سائیکل کا جنون


مجھے سائیکل کا جس قدر جنوں رہا ہے، کسی اور سواری کے لیے دل ایسے نہیں مچلا۔ بچپن کی یاد داشتوں میں ایک ٹرائی سائیکل ہے جو میری ملکیت تھی، مگر بائیسکل کی بات سوا تھی۔ تب شاید بچوں کی بائیسکل عام نہ ہوں گی، اس لیے کسی کے پاس چھوٹی بائیسکل دیکھی نہیں، مگر گھر گھر نہیں تو اڑوس پڑوس میں بڑوں کی بائیسکل تو عام سی بات تھی۔ سہراب کی سائیکل تب ایسی بیش اہمیت کی ہو گی، جیسے آج ہنڈا سی ڈی سیونٹی۔ میرا قد چھوٹا تھا، بڑی سائیکل کی گدی پر بیٹھ کر پانو پیڈل تک نہ جاتے تھے، تو حل یہ ہوتا کہ دایاں پانو فریم کے بیچ میں سے دوسری طرف لے جا کے دائیں پیڈل پہ رکھا جاتا اور بایاں پانو بائیں پیڈل پر رہتا؛ اس انداز سے سائیکل چلانے کو قینچی چال کہا جاتا تھا۔ قینچی چلانے میں توہین محسوس ہوتی تو سائیکل کو کسی بلند تھڑی کے ساتھ جما کے گدی پر سوار ہو جاتا اور پھر داہنے پانو سے اس قوت سے پیڈل مارنا کہ بایاں پیڈل گھوم کر بائیں پانو کو چھو لے۔

شروع شروع میں کچھ دور جا کے گرنا ہی ہوتا تھا۔

سائیکل سیکھتے میں میں نے بہت چوٹیں کھائی ہیں۔ ایک بار ہینڈل مڑنے سے آگے کی طرف یوں گرا کہ ہتھی میرے نرخرے میں دھنس گئی؛ کچھ دیر ایسا لگا کہ پلٹ کر دم نہیں آنے والا۔ ایک بار یوں گرا کہ دائیں ہاتھ کا انگوٹھا اتر گیا۔ تب سائیکل مرمت کی دکان سے بائسیکل کرائے پر مل جایا کرتی تھی۔ محدود سی پاکٹ منی اس شوق میں خرچ کر دیا کرتا۔

میرے ایک ماموں کے پاس پیکو کمپنی کی سائیکل تھی جو بہت مضبوط سمجھی جاتی تھی۔ پیکو سائیکل کے کیریئر پر انھوں نے لوہے کا بڑا سا باکس ویلڈ کروا رکھا تھا۔ ماموں ریل ویز ڈپارٹ منٹ میں الیکٹریشن تھے تو اس باکس میں ان کے اوزار مقید رہتے۔ ایک بار ماموں گھر آئے تو میں چپکے سے ان کی سائیکل لے کر ریل ویز گراؤنڈ میں گھمانے لگا۔ سائیکل بھاری تھی، اسے قابو رکھنے کے لیے قینچی چلانا پڑی۔ ایک موڑ کاٹتے میں، میں نیچے اور سائیکل کے کیریئر پر فکس بھاری بھرکم ٹول باکس میری کمر پر آ گرا؛ درد ہوا ہو گا مگر سائیکل کا عشق ایسا تھا کہ درد یاد نہیں۔

چھٹی کلاس میں تھا تو امی سے فرمایش کی کہ مجھے بڑی سائیکل خرید دیں، میں اس پر اسکول آیا جایا کروں گا۔ یقین مانیے، اس زمانے میں راول پنڈی میں ٹریفک رش نام کی کسی چڑیا سے واقف نہ تھے، لیکن امی نے جواب دیا، ابھی تم چھوٹے ہو، اتنے رش میں سائیکل لے جانا ٹھیک نہیں ؛ میٹرک پاس کر لو، پھر خرید دوں گی۔ ایک امید تو ہوئی کہ میں سائیکل پر کالج آیا جایا کروں گا۔ میٹرک پاس کر لینے کے بعد امی کو اپنا وعدہ یاد تھا، جب کہ میں چوری چھپے موٹر سائیکل چلانا سیکھ چکا تھا۔ امی نے سائیکل کی بات کی تو میں نے کہا، مجھے موٹر سائیکل چاہیے۔ انھوں نے کہا، میں موٹر سائیکل تو نہیں خرید کر دے سکتی۔ میں نے ضد کی، پھر سائیکل بھی نہیں چاہیے۔

