تنہا۔ سابق مشرقی پاکستان پر لکھا گیا اثر انگیز ناول (8)
وہ یہ سوچتا ہوا اندر آیا اور لمبے کیل کے ساتھ لٹکتی بانس کے تنکوں کی چھاج اتار کر اپنے سر پر رکھی جب دادو کی آواز اس کے کانوں میں پڑی جو اس سے کہہ رہے تھے :
”تم کیا کہیں باہر جا رہے ہو؟ پوکھر (تالاب) پر تمہاری دادی ماں پانی لینے گئی ہیں۔ تمہیں اس کا خیال رکھنا چاہیے۔ اس کی جان اب بوڑھی ہے۔“
تب باشا کی پچھلی سمت کیلوں کے جھنڈ کی طرف قدرے ڈھلانی زمین پر پاؤں آہستہ آہستہ جما کر نیچے اترتے ہوئے اس نے سوچا۔
”یہ دادی ماں بھی بس عجیب ہیں۔ وزنی چیز اٹھانے کے قابل نہیں پر یہ اٹھائیں گی ضرور۔“
پوکھر لبالب پانی سے بھرا تھا۔ کنارے کے قریب پڑے موٹے لکڑی کے تنے پر بیٹھی وہ گھڑے کی صفائی میں کتنی مگن تھیں۔ وہ مسکرایا۔ ”انہیں اپنے کاموں سے عشق ہے۔“
گھڑا اس نے ان کے ہاتھ سے لے کر اچھی طرح کھنگالا، بھرا اور کندھے پر اٹھا کر انہیں آگے آگے چلنے کا اشارہ کیا۔
انہوں نے گہری سبز موٹی سوتی ساڑھی کا آنچل سر پر ٹھیک کیا اور باشا کی طرف چلنے لگیں۔ شلپی نے ان کی ایڑیوں کو دیکھا جو پھٹی ہوئی تھیں۔ ان کے پاؤں میں جوتا وہ بہت کم دیکھتا تھا۔ دادی ماں کچھ اتنی زیادہ بوڑھی بھی نہ تھیں۔ بس بیماریوں نے لاغر کر ڈالا تھا۔
باشا کے سامنے تھوڑی سے جگہ پر ٹین ڈال کر کھانا پکانے کے لئے جگہ بنائی ہوئی تھی۔ وہیں اس نے گھڑا رکھ دیا۔ دادی ماں اسے کٹھل لانے کو کہہ رہی تھیں۔ پر اس کی جان تو ان دو بیماروں میں اٹکی تھی جو ابھی تک ویسے ہی بیٹھے منہ اٹھائے اس کی راہ تک رہے ہوں گے۔ اور آج تو وہ اٹھا بھی دیر سے تھا۔
اس نے انہیں موڑی تلنے کے لئے کہا اور خود بھاگم بھاگ نوکا کے پاس آیا۔ اسے کھولا اور کھلے پانی میں آ گیا۔ وہ چپو بہت تیز چلا رہا تھا۔ چندر دت کے بڑے لڑکے گوتم کو اس نے اشنان کرتے دیکھا اور نفرت سے منہ پھیر لیا۔ یہ بھی ایک بد ذات تھا۔ بہت لڑائی ہوئی تھی پچھلے دنوں ان دونوں کے درمیان۔ یہی اس پاکستان، ہندوستان کے مسئلے پر۔ وہ مسلم لیگ کا ہرا چاند ستارے والا جھنڈا جب بھی لہراتا۔ گوتم اور اس کے بہن بھائی اسے پھاڑنے کی کوشش کرتے۔ اس دن اس نے گوتم کو اچھی طرح پیٹا تب وہاں طوفان آ گیا۔ یہ دت جو اپنے آپ کو بہت اعلیٰ سمجھتے تھے۔ ان کے در پر آ جمع ہوئے۔ وہ بہت غصے میں تھے۔ دادو نے انہیں حکمت عملی سے ٹھنڈا کیا۔ صاحب رائے میں دادو وہ واحد ہستی تھے جو ہندوؤں سے بالکل نہیں دبتے تھے کیونکہ وہ مزارع نہ تھے۔ ان کے پاس اپنی تھوڑی سی زمین کے ساتھ ساتھ قابل عزت پس منظر علم، تحمل اور دانائی تھی۔
ہر سو پانی ہی پانی تھا۔ اوپر گہرے گہرے بادل اور نیچے ٹھاٹھیں مارتا سمندر اور اس پانی میں ابھرے ہوئے ٹیلے، جن پر چھالیہ اور تاڑ کے درختوں میں گھری بانس اور کھپریل کی باشائیں، یہ سب کچھ بہت حسین تھا۔ پر اس حسن پر کوڑھ کے داغ تھے۔ یہاں انسان سسک رہے تھے۔ یہ بنگال تھا جو بیرونی دنیا کے لئے سحر رکھتا تھا۔
وہ بھاگ کر اندر آیا۔ باہر بارش تیز ہو گئی تھی۔ ٹپ ٹپ باشا ٹپک رہی تھی۔ کونے میں وہ دونوں میاں بیوی بیٹھے تھے۔ اسے دکھ ہوا۔ اب یہ ٹپکنے لگی ہے۔ ان کے زخموں کو بھی آرام نہیں۔ کیا ہو گا؟ کون اس کی مرمت کرے گا؟
