مودی صاحب کی گولی، محمود غزنوی کا گھوڑا اور ایٹمی قحط
مودی صاحب نے اپنی جنگی خدمات کو اجاگر کرنے کے لئے مختلف شہروں میں ترنگا یاترا نکالنے کا اہتمام کیا۔ وہ جہاں گئے وہاں ان پر اتنے پھول نچھاور کیے گئے کہ کیا کسی دولہا کے حصہ میں آئے ہوں گے۔ اور حسب عادت مودی صاحب مختلف جلسوں میں فلمی قسم کے ڈائیلاگوں سے سننے والوں کا خون گرما رہے ہیں کبھی وہ حاضرین کو یہ خوش خبری سناتے ہیں کہ میرا دماغ تو ٹھنڈا ہے لیکن میری رگوں میں گرم سندور دوڑ رہا ہے۔ اول الذکر کے بارے میں اس عاجز کو کافی شبہات ہیں اور آخر الذکر طبی طور پر ممکن نہیں نظر آتا۔ خون ٹیسٹ کر کے ہی اس کے بارے میں رائے دی جا سکتی ہے۔ کبھی مودی صاحب پاکستانیوں کو مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ ’سکھ چین کی زندگی جیو، روٹی کھاؤ ورنہ میری گولی تو ہے ہی۔‘ مودی صاحب کو کون سمجھائے کہ دونوں ملکوں کے پاس صرف گولیاں ہی نہیں میزائل اور ایٹم بم بھی موجود ہیں۔
آج ہم یوم تکبیر منا رہے ہیں۔ اس دن کی یاد منانے کے لئے جب بھارت نے ہائیڈروجن بم کا دھماکہ کیا تو اس کے جواب میں پاکستان نے پانچ دھماکے کر کے کہا کہ ہم نے حساب برابر کر دیا۔ رات تک ہی علم ہو گا کہ ہماری طرف سے کیا جواب دیا جاتا ہے۔ میری تمنا تو یہی ہے کہ درجہ حرارت بڑھانے کی بجائے اسے کم کرنے کی کوشش کا آغاز کیا جائے۔ ورنہ ایک مرتبہ ایک مذہبی سیاسی جماعت کے قائد نے یہ بیان داغ دیا تھا کہ ہم تو محمود غزنوی کے وارث ہیں۔ اور محمود غزنوی کا یہ کارنامہ بیان کیا تھا کہ اس کے گھوڑے کی ٹاپ کی آواز سن کر ہندو عورتوں کی حمل گر جاتے تھے۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ یہ محمود غزنوی کا کارنامہ بیان ہو رہا ہے کہ اس کے گھوڑے کے خواص بیان کیے جا رہے ہیں۔ کہ یہ ایک ایسا گھوڑا تھا جس سے سواری کے علاوہ اسقاط حمل کا کام بھی لیا جا سکتا تھا۔ اگر کسی عورت کا حمل ضائع ہو گیا تھا تو اس سے ہمدردی کرنی چاہیے نہ کہ اتنے سو سال بعد اسقاط حمل کی اس واردات پر واہ واہ کی جائے۔
مناسب ہو گا اگر دونوں ممالک فلمی دنیا سے نکل کر حقیقی دنیا میں واپس آنے کی کوشش کریں۔ اگرچہ تاریخ کے ادنیٰ طالب علم کی حیثیت سے خاکسار جانتا ہے کہ تاریخ کے اس موڑ پر جب دو مد مقابل گروہ فلمی دنیا یا ایلس ان ونڈر لینڈ میں پہنچ جائیں تو واپسی کا سفر بہت کٹھن ہوتا ہے۔ اگر مودی صاحب کچھ دیر کے لئے غیرمعیاری فلمی ڈائیلاگ روک لیں اور ہماری طرف کے بعض پرجوش احباب اس فرضی گھوڑے سے اتر آئیں تو خاکسار ایک اہم پہلو کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہے۔
صاحبو! بھارت نے آپریشن سندور کا آغاز سات مئی کو میزائل حملہ کر کے کیا تھا۔ اور اگلے روز ہی معروف ترین سائنسی جریدے سائنٹیفک امریکن کی سائٹ پر معروف سائنسدان ایلن روبوک کا ایک مضمون شائع ہو گیا تھا جس کا عنوان تھا India and Pakistan Remind Us We Need to Stop the Risk of Nuclear War
