افواہوں کی توپیں، جھوٹ کی گونج
حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران سوشل اور الیکٹرانک میڈیا کے کردار نے ایک بار پھر اس پہلو کو اجاگر کیا کہ معلومات کے اس برق رفتار دور میں خبر اور تاثر کے درمیان لکیر کتنی باریک ہو چکی ہے۔ اس دوران دونوں ممالک میں قومی فضائی قوت کی کارروائیاں میڈیا کی توجہ کا مرکز بنیں۔ بھارت میں رافیل طیاروں کی پروازوں کو اہم دفاعی ردعمل کے طور پر دکھایا گیا، جبکہ پاکستان میں جے ایف۔ 17 تھنڈر، ایف 16 اور دوسرے چینی طیاروں کی موجودگی کو اپنے دفاع کے بھرپور اظہار کے طور پر پیش کیا گیا۔ ان اقدامات کی بنیاد حقیقی واقعات پر تھی، مگر میڈیا کوریج میں جوش، حب الوطنی اور سنسنی خیزی نے تجزیاتی رپورٹنگ کو پیچھے چھوڑ دیا، اور یوں سنجیدہ معلومات کی جگہ بیانات کی دوڑ نے لے لی۔
اسی فضا میں بعض بیانیے جیسے ”آپریشن سندور“ اور بنیان مرصوص جیسے نام سوشل میڈیا پر قومی فخر کی ہی علامت بنے بلکہ اس کے تحت بہت سے کہانیاں گھڑی گئی جو بیشتر سوشل میڈیا صارفین کے جذباتی رجحانات کا عکس تھا نہ کہ کسی منظم ادارتی تجزیے کا نتیجہ۔
سوشل میڈیا کی یہی فطرت فوری ردعمل، جذباتی اثر، اور تحقیق سے عاری پھیلاؤ کا چلن معلومات کو معروضی خبر سے بیانیہ پروپیگنڈا بنا دیتی ہے۔
عوامی تجسس کی سطح کو جانچنے کے لیے اِن دنوں گوگل سرچ کے رجحانات ایک دلچسپ اشاریہ فراہم کرتے ہیں۔ پاکستان میں ”Rafale Jet“ اور بھارت میں ”Ceasefire meaning“ جیسے الفاظ کا ٹرینڈ کرنا اس بات کی علامت ہے کہ عوام کو معلومات کے نام پر یا تو ادھورا سچ دیا جا رہا تھا، یا وہ خود جذباتی تاثر کو خبر کا نعم البدل سمجھنے لگے تھے۔ اس صورتحال میں ایک اور تشویش ناک پہلو یہ بھی ہے کہ سوشل میڈیا کی جھوٹی یا مبالغہ آمیز خبروں نے مین اسٹریم میڈیا ہاؤسز کو بھی مائل کیا کہ وہ ریٹنگ کی دوڑ میں انہی غیر مصدقہ بیانیوں کو نشر کریں۔ یہ رجحان صحافت کے بنیادی اصولوں سے انحراف کے مترادف ہے۔
یہ صورتحال نئی نہیں ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ غیر مصدقہ یا مسخ شدہ معلومات کس طرح جنگوں کا جواز بن گئیں۔ اور یہ سب اس وقت ہوا جب سوشل میڈیا نامی کوئی شے موجود بھی نہیں تھی۔
1898 میں امریکہ کے بحری جہاز کی تباہی کو اسپین کے خلاف جنگ کے لیے استعمال کیا گیا، حالانکہ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ تباہی جہاز میں اندرونی دھماکے کا نتیجہ تھی۔ 1964 میں خلیجِ ٹونکن کے واقعے نے امریکہ کی ویتنام میں مداخلت کو جنم دیا، مگر بعد میں یہ بات سامنے آئی کہ واقعہ رپورٹ کرنے میں حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔ 2003 کی عراق جنگ بھی اسی زمرہ کی ایک بھیانک مثال ہے، جہاں صدام حسین کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کا الزام ایک من گھڑت انٹیلی جنس رپورٹ پر مبنی تھا، جسے خود مغربی حکومتوں نے بعد میں تسلیم کیا۔ ان تمام واقعات میں نہ سوشل میڈیا تھا، نہ وائرل کلچر۔ مگر جھوٹ پھر بھی اتنا طاقتور ثابت ہوا کہ لاکھوں جانوں پر بھاری پڑا۔
