نوزائیدہ بچّوں کے مسائل: دودھ اور غذائیں (حصّہ دوم)


پچھلے مضمون میں ہم نے ماں کے دودھ کے بارے میں گفتگو کی تھی۔ آج ہم اوپر کے دودھ اور مزید غذاؤں کے بارے میں بات کریں گے۔

جیسا کہ ہم نے کہا کہ نوزائیدہ بچّے کے لئے بہترین دودھ اور غذا ماں کا دودھ ہے اور اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں۔ لیکن اس کے باوجود کبھی کبھی کچھ ایسی صورت حال بھی ہو سکتی ہے جب ماں کا دودھ میسّر نہ ہو یا کچھ نا قابل عمل وجوہات کی بنا پر بچّے کو ماں کا دودھ نہ دیا جاسکتا ہو۔ ایسی صورت میں اوپر کا دودھ دینے کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں رہتا۔ اس لئے اس مسئلے پر بات کرنا اور والدین کو صحیح معلومات بہم پہنچانا بھی ضروری ہو جاتا ہے۔ ماں کا دودھ میسّر نہ ہونے کی وجوہات ماں اور بچّے دونوں میں ہو سکتی ہیں۔ ماں میں اس کی عام طور پر کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ پہلی وجہ یہ کہ ماں کو عارضی یا مستقل طور پر کوئی بیماری ہو۔ وہ اسپتال میں داخل ہو مثلاً ٹائیفائیڈ، کوئی آپریشن، کینسر، بعد از زچگی شدید ڈپریشن، وغیرہ۔ دوسری وجہ ماں ایسی دوائیں استعمال کرتی ہو جو بچّے کے لئے نقصان دہ ہوں جیسے تھائرائیڈ، کینسر، خودمدافعتی بیماریوں اور گردہ کی پیچیدہ بیماریوں میں استعمال ہونے والی دوائیں وغیرہ۔ اس کے علاوہ کبھی کبھار اس کی وجہ ماں کا انتقال بھی ہو سکتی ہے۔ جہاں تک بچّوں کا تعلّق ہے بچّے میں بھی کچھ عارضی یا مستقل بیماریاں ایسی ہوتی ہیں جن میں ماں کا دودھ نہیں دیا جا سکتا۔ ان بیماریوں میں اکثر پیدائشی جینیاتی اور میٹابولک بیماریاں جیسے گیلیکٹوزیمیا، ”پی کے یو“ ، ”ایم ایس یو ڈی“ اور یوریا سائیکل کی خرابی وغیرہ یا لیکٹوز عدم برداشت، گائے کے دودھ میں پائی جانے والی پروٹین کی عدم برداشت اور دائمی اسہال وغیرہ شامل ہیں۔ ان بیماریوں کا علاج خاص دودھ ہی ہوتے ہیں جو اکثر بہت مہنگے ہوتے ہیں اور انہیں تمام عمر استعمال کر نا پڑتا ہے۔

ایسی صورت حال میں جس میں ماں کا دودھ دستیاب نہ ہو یا بوجوہ استعمال نہ کیا جاسکتا ہو اوپر کا دودھ ضروری ہوجاتا ہے لوگ اکثر گائے، بکری یا ڈبّے کا خشک دودھ استعمال کرتے ہیں۔ ان کے استعمال میں مندرجہ ذیل باتوں کا خیال رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے۔

1۔ بچّے میں اگر کوئی جینیاتی اور میٹابولک بیماری ہو تو اس کو کوئی بھی عام دودھ نہیں دیا جاسکتا۔ نہ تو ماں کا دودھ اور نہ ہی گائے یا بکری کا دودھ۔ ایسے بچّوں کے لئے خاص طور پر تیّار کیے گئے ڈبّے کا دودھ دینا ضروری ہوتا ہے۔ جو تمام عمر کے لئے دینا ہوتا ہے۔

2۔ اگر بچّے کو کوئی جینیاتی یا میٹابولک بیماری نہیں ہے تو کوئی بھی عام دودھ دیا جاسکتا ہے۔ لیکن تازہ گائے یا بکری کے دودھ کے بجائے بچّوں کے لئے بنائے گئے ڈبّے کا دودھ دینا چاہیے۔ کیونکہ ڈبّہ کے دودھ کی ساخت میں کچھ ایسی تبدیلیاں کی جاتی ہیں کہ اسے ماں کے دودھ کے قریب ترین لایا جا سکے۔ لیکن یہ بات جاننا بھی بہت ضروری ہے کوئی بھی ڈبّہ کا دودھ ماں کے دودھ کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔

