کامریڈ چودھری فتح محمد کی پانچویں برسی

کامریڈ چودھری فتح محمد ایک انقلابی سیاسی رہنما، کسان تحریک کے بانی اراکین میں سے ایک اور پاکستان کے محکوم طبقات کے حقوق کے لئے زندگی بھر جدوجہد کرنے والے سپاہی تھے، جو پیر، 25 مئی 2020 کی صبح انتقال کر گئے۔
چودھری فتح محمد 16 مئی 1923 کو ضلع جالندھر کے نزدیک ایک چھوٹے سے گاؤں ”چاہڑکے“ میں نچلے متوسط طبقے کے گھرانے میں پیدا ہوئے۔ بی اے کے امتحان کے بعد انہوں نے برطانوی فوج میں کیڈٹ افسر کے طور پر شمولیت اختیار کی اور فاشزم کے خلاف لڑنے کے لیے برطانیہ گئے۔ تقسیم ہند کے بعد 1947 میں پاکستان ہجرت کی اور ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کے ایک گاؤں میں آباد ہوئے۔ ہجرت کے صرف دو ماہ بعد ہی انہوں نے مہاجرین کے حقوق کی تحریک میں شمولیت اختیار کی اور اس کے علاقائی سربراہ منتخب ہوئے۔
1948 میں انہوں نے کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان میں شمولیت اختیار کی اور ضلع کمیٹی کے رکن بنے۔ ان پر کسان تحریک کی تنظیم نو کی خصوصی ذمہ داری عائد کی گئی۔ انہوں نے پارٹی کے لیے سیلف پیڈ کل وقتی کام کا آغاز کیا اور ملک بھر میں کسان کانفرنسوں کے انعقاد اور کمیونسٹ پارٹی کو گراس روُٹ لیول تک لے جانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ایک سال بعد 1949 میں انہوں نے لائلپور میں مزدور تحریک کا آغاز کیا اور 1950 میں پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن کی مرکزی کانگریس میں اس کی مرکزی کمیٹی کے رکن منتخب ہوئے۔ اس وقت مرزا محمد ابراہیم صدر اور فیض احمد فیض فیڈریشن کے نائب صدر تھے۔
سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے انہیں پاکستان کے تمام حکمرانوں کے دور میں جیل جانا پڑا (سوائے بینظیر بھٹو کے دور کے ) ۔ ان کے خلاف پہلا وارنٹ گرفتاری 1951 میں جاری ہوا، جس کے باعث وہ پارٹی فیصلہ کے مطابق زیرزمین چلے گئے اور دوسرے اضلاع میں جا کر کسانوں کو منظم کرنے کام سرانجام دینے لگے۔ اس دوران انہوں نے پنجاب اسمبلی کا الیکشن لڑا۔ ان کی انتخابی مہم کو منظم کرنے کی ذمہ داری سردار مظہر علی خان اور پروفیسر صفدر کی تھی، جنہوں نے لائل پور دفتر جا کر ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ ان کے الیکشن کی کمپین میں پاکستان کسان کمیٹی، پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن، ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس فیڈریشن، انجمن ترقی پسند مصنفین، ڈیموکریٹک ویمن ایسوسی ایشن سمیت کئی عوامی تنظیموں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ وہ یہ الیکشن صرف 26 ووٹوں سے ہار گئے تھے۔