ان صاحب نے ساری عمر اس تحقیق پر صرف کی ہے کہ اگر دنیا میں غیر محدود یا محدود ایٹمی جنگ ہو تو اس کے پوری دنیا پر کیا اثرات پڑیں گے؟ انہوں نے لکھا کہ دونوں ممالک کے پاس ایک سو ستر ایٹمی ہتھیار ہیں۔ اگر ان کے درمیان ایٹمی جنگ ہوئی تو جو دھوئیں اور گرد کے بادل اٹھیں گے وہ فضا کی بلند سطح سٹریٹو سفیئر تک جائیں گے اور اس بلند سطح پر بارش کا وجود بھی نہیں ہوتا جو اس دھوئیں کو صاف کر دے۔ نتیجہ یہ نکلے گا کہ سورج کی روشنی مدھم ہو جائے گی۔ اور اس کی وجہ سے کم از کم پانچ سال یا اس سے بھی زائد عرصہ کے لئے دنیا قحط کا شکار ہو جائے گی اور دنیا بھر کے لوگ بھوک سے مریں گے کیونکہ دنیا بھر میں زرعی پیداوار خطرناک حد تک کم ہو جائے گی۔
انہوں نے اس رائے کا اظہار کیا کہ سب سے پہلے اس سلسلہ میں امریکہ کو پہل کرنی چاہیے اور اس کے جو میزائل ہر وقت الرٹ پر ہونے کی وجہ سے چلنے کے لئے تیار رہتے ہیں ان کی حیثیت کو تبدیل کرنا چاہیے اور روس کے ساتھ مذاکرات کر کے ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد کو بالکل کم کر دینا چاہیے۔ اس سائنسدان نے یاد کرایا کہ اسی جریدہ میں پندرہ سال قبل ان کا ایک تحقیقی مقالہ جنوری 2010 کے شمارے میں شائع ہوا تھا۔ اور اس کے بعد بھی مسلسل اس قسم کی سائنسی تحقیقات شائع ہوتی رہی ہیں کہ اگر صرف پاکستان اور ہندوستان کے درمیان بھی ایٹمی جنگ ہوئی تو اس کے فوری اور بعد میں جو اثرات ہوں گے اس کے نتیجہ میں دو ارب انسان ہلاک ہو جائیں گے۔ اور اگر امریکہ اور روس کے درمیان بھرپور جنگ ہو گئی تو اگلے دو سال میں اس کے مختلف اثرات کے نتیجہ میں نسل انسانی کی اکثریت موت کے منہ میں پہنچ جائے گی۔ ان حقائق کی موجودگی میں ایٹمی صلاحیت پر بغلیں بجانے کا کوئی جواز نظر نہیں آتا۔
اسی مضمون میں صدر ٹرمپ کے اس فیصلہ پر تنقید کی گئی کہ انہوں نے دفاعی بجٹ میں تیرہ فیصد کا اضافہ کر نے کا عندیہ دیا ہے۔ اور اس کا ایک بڑا حصہ ایٹمی ہتھیاروں کو مزید ترقی دینے پر صرف ہو گا۔ اس وقت بھی امریکہ کے پاس جو ہتھیار موجود ہیں وہ تمام نسل انسانی کو ختم کرنے کے لئے کافی ہیں۔ اب انہیں اس سے بھی زیادہ ترقی دے کر کیا حاصل ہو گا؟
یہ ایک واہمہ ہے کہ جب دونوں فریقوں کے پاس ایٹم بم موجود ہوں تو یہ اس بات کی ضمانت ہے کہ کوئی بھی رد عمل کے خوف سے انہیں استعمال نہیں کرے گا۔ تاریخ گواہ کہ بار بار اس قسم کی خوش فہمی غلط ثابت ہوئی ہے۔ پندرہ سال قبل جب ایلن روبوک کا پہلا مقالہ شائع ہوا تھا تو اس وقت پاکستان اور بھارت کے پاس کل سو ایٹم بم موجود تھے اور اب یہ تعداد تین گنا ہو چکی ہے۔
ایٹمی جنگ کا شوق پورا کرنے سے صرف یہ نہیں ہو گا کہ سورج کی روشنی کم ہو جائے گی بلکہ بارشیں بھی کم ہو جائیں گی اور درجہ حرارت اتنا گرے گا کہ گزشتہ ہزار سال میں اتنا کم کبھی نہیں ہوا۔ فضا آلودہ ہونے اور تابکاری کا عذاب اس کے علاوہ ہو گا۔ زمین کے گرد جو اوزون کی تہہ نقصان دہ شعاؤں سے زمین کو بچاتی ہے اسے شدید نقصان پہنچے گا۔
جس طرح قوال ایک مصرعے کو دہرا دہرا کر سننے والوں کا خون گرماتے رہتے ہیں، اسی طرح مودی صاحب اپنے ہم وطنوں کا خون گرمانے کے لئے ایک ہی جملہ دہرائے جا رہے ہیں کہ ’گھس کر ماروں گا‘ ۔ حضرت آپ کبھی قوم کے سامنے یہ حقائق بھی تو رکھیں کہ اگر ہم نے تصادم کی پالیسی جاری رکھی اور خاکم بدہن نوبت ایٹمی جنگ تو پہنچی تو دو ارب لوگ قحط سالی اور تابکاری سے ہی مر جائیں گے۔ اتنے ہفتوں سے ہم پاکستان کے چینلوں پر جنگ کی بحث سن رہے ہیں۔ کتنے پروگراموں میں ہمیں ان خوفناک حقائق سے آگاہ کیا گیا ہے؟ ان مضمرات پر غور کریں اور بار بار سوچیں کہ ہم پوری دنیا کو کن خطرات کی طرف لے کر جا رہے ہیں؟


