سندھ طاس معاہدے کے دیگر پہلو
سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے ایک قابلِ غور اور کثیر جہتی تجزیہ معروف بین الاقوامی آبی ماہر اور آبی جغرافیہ کے شناور، دانش مصطفیٰ صاحب کے خیالات پر مبنی ہے، جو انہوں نے اپنے مضمون ”پاکستان سندھ طاس معاہدے کی بھارتی معطلی سے کچھ نہیں کھوتا“ میں پیش کیا ہے۔ ذیل میں اس تجزیے کے اہم نکات پیش کیے جا رہے ہیں۔ اور جو خیالات میں نے تجزیاتی ترجمہ کرتے ہوئے اپنے طرف سے لکھے ہیں وہ بریکٹ میں دیے ہوئے ہیں۔
ایک عام تاثر کے برعکس، سندھ طاس معاہدے کو سندھ طاس کے عوام اور ماحولیات کے لیے نعمت کے بجائے ایک المیہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ یہ معاہدہ اپنے دور کے حالات کا عکاس تھا، جب پاکستان، بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ کو ممکنہ طور پر روکے جانے کے حوالے سے ایک دائمی، اور غیر منطقی، خوف میں مبتلا تھا۔ اُسی خوف اور انفراسٹرکچر پر مبنی ترقی کی خواہش (جو دونوں محرکات آج بھی ہم میں موجود ہیں ) کے نتیجے میں پاکستان نے 1960 ء میں سندھ طاس معاہدے پر دستخط کیے۔
معاہدے پر دستخط کے وقت بھی، اُس وقت کے صدرِ پاکستان، جنرل ایوب خان، نے یہ تسلیم کیا تھا کہ یہ ”کوئی خوشی منانے کا موقع نہیں“ ، بلکہ صرف ”اطمینان کا باعث ہے کہ ایک ممکنہ طور پر بہت بری صورتحال سے بچا جا سکا ہے۔“ وہ ”بری صورتحال“ بھارت کا پاکستان کی جانب بہنے والے پانی کو روکنا تھی۔ لیکن یہ امکان نہ اُس وقت سائنس، ہائیڈرولوجی یا جغرافیہ کے کسی اصول پر مبنی تھا، اور نہ ہی آج ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ بھارت کے پاس پاکستان میں آنے والی نہروں کو روکنے کی صلاحیت ضرور تھی۔ 31 مارچ 1948 ء کو اسٹینڈ اسٹل معاہدہ ختم ہونے کے بعد ، بھارت نے یکم اپریل کو مغربی پنجاب کی جانب نہروں کا پانی بند کر دیا، جس کی وجہ سے شدید زرعی بحران پیدا ہوا۔
[ اُسی صورتحال کے پیشِ نظر، 4 مئی 1948 ء کو نئی دہلی میں ایک عبوری ”انٹر ڈومینین معاہدہ“ طے پایا۔ یہ معاہدہ مرکزی باری دوآب اور دیپالپور نہروں سے پانی کے بہاؤ کو مخصوص شرائط کے تحت بحال کرنے کا ایک عارضی بندوبست تھا۔ لیکن یہ پاکستان کے لیے سخت شرائط کے ساتھ آیا، جس میں ایڈہاک ادائیگیاں کرنا، سیئنریج چارجز (مالکانہ حقوق) قبول کرنا، اور مادھوپور ہیڈ ورکس جیسے ڈھانچوں کی سرمایہ کاری لاگت کو بھی شامل کیا گیا۔ سب سے اہم بات یہ تھی کہ ان مذاکرات میں صرف مشرقی اور مغربی پنجاب کے نمائندے شامل تھے، اور سندھ سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی، جبکہ 1945 ء کے سندھ۔ پنجاب معاہدے کے تحت سندھ کو اہم دریائی حقوق حاصل تھے۔ اس اخراج نے سندھ کے سابقہ صوبائی آبی حقوق کو عملی طور پر ختم کر دیا اور ایک پنجاب مرکز تقسیم کے ماڈل کو مضبوط کیا، جو آگے چل کر 1960 ء کے سندھ طاس معاہدے کے تحت دریاؤں کی علاقائی تقسیم کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔ اُس وقت کے اہم قومی رہنماؤں جیسے وزیراعظم لیاقت علی خان کی ان مذاکرات میں عدم شرکت بھی اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ اس نازک قومی آبی تنازعے کو ابتدائی طور پر صوبائی سطح پر ہی دیکھا گیا، جس کے سندھ کے لیے دور رس نتائج نکلے، جن میں پانی کی دائمی کم تقسیم کے باعث زمینوں کا کلر زدہ ہونا، تمر/مینگروز کے جنگلات کا تباہ ہونا اور مچھلی کی پیداوار میں کمی شامل ہیں۔ ]
اس کے علاوہ، قدرتی دریا صرف سطح پر نہیں بلکہ زیرِ زمین بھی بہتے ہیں۔ 1950 ء کی دہائی میں، سطحی اور زیرِ زمین پانی کی مشترکہ حرکیات کو پوری طرح نہیں سمجھا جاتا تھا۔ اگرچہ آج علمی دنیا میں یہ سمجھ موجود ہے، لیکن افسوس کہ یہ علم ابھی تک پاکستان کے آبی اداروں تک صحیح طریقے سے نہیں پہنچا ہے۔
”مشرقی دریاؤں“ یعنی راوی، ستلج اور بیاس کے حوالے سے دیکھا جائے تو بھارت کے پاس ان دریاؤں سے پاکستان کی طرف آنے والے پانی کے بہاؤ کو ذخیرہ کرنے کے بجائے، اس کا رخ موڑ کر، اسے نمایاں طور پر کم کرنے کی صلاحیت تھی۔ سندھ طاس معاہدے کے ذریعے، پاکستان نے باضابطہ طور پر بھارت کو یہ حق دے دیا۔ سندھ طاس معاہدے کے آرٹیکل II میں صاف لکھا ہے : ”مشرقی دریاؤں کا تمام پانی بھارت کے غیر محدود استعمال کے لیے دستیاب ہو گا۔“ اُسی حق کی بنیاد پر بھارت نے ستلج پر بھاکرا، پنڈوہ اور ننگل ڈیم بنائے، بیاس پر پونگ ڈیم تعمیر کیا، اور ہری کے بیراج سے اندرا گاندھی کینال نکال کر ستلج کا زیادہ تر پانی راجستھان کی طرف موڑ دیا۔ بھارت کو ایسا کرنے کی ضرورت اس لیے تھی کیونکہ اس کے پاس لاکھوں ہیکٹر قابلِ کاشت زمین پانی کی منتظر تھی، اور وہ ایسا اس لیے کر سکا کیونکہ پاکستان نے اسے یہ حق باضابطہ طور پر دیا تھا۔ اس طرح، سندھ طاس معاہدے کے تحت، پاکستان نے سندھ طاس کے ان تین دریاؤں پر اپنے منصفانہ حصے کے حق سے بھارت کے فائدے میں دستبرداری اختیار کر لی، جو بھارت کے لیے اقتصادی لحاظ سے بہت زیادہ اہمیت کے حامل تھے۔
جبکہ ”مغربی دریاؤں“ جہلم، چناب اور خود سندھ۔ کے لیے سندھ طاس معاہدے کے آرٹیکل III ( 2 ) میں یہ لکھا ہے کہ ”بھارت مغربی دریاؤں کا تمام پانی پاکستان کی جانب بہانے کا پابند ہو گا،“ سوائے اس کے کہ وہ پانی ”گھریلو استعمال،“ ”غیرصرفی استعمال،“ ”زرعی استعمال،“ اور ”پن بجلی کی پیداوار“ کے لیے استعمال ہو۔