3۔ کچھ غریب لوگ ڈبّہ کا دودھ خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے جو وقت کے ساتھ مہنگا ہوتا جا رہا ہے۔ وہ اکثر تازہ گائے کا دودھ استعمال کرتے ہیں اور اس خیال سے کہ وہ بھاری ہوتا ہے اس میں پانی ملا دیتے ہیں۔ اس طرح اس دودھ کی توانائی یعنی کیلوریز کم ہوجاتی ہیں۔ ہمارے یہاں اکثر دودھ خالص نہیں ملتا۔ دودھ فروش نے پہلے ہی اس میں پانی ملایا ہوتا ہے اس میں مزید پانی ملانے سے دودھ کی توانائی اور کم ہو جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے بچّے کا وزن صحیح طریقہ سے نہیں بڑھتا اور وہ کمزور ہو جاتا ہے۔ اس لئے دودھ میں پانی نہیں ملانا چاہیے۔ بہتر تو یہی ہے کہ مجبوری کی صورت میں ڈبّہ کا دودھ استعمال کیا جائے۔ میں ایک ایسی غریب عورت کے بارے میں بھی جانتا ہوں جس کا کہنا تھا کہ وہ ایک ڈبہ نہیں خرید سکتی مگر روزانہ ایک پاؤ دودھ ضرور خرید سکتی ہے۔ ایسے مجبور لوگوں کو دودھ کا ڈبّہ خریدنے پر زور دینا یقیناً زیادتی ہے۔ اسی طرح بکری کے دودھ کا استعمال اس خیال سے کہ وہ زیادہ زود ہضم ہوتا ہے غلط ہے۔ بکری کے دودھ میں کئی ضروری عناصر کی کمی ہوتی ہے۔ اور بچّہ بھی ان عناصر کی کمی کا شکار ہو جاتا ہے۔

اس لئے ایسے غریب افراد جن کے بچّوں کو بوجوہ ماں کا دودھ میسّر نہیں ہے یا اوپر بیان کی گئی وجوہات کی بنا پر نہیں دیا جاسکتا۔ ان کی مناسب رہنمائی بہت ضروری ہے۔

ڈبّہ کے دودھ کے استعمال میں غلطیاں اور احتیاط:

1۔ چونکہ ڈبّہ کے تمام دودھ گا‎ئے کے دودھ سے تیّار کیے جاتے ہیں اس لئے وہ تمام ایک جیسے ہوتے ہیں۔ ہر دودھ تیّار کرنے والی کمپنی اپنے دودھ کو دوسری کمپنیوں کے دودھ سے بہتر ظاہر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ لیکن در حقیقت ان میں کوئی خاص فرق نہیں ہوتا۔ اس لئے دودھ کے مختلف برانڈ کو اس خیال کی بنیاد پر بار بار تبدیل کرنا کہ یہ برانڈ بچّہ کو راس نہیں آ رہا ہے قطعی صحیح نہیں ہے۔ اگر بچّے کو گائے کے دودھ کی پروٹین سے الرجی ہے تو کسی بھی برانڈ کا دودھ راس نہیں آئے گا۔ اسے ایسا دودھ دینا ہو گا جو گائے کے دودھ سے نہ بنا ہو۔

2۔ اسہال کے ہر مریض کو لیکٹوز فری دودھ دینا قطعی ضروری نہیں ہوتا جب تک کہ مختلف ٹیسٹ کے ذریعہ یہ بات ثابت نہ ہو جائے کہ اسہال کا تسلسل لیکٹوز کی عدم برداشت کی وجہ سے ہے۔ اس لئے بچّے کے عام دودھ کو لیکٹوز فری دودھ سے تبدیل کرنا صحیح نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ لیکٹوز فری دودھ مہنگا بھی ہوتا ہے اور اس کا استعمال غیر ضروری طور پر غیر معینہ مدّت تک جاری رہتا ہے۔

3۔ ڈبّہ کے خشک دودھ میں پانی ملانے میں بھی اکثر لوگ غلطی کرتے ہیں۔ زیادہ تر ڈبّوں میں دیے گئے چمچہ کا سائز ایک جیسا ہوتا ہے۔ اور ایک چمچہ خشک دودھ ایک اونس یا 30 ایم ایل پانی میں ملایا جاتا ہے لیکن کچھ ڈبّوں میں دیے گئے چمچوں کا سائز بڑا ہوتا ہے اور وہ ایک چمچہ دو اونس یا 60 ایم ایل پانی کے لئے ہوتا ہے۔ اس لئے ڈبّہ پر دی گئی ہدایات غور سے پڑھنی چاہیے۔

4۔ دودھ میں ملایا جانے والا پانی صاف اور جراثیم سے پاک ہونا چاہیے۔ اس کے لئے عام پانی کو چھاننے کے بعد پانچ سے دس منٹ تک ابال کر صاف برتن میں رکھنا چاہیے۔ عام طور پر پینے کے لئے بھی یہی پانی استعمال کرنا چاہیے۔ بوتلوں میں ملنے والا پانی بھی بغیر ابالے استعمال کیا جاسکتا ہے اگر وہ مشہور اور قابل بھروسا برانڈ کے ہوں

