بگ برادر، بریو نیو ورلڈ اور ڈاک شارٹ فلم فیسٹول بہاول پور


بابائے صحافت والٹر لپمین کا خیال تھا کہ ہم دنیا کو میڈیا کی آنکھ سے دیکھتے ہیں۔ سن انیس سو بائیس میں جب انہوں نے یہ بات کہی ہوگی تو اُس وقت میڈیا کا مطلب اخبارات، میگزینز اور گونگی فلموں سے زیادہ اور کیا ہو گا؟ ابھی تو پہلا ریڈیو سٹیشن قائم ہوئے بھی محض ایک برس ہوا ہو گا اور یہ بھی نہیں معلوم کہ کتنے لوگ اس کی نشریات سنتے ہوں گے۔ ابھی تو دنیا نے ٹیلی ویژن کا نام تک نہیں سنا ہو گا اور نہ ہی وہ بی بی سی اور ڈوئچے ویلے کے بارے میں کچھ جانتے ہوں گے۔ ابھی تو ڈاکٹر گوئبلز نے رائخ براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کا انصرام بھی نہیں سنبھالا ہو گا، جہاں آنے والے دنوں میں اتنا جھوٹ بولا جانا تھا کہ وہ سچ بن جاتا۔ ابھی ”دا جاز سنگر“ کو ریلیز ہونے میں پانچ سال کا عرصہ باقی ہو گا کہ جب دنیا یہ جان کر دنگ رہ جائے گی کہ سلور سکرین بول بھی سکتی ہیں۔ ابھی تو ہالی وڈ نے جنگی پراپیگنڈے کا آرٹ بھی نہیں سیکھا ہو گا، لیکن والٹر لپمین نامی ایک گیانی تب بھی جانتا تھا کہ ہم دنیا کو میڈیا کی آنکھ سے دیکھتے ہیں۔

ایک اور سوال یہ بھی ہے کہ میڈیا ہمیں کس آنکھ سے دیکھتا ہے یا یہ کہ اِس کی آنکھ پر کس کا اجارہ ہے۔ اِس کا مفصل جواب ہمیں نوم چومسکی اور ایڈورڈ ہرمن کے ہاں ملتا ہے۔ ان کا پروپیگنڈا ماڈل ہمیں بتاتا ہے کہ کوئی بھی خیال ہم تک پہنچنے سے پہلے کم از کم پانچ کسوٹیوں پر پرکھا جاتا ہے۔ اگر وہ ریاست، ملٹی نیشنل کارپوریشنز اور طاقتور غیر ریاستی عناصر کے مفادات کو زک پہنچانے سے گریز کرے تو اس کی بروقت ترسیل میں کوئی امر مانع نہیں۔

ہرمن اور چومسکی سے تین دہائیاں قبل جارج آر ویل نے ”انیس سو چوراسی“ کے ذریعے ایک ایسی ہولناک دنیا کا تصور پیش کیا تھا، جہاں ذرائع ابلاغ پوری طرح سے ریاستی مشینری کے کنٹرول میں ہوں گے۔ جہاں الفاظ پر ہی نہیں، خیالات پر بھی پہرہ ہو گا، اور جہاں ’دو اور دو کو چار کہنا‘ ایک ناقابلِ تلافی جرم قرار پائے گا۔ ”انیس سو چوراسی“ ایک ایسے ”بگ برادر“ کی دنیا تھی، جو ہر وقت سب کو دیکھ رہا ہے، اور ہر وقت دیکھنے والی آنکھ سے زیادہ ڈراؤنا اور خوف ناک کیا ہو سکتا ہے! ۔ شاید ”بریو نیو ورلڈ“ ؟

