رقص نامہ: پر ایک نظر


 

اکیسویں صدی کے لکھاریوں میں کئی ایسے نام ہیں جنھوں نے ناول کی صنف میں طبع آزمائی کی۔ ان میں مرزا اطہر بیگ، حسن منظر، سید محمد اشرف، رحمان عباس، محسن خان، صدیق عالم، زیف سید، اختر رضا سلیمی، سید کاشف رضا اور رفاقت حیات جیسے اہم لکھاری شامل ہیں۔ ان ناموں میں سے ایک نام جیم عباسی کا بھی ہے۔ جن کے اب تک دو ناول ”رقص نامہ“ اور ”سندھو“ اور ایک افسانوی مجموعہ ”زرد ہتھیلی اور دوسری کہانیاں“ کے عنوان سے منظر عام پر آچکے ہیں۔ جیم عباسی کا اصل نام جمیل عباسی ہے جو سندھ کے ایک گاؤں کنڈیارو میں پیدا ہوئے۔ یہ گاؤں نوشہرو فیروز میں شامل ہے۔ کچھ وقت حیدر آباد میں گزارا اور ان دنوں کراچی میں مقیم ہیں۔ ان کی کہانیاں پہلے پہل اجمل کمال کے جریدے ”آج“ میں شائع ہوئیں، پھر دیگر کئی مؤقر جرائد میں انھوں نے اپنی تحریر کے جوہر دکھائے اور ناقدین کی توجہ اپنے فن کی جانب مبذول کی۔

”رقص نامہ“ پہلی بار رسالہ ”آج“ کے شمارہ 114 میں شائع ہوا جسے بعد میں کتابی شکل بھی دی گئی۔ اس ناول میں انھوں نے سندھ کی دیہی ثقافت، رسوم و رواج اور تاریخی صورتِ حال کے ساتھ ساتھ اس پر خانقاہی نظام کے اثرات کو موضوع بنایا ہے۔ جدت پسند ذہن کو عصرِ حاضر میں، جس طرح مروّجہ مذہب اور اس کی کھوکھلی اقدار نے بدگمان کر دیا ہے اور وہ ایک زندگی بخش اور اطمینان دلانے والے نظامِ فکر کی تلاش میں ہے، مذکورہ ناول اس کیفیت کو بخوبی بیان کرتا ہے۔ ناول کا اہم کردار سید عبدالرحمان شاہ ہے جو ایک پیر ہونے کے ساتھ ساتھ گاؤں کے ”نظام“ کا ذمہ دار بھی ہے۔ گاؤں میں اس کے نافذ کیے گئے اصول و ضوابط، قوانین کا درجہ رکھتے ہیں۔ ان سے انحراف یا کوتاہی کرنے والوں کو سخت سزائیں دی جاتی ہیں۔ یہ سزائیں اس گاؤں کے لوگوں کے بھلے کے نام پر نافذ کی جاتی ہیں یوں مذہب کے نام پر لوگوں کی شخصی آزادی کو یرغمال بنا کر رکھا گیا ہے۔ ان پر جدید تعلیم کے دروازے بند ہیں مگر اپنی جنسی خواہشات کی تسکین کے لیے پیر سائیں نے چار شادیاں بھی کر رکھی ہیں۔ سائیں کے گھر کا ماحول، گھر کی خواتین کی ذمہ داریاں، قوانین اور اس پر سختی سے عمل درآمد، پیر خانے کا رہن سہن اور خانگی سیاست وغیرہ اس مہارت سے پیش کی گئی ہے کہ اس کی مکمل تصویر قاری کے ذہن میں تشکیل پذیر ہو جاتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ کہانی پڑھ نہیں رہا بلکہ دیکھ رہا ہے۔ قاری جیسے جیسے کہانی کے ساتھ سفر کرتا ہے، ویسے ویسے وہ اندرون سندھ کی ثقافت اور تہذیب سے شناسائی حاصل کرتا چلا جاتا ہے۔