5۔ اگر ہو سکے تو بچّے کو دودھ چمچہ اور پیالی سے پلایا جائے۔ بوتل سے پلانے کی صورت میں بوتل کو برش اور صاف پانی سے دھونے کے بعد کم از کم پانچ سے دس منٹ تک ابالنا چاہیے۔ اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ بوتل اور نپل پانی کے اندر ڈوبے رہیں اور سطح پر تیرتے نہ رہیں۔

6۔ اس بات کا بھی خیال رکھا جائے کہ نپل کا سوراخ نہ تو زیادہ بڑا ہو اور نہ ہی چھوٹا ہو۔ اگر بوتل کو الٹا کریں تو دودھ قطرہ قطرہ گرتا ہو۔ نہ تو دودھ دھار کی شکل میں نکلے اور نہ ہی نپل کو زور سے دبانا پڑے۔

اگر ان تمام باتوں کا خیال رکھا جائے تو ضرورت کے تحت بچّے کو اوپر کا دودھ دیا جاسکتا ہے۔

ٹھوس غذا کا استعمال:

بچّے کو چھ ماہ کی عمر تک صرف ماں کا دودھ دینا چاہیے اس کے بعد ٹھوس غذا شروع کرنا چاہیے۔ البتّہ چار ماہ کی عمر میں بھی ٹھوس غذا شروع کی جا سکتی ہے۔ اس بارے میں کئی سوالات کیے جاتے ہیں مثلاً بچّے کو کون سی غذا دینی چاہیے۔ ایک دن میں کتنی بار دینی چاہیے۔ اس کی ساخت کیا ہونی چاہیے وغیرہ۔ ان سوالوں کا جواب یہ ہے۔ ٹھوس غذا یا کھانے گھر میں موجود کھانے کی اشیا‏‏ء پر مبنی ہونے چاہئیں اور ان کی تیّاری میں گھریلو بنیادی غذائی اجزاء کا استعمال کرنا چاہیے۔ یہ کھانے اپنی ثقافت، خاندان کی غذائی عادات وغیرہ کے مطابق مختلف ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ تیّار شدہ کمرشل کھانے بھی دستیاب ہوتے ہیں لیکن گھر میں تیار کردہ کھانے زیادہ بہتر ہوتے ہیں۔ ان کھانوں کے کچھ اصول ہیں۔ اگر ان اصولوں پر عمل کیا جائے تو نوزائیدہ بّچوں کو بہترین غذائیت ملتی ہے۔ ان اصولوں میں مندرجہ ذیل باتیں شامل ہیں :

1۔ بچّوں کے کھانے کی تیاری میں عام گھریلو کھانے پینے کی اشیاء کا استعمال کیا جانا چاہیے۔ یہ چاول، آٹا، مکئی، چینی، دال اور گوشت (جو بھی خاندان میں استعمال ہوتا ہے ) اور پھل وغیرہ ہو سکتے ہیں۔

2۔ ٹھوس غذا چار ماہ کی عمر میں متعارف کرائی جا سکتی ہے لیکن چھ ماہ کے بعد ضرور دینی چاہیے۔ تاہم، ماں کا دودھ جب تک ممکن ہو جاری رکھنا چاہیے لیکن کم از کم چھ ماہ کی عمر تک ضرور دینا چاہیے۔

3۔ ابتدائی طور پر یہ نیم ٹھوس ہونا چاہیے۔ یہ چمچ سے آسانی سے پھسل جانا چاہیے۔ پھر وقت کے ساتھ ساتھ اس کو گاڑھا کرنا چاہیے، جب بّچہ کھانا چبانے کے قابل ہو تو زیادہ ٹھوس غذا دی جا سکتی ہے۔ اس کی کئی مثالیں ہو سکتی ہیں جیسے پتلا کسٹرڈ یا کھیر۔ بعد میں اسے بّچے کی بڑھتی عمر کے ساتھ گاڑھا بنانا چاہیے۔ دیگر اشیاء جیسے سوجی کا حلوہ، گندم یا جو کا دلیہ، کھچڑی وغیرہ کو ان کی غذا میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

4۔ ابتدائی طور پر یہ دن میں ایک بار روزانہ ایک سے دو چائے کے چمچ دینا چاہیے۔ پھر اس کی مقدار کو آہستہ آہستہ بڑھانا چاہیے، یہاں تک کہ بّچہ ایک وقت میں آدھا کپ لینے کے قابل ہو جائے۔

