الفاظ کی بغاوت


حیران  ہو رہا تھا کہ میں کچھ لکھ کیوں نہیں پا رہا۔ تم جب لکھتے ہو تو الفاظ تمہارے سامنے صف بندی کیے کھڑے ہو جاتے  ہیں کہ ان کو دامن تحریر میں لایا جائے، بابا جی نے ایک مرتبہ کہا تھا۔ لیکن حیران کن تھا کہ آج ایسا نہیں ہے۔ باوجود کوشش کہ میں کچھ لکھ نہیں پا رہا تھا۔ کافی دیر ساکت بیٹھا رہا، قلم انگلیوں میں گھماتا رہا۔ لیکن کچھ بھی تحریر کی صورت میں سامنے کاغذ پر نہیں آ رہا تھا۔ اور صفحات سامنے صاف سفید بکھرے پڑے تھے۔ یہ کئی دن سے ہو رہا تھا۔ ایسا کبھی نہیں ہوا پہلے۔ اسی سوچ میں گم اور پریشاں تھا کہ اچانک الفاظ سامنے آ کھڑے ہوئے۔ حیرت ہوئی، کیونکہ کئی دنوں سے وہ کہیں دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ نہ خیالوں میں اترتے تھے، نہ کاغذ پر۔ نہ زبان پر آتے تھے، نہ صفحات کو سیاہ کر رہے تھے۔

اب سامنے تھے۔ خاموش، سنجیدہ، جیسے کسی کرب ناک فیصلے کے بعد کوئی دوست نظریں چُراتا ہے۔ میں نے نرمی سے پوچھا،

”کہاں تھے تم؟ میں نے کتنی بار پکارا، کئی بار قلم اٹھایا، سوچ میں ڈوبا، مگر تم میں سے کوئی نہ آیا۔“
ایک ادھورا سا لفظ آگے بڑھا۔ آواز میں تھکن تھی، لہجے میں بیزاری:
”ہم نے طے کیا ہے، ہم اب دکھ درد کے کسی قصے میں شامل نہیں ہوں گے۔“ یہ بم شیل تھا جیسے۔
میں جیسے سناٹے میں آ گیا۔

”کیا؟ تم میرے الفاظ ہو یا کسی سرکاری پریس ریلیز کے چنیدہ گوہر نایاب جو میری تحریر میں آنے سے انکاری ہو؟“

ایک اور لفظ نے دھیمے مگر قطعی لہجے میں کہا:

”معاف کیجیے گا۔ لیکن اب ہمیں سچ بولنے سے خود کو روکنا ہے، یہی ہمارا فیصلہ ہے۔ سچ بولنے سے مسائل جنم لیتے ہیں، جبکہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ، سب اچھا ہے جناب۔“

میں نے چونک کر پوچھا،
”تو پھر وہ لڑکا؟ جس نے غربت سے تنگ آ کر خودکشی کر لی، اُس پر میں لکھوں گا تمہارے ساتھ کے بنا؟“

”اس کی کہانی نہ لکھیے جناب۔ ایسی کہانیاں لکھنے میں معاشرے میں افراتفری پھیلتی ہے۔ معاشرہ ہمیں قبول نہیں کرتا کہ اس افراتفری پھیلانے میں ہمارا بھی کردار ہے آپ جانتے ہیں، فضا مثبت رکھنا وقت کی ضرورت ہے۔ سب اچھا ہے جناب۔“ الفاظ تو غصے میں دکھائی دے رہے تھے۔

”اور وہ ماں، جو بیٹے کی لاش پر بین کر رہی تھی، کیا میں اس کے بین بھی اب نا لکھوں صرف تمہاری ان فضول توجیحات کی وجہ سے؟“ ۔ سوچا کچھ غصہ میرا شاید الفاظ کو اپنا موقف نرم کرنے پر مجبور کر دے گا۔

”بین؟“ ایک اور لفظ نے کہا، ”جناب، بین لکھنے سے قارئین پریشانی اور افسوس کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اور اب ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ خوشگوار ماحول بگڑ جاتا ہے۔ بہتر ہے خاموشی اختیار کی جائے۔ سب اچھا ہے جناب۔“ میرا خیال غلط ثابت ہوا، الفاظ کا عزم توانا تھا۔

”وہ ننھی بچی، جس کا یونیفارم خون سے لت پت تھا، جو پڑھنے کی عمر میں خون میں نہلا دی گئی، کیا یہ دردناک لمحہ بھی لکھنے مین میری مدد نہیں کرو گے؟“ ۔ اب میرا لہجہ لجاجت بھرا ہوتا جا رہا تھا۔

”وہ تو سانحہ تھا جناب، لیکن اب ہم صرف وہی تحریریں لکھتے ہیں جن میں سانحے کا اختتام خوشی پر ہوتا ہے۔ زندگی کی تلخیوں سے بچنا ضروری ہے۔ خون سے ویسے بھی بہت سے اشرافیہ ذہنی پریشانی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس لیے اس حوالے سے بھی سب اچھا ہے جناب۔“ اب میرے الفاظ بیزار ہونا شروع ہو چکے تھے۔