اس تاریخی پس منظر میں موجودہ دور کہیں زیادہ خطرناک ہے، کیونکہ اب جھوٹ محض ایک سرکاری بیان یا اخباری شہ سرخی کی حد تک محدود نہیں، بلکہ لمحوں میں لاکھوں اسکرینوں تک پہنچ کر ذہنوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں یہ فرض صرف ریاست یا صحافیوں کا نہیں کہ سچ کی پہچان کریں، بلکہ ہر فرد کو اس ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیے۔
ایک باشعور شہری کی یہ اخلاقی اور قومی ذمہ داری ہے کہ کسی ویڈیو، تصویر یا بیان کی سچائی پرکھے بغیر اسے آگے نہ بڑھائے۔ ریورس امیج سرچ یا گوگل لینز کی مدد سے کسی تصویر کے اصل ماخذ کو تلاش کیا جا سکتا ہے، اور اس کے استعمال کے وقت و محل کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح InVid و یریفیکیشن ٹول، YouTube Data Viewer اور دیگر ذرائع ویڈیوز کے فریم بائی فریم تجزیے، آواز کی شناخت اور اپلوڈ کی اصل تاریخ معلوم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
اگر کوئی ویڈیو یا خبر سیاسی، قومی سلامتی، یا مذہبی حساسیت سے جڑی ہو تو اس کی غیر تصدیق شدہ ترسیل غیر ذمے داری نہیں بلکہ بعض اوقات قومی نقصان کا باعث بھی بن سکتی ہے۔
اس پوری صورتحال میں ایک اہم خلاء بین الاقوامی سطح پر موجود قانونی فریم ورک کا بھی ہے۔ اگرچہ یورپی یونین، جرمنی، اور برطانیہ جیسے ممالک نے مختلف قوانین جیسے Digital Services Act، NetzDG اور Online Safety Bill کے ذریعے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو جواب دہ بنانے کی کوشش کی ہے، مگر ابھی تک میڈیا ہاؤسز اور ریاستی بیانیے کے احتساب کے لیے کوئی موثر عالمی ضابطہ اخلاق موجود نہیں۔ اس خلا کو پُر کرنا عالمی امن کے لیے ناگزیر ہے۔
یاد رکھیں، دشمن صرف اسلحے سے نہیں لڑتا، وہ آپ کے فہم، سوچ اور شعور پر بھی حملہ کرتا ہے۔ اس میدان میں آپ کی خاموشی، آپ کی کمزوری بن سکتی ہے۔ لہٰذا ہر باشعور فرد کو اپنی سچائی کی ذمہ داری خود اٹھانا ہو گی۔ یہی ذمہ داری دراصل آج کے دور کا سب سے مضبوط ہتھیار ہے۔ لیکن اس ہتھیار کا مقصد صرف دفاع یا دشمن کی چالوں کو بے نقاب کرنا نہیں، بلکہ اس کا ایک اعلیٰ مقصد امن کی راہوں کو ہموار کرنا بھی ہے۔ سچ پر مبنی بیانیہ بعض اوقات کشیدگی کو کم کر کے غلط فہمیوں کا ازالہ کرتا ہے، جس سے مکالمے، مصالحت اور دیرپا امن کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ سچ صرف جنگی ہتھیاروں کی نفی نہیں کرتا بلکہ وہ ان ذہنی دیواروں کو بھی گراتا ہے جو قوموں کو ایک دوسرے سے دور رکھتی ہیں۔ اس لیے سچائی کو محض ایک اخلاقی ذمہ داری نہیں، بلکہ امن کے قیام کا اسٹریٹجک ستون سمجھنا چاہیے۔