5۔ اس کے بعد ٹھوس غذا کو دوسرے اوقات جیسے دوپہر کے کھانے اور رات کے کھانے کے وقت متعارف کرایا جائے۔ اس کی مقدار میں بتدریج اضافہ کیا جائے۔ مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ایک سال کی عمر میں بچّہ کو تین وقت کا کھانا اور تین وقت دودھ دیا جائے۔ اور بعد میں وہ گھر میں آپ کے ساتھ آپ کی میز پر بیٹھ کر آپ کے کھانوں میں شریک ہو سکے۔

6۔ ٹھوس غذائیں دودھ سے پہلے دی جانی چاہئیں۔ اس صورت میں بچّہ دودھ کم پئے گا اور یہ مکمّل طور پر نارمل ہے۔

7۔ یاد رکھیں کہ دودھ عمر کے پہلے چند مہینوں کے علاوہ کبھی بھی مکمّل غذا نہیں ہوتا جیسا کہ اس کے بارے میں عام طور پر سوچا اور سمجھا جاتا ہے۔ اس میں تمام ضروری اجزاء مناسب مقدار میں شامل نہیں ہوتے۔ جو بّچے صرف دودھ پیتے ہیں وہ ایک سال یا اس کے بعد کی عمر میں خون کی کمی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ، اگر 4۔ 6 ماہ کی عمر میں کھانے کو متعارف نہیں کرایا جاتا ہے تو وہ دیگر کھانے کھانا پسند نہیں کرتے۔ بعض اوقات وہ وٹامن ڈی کی کمی کی وجہ سے رکیٹس (Rickets) کا شکار بھی ہو جاتے ہیں۔

تیّار شدہ دستیاب تجارتی ٹھوس کھانے اور ان کے نقصانات و فوائد

بّچوں کو کھلانے کے لئے تیار شدہ ٹھوس غذائیں بھی بازار میں دستیاب ہوتی ہیں، لیکن میں ان کی سفارش نہیں کرتا کیونکہ:

1۔ یہ تیّار شدہ غذائیں مکمل غذائیت فراہم نہیں کرتی ہیں، حالانکہ اس کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ ایک بچّہ کو دن میں ایک یا دو بار تیّار شدہ غذا ملنے سے توانائی کی مکمل ضرورت پوری نہیں ہو سکتی۔ انہیں اپنی توانائی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے ہمیشہ اضافی غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس طرح اگر بّچوں کو صرف کمرشل تیّار شدہ غذا دی جائے تو وہ غذائی قلّت کا شکار ہوسکتے ہیں۔

2۔ یہ کھانے ثقافتی طور پر قابل قبول نہیں ہوتے۔ کیونکہ اس طرح کے کھانے عام طور پر گھروں میں استعمال نہیں ہوتے۔

3۔ ایک بچّہ زندگی بھر ان تیار شدہ غذاؤں کا استعمال نہیں کر سکتا اگر وہ عام گھریلو کھانے نہیں کھائے گا تو اس میں عام گھریلو کھانوں کا ذائقہ پیدا نہیں ہو گا۔ اس سے بعد میں کھانے کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں

4۔ یہ تیار شدہ کھانے مہنگے بھی ہوتے ہیں۔ امیر اور خوشحال لوگ ہی اس کے متحمّل ہوسکتے ہیں۔ انہیں دیکھ کر غریب لوگ جو استطاعت نہیں رکھتے وہ بھی ایسے کھانے خریدنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا خیال ہوتا ہے کہ ان کھانوں میں کچھ خاص خصوصیات ہیں۔ لیکن یہ بات مکمّل طور پر صحیح نہیں ہے۔ ان غذاؤں میں بّچوں کی نشوونما کو بڑھانے یا بہتر بنانے کے لئے کوئی خاص اجزاء نہیں ہوتے۔ نہ ہی ان کی پورے دن کی غذائی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ ان بچّوں کو ان تیّار شدہ کھانوں کے بعد اپنی غذائی ضرورت پوری کرنے کے لئے دوسرے کھانوں کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔ اس طرح غریب لوگ بغیر کسی اضافی فوائد کے مالی مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔

5۔ ان تیّار شدہ کھانوں کا فائدہ صرف یہ ہے کہ اس کی تیّاری میں کوئی وقت صرف نہیں ہوتا۔ اس لئے ایسے والدین جن میں ماں اور باپ دونوں کام کرتے ہوں ان کو آسانی ہو جاتی ہے اور وقت کی بچت ہو جاتی ہے۔

اس لئے میں ہمیشہ گھر پر تیّار شدہ کھانے استعمال کرنے کا مشورہ دیتا ہوں۔
( یہ مضمون میری کتاب ”میں اور میرا بچّہ سے ماخوذ ہے )

Facebook Comments HS