اوسلو سے آواز امن
میرے ایک نارویجین دوست نے ایک بار مجھ سے پوچھا: ”تمہارا مذہب کیا ہے؟ تمہارا برتاؤ میرے دل کو بھاتا ہے“
میں نے کہا میرا مذہب تو شروع ہی امن کی بات سے ہوتا ہے۔ یعنی اسلام علیکم۔ اس کا مطلب ہے کہ تم پر سلامتی اور امن ہو ”
اس نے پوچھا ”تمہارے خیال میں پر امن دنیا کیسی ہونی چاہیے؟“
میرا جواب تھا کہ ”کوئی بھی تنازع منصفانہ نہیں ہوتا۔
۔ خاص طور پر جب جذبات کو بڑے پیمانے پر پروپیگنڈے کے ذریعے قابو میں کیا جائے۔ آج کے سوشل میڈیا کے کارخانے روایتی مہمات سے کہیں آگے نکل چکے ہیں اور جوزف گوئبلز کی وراثت کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ جدید جنگ میں سب سے پہلا شکار سچ ہوتا ہے۔
جب نظریات جذبات کے غالب محرک بن جاتے ہیں، تو وہ باقی تمام اخلاقی نظاموں پر قبضہ جما لیتے ہیں۔ جب کسی قوم کے مفادات کو دوسری طرف معصوم جانوں پر ترجیح دی جاتی ہے۔ اور جب پُرامن متبادلات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ تو اس کے بعد اٹھائے گئے تمام اقدامات اخلاقی لحاظ سے ناقابلِ قبول ہوتے ہیں۔
دنیا دہشتگردی کے خلاف جنگ میں متحد ہے۔ تقسیم شدہ نہیں۔ لیکن قیمتی اہداف کے حصول کے دوران اکثر معصوم شہریوں، بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کے تحفظ کے موثر طریقے موجود نہیں ہوتے۔
کوئی قانونی نظام یا بین الاقوامی عدالت ایسے اصول واضح نہیں کرتی جہاں جنگ کے قواعد متعین نہ ہوں۔ جنگ میں لڑنے والوں اور عام شہریوں میں تمیز کرنا بنیادی اصولوں میں سے ایک ہے۔ اس سے انحراف انسانیت کی خلاف ورزی ہے۔
ہمیں ان لمحات سے بلند ہو کر بڑے منظرنامے کو دیکھنا ہو گا۔ دنیا میں دانشمند ذہنوں کی کمی نہیں ہے۔ لیکن اگر ہم خاموش رہے تو مسلسل زوال کا سامنا ہو گا۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم کھڑے ہوں اور اپنی آواز بلند کریں۔ اپنی نسل کے لیے، مشترکہ انسانیت کے لیے۔
تنازعات کی بنیادی وجوہات کو عوام کی خواہش کے مطابق حل کرنا ہو گا۔ اب وقت ہے کہ ہم طے کریں کہ ہم اپنے لیے اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے کیا چاہتے ہیں۔ صرف ایک پُرامن ذہن ہی آپ کے اردگرد امن کو ممکن بنا سکتا ہے۔ دوسروں پر نظریات مسلط کرنا مہذب معاشرے کی اقدار کے منافی ہے۔
امن کی کئی تعریفیں ہیں، لیکن وہ سب انفرادی خوشحالی، تعاون، باہمی احترام اور انصاف کے اصولوں پر مبنی ہیں۔ بچوں کا صحت مند ہونا تو ایک بات ہے، لیکن ایک مثالی دنیا وہ ہوگی جہاں بچے نہ صرف صحت مند ہوں بلکہ پُرامن بھی ہوں۔ ایسے بچے جن میں ہمدردی، دوسروں کے لیے احترام، انصاف سے وابستگی اور اعتماد جیسے اوصاف ہوں۔
امن کا حصول اُن چند اقدار میں سے ہے جو ثقافتی، سیاسی اور لسانی اختلافات کے باوجود ہمیں متحد کرتی ہیں۔ اصل چیلنج یہ ہے کہ ہم سمجھیں کہ ’امن‘ کا مطلب واقعی کیا ہے اور ہم اسے کیسے حاصل کر سکتے ہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ:
امن ایک احساس اور تجربہ ہے، جو سماجی ہم آہنگی، مثبت روابط اور انصاف کو فروغ دینے کی صلاحیت پر مشتمل ہوتا ہے۔ اور جہاں منفی تنازعے یا نقصان کا کوئی خوف نہ ہو۔
امن ایک مسلسل جاری رہنے والا عمل ہے۔
ہمیں قومی نظریات سے اوپر اٹھ کر زندگی کی حرمت کو تمام مفادات پر ترجیح دینی ہوگی۔ نفرت، نفرت کو جنم دیتی ہے۔ اور ہم کسی معصوم جان کی قربانی کو انتقام یا فتح کا جواز نہیں بنا سکتے۔


