کالم لکھنا ہے


منگل 20 مئی کا دوسرا پہر شروع ہو چکا تھا۔ کالم قریب قریب مکمل ہو چکا تھا۔ اچانک برادرم فتح نصر نے حسب عادت Dictation بیچ میں چھوڑ کر تازہ خبروں پر ایک نظر ڈالی اور چونک کر ایک بڑی خبر سنائی۔ درویش ایک لحظے کو سکتے میں آ گیا۔ چند لمحات کی خاموشی کے بعد دھندلے پڑتے حافظے کی تختی پر عربی زبان کے دو جملے ابھرے۔ بے ساختہ کہا ’فالحمد للہ علیٰ ذالک۔ جزاکم اللہ احسن الجزائ۔‘ انسانی ذہن بھی ایک عجوبہ مظہر ہے۔ درویش تو عربی نہیں جانتا۔ یہ جملے بہت بچپن میں اپنے بزرگوں سے اس تواتر سے سنے کہ کہیں تحت الشعور میں بیٹھ گئے۔ جب کوئی بحث یا تنازع بعد از خرابی بسیار انجام کی طرف بڑھتا تو کوئی صاحب تدبر ایک اطمینان کے ساتھ یہ جملے ادا کرتا تھا جو گویا معاملہ طے پانے کا اشارہ ہوتے تھے۔ میرے محدود علم کے مطابق اردو مفہوم کچھ یوں تھا ’اس پر اللہ کا شکر واجب ہے۔ خدا آپ کو اچھا اجر دے گا۔‘ اس روز کا کالم کراچی روانہ کر دیا تو کچھ تامل کے بعد فتح نصر نے استفہامیہ نظروں سے دیکھا۔ وہ شاید کچھ تبصرہ، کچھ تجزیہ چاہتے تھے۔ درویش نے بے ساختہ کہا ’کالم لکھنا ہے‘۔ استغفراللہ! اس کا مطلب ہرگز یہ تعلی نہیں تھی کہ اس ہیچ مداں کے کالم سے رنگ زمیں بدل جائے گا۔ کالم لکھنے والے سلامت رہیں، یہ درویش تو پانچواں سوار ہونے کا دعویٰ بھی نہیں رکھتا۔ مدعا محض یہ تھا کہ قلم کار کو ہر طرح کے حالات میں لکھتے رہنا ہے۔ تاریخ نشیب و فراز کا ایک لامتناہی منظر ہے۔ اس پر گلہ کیوں اور شکوہ کیسا کہ ہمیں زیادہ تر نشیب میں پاکوبی نصیب ہوئی۔ ہر نسل اور ہر قبیلے کے اپنے بھاگ ہوتے ہیں۔

تاریخ بتاتی ہے کہ جب صاحبان جاہ و حشم احاطہ اقتدار کے چاروں کھونٹ پر اپنے قطعی اور حتمی اجارے کی بے در و روزن فصیل قائم کر لیتے ہیں اور خاک نشین اپنی محکومی اور بے اختیاری کی پاتال میں سر بزانو ہوتے ہیں تو کسی ناقابل ذکر مقام سے نادیدہ بیج کا اکھوا نکل آتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے ایسا تناور درخت بن جاتا ہے کہ شہر پناہ میں رستے نکل آتے ہیں۔ ناصر کاظمی نے غالباً کچھ ایسا ہی کہا تھا۔ یاس میں جب کبھی آنسو نکلا / اک نئی آس کا پہلو نکلا۔ کچھ مثالیں دیکھیے۔ 1942 میں ہٹلر کا پھریرا یورپ میں فرانس کی مغربی بندرگاہوں سے مشرقی یورپ میں ماسکو کے میٹرو سٹیشن تک لہرا رہا تھا۔ شمالی افریقہ کے صحراﺅں میں فیلڈ مارشل رومیل کا ڈنکا بج رہا تھا۔ اسی برس کے موسم خزاں میں کل ملا کے تین ماہ میں برطانوی فیلڈ مارشل مونٹگمری نے العالمین کی جنگ جیت لی، جرمن فیلڈ مارشل پالس نے سٹالن گراڈ میں ہتھیار ڈال دیے۔ ناروے کے ساحلوں پر گوڈال کی جنگ میں اتحادیوں نے فیصلہ کن برتری حاصل کر لی۔ ہٹلر کا ستارا ڈوب گیا۔