جب 1954 میں کمیونسٹ پارٹی پر پابندی لگائی گئی تو رہائی کے بعد پارٹی کی ہدایت پر انہوں نے میاں افتخار الدین اور دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر ”آزاد پاکستان پارٹی“ قائم کی، جو بعد میں نیشنل پارٹی میں ضم ہو کر ”نیشنل عوامی پارٹی (نیپ)“ بنی۔ ایک وسیع البنیاد ترقی پسند جمہوری جماعت۔ ملکی سیاست میں ایک دہائی تک ولولہ انگیز کردار کے بعد نیشنل عوامی پارٹی بعد ازاں ولی گروپ اور بھاشانی گروپ میں تقسیم ہو گئی، جِس کے بارے میں عام تاثر ہے کی یہ عالمی سطح پر چین روس تنازع کے اثرات برداشت نہ کر سکی۔ یہ سراسر غلط تصور ہے، کیونکہ نیپ مشرقی پاکستان اور صوبہ پنجاب کی قیادت سوشلسٹوں کے پاس اور باقی تین صوبوں، سندھ، بلوچستان اور سرحد کی قیادت اور مرکزی قیادت نیشنلسٹوں کے پاس تھی۔ چین نواز ساتھیوں نے تو دونوں کا ساتھ نہیں دیا اور مزدور کسان پارٹی بنا لی تھی۔ البتہ یہ بات دلچسپ تھی کہ سندھ سے تعلق رکھنے والی انڈر گراؤنڈ کمیونسٹ پارٹی دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والی کمیونسٹ پارٹی سے علیحدہ کام کرتی تھی اور وہ نیشنلسٹوں کے ساتھ ولی گروپ کا حصہ رہی تھی۔
جنرل ایوب خان کے مارشل لا کے دوران چوہدری فتح محمد ایک بار پھر گرفتار ہو گئے اور انہیں بدنامِ زمانہ شاہی قلعہ لاہور کے عقوبت خانوں میں 36 دن تک تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ وہی ایام تھے جب کمیونسٹ راہنما حسن ناصر انہی عقوبت خانوں میں تشدد کے دوران جان کی بازی ہار گئے تھے۔ چوہدری فتح محمد کو قلعے کے بعد لاہور اور پھر لائلپور جیل میں رکھا گیا اور بعد ازاں دو سال تین ماہ تک ٹوبہ ٹیک سنگھ کے قریب ان کے گاؤں میں نظر بند کر دیا گیا اور ان کے گھر کو سب جیل قرار دے دیا گیا۔ لاہور جیل میں قیام کے دوران ان کی رفاقت فیض احمد فیض سے بڑھی اور وہ ان کے ساتھ گزرے ایام کے دلچسپ واقعات سنایا کرتے تھے۔ انہوں نے 1962 ء میں رہائی کے بعد جاگیرداری کے خاتمے کے لیے کسان حقوق کانفرنسوں کے انعقاد کی مہم شروع کر دی۔ مشرقی پاکستان میں مولانا عبدالحمید خان بھاشانی بڑے کسان راہنما تھے اور انہوں نے اپنے آبائی علاقہ سنتوش نگر میں 1969 ء میں بڑی کسان کانفرنس منعقد کی تو چوہدری فتح محمد بھی اس میں شامل تھے۔ وہیں انہوں نے مولانا بھاشانی سے اپنی ڈائری پر لکھوا کر دستخط لے لیے کہ وہ مغربی پاکستان میں بڑی کسان کانفرنس کریں گے تو وہ اس میں ضرور شرکت کریں گے۔ واپسی پر پاکستان کسان کمیٹی کا اجلاس بلایا گیا اور کسان کانفرنس کے مقام پر بحث ہو تو سردار شوکت علی، راؤ مہروز اختر خان، سید قسور گردیزی اور سید مطلبی فرید آبادی نے اس کی ذمہ دوری سے معذرت کر لی تو چوہدری فتح محمد نے کانفرنس ٹوبہ ٹیک سنگھ میں منعقد کرنے کا اعلان کر دیا۔ میاں عارف افتخار اسرار کر رہے تھے کہ ہم اتنی خلقت اکٹھی نہیں کر پائیں گے، لیکن چوہدری فتح محمد پُر اعتماد تھے اور دعویٰ کر رہے تھے کی سنتوش نگر سے بڑی کسان کانفرنس منعقد کریں گے۔
