جنگیں: تباہی، بھوک اور بے حسی کا کاروبار
دنیا کے نقشے پر ہر نئی جنگ، صرف ایک اور لڑائی نہیں ہوتی۔ یہ انسانی المیوں، ٹوٹتے خوابوں اور بڑھتی بھوک کا استعارہ بن جاتی ہے۔ جنگ صرف فوجی محاذ پر نہیں لڑی جاتی، بلکہ گھروں، سکولوں، اسپتالوں اور بازاروں میں بھی اس کے زخم محسوس کیے جاتے ہیں۔
جب گولیاں چلتی ہیں اور بم گرتے ہیں، تو صرف فوجی نہیں مرتے بلکہ ان گنت بے گناہ شہری، معصوم بچے، اور مائیں بھی لقمۂ اجل بن جاتی ہیں۔ یہ خون، چیخیں اور بربادی، بس خبروں میں ایک تازہ بریکنگ نیوز بن کر رہ جاتی ہے، مگر زمینی حقیقت کہیں زیادہ بھیانک ہوتی ہے۔
جنگ میں مرنے والوں کا کوئی درست اندازہ ممکن نہیں۔ ایک گولی، ایک بم، ایک میزائل یا ایک جنگی جہاز کتنی زندگیاں نگل جاتا ہے یہ کسی تجزیے میں نہیں آتا۔ مرنے والوں کی فہرست میں وہ لوگ سب سے زیادہ ہوتے ہیں جن کا جنگ سے براہ راست کوئی تعلق ہی نہیں ہوتا۔ چھوٹے چھوٹے بچے جو ابھی لفظ جنگ کے مطلب تک سے آشنا نہیں ہوتے، مائیں جن کی گود اجڑ جاتی ہے، اور بوڑھے والدین اپنے جوان بیٹوں کو اپنے ہاتھوں سے دفناتے ہیں، یہ زخم کبھی نہیں بھر سکتے، کبھی بھی نہیں۔
جنگ صرف جانیں نہیں لیتی، یہ بستیاں اجاڑ دیتی ہے۔ اسکولوں کو کھنڈر، اسپتالوں کو قبرستان، اور گھروں کو راکھ بنا دیتی ہے۔ سڑکیں، پل، پانی کی لائنیں، بجلی کا نظام۔ سب کچھ تہس نہس ہو جاتا ہے۔ ایک دن میں جو کچھ برباد ہوتا ہے، اسے دوبارہ بنانے میں دہائیاں لگ جاتی ہیں۔ اور بدقسمتی سے، کچھ بھی مکمل طور پر پہلے جیسا نہیں ہو پاتا۔
جنگوں کے بعد ایک اور شرمناک عمل شروع ہوتا ہے تجزیے، گراف، میزائلوں کی رینج کا موازنہ، ٹینکوں کی طاقت، جہازوں کی رفتار، رینج اور تباہی کی صلاحیت پر مباحثے، اور اسلحہ ساز کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ۔ انسانیت تڑپ رہی ہوتی ہے، لیکن ٹی وی اسکرینوں پر ماہرین بیٹھے جنگی حکمت عملی پر دادِ دانش دیتے ہیں۔ یہ تجزیے ایک تماشا بن جاتے ہیں۔ ایک ایسا تماشا جس میں ایک طرف خون بہتا ہے، اور دوسری طرف لوگ تالیاں بجاتے ہیں۔
جنگ کا سب سے خاموش مگر مہلک ہتھیار بھوک ہے۔ جب کھیت بارود سے بھر جائیں، نقل و حمل کے ذرائع تباہ ہوجائیں، کسان ہجرت پر مجبور ہوں، تو روٹی کہاں سے آئے گی؟ لاکھوں لوگ بے گھر ہو کر خیموں میں بے یار و مددگار پڑے رہتے ہیں، نہ پینے کو صاف پانی، نہ کھانے کو ایک وقت کو روٹی۔ جنگیں صرف زمین چھیننے کے لیے نہیں لڑی جاتیں، وہ انسانوں سے ان کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے کا حق بھی چھین لیتی ہیں۔