انٹرنیٹ کی ایجاد، سوویت یونین کے انہدام اور یوٹیوب کی عالمگیر کامیابی نے ایک ایسی چلبلی دنیا کے خد و خال وضع کیے، جو چومسکی اور جارج آر ویل کے مفروضوں سے بالکل مختلف تھی۔ اِس کی اگر کوئی صحیح پیش گوئی کر پایا تھا تو وہ الڈس ہکسلے اور اس کا فیوچرسٹک ناول ”بریو نیو ورلڈ“ تھا۔ اکیسویں صدی کو معلومات کی قلت نے نہیں، اِس کی کثرت نے برباد کیا۔ لفظوں اور آوازوں کو روکا نہیں گیا، بلکہ اتنی مہارت کے ساتھ ہر طرف پھیلا دیا گیا کہ دیکھتی آنکھیں اور سنتے کان نایاب ہو گئے ؛ ایک نا مختتم ہنگامے اور بے معنی شور کے سوا کچھ بھی باقی نہ رہا۔

ایسا معلوم انسانی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ دماغوں کو کنٹرول کرنے کے بجائے انہیں ماؤف کر دیا گیا ہو۔ یہ ایک سرسری، عامیانہ اور پُر جبلت دنیا ہے، جس کے بنیادی اجزاء شاپنگ، شو ٹائم اور ڈوپامین ہیں۔ یہاں سوچنے اور محسوس کرنے پر کوئی پابندی نہیں، لیکن دوسروں سے آگے نکلنے کی دوڑ اور مثبت امیج برقرار رکھنے کا دباؤ اتنا زیادہ ہے کہ ’سطح مرتفع‘ ہی ’سیف آپشن‘ ہے۔ جو تھک کر گر گئے یا پیچھے رہ گئے، ان کے بارے میں غور و فکر یا خود کلامی کرنے سے کہیں بہتر ہے، آدمی شارٹس یا ریلز دیکھ لے۔

اِس ”بہادر نئی دنیا“ میں ہم دلی، انسانیت اور مزاحمت کی کوئی جگہ نہیں، نہ ہی کسی ”بگ برادر“ کی، لیکن کیا عجب وہ اب بھی ہمیں چھپ کر دیکھ رہا ہو اور ہماری احمقانہ سادہ لوحی پر خوب لمبے لمبے قہقہے لگا رہا ہو؟

میں نے زندگی کو میڈیا کی آنکھ سے دیکھنے کے بجائے سنیما کے پردے پر دیکھا اور محسوس کیا ہے۔ زندگی سے بڑا اور کیا ہو سکتا ہے؟ شاید کچھ بھی نہیں۔ مگر بہرحال میرے لیے سنیما زندگی سے کہیں زیادہ بلند اور ارفع ہے، کیونکہ اِس کے وسیلے میں نے وہ کچھ بھی دیکھا، جو مجھے زندگی نہ دکھا سکی۔

یہ سچ ہے کہ ہم ایک مسلسل بے حسی اور بے گانگی کی پاتال میں گر رہے ہیں، لیکن فلم ایک ایسی صنف ہے جو ہمیں سوچنے، سمجھنے اور محسوس کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔ فلم اندھیرے کو روشنی، سیاہی کو دھنک اور آدمی کو انسان بناتی ہے۔ یہ چلڈرن آف مین، پلیٹ فارم، پیرا سائٹ، ٹرومین شو اور ایلزئیم جیسی فلمیں ہی ہیں، جو عصرِ حاضر کی اخلاقیات کو چیلنج کر سکتی ہیں۔ اِنہوں نے ہماری گدلی روحوں کے اندر تک اتر کر ہمیں ایک بار پھر نا انصافی اور عدم مساوات کے خلاف مزاحمت کا بھولا بسرا سبق یاد دلایا۔ یہ فائٹ کلب، کاسٹ اوئے، شاشینک ریڈمپشن اور مسٹر نو باڈی ہیں، جنہوں نے اِس عہد کی بے معنویت کو کم کرتے ہوئے ہمیں زندگی گزارنے کے کچھ نئے قرینے فراہم کیے۔ یہ گیٹ آؤٹ، گٹاکا، پی کے، مائی نیم از خان اور آ فیو گڈ مین ہیں، جو ہمیں نسلی اور مذہبی تعصبات سے بالاتر ہونے کا درس دیتی ہیں، اور جنہوں نے طاقت کے ریاستی بیانیوں سے انحراف کرتے ہوئے انسانیت کو ہر چیز پر مقدم رکھنے کی تلقین کی۔