”عبدل چاچا۔“ وہ ان کے قریب جا بیٹھا۔ ”یہ تو برا ہوا۔“
”اے بچہ! سب ہی برا ہوا۔ غریب کی بھی کوئی جندگی ہے۔ ماں کے پیٹ سے نکلتا ہے تو مصیبتیں شروع ہو جاتی ہیں۔ جیون بھر ایڑیاں رگڑتا ہے اور ایک دن چپکے سے دم دے دیتا ہے۔ غریب کا تو، بچہ! خدا بھی نہیں۔“
”تم لوگوں نے کچھ کھایا بھی نہیں؟“ اس نے یونہی پوچھا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ وہ اب ازخود کوئی چیز کھانے کے قابل نہیں رہے۔
”کس نے ہمیں دینا تھا؟ یہ تیرا دم ہے جو تو اتنا بھی دیکھ لیتا ہے۔“
وہ اس برستی بارش میں باہر نکل گیا۔ قریبی درخت سے دو کٹھل توڑ کر لایا ایک گھر لے جانے اور دوسرا انہیں کھلانے کے لئے۔ ان کے پاس ہی بیٹھ کر وہ کٹھل بنانے لگا۔
کٹھل کی میٹھی میٹھی خوشبو اس کے نتھنوں میں گھسی جا رہی تھی۔ وقفے وقفے سے وہ انہیں مخاطب کرتا۔
” یہ کٹھل بہت ہی میٹھا ہے۔“
اس نے جلدی جلدی انہیں وہ کھلایا اور پھر بولا۔ ”لو اب میں چلتا ہوں۔ دادی ماں میرے انتظار میں ہوں گی۔ اور ہاں آج مجھے ہاٹ (بازار ) بھی جانا ہے۔“
اور انہوں نے اس کے چلے جانے کے بعد رب جلیل سے صرف ایک دعا مانگی۔
” اے باری تعالیٰ! اس متعدی بیماری سے تو اسے محفوظ رکھیو جس کا ہاتھ کراہت سے بے نیاز ہمارے منہ میں بھات اور کٹھل ڈالتا ہے۔ اے رب کریم تو اسے صحت اور عمر دراز دے کہ اس کے سینے میں فرشتے کا دل ہے۔ اور وہ انسانوں کی اس بھری بستی میں اکیلا ہمارا مونس ہے۔“
دادی ماں کب سے ماتھے پر ہاتھ رکھے چولہے کے پاس بیٹھی تھیں۔ اسے کندھے پر کٹھل اٹھائے آتے دیکھا تو غصے سے بولیں۔
”تم ان کے پاس چلے گئے تھے۔ باز نہیں آتے ہو۔ ہزار بار کہا ہے یہ بیماری خطرناک ہے۔ پرہیز کیا کرو۔ پر تم ہو کہ چوبیس گھنٹے انہی میں گھسے رہتے ہو۔“
”ارے دادی ماں! وہ جو اپاہج بن کر یہاں آ گئے ہیں تو بولیں انہیں ہمارے سوا کون دیکھے گا؟ اتنے ڈھیر سارے لوگوں میں یوں بے کسی سے وہ مر جائیں تو یہ کتنی بری بات ہو گی۔“
”یہ تمہیں ان کی کچھ زیادہ ہی ممتا آ گئی ہے اور ان کا خون تو انہیں یہاں چھوڑ کر ڈھاکہ کی ہوا کھانے چلا گیا ہے۔ اسے تو ان کا درد ہی نہ تھا۔“ دادی ماں سخت برہم تھیں۔
تب دادو ان کے پاس آئے اور بولے۔
”یہ جو کچھ کر رہا ہے ٹھیک کر رہا ہے اس پر نکتہ چینی مت کرو۔ وہ مجبور اور بے بس انسان ہیں۔ ان کی سیوا خدا کی سب سے بڑی عبادت ہے۔“
اس نے نرم چٹائی باشا کے اندر بچھائی، کٹھل بنایا اور چیوڑا گڑ کے ساتھ کھا کر اٹھ گیا۔ آج بدھ وار تھا اور آج اسے ہاٹ جانا تھا۔ کئی چیزیں خریدنے والی تھیں۔ اس نے جال کندھے پر ڈالا اور جب وہ دھیرے دھیرے چپو چلا رہا تھا، اس کی پاٹ دار آواز قاضی نذرُ الاسلام کے ”مکمل انسان“ کے جذبات کی ترجمانی میں بہت دور تک بکھر رہی تھی۔
وہ مبارک ساعت آ پہنچی
راستے کے دونوں طرف جس کی ہڈیاں بکھری پڑی ہیں
تمہاری خدمت کے لئے جس نے قلی اور مزدور کا روپ دھار لیا
تمہارا بار گناہ اٹھانے کے لئے جو ہمیشہ خاک آلودہ رہتا ہے
وہی صرف وہی مزدور مکمل انسان ہے
میں اسی کے گیت گاتا ہوں
اس کا ٹوٹا ہوا دل ایک نئی دنیا تعمیر کرے گا
(جاری ہے )


