوں کی وابستگی اتنی ہی شدید ہو سکتی تھی جتنی کہ یہودیوں کی۔ بلکہ ایک لحاظ سے تو ان کی یہ وابستگی یہودیوں سے زیادہ شدید تھی کہ وہ صحیح معنوں میں صدیوں سے یہاں رہتے چلے آ رہے تھے اور اپنا سب کچھ یہاں لا چکے تھے۔ جب کہ یہودی تو جلا وطنی کے زمانے میں صیہون کی محض تمنا ہی کر سکتے تھے۔ حقیقتاً مغرب میں جس چیز کو اہم گردانا گیا وہ ان کی نسلی برتری کے تصورات تھے، جنھیں صیہونیوں نے بلا پس و پیش ہتھیا لیا تھا۔“

اس قضیے کے بارے میں مزید وضاحت سے لکھتے ہوئے وہ خلافتِ عثمانیہ کے سلطان کے بارے میں بھی بتاتے ہیں کہ جنھوں نے انھیں فلسطین کے ایک مختصر سے قطعے پر آباد کاری کا پروانہ دیا اور عرب کے اونٹ کی مانند انھوں نے کس عیاری سے فلسطینیوں کو ان کی جدی پشتی زمینوں سے بے دخل کر دیا اور ریاست اسرائیل کی بنیاد ڈالی۔

فقط یہ سب ہی نہیں بلکہ اس خطے کے لوگوں کی اپنی زمینوں سے بے دخلی و بے وطنی کی کیفیت، ان پر ڈھائے جانے والے ظلم و ستم کا بیان، اس پر ابھرنے والی ان کی مزاحمت اور اس کی منظم ہوتی شکلیں، جنگ 1967 کے نتائج، کیمپ ڈیوڈ کا معاہدہ، اسرائیل و مغرب کی چالبازیاں، فلسطینی لوگوں کے پامال ہوتے حقوق اور اس مسئلے کا درست حل یہ سب مباحث اس کتاب کا حصہ ہیں، جن میں سے کئی بنیادی چیزوں کو سلمیٰ اعوان صاحبہ نے کہانی کی صورت اپنے ناول ”لہو رنگ فلسطین“ میں یوں سمیٹ دیا ہے کہ یہ سارا تاریخی منظر نامہ قاری خود اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے اور اجڑے فلسطینوں کے دکھ درد کو خود اپنی ذات پر محسوس کرتا ہے۔

سلمیٰ اعوان کا یہ ناول جو شاخِ زیتون سے لپٹی چار نسلوں کی کہانی سمیٹے ہوئے ہے ایک ایسا ضخیم ناول ہے، جو صدیوں کے اس کرب کا بھی احاطہ کرتا ہے جسے فلسطین سے جڑے سبھی لوگ تاحال جھیل رہے ہیں۔ 2013 میں یہ ناول لکھتے ہوئے شاید سلمیٰ آپا نے یہ قیاس بھی نہ کیا ہو گا کہ آج 2025 میں اس خطے میں مسلم نسل کشی یہ دردناک رخ اختیار کر جائے گی اور آگ و خون کا یہ کھیل ایک ایسی قیامت کی شکل میں برپا ہو گا کہ جہاں دکھ، درد، سسکیوں اور آہوں کے سوا کچھ نہ بچے گا۔

اس ناول کو تحریر کرنے کا قصہ بھی بہت دلچسپ ہے۔ ہوا یوں کہ جب سلمیٰ آپا نے مصر پر اپنی کتاب ”مصر میرا خواب“ تحریر کی تو اس کی تقریبِ پذیرائی، جو اسلام آباد میں مصری سفارت خانے میں ہوئی تھی، اس میں شامل فلسطینی سفیر ابو شنیب الہیثم نے ان سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ اس خطہ پردرد پر بھی کچھ لکھیں۔ جس پر انھوں نے وہاں اپنے دورے کے لیے ان سے فوری ویزے کی فرمائش کر ڈالی۔ اس پر انھوں نے ان دنوں وہاں کے فلسطینی صدر محمود عباس سے اجازت لی، جو انھوں نے بڑی خوشی سے مرحمت فرمائی۔ اب مزید اسرائیلی اجازت درکار تھی، جسے کئی سخت شرائط سے متصل کیا گیا اور ان کے دورے کی منظوری دے دی گئی۔ ابھی وہ وہاں جانے کے تصور کی خوشی بھی نہ منا پائی تھیں کہ اسرائیلی ملٹری کی طرف سے ان کی آمد کا اجازت نامہ منسوخ کر دیا گیا۔

سلمیٰ آپا جو فلسطین کی دھرتی پر اپنے قدم دھرنے، وہاں کے اپنے ذاتی مشاہدے اور وہاں کے ہردل عزیز شاعر محمود درویش سے ملنے کو بے تاب تھیں، تھک ہار کر خاموش ہو گئیں۔ اسی دوران انھیں اپنے پسندیدہ شاعر محمود درویش کی موت کا سانحہ بھی سننے کو ملا۔