ایک دن موٹر سائیکل بھی خرید لی، پھر دوسری بائک، سائیکل نہ خریدی۔ سائیکل چلانا سیکھنا کام تھا، موٹر سائیکل چلانا آسان ثابت ہوا۔

کار چلانا میں نے تب تک نہیں سیکھی، جب تک خرید نہ لی۔ پہلی کار سوزوکی ایف ایکس تھی، جسے ریواز گارڈن لاہور سے لے کر نکلا، سیکرٹریٹ، داتا دربار، لوہاری، دو موریہ پل سے ہوتا نیلم سنیما پہنچا؛ اسی روٹ سے کرشن نگر کو وا پسی ہوئی، جہاں ایک ماموں کی جیولرز شاپ تھی۔ ماموں سے پوچھا، یہاں کوئی ڈرائیونگ اسکول ہے، جہاں سے ڈرائیونگ سیکھ سکوں؟ انھوں نے پوچھا، کار چلا کے کہاں سے آئے ہو؟ میں نے بتایا تو ہنسنے لگے۔ کہا، تم نیلم سنیما، مصری شاہ، لوہاری، بھاٹی کی ٹریفک سے ہو کے آئے ہو تو تم ڈرائیور ہو، ڈرائیونگ اسکول کی کیا ضرورت ہے؟

مجھے آٹو وہیکلز کا کبھی شوق نہیں رہا، نہ مجھے گاڑیوں کے ماڈل کی پہچان ہے ؛ بس جو کار میرے پاس ہو، اسی کا پتا ہوتا ہے کہ کیسی ہے۔ سائیکل سے عشق ایسا تھا کہ بیٹے بیٹیوں کو ان کی عمر اور قد کی مناسبت سے سائیکلیں خرید کر دیں، جو میرے بچپن میں عام نہ تھیں۔ میرے سب بچوں نے کم سنی میں بائسیکل چلانا سیکھ لیں۔ بیٹے کو یونے ورسٹی آنے جانے کے لیے بائک خرید کر دی تو اس کی ماں کو وہی فکر لاحق ہوئی جو کبھی میری ماں کو ہوئی تھی کہ اتنے رش میں یہ بائیک کیسے چلائے گا۔ گزشتہ برس بیٹی کو تجویز دی، تمھاری یونے ورسٹی گھر سے دور ہے، آنے جانے کے لیے اسکوٹی نہ خرید دوں؟ بیٹی نے بے نیازی سے جواب دیا، مجھے اسکوٹی پسند نہیں، کار خرید دیں۔ میں نے سوال کیا، بیٹا ہاتھی تو خرید دوں، گنے کون پورے کرے گا؟ تیسرے نمبر والی جو کالج میں ہے، نے جھٹ سے کہا، ابو مجھے اسکوٹی خرید دیں۔ اللہ بھلا کرے ان کی ماں کا، جس نے تمام تجاویز ویٹو کر دیں، کہ اتنے رش میں لڑکیاں اسکوٹی کیسے چلائیں گی، کالج یونے ورسٹی کی بس ہی ٹھیک ہے۔

اپنی بساط کے مطابق موٹر سائیکلیں بدلیں، کاریں بدلیں، اپنے لیے سائیکل نہ خریدی؛ کبھی خیال ہی نہ آیا۔ اب یہ سطریں لکھتے سوچ رہا ہوں، کہیں سے پیکو یا سہراب کی سائیکل ملے تو خرید لینی چاہیے، تا کہ یہ حسرت تو پوری ہو۔

Facebook Comments HS

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔ خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلی ویژن پروگرام پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلی ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ آج کل اسکرین پلے رائٹنگ اور پروگرام پروڈکشن کی (آن لائن اسکول) تربیت دیتے ہیں۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 326 posts and counting.See all posts by zeffer-imran