ڈیموں اور نہروں کے لئے بجٹ سندھ کے وجود پر حملہ
اس وقت سندھ شدید آبی بحران اور سنگین خطرات سے دوچار ہے۔ بھارت دریائے سندھ کے پانی کو روکنے کے لیے متعدد ہائیڈرو پاور منصوبوں کی فہرست تیار کر چکا ہے، اور رنبیر کینال کی لمبائی 120 کلومیٹر تک بڑھانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے، جو دریائے سندھ کے بہاؤ کو مزید کم کر دے گا۔ بھارت کی اس آبی دہشت گردی کو سفارتی سطح پر بے نقاب کرنے اور اسے عالمی سطح پر شرمندہ کرنے کے بجائے، پاکستان کی وفاقی حکومت خود سندھ کے پانی کو روکنے والے منصوبوں پر عمل پیرا ہے۔ گویا وفاقی حکومت سندھ کے ساتھ وہی سلوک کر رہی ہے، جو بھارت پاکستان کا معاشی قتل کرنے کے لیے کر رہا ہے۔ اس صورتحال کو یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ اگر بھارت پانی کا ایک گلاس روکتا ہے، تو پنجاب تین گلاس روک کر اپنی بنجر زمینوں کو سیراب کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جو کہ سندھیوں کو پیاس اور بھوک سے مارنے کی سازش ہے۔ ایسی صورت حال میں سندھ کو اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے بیدار ہونا ہو گا۔ دریائے سندھ پر میلی نگاہ ڈالنے والوں کو منہ توڑ جواب دینا ہو گا۔ خواہ وہ بھارت ہو یا پنجاب، سندھی عوام اپنے دریا، اپنی زمین اور اپنے حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ آبی دہشتگردی بھارت کی ہو یا پنجاب کی وہ ناقابل برداشت ہے۔
جیسے شاعر انوری نے کہا تھا کہ آسمان سے جو بھی مصیبت اترتی ہے، وہ انوری کے گھر کا پتہ معلوم کر کے آتی ہے، ویسے ہی پاکستان پر جو بھی مصیبت نازل ہوتی ہے، اس کا حل نکالنے کے بجائے پاکستانی حکمران طبقہ فوراً سندھ کا پتہ دے دیتا ہے۔ جیسے سندھ پر زبردستی مہاجر آبادکاروں کو مسلط کیا گیا، سندھ کے بڑے شہروں کو غیرقانونی طور پر قبضہ گیروں کے حوالے کر دیا گیا، لاکھوں افغانوں کو سندھ میں بسایا گیا، گویا سندھ وفاق کا فتح شدہ علاقہ ہو۔ جہاں وفاق کی مرضی سے جو چاہے آ بسے۔ وفاقی حکومت پانی کے مسئلے پر بھی سندھ کے ساتھ یہی دوغلا رویہ اپنا رہی ہے، جیسے سندھ کوئی غلام ریاست ہو۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں جیسے رائٹرز کی رپورٹس کے مطابق، بھارت دریائے سندھ پر متعدد ہائیڈرو پاور منصوبے بنا رہا ہے، جو یا تو پہلگام حملے سے پہلے منظور کیے گئے یا اس کے بعد شروع کیے گئے، یہ کہنا قبل از وقت ہو گا۔ بھارت مسلسل سندھ طاس معاہدے پر نظرثانی کی درخواستیں دیتا رہا ہے اور دریائے سندھ کے مزید پانی پر قبضہ کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔
اس سلسلے میں ایک اہم حقیقت یہ بھی ہے کہ جنرل ایوب خان نے ون یونٹ نافذ کر کے سندھ کو ایک غیرمنصفانہ معاہدے میں جکڑ دیا، جس کے تحت بیاس، راوی اور ستلج جیسی ندیاں، جو دریائے سندھ کو پانی فراہم کرتی تھیں، بھارت کے حوالے کر دی گئیں۔ اس سودے کا جواز دے کر بعد میں تربیلا اور منگلا جیسے بڑے ڈیم بنا کر سندھ کا پانی پنجاب کی بنجر زمینوں کی طرف موڑ دیا گیا۔ گویا دو ہاتھیوں کی لڑائی میں سندھ کچلا گیا۔ ایک طرف تو دریائے سندھ کی معاون ندیاں بھارت کو دے دی گئیں، تو دوسری طرف پنجاب نے ڈیم بنا کر بچا کھچا پانی بھی روک لیا۔ اسی لیے سندھ کے عوام اور ماحولیاتی تحفظ کے کارکنان اس سودے کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے۔ آج ایک بار پھر ویسی ہی چالیں چلی جا رہی ہیں۔ ایک طرف بھارت دریائے سندھ پر قبضے کی تیاری میں مصروف ہے، تو دوسری طرف پنجاب خاموشی سے اپنے آبی منصوبے بنا رہا ہے۔