سلمیٰ آپا اس ضمن میں جنگ سنڈے میگزین کی انچارج نرجس ملک کا شکریہ ادا کرتی ہیں جن کے اصرار پر انھوں نے خطۂ بے امان کی دلگداز کہانی کو رقم کرنا شروع کیا جس کی تخلیق و تشکیل میں ان کی مدد ان کی خالہ زاد بہن رضیہ حمید نے کی، جو چالیس سال سے امریکہ میں مقیم تھیں اور انسانی حقوق کی مختلف تنظیموں سے وابستہ رہنے کے سبب اکثر امریکی جیلوں کی مہمان رہا کرتی تھیں۔ انھوں نے جب ایک امن کی تنظیم کی جانب سے تین ماہ اسرائیل کا دورہ کیا تو واپسی پر سلمیٰ آپا کے لیے فلسطین و اسرائیل سے متعلق معلومات کا وسیع ذخیرہ لائیں۔

رضیہ حمید نے انھیں اپنے ان یہودی دوستوں کے بارے میں بھی بتایا جو وہاں امن کے خواہاں تھے اور وہ تمام معلومات بھی فراہم کیں جو اس خطۂ برباد کہانی لکھنے کو کسی بھی مصنف کو درکار ہوتیں۔ تب ان نقشوں، کتب، سی ڈیز اور تہذیبی تنوع پر مبنی ان کے ذاتی مشاہدے اور یادداشتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے انھوں نے نرجس ملک کی خواہش پوری کرتے ہوئے اس خطے کی حقیقی کہانی لکھ ڈالی۔

واضح رہے کہ 2013 میں شائع ہونے والے اس ناول کا حقیقی آغاز 2011 میں شائع ہونے والی ان کی کتاب ”کہانیاں دنیا کی“ سے ہوا تھا۔ ان کہانیوں کی شروعات میں ان کا ایک ناولٹ ”وہ اِک تارا“ شامل تھا، جو سوویت یونین کے ٹوٹنے اور انقلابِ فرانس کے بعد کی تاریخ کا احاطہ کرتا ہے۔ اس مجموعے میں شامل دوسری ہی کہانی ”او غزہ کے بچو!“ ایک ایسی عورت کی کہانی ہے جس کا شوہر یشار نابلوس جو فلسطین کا ایک قابل فاضل ڈاکٹر تھا اور جس نے اپنے وطن میں خدمتِ خلق کو ترجیح دی تھی اور جو وہاں کے مقامی مسلمانوں، یہودیوں اور عیسائیوں سبھی کا پسندیدہ تھا، ایک اسرائیلی حملے میں مارا جاتا ہے۔ دمشق کی گلیوں میں اپنے یورپی شوہر کے ساتھ پھرتی یہ لڑکی یائل جب اپنی دکھ بھری بپتا سناتی ہے تو سننے والوں کے کلیجے ہل جاتے ہیں۔

وہ اپنے پہلے شوہر یعنی شہید ہو جانے والے یشار کے دونوں بچوں کو اپنی بڑی بہن کو یہ کہہ کر سونپ آتی ہے کہ جب وہ بڑے ہو جائیں تو انھیں فلسطین کے لیے لڑنے والا مجاہد بنایا جائے۔ اس مختصر کہانی اور ناول کی طویل کہانی میں کئی جگہوں، کرداروں مثلاً موسیٰ، یائل اور یشار کے کردار اور ناول و کہانی کے واقعات میں حیرت انگیز مماثلت یہ بات صاف کر دیتی ہے کہ سلمیٰ آپا نے اسی کہانی کو بنیاد بناتے ہوئے اپنے طویل ناول کا ڈول ڈالا ہو گا، جو بعد میں ارتقاء و تخلیق کے مختلف مراحل طے کرتے ہوئے 2013 میں ایک مختلف اور ضخیم شکل ”لہو رنگ فلسطین“ میں ڈھل گیا۔

یہ ناول شاخِ زیتون سے لپٹی ایک نہیں کئی نسلوں کی کہانی ہے۔ جہاں سلمیٰ آپا نے ایڈورڈ سعید کی طرح تاریخ کی درست سمت میں دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے فلسطین کے اس ”مسئلے“ یا ”قضیے“ کو محض ایک مسلمان کی نظر سے نہیں دیکھا بلکہ اسے اس مقدس خطۂ ارض کی شکل میں دیکھا ہے جو یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں سبھی کے لیے مقدس و مبارک ہے، جس نے محمود درویش جیسے شاندار شاعر پیدا کیے، جہاں یوسف الضیاء خالدی جیسے سرفروش گزرے اور جس مٹی نے ایڈورڈ سعید جیسے حق شناسوں کو جنم دیا۔

