جھوٹی عظمت کا جشن: شعور سے عاری ایک قوم کا نوحہ


علم و فن، آگہی، شعور، تعلیم اور تحقیق سے بے نیاز ایک ایسی قوم اس دھرتی پر وجود رکھتی ہے جو ان تمام خوبیوں سے محرومی کے باوجود اپنے وجود پر فخر کرتی ہے۔ پچھلے دنوں میں نے ایک ٹیڈ ٹاک سنی جس میں بتایا گیا کہ سائنسی تجربات کی روشنی میں معاشی طور پر مضبوط طبقہ غریب افراد کی نسبت بہتر دانشورانہ صلاحیتوں کا حامل ہوتا ہے۔ لیکن پاکستان میں شاید اس تجربے کا نتیجہ مختلف نکلتا۔ یہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ یہاں جو جتنا خوشحال ہے وہ ظاہری طور پر تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود اتنا ہی بے شعور ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ وہ بچپن ہی میں خود پر سوچ بچار کے دروازے بند کر دیتا ہے کیونکہ سوچ تکلیف دیتی ہے اور آگہی بے خوابی میں مبتلا کرتی  ہے۔ ہمارے ہاں کوئی سوچ بچار کرے تو اسے کہا جاتا ہے کہ یار تم سوچتے بہت ہو۔ ہمارے ہاں زندگی گزارنے کے کچھ لگے بندھے اصول ہیں جن سے انحراف ہمیں مشکل میں ڈال سکتا ہے۔ ہم سوال نہیں اٹھاتے۔ اگر ہم میں سے کوئی سوال اٹھائے تو اسے اٹھا لیا جاتا ہے۔ ہمیں دو چیزوں پر ناز ہے، ایک ہمارا عقیدہ اور دوسری ہماری فوج۔ ہم کئی عشروں سے ان دونوں کی حفاظت پر مامور ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔

مئی کا مہینہ ہمارے لیے بہت سی رحمتیں لے کر آیا ہے۔ 28 مئی 1998 کو پاکستان نے نواز شریف کی ولولہ انگیز قیادت میں شاندار ایٹمی دھماکہ کر کے اپنے ازلی دشمن بھارت کو منہ توڑ جواب دے دیا۔ یہ اور بات ہے کہ بعد میں میاں صاحب کو مودی کے یار ہونے کا خطاب دے دیا گیا۔ وجہ یہ تھی کہ وہ دونوں ملکوں کے درمیان دشمنیاں ختم کر کے کاروبار محبت کا دیا جلانا چاہتے تھے۔ نو مئی 2023 کو فوج کی اپنی تخلیق کردہ سیاسی جماعت ایسی بے قابو ہوئی کہ اس نے فوجی تنصیبات پر ہی حملہ کرنا شروع کر دیا۔ ملک بھر میں شدید توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ اور مارپیٹ کا ماحول پیدا کر دیا گیا جس کا مقصد پی ٹی آئی کے بانی رہنما کی رہائی تھی جو اسی روز علی الصبح گرفتار کیے گئے تھے۔ یہ واقعہ افسوسناک تھا لیکن اس کے بعد فوج کے پاس پی ٹی آئی پر کریک ڈاؤن کا بہانہ ہاتھ آ گیا۔ وہ دن اور آج کا دن عمران خان پابند سلاسل ہیں۔ ملک بھر میں پی ٹی آئی کے کارکنوں کو گرفتار اور لاپتا کیا گیا اور ان پر مقدمات بنائے گئے۔ کئی رہنماؤں کو زبردستی پی ٹی آئی کی وفاداری سے تائب کیا گیا۔ کچھ رہنما بیرون ملک فرار ہو گئے اور کچھ ڈیل کر کے وزیر و مشیر بن گئے۔ فوج کی آشیرباد سے قائم ہونے والی حکومت عمران کو رہا نہیں کر سکتی کیونکہ وہ ایجی ٹیشن کی سیاست کر کے امن عامہ کو نقصان پہنچائیں گے اور جلاوطن بھی نہیں کر سکتی کیونکہ وہ بیرون ملک پاکستانیوں میں بھی بے حد مقبول ہیں اور ملک سے باہر رہ کر منظم فوج مخالف سیاسی تحریک چلا سکتے ہیں۔

مئی کی تیسری رحمت ہم پر دس مئی 2025 کو نازل ہوئی جب پاک فوج نے بھارتی فوج کو ناکوں چنے چبوا دیے۔ بس پھر کیا تھا کئی برسوں سے سوئی ہوئی قوم یک بیک جاگ اٹھی۔ ہر طرف خوشی کے شادیانے بجنے لگے۔ گلی محلوں، بازاروں، پارکوں اور شاہراہوں پر فاتح بنیان المرصوص کی قدآور تصاویر آویزاں کر دی گئیں۔ نئے ملی نغمے اور جنگی ترانے تخلیق کر دیے گئے۔ پی ایس ایل کی اختتامی تقریب میں یہ ترانے بجائے گئے اور شائقین کرکٹ ان پر والہانہ انداز میں جھوم کر اپنی عظیم اور ناقابل شکست فوج کو خراج تحسین پیش کرتے رہے۔ حکومت وقت نے فیصلہ کیا کہ بھارت کو شکست فاش دینے والے سپہ سالار کو عظیم ترین فوجی عہدے فیلڈ مارشل سے نوازا جائے۔

آج ہمیں ایک نوٹیفکیشن موصول ہوا کہ پاکستانی قوم 28 مئی کو ممکنہ طور پر سرطان کا باعث بننے والے ایٹمی دھماکوں پر اظہار مسرت کے لیے قومی تعطیل منائے گی، اس حقیقت سے بے نیاز کہ ایٹمی ہتھیار اس دنیا کی تباہی کا سب سے بڑا ذریعہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ ہم یہ خوشی منائیں گے۔ اس حقیقت سے بے نیاز کہ ہم غربت، بھوک اور بیماری سے مرنے والی اقوام میں شامل ہیں اور سائنس و ٹیکنالوجی میں دنیا سے کئی عشرے پیچھے ہیں۔ ہم شاید یہ سننا نہ چاہیں لیکن ہمارا دشمن ملک بھارت کئی میدانوں میں ہم سے کہیں آگے ہے۔

Facebook Comments HS