جنگیں صرف لڑنے کے لیے نہیں ہوتیں، بیچنے کے لیے بھی ہوتی ہیں۔ ہر تباہی کے بعد حکومتیں مزید سیکیورٹی کے نام پر ہتھیار خریدتی ہیں۔ یہ سودا سب سے زیادہ مہنگا تب ہوجاتا ہے جب اس کا خمیازہ عوام کو سہولیات سے محرومی کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے۔ سکول، ہسپتال، پانی، گیس، روزگار۔ ان سب کا بجٹ کاٹ کر ٹینک اور میزائل، جہاز اور ڈرون خریدے جاتے ہیں، تاکہ قوم محفوظ رہے۔ لیکن محفوظ صرف وہ ہوتے ہیں جو اقتدار میں ہیں، عوام کے لیے صرف خوف اور فاقے ہی بچتے ہیں۔
ہتھیار خریدنے کے لیے حکومتیں عوام کے نام پر قرض لیتی ہیں، جو پیسے غریبوں کے علاج، بچوں کی تعلیم اور کسانوں کے لیے کھادوں اور بیج پر لگنے تھے، وہ اسلحہ بنانے والی بڑی کمپنیوں کی جیب میں چلے جاتے ہیں۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ کمپنیز ان ممالک میں ہیں جہاں خود جنگ کا نام و نشان تک نہیں۔ جن ممالک سے ہم اربوں ڈالر کے ہتھیار خریدتے ہیں، وہاں نہ کوئی جنگ ہوتی ہے، نہ بربادی۔ وہاں قانون کی حکمرانی ہے، ہر بچہ اسکول جاتا ہے، ہر مریض کو علاج کی بہترین سہولیات دستیاب ہیں، اور ہر شہری محفوظ ہے۔ وہاں امن، سکون اور خوشحالی ہے۔ اور ہم؟ ہم ان سے موت کا سامان خریدتے ہیں۔ ہم ان سے میزائل لیتے ہیں، نہ کہ فلسفہ امن۔
جنگ صرف دشمن کو ہرانے کے لیے نہیں کی جاتی، بلکہ انسانیت کو مٹانے کا ایک منظم طریقہ بن چکی ہے۔ کیا آپ نہیں سمجھتے کہ ہم اپنے بچوں کے لیے جو دنیا چھوڑ کر جائیں گے، وہ راکھ، آنسو، بھوک اور خوف کی دنیا ہوگی۔
امن، محبت، تعلیم اور انصاف ہی ایک قوم کو طاقتور بناتے ہیں، ہتھیار نہیں۔ اصل جنگ غربت، جہالت اور بھوک کے خلاف ہونی چاہیے، نہ کہ ایک دوسرے کے خلاف۔
آخر میں اسی موضوع پہ شہرہ آفاق شاعر ساحر لدھیانوی کی نظم یاد آ گئی، آپ بھی پڑھیے۔
اے شریف انسانو
خون اپنا ہو یا پرایا ہو
نسلِ آدم کا خون ہے آخر
جنگ مشرق میں ہو کہ مغرب میں
امنِ عالم کا خون ہے آخر
بم گھروں پر گریں کہ سرحد پر
روحِ تعمیر زخم کھاتی ہے
کھیت اپنے جلیں کہ اوروں کے
زیست فاقوں سے تلملاتی ہے
ٹینک آگے بڑھیں کہ پیچھے ہٹیں
کوکھ دھرتی کی بانجھ ہوتی ہے
فتح کا جشن ہو کہ ہار کا سوگ
زندگی میّتوں پہ روتی ہے
جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے
جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی
آگ اور خون آج بخشے گی
بھوک اور احتیاج کل دے گی
اس لئے اے شریف انسانو!
جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے
آپ اور ہم سبھی کے آنگن میں
شمع جلتی رہے تو بہتر ہے