اہلیہ محترمہ، آنسہ عفیفہ پراچہ بھی میری طرح فلم بینی کی شوقین ہیں، لیکن اُنہیں فینٹسی، بائیوپک اور سائنس فکشن سے کہیں زیادہ کرائم اور سائیکولوجیکل تھرلرز پسند ہیں۔ زمانہ طالب علمی کی گولڈ میڈلسٹ اور میڈیا اسٹیڈیز کی استاد ہیں، لیکن کبھی انہیں اِس بات پر غرور کرتے نہیں دیکھا۔ کئی برسوں تک یہی سوچتی رہیں کہ انہیں کمیونیکشن تھیوریز اور ریسرچ پڑھانے کو مل جائے تو یونیورسٹی الٹا کر رکھ دیں، مگر انہیں ایڈورٹائزنگ، فوٹو جرنلزم اور میگزین کمیونیکشن جیسے اطلاقی مضامین ہی میسر آ پائے۔ چنانچہ زیادہ تر اُنہیں ناخوش ہی پایا۔ اُنہیں یہ قلق بھی تھا کہ پاکستانی فلم انڈسٹری پچھلے پچیس برسوں میں ”خدا کے لیے“ ، ”بول“ اور ”دا لیجنڈ آف مولا جٹ“ کے علاوہ کوئی قابلِ ذکر فلم نہیں بنا پائی۔ اور اُن میں بھی وہ سنیمائیت اور جادوئی احساس نگاری مفقود ہے، جو ناظر کی شخصیت کو اندر تک جھنجھوڑ ڈالے۔ وہ یہ بھی چاہتی تھیں کہ چھوٹے پیمانے پر ہی سہی، لیکن جنوبی پنجاب میں کم از کم کچھ ایسے فلم میکرز ضرور موجود ہوں، جو یہاں کی ثقافت اور سماجی زندگی کو منعکس کر سکیں۔

چند ماہ قبل اچانک ان کے دل میں خیال آیا کہ کیوں نہ اِس کام کے لیے اپنے طلباء و طالبات کی معاونت لی جائے۔ باہر سے تو کہیں فلم میکر آنے سے رہے۔ جو موجود ہیں، انہی سے کام چلانا ہے۔ پسرمِ ہوشیار بود، جناب ریان مصطفیٰ کا خیال ہے کہ یہی وہ لمحہ تھا جب ڈوک شارٹ فلم فیسٹیول بہاولپور کی بنیاد رکھی گئی۔ یہ جملہ معترضہ بھی اُنہی سے منسوب ہے کہ بچے نہ صرف من کے سچے اور دھن کے پکے ہوتے ہیں، بلکہ انہیں قربانی کا بکرا بنانا بھی آسان ہے۔

اہلیہ محترمہ نے یہ پروپوزل اپنے چیئرمین، ڈاکٹر ملک عدنان کے سامنے رکھا تو انہوں نے فوراً گو آہیڈ دے دیا۔ ابتداء میں تو صرف بی ایس، سمیسٹر آٹھ کے طالب علم ہی اِس سرگرمی کا حصہ تھے، لیکن آہستہ آہستہ تیسرے اور چوتھے سمیسٹر کے طالب علم بھی مچان میں آتے گئے۔ نتیجہ جس کا یہ نکلا کہ دو ماہ کے قلیل عرصے میں ہی ستائیس شارٹ موویز، دو میگزینز اور فوٹو جرنلزم کے بارہ پروجیکٹس تیار ہو گئے۔ اب بس انہیں ڈسپلے ہونا تھا۔ قرعہ فال آٹھ مئی کا نکلا، مگر سات مئی کی رات کو بھارتی میزائلوں نے بہاول پور پر ہلہ بول دیا۔

اُڑنے بھی نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے
اسے چھٹی نہ ملی، جس نے سبق یاد کیا

