کوہی گوٹھ ہسپتال: عظیم ویژن کی عملی تصویر
خواب ہم سب دیکھتے ہیں، لیکن ویژن بہت کم لوگوں کے پاس ہوتا ہے۔ خوابوں کی تعبیر ممکن ہے، لیکن ویژن کی تکمیل سب سے مشکل مرحلہ ہوتا ہے، جس کے لیے انتھک محنت اور کئی نسلوں کی قربانیاں درکار ہوتی ہیں۔ میں خواب دیکھنے پر یقین رکھتا ہوں اور خواب کی طاقت سے بخوبی واقف ہوں، لیکن کھلی آنکھوں سے کسی عظیم ویژن کی تکمیل دیکھنا ایک بالکل مختلف منظر اور تجربہ ہوتا ہے۔ آج کی یہ تحریر خوابوں سے آگے کے جہان، ویژن کی تکمیل اور اس کے لیے مسلسل جدوجہد کے ایک عملی نمونے، ’کوہی گوٹھ ہسپتال‘ ، ملیر کراچی کے بارے میں ہے۔ یہ وہ خواب تھا جو معروف ادیب اور طبیب ڈاکٹر شیر شاہ کے عظیم والدین نے دیکھا، اور ان کے بچوں نے اس کی تعبیر کے لیے اپنا تن، من، دھن سب کچھ قربان کر دیا۔
پیر، 19 مئی 2025 کو، کوہی گوٹھ ہسپتال کی گاڑی صبح ساڑھے آٹھ بجے مجھے گھر سے لینے پہنچی۔ ہسپتال پہنچنے پر معروف مصنفہ، ادیبہ محترمہ گوہر تاج، شکیل روفن کھوکھر، پرنسپل نرسنگ اسکول، اور دیگر اساتذہ نے پرتپاک استقبال کیا۔ ہسپتال کے اندر قدم رکھتے ہی وہاں کی فضا نے میری رُوح کو جس طرح اپنی لپیٹ میں لیا، وہ اس دورے کے لیے ایک شاندار پیش خیمہ ثابت ہوئی۔
ابتدائی تعارف اور رسمی گفتگو کے بعد میں نے مڈوائفری کی طالبات جو مختلف مذاہب اور پاکستان کے مختلف پسماندہ علاقوں سے تعلیم و تربیت حاصل کر رہی ہیں، سے اپنے سیشن ”اپنی قدرتی اور تخلیقی صلاحیتوں کو کیسے بہتر بنایا جائے؟“ کا آغاز کیا۔ طلبہ کا جوش و جذبہ اور ان کے سوالات کا والہانہ انداز میرے لیے نہایت قابلِ تحسین تھا۔ اساتذہ اور ہسپتال کے سی ای او جناب عرفان قادری کی موجودگی میرے لیے باعثِ فخر تھی۔ ڈیڑھ گھنٹے پر محیط یہ سیشن نہایت بھرپور اور موثر رہا۔
بعد ازاں مجھے ہسپتال کے تمام شعبہ جات کا تفصیلی دورہ کروایا گیا اور مختلف ڈیپارٹمنٹس کے بارے میں آگاہی دی گئی۔ اسی دوران ڈاکٹر شیر شاہ کے بڑے بھائی، پروفیسر ڈاکٹر سراج الدولہ سید سے ملاقات ہوئی۔ کوہی گوٹھ ہسپتال کے کتب خانے اور وہاں قائم کچن کا بھی دورہ کیا، جہاں دوپہر کا کھانا تناول کیا۔ ہسپتال میں پرندوں، جانوروں اور درختوں کی موجودگی ایک محسور کن خوشبو اور سکون کا احساس دیتی ہے۔ یہاں صفائی ستھرائی اور نظم و ضبط کا اعلیٰ معیار قائم ہے۔ ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کا عملی نمونہ اور جدید طبی آلات کی موجودگی اس ادارے کی انفرادیت کو واضح کرتی ہے۔