ناول کے پہلے حصے میں جس گاؤں کی منظر کشی کی گئی ہے وہ بالکل بند معاشرے کا حامل ہے جس کے افراد بغیر اجازت اور ضرورت کے شہر نہیں جا سکتے۔ وہاں سے جدید دور کی اشیا خرید کر گاؤں نہیں لا سکتے۔ گاؤں میں گھی، گندم اور سبزیاں خود سے اگائی جاتی ہیں تاکہ پاکیزگی قائم رہ سکے۔ اور تو اور چولھے میں جلائی جانے والی لکڑیوں کو بھی استعمال سے پہلے پانی میں دھویا جاتا ہے۔ پیر عبدالرحمان شاہ کو کوئی مرید اگر اپنے گھر پہ ضیافت کے لیے دعوت دیتا ہے تو پکائی جانے والی تمام اشیا پیر کے گھر سے جاتی ہیں اور مرید ان کی قیمت ادا کر دیتا ہے۔ مرغ کو ذبح کرنے سے پہلے تین دن باندھ کر خوراک دی جاتی ہے تاکہ وہ کوئی ناپاک اور حرام چیز نہ کھائے جس سے پاکی میں فرق پڑے۔ ان قوانین پر عمل درآمد کرانے کے لیے مخصوص افراد تعینات کیے گئے ہیں جو نہ صرف ان قوانین کے نفاذ کو یقینی بناتے ہیں بلکہ سزائیں دینے کے بھی مجاز ہیں۔ اس حوالے سے کامل کا کردار تشکیل دیا گیا ہے جو سزا دینے میں اتنا سخت ہے کہ ذرہ بھر بھی انسانی ہمدردی کا جذبہ اس کے دل میں پیدا نہیں ہوتا۔ بلکہ بعض مقامات پر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ دوسروں کو ایذا دے کر خوشی اور اطمینان محسوس کرتا ہے۔ دوسروں کے اعمال میں سے منفی پہلو نکالنا اور پھر اس پر سزا دینے کے لیے فوری آمادہ ہونا، اسے سادیت پسندی کی ذہنی اور نفسیاتی بیماری میں مبتلا ہونا، ظاہر کرتا ہے۔ اس تناظر میں اس کا نفسیاتی تجزیہ کیا جاسکتا ہے۔

ناول کا مرکزی کردار سلیمان شاہ ہے جو گیارہ سال کا لڑکا ہے۔ ناول کے شروع میں دکھایا جاتا ہے کہ اسے اب تہجد کی نماز پڑھنے کے لیے جگایا جانے لگا ہے۔ اس سے پہلے سات سال کی عمر میں اس پر نماز باجماعت، عمامے اور مسواک کے ساتھ پڑھنا لازمی ہے۔ وہ بیماری کی حد تک خوف کا شکار ہے اور عجیب و غریب خواب دیکھتا ہے جس سے اس کی نفسیاتی صورتِ حال واضح ہوتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ اس کے باپ کی حد سے زیادہ سختی اور کامل شاہ اور مٹھل کے سزا دینے کا نظام ہے۔ اس نظام نے اسے خوف میں مبتلا کر دیا ہے۔ اسی لیے وہ اکیلے کمرے میں الگ سے سو نہیں سکتا، اسے اندھیرے سے خوف محسوس ہوتا ہے اور وہ ڈرا دینے والے خواب دیکھتا ہے۔ حاجی کا کردار اس حصے میں معتدل کردار کی صورت میں موجود ہے جو گاؤں میں سکول کی حمایت کرتا ہے لیکن لوگوں کی فرسودہ سوچ کے سامنے، زیادہ دیر مزاحمت نہیں کر سکتا اور آخر کار ہار مان لیتا ہے۔ پیر عبدالرحمان کے گھر میں خانگی سیاست بھی موجود ہے۔ ہاشم شاہ کی والدہ سلیمان کے مقابلے میں اُسے پیر کا جانشین بنانا چاہتی ہے۔ اس سلسلے میں وہ گاہ گاہ ایسے اقدام کرتی ہے جس سے سلیمان کی ماں برکت کے حوالے سے تضحیک کے پہلو نکلتے ہیں۔ وہ اسے ماچھن کہہ کے بلاتی ہے اور خود کو سید زادی خیال کرتی ہے جس سے سندھ میں ذات پات کی تقسیم کا مسئلہ بھی قاری کے سامنے آ جاتا ہے۔ بالآخر پیر کی وفات کے بعد وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتی ہے اور ہاشم شاہ جس کی شخصیت میں تضادات موجود ہیں اور وہ تصوف کی الف ب سے بھی واقف نہیں گدی سنبھال کر سلیمان کو گاؤں بدر کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔

ناول کا دوسرا حصہ تصوف کی باریکیوں اور لطافتوں کو بیان کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ اس حصے میں مرکزی کردار سلیمان شاہ برکت کے خالہ زاد ملہار کے توسط سے صوفی حیدر بخش کے پاس پہنچتا ہے۔ جہاں مُلا جمّن اور رام داس جیسے کردار بھی موجود ہیں۔ مُلا جمن سماج میں موجود ملائیت کا نمایندہ ہے جو مذہبیت کی ظاہری حالت اور رسوم کا پابند ہے۔ اسے کے برعکس صوفی حیدر بخش کا کردار ہے جو حقیقی تصوف کا پرچارک ہے۔ وہ تمام انسانوں کو ایک نظر سے دیکھتا ہے اور دوئی کا قائل نہیں ہے۔ وہ خدا اور بندے کے مابین براہِ راست رابطے کا قائل ہے۔ رام داس ہندو مذہب کا نمایندہ ہے جو صوفی کے در پہ بلا جھجک آ جا سکتا ہے۔ اس حصے میں سندھ کے کلچر، تاریخ اور صوفی روایت سے قاری کو روشناس کرایا جاتا ہے۔ مصنف نے تصوف، تاریخ اور ثقافت کو بیان کرنے کے لیے ان کرداروں کے مابین مکالمے سے مدد لی ہے جس سے سندھ کے صوفی شاعر سچل سرمست اور شاہ عبداللطیف بھٹائی کی شاعری اور ان کے تصورات کا پتا چلتا ہے۔ صوفی حیدر بخش کا کردار وحدت الوجود اور وحدت الشہود کی ثقیل بحثوں کو آسان انداز میں سلجھاتا ہوا دکھایا گیا ہے۔ بعض مقامات پر یہ کردار مصنف کے افکار کا نمایندہ محسوس ہوتا ہے جس کے ذریعے اس نے اپنے افکار کی ناول کے توسط سے ترویج کی ہے۔ ناول کا پہلا حصہ مذہبی اور ثقافتی بنیاد پر استوار کیا گیا ہے جب کہ دوسرے حصے کی تشکیل فلسفیانہ اور متصوفانہ اساس پر استوار کی گئی ہے۔ مذہب کے علاوہ اس حصے میں تاریخ، ثقافت اور سندھی معاشرت پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ یہاں تصوف اور فلسفہ پیش منظر میں موجود ہیں اور کہانی کہیں پس منظر میں رہ گئی ہے جس پر فکشن کے ناقدین کو اعتراضات ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ناول کی بنیاد کہانی کے واقعات کے بہاؤ اور اس کی فضا پر ہوتی ہے جسے کرداروں کے ثقیل مکالموں نے گہنا دیا ہے۔ یہ ان کا پہلا ناول ہے اس لیے ابھی فن اتنا پختہ نہیں، جیسے جیسے وہ فنی ریاضت کے عمل سے گزرتے رہیں گے، ویسے ویسے ان کے فن میں نکھار اور پختگی آتی جائے گی۔

Facebook Comments HS