بہاول پور تو کسی نہ کسی طرح یہ سانحہ برداشت کر گیا، لیکن اہلیہ محترمہ کے حوصلے پست ہو گئے۔ اُنہیں یوں لگا کہ جیسے فطرت انہیں محض لیکچر تھیٹر اور کمرہ امتحان تک محدود رکھنا چاہتی ہے، فیسٹول کا انعقاد ان کے بس کی بات نہیں۔ میں نے بارہا سمجھایا کہ میزائلوں کی یلغار کا اُن کے فیسٹول سے اِتنا ہی تعلق ہے، جتنا انٹارٹیکا کے پینگوئنز کا ایمزون کے ریچھوں سے، لیکن ان کے نرگسی عقائد آڑے آ گئے۔ انہوں نے بٹر فلائی افیکٹ، سٹرنگ تھیوری اور ہولی ازم کا حوالہ دے کر خاکسار کی بولتی بند کر دی۔ بقول شاعر، ’کون سنتا ہے کہانی میری‘ ۔ فیکلٹی کی طرف سے میڈم ماہم شمس اور آغا صدف مہدی، اور سٹوڈنٹس کی جانب سے اعجاز واصل، عائشہ شاہنواز اور نعیم بن حفیظ، ایونٹ کے انتظامی معاملات دیکھ رہے تھے۔ انہوں نے ہی مشکل کی اِس گھڑی میں اہلیہ محترمہ کی ڈھارس بندھائی، اور انہیں ایک دریا سے دوسری بار گزرنے پر آمادہ کیا۔

اگر چند لمحوں کے لیے یہ مان لیا جائے کہ ایک دریا سے دو بار گزرا جا سکتا ہے تو ہمیں یہ بھی ماننا پڑے گا کہ دوسری بار گزرنا، پہلی بار سے کچھ زیادہ آسان ہو گا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ انیس مئی کو دوپہر کو جب یہ فیسٹول رونما ہوا تو منتظمین کے چہروں پر پریشانی کا شائبہ تک نہ تھا۔ یہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے بغداد الجدید کیمپس کا قصہ ہے۔ سر صادق خان لائبریری کی بیسمنٹ میں واقع یوتھ ڈویلپمنٹ سینٹر حاضرین سے کچھا کھچ بھرا ہوا تھا۔ اہلیہ محترمہ نے مائیک سنبھالا، مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور پہلی فلم پلے کر دی۔

اقربا پروری کی اس سے بڑھ کر واضح مثال اور کیا ہو سکتی ہے کہ اہلیہ محترمہ کو پورے بہاول پور مِیں ایک میں، اور میرا دوست راشد سعیدی ہی نظر آئے، جو اِس ایونٹ کو جج کر سکیں۔ بقول شاعر، شیر کی مرضی، وہ چاہے انڈے دے یا بچے۔ ہم نے بہرحال ہر ممکن کوشش کی کہ کسی کا حق نہ مارا جائے۔ احباب چاہیں تو اِسے ہماری خوش خیالی بھی سمجھ سکتے ہیں۔

لگ بھگ چار گھنٹوں پر محیط اِس سنیمائی سفر کے دوران ہم نے ہر رنگ اور مزاج کی شارٹ فلمیں اور ڈاکیو منٹریز دیکھیں، تاہم طہٰ اور نعیم کی ”ڈارک فریکوئنسی“ ہمیں سب سے زیادہ پسند آئی۔ نہ صرف یہ کہ اِس کا پلاٹ کافی انگیجنگ اور مربوط تھا، بلکہ اِس کی پسِ پردہ موسیقی اور ایڈیٹنگ بھی غضب کی تھی۔ ابتداء میں تو یوں لگا جیسے ہم کوئی کرائم تھرلر دیکھ رہے ہوں، تاہم پوائنٹ آف ویو کی تبدیلی اور مونو ڈراما کے استعمال نے اسے ایک نفسیاتی جہت بھی عطاء کر دی۔ ”ماسک مین“ نامی کردار کے ذریعے ہمیں یہ باور کروانے کی کوشش کی گئی کہ بظاہر ایک خونخوار ”سیریل کلر“ بھی اپنے بنیادی رویوں میں دوسرے انسانوں جیسا ہو سکتا ہے۔ ایک اور سطح پر دیکھا جائے تو عام انسانوں سے مماثلت، فلم کے مرکزی کردار کو زیادہ پُر دہشت اور ہولناک بنا دیتی ہے۔ شاید ہم ایک آدم خور بھیڑیے یا شیر سے اتنا خوف محسوس نہ کریں، جتنا ایک آدم خور آدمی سے، بالخصوص تب، جب اس نے جدید تراش خراش کا لباس بھی پہن رکھا ہو۔ غالباً یہی وہ بات تھی جس نے ڈاکٹر ہنی بال لیکٹر کو فلمی تاریخ کا سب سے ڈراؤنا کردار بننے میں مدد فراہم کی۔