1965 کا سورج طلوع ہوا تو پاکستان میں فیلڈ مارشل ایوب خان کوس لمن الملکی بجا رہے تھے۔ فاطمہ جناح کی انتخابی شکست، کراچی میں قتل عام، جنگ ستمبر اور معاہدہ تاشقند نے دسمبر آتے آتے فیلڈ مارشل کے عصائے سلیمانی کا داخلی سرطان بے نقاب کر دیا۔ دسمبر 1976 میں بھٹو صاحب غالباً قومی تاریخ کے طاقتور ترین وزیر اعظم تھے۔ حزب اختلاف خزاں کے پتوں کے مانند منتشر تھی۔ اسی تیرہ بخت مہینے میں بس ایک خفیہ رپورٹ کی بارودی سرنگ لگائی گئی اور چشم فلک نے ایسا تماشا دکھایا کہ بھٹو صاحب جیتا ہوا انتخاب ہار گئے۔ ائر مارشل اصغر خان نے ایک خط لکھا۔ جنرل ضیاالحق پردہ زنگاری سے نمودار ہوئے اور 17 ستمبر 1977 کو بھٹو صاحب مارشل لا کے ضابطہ 12 کی رو سے ایسے گرفتار ہوئے کہ انہیں دوبارہ آزادی نصیب نہ ہو سکی۔ درویش کو وہ غریب سندھی ہم وطن یاد ہیں جو شام کے اندھیرے اجالے میں ڈسٹرکٹ جیل راولپنڈی کی عقبی دیوار تک آتے تھے۔ زمین پر بیٹھی عورتیں بین کرتی تھیں اور کھلے پائنچے کی شلواریں پہنے مرد ڈبڈبائی آنکھوں سے دعائے مغفرت کرتے تھے۔ مارچ 1988 میں معاہدہ جنیوا اور پھر اگست 1988 کی کسے خبر تھی؟ فروری 1999 کا اعلان لاہور محترم نواز شریف کی سیاست کا نقطہ عروج تھا۔ اسی برس دسمبر آتے آتے دن بدل گئے۔ دسمبر 2006 میں کون جانتا تھا کہ نو مارچ 2007 گلی سے باہر گھات لگائے بیٹھا ہے۔ محترمہ بے نظیر کا قصہ الگ ہے۔ وہ جنت مکانی تو شعوری طور پر چل کے مقتل تک آئی تھی۔ 2021 شروع ہوا تو کون قیاس کر سکتا تھا کہ ون پیج کے قرطاس کو دیمک چاٹ چکی ہے۔ حرم سرا میں نوآمدہ مطبوعہ کیسی ہی دل ربا اور علم مسہری میں طاق کیوں نہ ہو، اسے دربار کی حقیقی حرکیات میں دخل اندازی کا اذن نہیں ہوتا۔ عمران خان صاحب سے یہی غلطی ہوئی۔ اب اڈیالہ میں لکیر پیٹ رہے ہیں۔

سیاست ایک پارہ الماس ہے کہ ہزار پہلو رکھتا ہے۔ کوئی پیراک ایسا نہیں اور اس بحر بے کنار کا کوئی شناور ایسا نہیں کہ اس کی لہروں کے خرام اور خروش سے مکمل آشنائی کا دعویٰ کر سکے۔ سیاست تاریخ کا تسلسل بھی ہے اور نئی دنیاﺅں کے امکانات کا دروازہ بھی۔ سیاست میں بنیادی سبق ایک ہی ہے۔ وہی ہمارے بزرگوں سے قرن در قرن چلی آ رہی فراست، ’تم بھی (فیصلے کا) انتظار کرو، ہم بھی انتظار کرتے ہیں‘۔ یہ خاک نشیں ہرگز کسی صدمے میں نہیں۔ جیسے عسکری سالار جذباتی نہیں ہوتے، ٹھیک اسی طرح سیاسی کارکن کبھی مایوس نہیں ہوتا۔ سیاسی کارکن تاریخ کی حرکیات سمجھتا ہے۔ اپنے فوری احساسات سے مغلوب ہوئے بغیر مکمل شانت رہتا ہے۔ عاجز نے اساتذہ کی آنکھیں دیکھ رکھی ہیں۔ اس کے تربیتی نصاب میں غصے، انتقام، حسد یا سازش کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ ایک صاحب ایمان اپنے باپ یا بیٹے کی موت پر مکمل متانت سے کہتا ہے، ’رضائے الٰہی‘۔ ایک سیاسی کارکن ہر طرح کے حالات میں پرسکون رہتے ہوئے تاریخ کی آئندہ کروٹ کا انتظار کرتا ہے۔ میں ناپختہ اور کوتاہ نظر ضرور ہوں لیکن اپنے آدرشوں پر میرا ایقان ناقابل شکست ہے۔ سیاست تو علم دریاﺅ ہے۔ علی افتخار جعفری نے کیا خوب لکھا تھا

نم کہیں اور کا ہو، آنکھ کہیں جا کے بہے

عقل والوں کو اشارہ یہ کہیں اور کا ہے

Facebook Comments HS

2 thoughts on “کالم لکھنا ہے

  • 26/05/2025 at 11:47 شام
    Permalink

    صاحب کلام کے دو چنیدہ اشعار

    کسی کی آنکھ کا تارا ہوا کرتے تھے ہم بھی تو
    اچانک شام کا تارا نظر آیا تو یاد آیا

    سر بچے یا نہ بچے طرۂ دستار گیا
    شاہ کج فہم کو شوق دو سری مار گیا

    • 03/06/2025 at 4:15 صبح
      Permalink

      سبحان اللہ! یہ جان کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ آپ علی افتخار جعفری کی شاعری سے متعارف ہیں۔ کیا عمدہ ذوق ہے آپ کا

Comments are closed.