آپریشن بنیان مرصوص


10 مئی 2025 ء کو پاکستانی افواج نے ایک ایسی کارروائی کا آغاز کیا جس نے نہ صرف جنوبی ایشیا کے جغرافیائی و سیاسی منظر نامے کو بدل دیا بلکہ پاکستان کی عسکری تاریخ میں ایک ناقابل فراموش باب رقم کیا۔ آپریشن بنیان مرصوص، جس کا نام قرآنی آیت سے ماخوذ ہے، ایک عسکری حکمت عملی سے کہیں بڑھ کر تھا۔ یہ پاکستانی قوم کی غیر متزلزل استقامت، ایمانی جذبے اور قومی اتحاد کا مظہر بن گیا۔ سورۃ الصف کی آیت نمبر 4 سے مستعار لیا گیا یہ نام، جو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں سیسہ پلائی دیوار کی طرح لڑتے ہیں، اس آپریشن کی نظریاتی گہرائی کو واضح کرتا ہے۔ یہ صرف ایک فوجی جوابی کارروائی نہیں تھی بلکہ ایک ایمانی، روحانی اور قومی بیداری کی علامت تھی جس نے دشمن کے عزائم کو خاک میں ملا دیا۔

اس آپریشن کی تاریخی اہمیت کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس کے پس منظر کو دیکھنا ہو گا۔ 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب، بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے پہلگام حملے کا بہانہ بنا کر پاکستان کے مختلف علاقوں پر بزدلانہ فضائی حملے کیے، جن میں معصوم شہریوں، بچوں اور خواتین کی شہادتیں ہوئیں۔ نور خان اور شورکوٹ کے ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے کی ناکام کوشش کی گئی، لیکن پاک فضائیہ نے اپنے اثاثوں کی حفاظت کرتے ہوئے دشمن کے منصوبوں کو ناکام بنایا۔ اس جارحیت کے جواب میں پاکستان نے صبر و تحمل کا دامن تھامے رکھا، لیکن جب دشمن نے حدود پار کیں تو 10 مئی کی صبح فجر کے وقت آپریشن بنیان مرصوص کا آغاز ہوا۔ یہ آپریشن نہ صرف بھارت کی جارحیت کا جواب تھا بلکہ پاکستان کی خودمختاری اور قومی وقار کے تحفظ کا عہد بھی تھا۔ یہ کارروائی 1999 ء کے کارگل تنازع کے بعد دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان سب سے سنگین کشیدگی کے بعد شروع ہوئی اور اس نے عالمی سطح پر پاکستان کی عسکری صلاحیت کو تسلیم کروایا۔

آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی پاک فوج کی پیشہ ورانہ مہارت، جدید ٹیکنالوجی اور حکمت عملی کی بدولت ممکن ہوئی۔ پاک فضائیہ کے جے ایف۔ 17 تھنڈر طیاروں نے ہائپرسونک میزائلوں کے ذریعے بھارت کے جدید S۔ 400 ائر ڈیفنس سسٹم کو آدم پور میں تباہ کیا، جس کی لاگت ڈیڑھ ارب ڈالر تھی۔ اس کے علاوہ پٹھان کوٹ، ادھم پور، بیاس اور دیگر اہم فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ پاکستانی سائبر یونٹ نے بھارت کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مفلوج کرتے ہوئے بی جے پی کی سرکاری ویب سائٹ سمیت متعدد اہم ویب سائٹس ہیک کیں اور مہاراشٹر کے بجلی کے نظام کو معطل کیا۔ پاک فوج نے صرف پانچ گھنٹوں میں بھارت کے جنگی غرور کو خاک میں ملا دیا، جس سے دشمن کو اپنی دفاعی کمزوریوں کا احساس ہوا۔ پاکستان نے بھارت کے پانچ جنگی طیاروں، جن میں تین رافیل شامل تھے، اور متعدد اہم فوجی افسران کی ہلاکت کا دعویٰ کیا، جو پاک فوج کی درست اور مہلک حکمت عملی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