”ڈارک فریکوئنسی“ بلا شرکتِ غیرے پہلے انعام کی حقدار قرار پائی، تاہم دوسرے انعام کا تعین اتنا آسان نہ تھا۔ میں اور راشد سعیدی کافی دیر تک سر جوڑ کر بیٹھے رہے۔ معصومہ اختر کی سوشل کمنٹری ”ہراسمنٹ“ ، دعا اور عروج کی ہارر فلم ”کلیپ کلیپ“ اور اعجاز واصل کی مکسڈ مٙوڈ ڈاکیو مینٹری ”ان سین ہیروز“ سمیت کئی فلمیں اپنی پیشکش اور موضوع کے اعتبار سے بہت عمدہ تھیں، لیکن مسعود رفیق کے علامتی ڈاکیو ڈرامے ”آزادی“ کا منفرد تھیم، نپا تلا سکرپٹ اور غیر معمولی وائس اوور اِسے چند قدم آگے لے گیا۔ ”آزادی“ اِس بات کا برملا اظہار تھا کہ ہم سب غلام ہیں، اور تب تک غلام رہیں گے، جب تک اِس دنیا میں کوئی ایک بھی پنجرہ باقی ہے۔

فوٹو جرنلزم کی بات کی جائے تو ہمیں سدرہ عابد کی سلور مونو کروم ”دا ڈے ڈریمر“ نے سب سے زیادہ متاثر کیا۔ اِس نے ہمارے ذہنوں میں شربت گُل کی یاد تازہ کر دی۔ جب کہ صبا طاہر کی ”برادرہُڈ“ اور ثاقب رحمان کی ”دا تھرڈ ان بائنری“ کو بالترتیب دوسرا اور تیسرا انعام ملا۔ یہ دیکھ کر خوش گوار حیرت ہوئی کہ شعبہ ابلاغیات کے طلباء و طالبات نے حاشیے پر دھرے افراد کو اپنی تحریروں اور تصویروں کا موضوع بنانے میں کوئی جھجک یا عار محسوس نہیں کیا۔ لیکن آخر کیا وجہ ہے کہ یہی لوگ جب عملی زندگی کا حصہ بنتے ہیں اور روایتی میڈیا یا سوشل میڈیا سے منسلک ہوتے ہیں، تو اچانک اِن کے موضوعات تبدیل ہو جاتے ہیں۔ نا انصافی، عدم مساوات اور سماجی ناہمواری کا بیانیہ، سیاست دانوں، نامور کھلاڑیوں اور شوبز کے ستاروں کی چٹپٹی خبروں تلے آ کر دب جاتا ہے۔ کیا یہ آگہی کی کوئی نئی سطح ہے یا مارکیٹ کا بڑھتا ہوا دباؤ، جو ہمارے حساس ذہنوں کو ایک عام آدمی کا ترجمان بننے کے بجائے کسی خاص آدمی یا ادارے کا کارندہ بنا دیتا ہے؟