موجودہ صورتحال میں، پہلگام حملے کے بعد بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یک طرفہ اور غیر قانونی معطلی کے بعد پاکستان میں جو سب سے زیادہ پریشانی ہے، وہ انہی تین مغربی دریاؤں کے حوالے سے ہے۔ یہ اقدام اس لیے غیر قانونی ہے کیونکہ عالمی بینک سندھ طاس معاہدے کا ضامن ہے اور بھارت نے اسے کوئی تحریری اطلاع نہیں دی؛ دوسرا یہ کہ سندھ طاس معاہدے میں کوئی بھی ترمیم یا اسے منسوخ کرنا صرف دونوں ممالک کی مشترکہ رضامندی سے ہی ہو سکتا ہے ؛ اور تیسرا یہ کہ اس میں معطلی کی کوئی شق موجود نہیں۔
لیکن قانونی بحث سے ہٹ کر، جغرافیائی حقائق کیا بتاتے ہیں؟ نقشے پر ایک نظر ڈالنے اور تینوں مغربی دریاؤں کے بالائی علاقوں کے جغرافیہ سے تھوڑی بہت واقفیت بھی یہ واضح کر تی ہے کہ کشمیر یا لداخ یعنی بھارت کے زیر کنٹرول ان اوپری پانی والے علاقوں میں کوئی ایسی وسیع، میدانی اور قابلِ کاشت زمین موجود نہیں ہے، جسے کسی بھی اقتصادی یا فنی لحاظ سے معقول طریقے سے سیراب کیا جا سکے۔ اس لیے یہ امکان ہی ختم ہو جاتا ہے کہ بھارت ان ہیڈ واٹرز کا پانی موڑنے کے لیے کوئی بیراج تعمیر کرے گا۔ رہے پن بجلی کے ڈیم، تو وہ بنیادی طور پر آبشاروں کی مانند ہوتے ہیں جو بجلی پیدا کرنے کے لیے پانی چھوڑتے ہیں، جس کا مرکزی دریاؤں میں پانی کے بڑے بہاؤ پر کوئی خاص اثر نہیں پڑتا۔ ہو سکتا ہے کہ بہاؤ کے وقت پر کچھ اثر پڑے، لیکن اس کے لیے اتنے بڑے ذخائر کی ضرورت پڑے گی کہ اس علاقے کے زلزلے کے خطرے اور تینوں مغربی دریاؤں میں گاد/ سیڈیمینٹ کی بڑی مقدار کو مدنظر رکھتے ہوئے بھارت کے لیے ان ہیڈ واٹرز پر ایسے بڑے ڈیم تعمیر کرنا ممکن ہی نہیں۔
ہر دریا کے حوالے سے صورتحال کچھ یوں ہے :
دریائے سندھ: اس کا 90 فیصد سے زائد بہاؤ تربیلا ڈیم تک پہنچنے سے پہلے ہی پاکستانی علاقے سے شروع ہوتا ہے۔
دریائے جہلم: یہ چشمہ ویری ناگ (جنوب مشرقی کشمیر وادی) سے نکلتا ہے، اور بھارت کے زیر قبضہ علاقے میں اس کے مرکزی دھارے پر کوئی ایسی جگہ نہیں ہے جہاں پاکستان پہنچنے سے پہلے کوئی بڑا ڈیم تعمیر کیا جا سکے۔ اگر اوڑی گھاٹی پر کوئی ڈیم تعمیر کیا بھی جائے تو وہ اتنا اونچا ہو گا کہ پوری کشمیر وادی ڈوب جائے گی۔ اس کے علاوہ، کشمیر وادی پہلے ہی پانی سے مالا مال ہے، وہاں آبپاشی کی کوئی خاص ضرورت بھی نہیں۔
دریائے چناب: یہ اپنے پہاڑی درے سے نکلنے کے بعد تقریباً فوراً ہی مرالہ کے مقام پر پاکستان میں داخل ہو جاتا ہے۔ اس کے ہیڈ واٹرز کے ارد گرد بھی کوئی خاص قابلِ کاشت زمین نہیں۔ اگر کوئی اس کا پانی بھارتی پنجاب کی طرف لے جانے کے لیے قدرتی ڈھلوانوں کے برعکس سرنگیں یا نہریں تعمیر کرنے کی بات کرے، تو یہ عملی طور پر ممکن نہیں، کیونکہ ایسی نہریں جلد ہی ٹوٹ جائیں گی اور سرنگیں چناب میں ملبے کی بڑی مقدار کی وجہ سے تباہ ہو جائیں گی۔