اس آپریشن کی کامیابی کے پیچھے پاک فوج کے سپاہی سے لے کر جنرل تک کا جذبہ شہادت اور وطن کے لیے قربانی کا عزم کارفرما تھا۔ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر، جو اب فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی پا چکے ہیں، نے فجر کی نماز کے بعد سورۃ الصف کی تلاوت کی اور اسی روحانی جذبے کے ساتھ آپریشن کا آغاز کیا۔ ہر سپاہی نے اس معرکے میں اپنی جان کی بازی لگا دی، اور شہداء کے خاندانوں نے فخر کے ساتھ کہا کہ ان کے پیاروں کی قربانی نے پاکستان کے وقار کو عالمی سطح پر بلند کیا۔ کیپٹن روح اللہ اور میجر ذکا جیسے شہداء کے والدین نے اپنے بیٹوں کی شہادت کو وطن کی مضبوط بنیادوں کا حصہ قرار دیا۔ پاک فوج کے جوانوں نے نہ صرف میدان جنگ میں دشمن کو عبرتناک شکست دی بلکہ اپنے ایمانی جذبے سے قوم کو متحد کیا۔

حکومتی سطح پر وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی کابینہ نے پاک فوج کو ہر ممکن سفارتی اور سیاسی حمایت فراہم کی۔ وفاقی کابینہ نے آپریشن کی کامیابی پر جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دی اور شہداء و غازیوں کو اعلیٰ سرکاری ایوارڈز سے نوازنے کا اعلان کیا۔ وزیراعظم نے عالمی برادری کے سامنے پاکستان کا موقف پیش کیا اور یہ واضح کیا کہ یہ کارروائی صرف فوجی اہداف کے خلاف تھی، نہ کہ بھارتی عوام کے۔ سفارتی محاذ پر پاکستان نے اپنی پوزیشن کو مضبوط کیا، اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے پاکستان کے موقف کی حمایت کی، جبکہ یورپی یونین اور اقوام متحدہ نے جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیا۔ صدر آصف علی زرداری نے بھی پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف کی اور قوم کو یوم تشکر منانے کی دعوت دی، جو 16 مئی 2025 ء کو ملک بھر میں منایا گیا۔

آپریشن بنیان مرصوص کے عالمی اثرات گہرے اور دور رس ہیں۔ نیویارک ٹائمز اور برطانوی جریدے ڈیفنس آبزرور نے اسے پاکستانی فوج کی تاریخ کا سب سے موثر آپریشن قرار دیا، جبکہ پیرس کے ایک تھنک ٹینک نے بھارت کو اپنی دفاعی حکمت عملی پر نظرثانی کی تجویز دی۔ اس آپریشن نے نہ صرف بھارت کی عسکری کمزوریوں کو بے نقاب کیا بلکہ پاکستان اور چین کی دوستی کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ چینی ٹیکنالوجی کی برتری نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی، اور جنوبی ایشیا کے ممالک جیسے بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال اب پاکستان کے ساتھ تعلقات کو زیادہ اہمیت دینے لگے ہیں۔ بھارت کی علاقائی بالادستی کو چیلنج کرنے کا راستہ کھلا، اور امریکی پالیسی پر بھی نظرثانی کے امکانات بڑھ گئے۔

اس آپریشن نے پاکستان کو عالمی سطح پر ایک ناقابل تسخیر قوت کے طور پر پیش کیا۔ یہ نہ صرف ایک فوجی فتح تھی بلکہ ایک نظریاتی اور سفارتی کامیابی بھی تھی۔ پاکستانی قوم نے اپنی افواج کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر ثابت کیا کہ وہ ہر مشکل حالات میں سیسہ پلائی دیوار کی طرح متحد رہ سکتی ہے۔ یہ معرکہ پاکستان کی تاریخ کا ایک روشن باب بن گیا، جو آنے والی نسلوں کو وطن کے لیے قربانی اور اتحاد کا سبق سکھاتا رہے گا۔

Facebook Comments HS