ان کی اس طویل جدوجہد کا نقطہ عروج 23 مارچ 1970 ء کو ٹوبہ ٹیک سنگھ میں منعقدہ ہونے والی ”بھاشانی کسان کانفرنس“ ہی تھی، جس میں تین لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی۔ اس کانفرنس نے پاکستان کی سیاست میں جاگیرداری کے خاتمے کے مطالبے کو مرکزی حیثیت دلائی، اور تمام سیاسی جماعتوں، بشمول جماعت اسلامی نے اپنے منشور میں زرعی اصلاحات شامل کیں۔ کانفرنس کے بعد چودھری فتح محمد اور مشرقی پاکستان سے مسیح الرحمن کو گرفتار کر لیا گیا۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد نیپ بھاشانی کے ساتھیوں نے ”پاکستان سوشلسٹ پارٹی“ بنائی، جس میں چودھری صاحب مرکزی سیکریٹری برائے زرعی امور منتخب ہوئے۔
پاکستان میں بائیں بازو کی تحریک آزادی کے بعد سے تقسیم کا شکار رہی، خاص طور پر 1954 ء میں کمیونسٹ پارٹی پر پابندی کے بعد ۔ ضیاء الحق کے مارشل لا کے دوران 1980 ء کی دہائی میں بڑے پیمانے پر بائیں بازو کے رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا۔ کامریڈ سی آر اسلم، عابد حسن منٹو، چودھری فتح محمد، میجر اسحاق محمد اور دیگر رہنما سنٹرل جیل فیصل آباد میں قید تھے، جہاں انہوں نے بائیں بازو کی جماعتوں کو متحد کرنے کا فیصلہ کیا۔ 1986 ء میں اس عمل کا آغاز ہوا۔ چودھری صاحب نے ایک بار پھر ملک گیر کسان کانفرنسوں کے انعقاد کا سلسلہ شروع کر دیا۔ جن میں کبیر والا، نارووال، شیخوپورہ، جھنگ، اور ٹوبہ ٹیک سنگھ شامل تھے۔ ان کانفرنسوں نے کارکنوں میں ایک نیا ولولہ پیدا کیا، انقلابی تحریک اور بائیں بازو کے اتحاد کی کوششوں کو مضبوط کیا۔ یہی وجہ تھی کہ جب پاکستان سوشلسٹ پارٹی اور کمیونسٹ پارٹی کا پہلا مرجر ہوا اور ورکرز پارٹی پاکستان کا قیام عمل میں آیا تو کبھی بھی ان کے راہنماؤں میں عملی اختلاف نظر نہیں آیا۔ ایسا ہی 1999 ء میں پاکستان سوشلسٹ پارٹی، عوامی جمہوری پارٹی اور نیشنل پارٹی کے مرجر سے نیشنل ورکرز پارٹی کے قیام پر ہوا، البتہ ان دونوں مرجرز کے دوران قومی محاذ آزادی کے ساتھ مرجر ہوا تو اس کے تھوڑے ہی عرصے بعد معراج محمد خان نے علیحدگی اختیار کر لی۔ چودھری فتح محمد کا ماننا تھا کہ بائیں بازو کی متحد اور فعال جماعت کے بغیر پاکستان میں کوئی سماجی تبدیلی ممکن نہیں ہے۔ مزید یہ کہ بھر پور سیاسی عمل اور نظریاتی بحث مباحثہ کے بغیر ہر مرجر کامیاب نہیں ہو سکتا۔ سمجھوتے اور ایڈجسٹمنٹس صرف محدود مدت تک ہی چل سکتی ہے۔ اسے طول دیں گے تو ایک مضبوط اور منظم انقلابی پارٹی نہیں بنا پائیں گے، اور دوبارہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائیں گے۔ بعد ازاں 2010 ء میں انہوں نے مل کر کمیونسٹ مزدور کسان پارٹی، راولپنڈی بیسڈ عوامی مزاحمت اور دیگر گروپس کے ساتھ مرجر کر کے ورکرز پارٹی (پاکستان) قائم کی تو وہ پارٹی پنجاب کے صدر منتخب ہوئے۔ نومبر 2012 میں ورکرز پارٹی، عوامی پارٹی اور لیبر پارٹی کے انضمام سے عوامی ورکرز پارٹی بنی۔ عوامی ورکرز پارٹی کے منشور میں واضح طور پر لکھنے اور یقین دہانیوں کے باوجود سابق لیبر پارٹی کے راہنما نے این جی اوز کا نا صرف کام جاری رکھا، جو بالآخر فاروق طارق کی پارٹی سے علیحدگی کا سبب بنا۔ ایسا ہی عوامی مزاحمت سے آنے والے ساتھیوں کا رویہ رہا اور بلیک میلنگ کا سلسلہ بالآخر ان کی علیحدگی کا سبب بنا۔
چودھری فتح محمد نے 2011 ء میں برطانیہ میں اپنے بیٹے پرویز فتح کے ساتھ وقت گزارنے کے لیے آئے تو وہیں انہیں فیض صد سالہ تقریبات کے دوران فیض امن ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس ایوارڈ کو فیض احمد فیض کی بیٹی سلیمہ ہاشمی نے لندن میں ایک عوامی تقریب میں پیش کیا۔ فیض ایوارڈ کمیٹی امریکہ نے کہا کہ 1970 ء کی ٹوبہ کسان کانفرنس کی قیادت ہمیشہ پاکستان محنت کش عوام کے قومی شعور اور مزدور کی عظمت منوانے کا ولولہ پیدا کرتی رہے گی۔ اسی نجی دورے کے دوران پارٹی برطانیہ کے سینیئر ساتھیوں، بالخصوص محسن ذوالفقار، مسعود پنجابی (سویڈن) ، عباس ملک، اعجاز سید (امریکہ) نے انہیں پاکستان میں بائیں بازو کی تاریخ لکھنے پر آمادہ کیا۔ انہوں نے عمر اور اس فریضے کے لیے درکار سفر کی وجہ سے اپنی خودنوشت سوانح لکھنے پر رضامندی ظاہر کی، جو 2016 ء میں ”جو ہم پہ گزری“ کے عنوان سے شائع ہوئی۔
چودھری فتح محمد نے ہزاروں ترقی پسند رہنماؤں اور کارکنوں کے ساتھ کام کیا، جن میں دادا فیروز الدین منصور، پروفیسر ایرک سپرین، سی آر اسلم، عابد حسن منٹو، میاں افتخار الدین، مولانا عبدالحمید بھاشانی، سید مطلبی فرید آبادی، سردار شوکت علی، مرزا محمد ابراہیم، راؤ مہروز اختر خان، میجر اسحاق محمد، ڈاکٹر محمد عبداللہ، کنیز فاطمہ، انیس ہاشمی، سید قسور گردیزی، ملک محمد علی بھارا، غلام نبی کلو، حسن عسکری، اختر حسین، یوسف مستی خان، چاچا محمد دین، شاہین شاہ، غلام نبی بھلر، چودھری بشیر احمد، نور محمد چوہان، چودھری نعیم شاکر، میاں محمود احمد، کامریڈ عبدالسلام، چودھری بشیر جاوید اور دیگر شامل ہیں۔
اپنی نظریاتی کمٹمنٹ، مستقل مزاجی، مضبوط اصولوں، انقلابی بین الاقوامیت، انتھک جدوجہد، باہمی خلوص اور مساوات پر مبنی مستقبل کے یقین کی بنا پر چودھری فتح محمد پاکستان میں 72 سال تک محکوم طبقات کے حقوق کی جدوجہد کا ناقابلِ فراموش باب بنے رہے۔
کامریڈ فتح محمد، آپ ہمیشہ یاد آئیں گے اور آپ کی جلائی ہوئی شمعیں ہمیشہ روشنی بکھیرتی رہیں گی۔