کہانی کو تاریخ کے ریشوں میں بننے کی غرض سے سے ناول کا آغاز ہی انیسویں صدی کے دو تاریخی کرداروں تھیوڈور ہرزل اور عمانوئیل قرہ صو آفندی کی ملاقات سے ہوتا ہے۔ در حقیقت تھیوڈور ہرزل معروف آسٹریائی صحافی، ڈراما نگار اور سیاسی کارکن کا وہ تاریخی کردار ہے جسے جدید بابائے سیاسی صیہونیت بھی کہا جاتا ہے، جس نے ایک صیہونی تنظیم قائم کی اور یہودی ریاست کے قیام کے لیے دنیا بھر کے یہود کی فلسطین کی جانب ہجرت اور اس سرزمین کو طاقت کے بل پر چھین لینے کی پرزور تائید و حمایت کی، اسے بابائے ریاستِ اسرائیل بھی کہا جاتا ہے۔

دوسرا کردار عمانوئیل قرہ صو آفندی، جو ایک ترک یہود۔ ی تھا اور جس نے تھیوڈور ہرزل کی ہدایت پر ترکی کی خلافتِ عثمانیہ کے اس وقت کے سلطان عبدالحمید سے ایک وفد کے ہمراہ ملاقات کی اور انھیں پیشکش کی تھی کہ خلافتِ عثمانیہ جو مغربی طاقتوں کے مقابلے میں کافی کمزور اور مقروض ہو چکی تھی، وہ محض اس بات کے بدلے کہ اگر بیت المقدس اور فلسطین کا علاقہ یہودیوں کی آباد کاری کے غرض سے دے دیا جائے تو بدلے میں کئی ٹن سونے اور خلافتِ عثمانیہ کے تمام قرضوں کی ادائیگی کر دی جائے گی۔ مگر بدلے میں خلیفہ و سلطان عبدالحمید نے اپنے جذبہ حمیت کے تحت پیر کے انگوٹھے سے زمین کی ذرا سی مٹی کریدتے ہوئے یہ تاریخی جملہ کہا: ”اگر اس سب کے بدلے تم بیت المقدس کی اتنی سی مٹی بھی مانگو گے تو ہم نہیں دیں گے۔“

حیرت انگیز طور پر یہ وہی عمانوئیل قرہ صو آفندی تھا کہ جو اس واقعے کے چند ہی سالوں بعد کمال پاشا یا کمال اتاترک کی جانب سے سلطان کی خلافت کے خاتمے کا پروانہ تھامے خلیفہ کے سامنے موجود تھا۔

یہاں کہانی کا ایک تیسرا کردار بھی ہے جس کا ذکر یہ دونوں کردار بار بار کرتے ہیں۔ یہ کردار اور کوئی نہیں بلکہ یروشلم کے ممتاز فلسطینی مرد یوسف ضیاء الدین الخالدی کا ہے، جنھوں نے فلسطین اور سلطنتِ عثمانیہ کی سیاسی و آئینی زندگی میں اپنا اہم کردار ادا کیا اور ہمیشہ صیہونیوں کی کہی اس بات کہ تردید کی کہ فلسطین کبھی بے زمین لوگوں یعنی یہودیوں کے لیے بے آباد جگہ نہیں رہا۔ جن کے نزدیک فلسطین کو کبھی خریدا نہیں جا سکتا اسے صرف توپوں اور جنگی قوت کے بل پر ہی زیرِ نگوں کیا جا سکتا ہے۔

ماضی و حال کی یہ کہانی ان لوگوں کے المیے پر مشتمل ہے جس میں مسلمان، عیسائی اور قدیم عرب یہودی جو ابتداء ہی سے اقلیتی صورت میں وہاں آباد تھے، ان کی دھرتی کو ان کی مرضی کے بغیر ہی ان سے چھین لیا گیا۔ اس پر ناجائز و غاصبانہ قبضہ و تسلط قائم کیا گیا۔ معصوم فلسطینیوں کو کہیں بہکا کر، کہیں لالچ دے کر تو کہیں طاقت کے دھونس پر ان کی زمینوں اور مکانوں سے بے دخل کر دیا گیا۔ اس حوالے سے ایڈورڈ سعید اپنی کتاب مسئلۂ فلسطین میں لکھتے ہیں کہ:

”فلسطین ایک ایسی دھرتی ہے، جہاں دو فریق ایک دوسرے کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔ ان میں ایک فریق مقامی باشندوں پر مشتمل ہے، جو اس دھرتی پر موجود تھے یا ہیں، دوسرا فریق ان لوگوں پر مشتمل ہے جو باہر سے یہاں وارد ہوئے۔ یہ نووارد ترقی یافتہ یورپی ثقافت اور مغربی صورت کے علمبردار تھے۔ یہاں منظم طریقے سے فلسطینیوں کے وجود سے انکار کیا جاتا رہا۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ایک طرف ان کے گھروں اور جائیدادوں کو نیست و نابود کیا جاتا، ان کے راستے میں طرح طرح کی رکاوٹیں کھڑی کی جاتیں، ان کی نقل و حرکت پر پابندیاں لگائی جاتیں، جہاں بس چلتا انھیں زندانوں میں نظر بند کر دیا جاتا۔ دوسری طرف یہ کوشش کی جاتی کہ عالمی مجالس میں اس مسئلے کا کسی طور ذکر نہ ہونے پائے تاکہ فلسطینیوں کی کہیں شنوائی نہ ہو سکے۔“
(جاری ہے )

Facebook Comments HS