”اور وہ بیٹی، جو جہیز کے بوجھ تلے سسک رہی ہے، جو کبھی اپنے چاندی بھرے بالوں کو دیکھتی ہے اور کبھی اپنے بات کی کم مائیگی کو، اُس کا میں کیا کروں، لکھنا تو ہے نا اس پر مجھے کہ اب اس کی سسکیاں بھی نظر انداز کر دوں؟“ میں نے منت کے انداز میں لہجہ التجائیہ کر لیا تھا۔

”افسوس ہوا، مگر ہم یہ بوجھ اٹھانے کے لیے نہیں بنے۔ ہمیں کہا گیا ہے کہ جہیز کے انتظار میں بوڑھی ہوتی بیٹیوں کے بالوں کی چاندی دکھانے کے بجائے خواب دکھاؤ، حقیقت مت لکھو۔ اور بس اتنا دکھاؤ کہ سب اچھا ہے جناب۔“

میں اب الجھن میں تھا۔ اور میری الجھن اب میرے لہجے سے نمایاں ہونا شروع ہو چکی تھی اور اس بات کا مجھے احساس بھی ہونے لگا تھا۔

”تو میں کیا لکھوں؟ وہ مزدور جو دن رات دھوپ میں جلتا ہے؟ وہ باپ جو بیٹی کے نکاح کے خواب لے کر قبر کے دہانے پر جا پہنچا؟ وہ نوجوان جس کی جیب میں ڈگری ہے اور پیٹ میں بھوک، میں ان سب کو نظر انداز کر دوں اور ان کے کرب کو تحریر کا روپ نا دوں، کیا تم میرا ساتھ نہیں دو گے؟“ میں کم و بیش ہاتھ ہی جوڑ چکا تھا۔

الفاظ نے یک زبان ہو کر کہا،

”ایسی باتوں سے اشتعال پیدا ہوتا ہے۔ بے چینی بڑھتی ہے۔ جذباتیت کو فروغ ملتا ہے۔ ہم اب قومی مفاد میں خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ہم صرف ان تحاریر کا حصہ بنیں گے جن میں سیلفیاں ہوں، ترقی کی خبریں ہوں، یا کسی مہنگے کافی شاپ کی تصویر۔ باقی سب غیر ضروری ہے۔ ہمیں افسوس ہے کہ ہم آپ کا ساتھ صرف سب اچھا ہے طرح کی تحاریر میں دے سکتے ہیں اور جہاں آپ نے سچ لکھنا چاہا وہاں ہم سے کچھ امید نا رکھیے گا۔ آپ اگر اپنی کہانیوں، افسانوں، کالمز کو ہمارے مطابق کوئی لبادہ نہیں اوڑھا سکتے تو ہماری طرف سے نا ہی سمجھیے۔“ الفاظ تھے یا گویا بم شیل کہ پھٹے ہی جا رہے تھے۔

میں چپ ہو گیا۔ اور چپ ہونے کے علاوہ بھلا میرے پاس چارہ ہی کیا تھا۔ میں تو صفحات کالے ہی ان الفاظ کی مدد سے کرتا تھا جو آج سر جھکا کر تو کھڑے تھے میرے سامنے لیکن ایک مضبوط ارادہ لیے ہوئے تھے کہ اب شاید میرے جھوٹ کو مزید سہارا نہیں دے گے وہ۔ اپنی دانست میں ایک طویل عرصے سے میں انہیں اپنا غلام سمجھ بیٹھا تھا۔ لیکن آج ان کے رویے سے محسوس ہو گیا تھا کہ سر جھکا کر صدیوں غلامی کرنے والے بھی شاید ہر گزرتے دن کے ساتھ اپنی زنجیریں توڑنے کی کوشش میں ہیں۔

کمرے میں خاموشی تھی، کاغذ سفید تھا، اور قلم کی نوک خشک، اور میرے ہاتھوں میں قلم گھومنے کے بجائے رک گیا تھا۔ کیوں کہ الفاظ کی ہٹ دھرمی سے میرا دماغ شل سا ہو گیا تھا۔ مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے میری تمام قابلیت بس الفاظ کے ایک انکار کی ہی تو مار تھی۔

میرے الفاظ چلے گئے تھے۔
کہاں؟

شاید کسی پریزینٹیشن میں، کسی اشتہار میں، کسی سیاسی اسکرپٹ میں یا پھر کسی خوش نما جھوٹ میں۔ اور حیرت مجھے یہ ہوئی کہ ان کے لوٹ جانے پر نا میں ان سے کوئی سوال کر سکا نا اپنی سالوں کی رفاقت گنوا سکا۔

اور میرے یہ ساتھی، میرے غم گسار، میرے یہ الفاظ وہاں چلے گئے،
جہاں نہ درد ہو، نہ کرب، نہ صدائیں، نہ نوحے۔
جہاں صرف یہی لکھا جائے کہ،
سب اچھا ہے جناب۔

Facebook Comments HS