لہٰذا، یہ کہا جا سکتا ہے کہ جغرافیہ نے پاکستان کو وہ آبی تحفظ فراہم کیا ہے، جسے وہ سمجھنے میں ناکام رہا ہے، اور اس کے بجائے وہ بھارت کی جانب سے اپنے دریاؤں کا پانی بند کرنے کے وہمی اور خوفناک خیالات میں گم ہے۔ بھارت میں پانی پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کا جنون اور پاکستان میں پانی کے حوالے سے احساسِ کمتری یا کمزوری کا جنون، دونوں ہی غیرحقیقی معلوم ہوتے ہیں۔ پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کی فنڈنگ سے جو بھی انفراسٹرکچر تعمیر کرنا تھا، وہ کر چکا ہے، اور کوئی بھی اس سے وہ چھین نہیں سکتا۔ آج حقیقت یہ ہے کہ ملک کے تازہ زیرِ زمین پانی والے علاقے میں فصلوں کا 80 فیصد پانی زیرِ زمین پانی سے پورا ہوتا ہے۔ پاکستان کا حقیقی آبی تحفظ اسی میں ہے۔ سندھ طاس معاہدے میں نہیں۔
سندھ طاس معاہدے کے آرٹیکل IV میں دی گئی وہ شرط کہ پاکستان بھارتی پنجاب سے ہُڈیارہ، قصور، سلیم شاہ اور فاضلکا ڈرینز کے ذریعے تمام صنعتی اور زرعی گندا پانی و صول کرنے کا پابند ہو گا، اسے اس معاہدے کا سب سے زیادہ غلط اور نقصان دہ حصہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ زہریلا پانی پاکستان کی زمین، عوام اور زیرِ زمین پانی کو زہر آلود کرتا ہے، اور یہی سندھ طاس معاہدے کا سب سے زیادہ افسوسناک تحفہ ہے۔
آخر میں، اگر بھارت نے، معاہدے کی معطلی کے ذریعے، پاکستان کو سندھ طاس معاہدے پر دوبارہ بات چیت کا کوئی موقع فراہم کیا ہے، تو پھر شاید ان آلودگی پھیلانے والے نالوں کو بند کرنا ایک اچھا نقطہ آغاز ہو سکتا ہے۔ دوسرا قدم یہ ہو سکتا ہے کہ پاکستان مشرقی دریاؤں کے منصفانہ اور ماحولیاتی بہاؤ کے لیے بین الاقوامی اور روایتی قانون کے تحت اپنے حق کو دوبارہ زور و شور سے پیش کرے۔ اور رہے مغربی دریا، تو شاید پاکستان کو ان کے بارے میں اتنا فکر مند ہونے کی ضرورت ہی نہیں۔ جغرافیہ اور ہائیڈرولوجی انہیں پاکستان سے کوئی چھیننے نہیں دیں گے۔
ان خیالات کے ساتھ ساتھ، یہ بھی ذکر کرنا ضروری ہے کہ ایک دوسرے عالمی سطح پر تسلیم شدہ آبی ماہر، ڈاکٹر حسن عباس کے بھی کافی حد تک ایسے ہی خیالات ہیں۔ ڈاکٹر حسن عباس اس میں یہ اضافہ کرتے ہیں کہ اگر پاکستان زیریں علاقوں یعنی اپنی ماحولیاتی تباہی اور اس کے اثرات پر اپنی توجہ صحیح طریقے سے مرکوز کرے اور اسے عالمی سطح پر پیش کرے، تو وہ اپنا مقدمہ زیادہ مضبوطی سے جیت سکتا ہے۔



Good points without going prejudice and being biased
Regards