قید زَر کی کہانی
سارے دن کے معمولات سے فارغ ہو کر دفتر میں چائے پی رہا تھا کہ کلرک نے آ کر کسی مہمان کی آمد کی اطلاع دی میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ نقاب اوڑھے سادہ کپڑوں میں ملبوس ایک نوعمر لڑکی میرے دفتر داخل ہوئی جس کے ساتھ دیگر دو افراد تھے۔ کبھی کبھی فضاؤں میں گھُلی خاموشی بھی چیخ بن جاتی ہے اور سسکیاں وقت کی گرد میں دب کر صداؤں کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ یہ کہانی ہے اُس لڑکی کی جس کی قسمت کو لوگوں نے سونے کی تھالی میں رکھ کر چمکتا ہوا نصیب سمجھا مگر اس تھالی کے اندر صرف کانٹے تھے۔ کرب کے، اذیت کے، اور خاموش غلامی کے۔
رضیہ (نام فرضی ہے ) کی شادی ایک بڑے زمیندار خاندان میں ہوئی۔ جس دن وہ اس گھر میں بیاہ کر آئی، حویلی کے مینار جھوم اٹھے، جیسے چاند زمین پر اتر آیا ہو۔ نوخیز چہرہ، شرمیلی ہنسی اور آنکھوں میں سجے خوابوں کا ایک جہاں۔ لیکن وہ سب خوشیاں صرف ان میناروں کے لیے تھیں، رضیہ کے لیے نہیں۔ اُس کا شوہر جو عمر میں پندرہ برس بڑا تھا، صرف عمر میں ہی نہیں سنگدلی میں بھی بڑا نکلا۔ اس کی زبان زہر میں ڈوبی ہوئی تھی اور نگاہوں میں نہ پیار تھا نہ رحم، صرف غرور تھا اور خاندانی نام کا زعم۔ جب رضیہ کبھی اپنے ماں باپ سے ملنے کی خواہش کا اظہار کرتی تو شوہر سمیت پورا خاندان تنقید کے نیزے لے کر اس پر پل پڑتا۔ ہر چھوٹا سا سوال، ہر معمولی سی بات طعنہ بن کر یا تھپڑ بن کر اس کے چہرے پر مار دی جاتی۔ اگر سالن میں نمک ذرا سا تیز ہو جاتا یا گھی کچھ بڑھ جاتا تو گویا قیامت آ جاتی۔ حالانکہ وہ گھر مال مویشیوں سے بھرا پڑا تھا لیکن رضیہ کو جینے کے لیے سانس بھی احتیاط سے لینا پڑتی تھی۔ ہر دن قیامت، ہر رات کرب۔ وہ حویلی جو دور سے بہشت لگتی تھی اندر سے ایک خاموش قید خانہ تھی جہاں نہ ماں جیسی ساس تھی اور نہ بہنوں جیسی نندیں۔ سب نے اُسے صرف ایک نوکرانی سمجھا۔ ایک ایسی بیٹی جو صرف کام کے لیے آئی ہو، عزت کے لیے نہیں۔ پھر ایک دن وہ ٹوٹ کر اپنے ماں باپ کے گھر آ گئی۔ رشتے داروں نے بہت سمجھایا، بہت کہا سنا لیکن بات سنورنے کی بجائے مزید الجھ گئی۔ دونوں خاندان اپنی اپنی ضد پر اڑ گئے۔
بالآخر اس روز رضیہ اپنی بڑی بہن اور بھائی کے ساتھ میرے دفتر آ پہنچی۔ اُس کی آواز دھیمی، لرزتی ہوئی، لیکن اس لرزش میں بھی ایک روشنی چھپی تھی آزادی کی، خودداری کی، اور زندگی کی نئی چاہ کی۔ اس نے اپنی کہانی سنائی، ایک ایک ظلم کو لفظوں میں ڈھالا اور آخر میں آنکھوں میں آنسو لیے بس اتنا کہا:
”وکیل صاحب! مجھے طلاق چاہیے!“ میں نے خلع کے کاغذات تیار کروا کر اگلے ہی روز دعویٰ دائر کر دیا۔
عدالت میں ہر پیشی اُس کے لیے ایک نیا زخم تھی لیکن وہ ہر بار پہلے سے زیادہ حوصلے اور وقار کے ساتھ آئی۔ اُس کی چیخیں اب سسکیاں نہ تھیں بلکہ ایک ایسی عورت کی پکار تھیں جو اپنے لیے جینا چاہتی تھی۔ عدالت میں اُس نے سچ بولا، بغیر روئے، بغیر جھجکے، بغیر ڈرے۔ اس کا یہ ماننا تھا کہ: ”عورت صرف سونے کے زیور کے لیے نہیں بنی، اُس کی عزت کسی بڑے نام سے کم نہیں!“
عدالت میں دو پیشیوں پر اس کا شوہر فقیر حسین اپنے وکیل کے ساتھ پیش ہوا۔ وہی روایتی اکڑ، غصہ اور درشت لہجہ۔ ہر بار عدالت میں یہی کہتا کہ رضیہ خود گھر سے گئی ہے تو خود گھر واپس چلی آئے۔ اس کے علاوہ اس کے پاس کوئی بیان تھا ہی نہیں۔ عدالت میں ان دونوں کو روبرو دیکھ کر مجھے رضیہ کے والدین پر بھی غصہ آ رہا تھا کہ آخر کیا افتاد آن پڑی کہ انھوں نے اپنی کم عمر بیٹی کی شادی اس سے پندرہ برس بڑی عمر کے شخص سے کر دی جو دیکھنے میں ہی اس کے باپ کی عمر کا لگتا تھا۔
اور پھر وہ دن آ گیا۔ عدالت نے بالآخر اُسے خلع کی ڈگری جاری کر دی۔ وہ دن رضیہ کی زندگی میں ایک نئے سورج کی مانند تھا۔ اُس نے ایک آزاد سانس لی، ایک خود دار سانس۔ جب وہ عدالت سے باہر نکلی، اُس کے قدموں میں خود اعتمادی تھی اور نگاہوں میں فخر۔
رضیہ اپنے جیسی ہر بیٹی کے لیے یہ پیغام ہے : ظلم سہنا بند کرو، آواز بلند کرو۔ محبت اگر عزت نہ دے تو وہ اذیت ہے۔ عورت صرف جسم نہیں اُس کے اندر روح بھی ہے۔