نامور محقق، نقاد اور ڈین فیکلٹی آف آرٹس، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور، ڈاکٹر سید عامر سہیل کا خیال تھا میڈیا سماجی حقائق ہی نہیں بیان کرتا، اُن کی تشکیل بھی کرتا ہے، اور یہ عمل طاقتور کی منشا اور مفاد کے عین مطابق سر انجام پاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ 80 کی دہائی سے تعلق رکھتے ہیں، جس کی نظروں کے عین سامنے فلم انڈسٹری سمیت فنونِ لطیفہ کے تمام ذرائع کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا کر نفرت اور دہشت کے بیج بوئے گئے۔ اُن کا ماننا تھا کہ تنقیدی شعور، مکالمہ اور آرٹ ہی اُس فکری زوال کو دور کر سکتے ہیں، جو بظاہر ہمارے مقدر میں لکھ دیا گیا ہے۔

معروف سماجی محقق و ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور، ڈاکٹر روبینہ بھٹی کا کہنا تھا کہ سنیما ابلاغِ عامہ کی دس ہزار سالہ تاریخ کا جوہر ہے، لیکن بد قسمتی سے ہم اِسے اُس طرح سے پروان نہیں چڑھا سکے، جیسا کہ اِس کا حق بنتا تھا۔ انہوں نے ڈاک شارٹ فلم فیسٹیول جیسے اقدامات کو مقامی سنیما کے فروغ کے لیے تازہ ہوا کا جھونکا قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ ترقی ہمیشہ نیچے سے اوپر کی جانب سفر کرتی ہے۔ انہیں اِس بات کی بھی خوشی تھی کہ شعبہ ابلاغیات کے طالب علم، فصیح الدین عباسی نے اپنی مدد آپ کے تحت دو میگزین شائع کیے۔

اِس فیسٹول کی ایک اور خاص بات یہ بھی تھی کہ اِس میں ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شریک ہوئے۔ تقریب کے مہمانانِ اعزاز، میڈم سمیرا ربانی، ایڈیشنل سیکرٹری لوکل گورنمنٹ و کمیونٹی ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ جنوبی پنجاب، محترم افضل بیگ، سول جج درجہ اول، بہاول پور اور معروف ٹیکس کنسلٹنٹ، جناب رائے شعیب اقبال ایڈووکیٹ کا مشترکہ خیال تھا کہ اِس طرح کی سرگرمیاں، نہ صرف نوجوانوں کو اُن کی تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کے مواقع فراہم کرتی ہیں، بلکہ اُنہیں سماج کا ایک ذمے دار اور باشعور فرد بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

ڈاکٹر ملک عدنان، چیئرمین شعبہ ابلاغیات، اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کا کہنا تھا کہ انہیں اِس تقریب کی میزبانی کر کے دلی خوشی ہوئی، اور وہ آئندہ بھی ایسی بامقصد اور بامعنی تقریبات کا انعقاد کرتے رہیں گے۔

اگلے ہی لمحے اہلیہ محترمہ، جو اپنی ایک ہونہار طالبہ، طیبہ فراز کے ساتھ مل کر اِس میراتھن پروگرام کی نظامت کر رہی تھیں، سٹیج پر آئیں، فیکلٹی کا شکریہ ادا کیا، طالب علموں کو مبارک باد پیش کی، اور مائیک آف کر دیا۔

جونہی مائیک بند ہوا اور حاضرین اپنی نشستوں سے اٹھ کر باہر جانے لگے، میں نے آخری بار یوتھ ڈویلپمنٹ سینٹر کے ہال پر نگاہ ڈالی، جہاں ایک نئی دنیا طلوع ہو رہی تھی۔ اِس سے پہلے کہ یہ جگہ بھی ”بریو نیو ورلڈ“ بن جائے یا یہاں کوئی ”بگ برادر“ قابض ہو جائے، ہمیں قلم اور کیمرے کو بروئے کار لا کر اپنے اپنے حصے کا سچ کہنا ہو گا، چاہے وہ کتنا ہی حقیر اور ارزاں کیوں نہ ہو ؛ ہمیں کوشش کرنی ہوگی ایک نسبتاً زیادہ منصفانہ اور مہربان دنیا کے حصول کی، چاہے ہم ایک بار پھر ناکام ہو جائیں۔

Facebook Comments HS