ہسپتال کے تمام ضروری کام، جیسے اسٹاف کا کھانا، کپڑوں کی سلائی اور دھلائی، کارپینٹری اور دیگر امور ہسپتال کے احاطے میں ہی انجام دیے جاتے ہیں۔ ان کاموں کے لیے مقامی افراد کو تربیت دے کر انہیں ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں تاکہ وہ ان کاموں کی ”اونرشپ“ لے سکیں۔ چونکہ میں مختلف اداروں میں لیکچرز اور ٹریننگ سیشنز کے لیے جاتا ہوں، اس لیے اس ادارے کا کلچر میرے لیے نہایت متاثر کن تھا۔ یہ ادارہ نہ صرف لوگوں کو بنیادی صحت کی سہولیات فراہم کر رہا ہے، بلکہ تعلیم، تربیت اور ذمہ داری کے ذریعے انہیں معاشرے کا قابلِ فخر اور ذمہ دار فرد بھی بنا رہا ہے۔ عرفان قادری صاحب نے مجھے ڈاکٹر سید شیر شاہ کی کتاب ”Vision، Not Just a Dream“ پیش کی۔
کوہی گوٹھ ہسپتال کا مختصر تعارف:
کوہی گوٹھ ہسپتال کراچی کے علاقے بن قاسم ٹاؤن، لانڈھی میں واقع ایک غیر منافع بخش فلاحی ادارہ ہے، جو خواتین اور بچوں کو مفت طبی سہولیات فراہم کرتا ہے۔ یہ ہسپتال زافر اینڈ عطیہ فاؤنڈیشن کے تحت 2006 میں قائم کیا گیا، اور اب یہ 200 بستروں پر مشتمل ہے۔
خدمات اور خصوصیات
زچگی اور گائناکالوجی:
یہ ہسپتال زچگی کے پیچیدہ مسائل، خاص طور پر Obstetric Fistula کے علاج میں مہارت رکھتا ہے، جو پاکستان میں ہر سال تقریباً 4,000 سے 5,000 خواتین کو متاثر کرتا ہے۔
مفت علاج:
تمام مریضوں کو تشخیص، سرجری، ادویات، اور ویکسین سمیت تمام سہولیات بلا معاوضہ فراہم کی جاتی ہیں۔
تربیتی ادارے :
ہسپتال کے تحت عطیہ اسکول آف نرسنگ، مڈوائفری، اور پیرا میڈکس جیسے ادارے کام کر رہے ہیں، جو خواتین کو طبی تعلیم اور ہنر فراہم کرتے ہیں۔
بین الاقوامی مرکز:
حال ہی میں اقوام متحدہ کی آبادی فنڈ (UNFPA) نے کوہی گوٹھ ہسپتال کو ”فسٹیولا“ کی تعلیم و تربیت کے لیے علاقائی مرکز قرار دیا ہے، جہاں نیپال، بنگلہ دیش، افغانستان، اور سری لنکا سے ماہرین تربیت حاصل کریں گے۔
قیادت اور مشن:
ہسپتال کی قیادت معروف ماہر امراضِ نسواں، ڈاکٹر شیر شاہ سید کر رہے ہیں، جو پاکستان میں خواتین کی صحت کے فروغ کے لیے سرگرمِ عمل ہیں۔ ہسپتال کا مشن ہے کہ ہر عورت کو بغیر کسی امتیاز کے معیاری اور مفت طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
میری یہ تحریر لکھنے کا مقصد کوہی گوٹھ ہسپتال کے مشن اور ویژن کو دوسروں تک پہنچانا، اور اس کارِ خیر میں ان کی معاونت کرنا ہے۔ ایسے ادارے ہمارے معاشرے میں روشن مثال کی حیثیت رکھتے ہیں، جو انسانیت پر یقین رکھتے ہوئے مستحق انسانوں کی خدمت کو عبادت سمجھتے ہیں۔ مجھے ہسپتال کے عملے سے گفتگو کا موقع ملا، اور ان کی باتوں سے یہ اندازہ ہوا کہ وہ جس عزت، احترام اور وقار کے ساتھ یہاں کام کر رہے ہیں، وہ ان کی سب سے بڑی کمائی ہے۔ میں ڈاکٹر شیر شاہ اور ان کی پوری ٹیم کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں، جنہوں نے اپنے والدین کے عظیم ویژن کو عملی جامہ پہنا کر یہ ثابت کیا کہ جب انسان کچھ منفرد اور مختلف کرنے کی ٹھان لیتا ہے، تو قدرت بھی اس کا ساتھ دیتی ہے۔ اگر آپ کو میری باتوں پر یقین نہیں آتا تو خود اپنی آنکھوں سے کوہی گوٹھ ہسپتال کا دورہ کر کے دیکھ لیں۔