پنجاب کی دریائے سندھ پر میلی نگاہ کی تازہ مثال 10 مئی 2025 ء کو انگریزی اخبار ایکسپریس ٹریبیون میں شائع ہونے والی رپورٹ میں سامنے آئی۔ رپورٹ کے مطابق 9 مئی بروز جمعہ، رواں مالی سال کے بجٹ کی تیاری کے سلسلے میں وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں ایک اجلاس ہوا۔ اجلاس میں حکام نے بتایا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے سبب پانی کی شدید قلت ہو سکتی ہے، لہٰذا بھاشا ڈیم کا تعمیراتی کام جلد از جلد مکمل کرایا جائے اور بجٹ میں اس کے لیے زیادہ سے زیادہ فنڈز مختص کیے جائیں۔ اب یہ احمقانہ تجویز کس نے دی، اس کا ذکر رپورٹ میں موجود نہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس پر کیا ردِعمل دیا، یہ بھی شامل نہیں۔ لیکن اس انتہائی حساس مسئلے پر پیپلز پارٹی کو ضرور اپنا موقف دینا چاہیے تھا۔ مگر پیپلز پارٹی نے مجرمانہ خاموشی اختیار کی، جیسے وفاقی حکومت کو بھاشا ڈیم کی خفیہ منظوری دے دی ہو۔ پیپلز پارٹی سے سندھ سے وفاداری کی توقع رکھنا ایسے ہی ہے جیسے سوکھے درخت سے پھل مانگنا۔
اس سنگین مسئلے پر سندھ کی دیگر باخبر قوتیں بھی خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔ صرف عوامی تحریک نے بروقت اور دو ٹوک موقف اختیار کیا۔ جب جمعے کو بھاشا ڈیم کے لیے بجٹ کی تیاری کی گئی، تو اتوار کے دن عوامی تحریک اور سندھیانی تحریک نے مورو میں ریلی نکالی اور لاڑکانہ میں جلسہ کر کے سخت موقف پیش کیا۔ مورو میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے عوامی تحریک کے مرکزی صدر ایڈووکیٹ وسند تھری نے کہا: ”دیامر بھاشا ڈیم کے لیے فنڈ مختص کرنا سندھ پر حملہ ہے، سندھ کا پانی روکنے کی سازش ہے۔ بھاشا ڈیم کے لیے بجٹ مختص کرنا ملک دشمن سازش ہے۔“
اب آئیے جائزہ لیتے ہیں کہ دیامر بھاشا ڈیم سندھ کے لیے اتنا نقصان دہ کیوں ہے۔ ایک بنیادی بات سمجھنا ضروری ہے : اگر دریائے سندھ اور اس سے منسلک ندیوں سے پانی کا ایک قطرہ بھی کم ہوتا ہے، تو اس کمی کا اثر براہِ راست سندھ پر پڑتا ہے۔ ڈیموں میں لاکھوں ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کیا جا سکتا ہے، اور جب یہ ذخیرہ سندھ سے بالائی علاقوں میں کیا جائے، تو وہ پانی سندھ تک پہنچنے سے پہلے ہی روک لیا جاتا ہے۔ اسی لیے سندھ سے باہر کہیں بھی کوئی بھی ڈیم یا نہر سندھ کے لیے نقصان دہ ہے۔ یہ سندھ کے پانی کی منظم چوری کا ذریعہ بنتا ہے اور سندھ کے ساتھ ظلم و زیادتی کا ایک نیا باب کھولتا ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم، جو گلگت اور خیبرپختونخوا کی سرحد پر، تربیلا سے 315 کلومیٹر اوپر دریائے سندھ پر تعمیر کیا جا رہا ہے، اس میں 80 لاکھ ایکڑ فٹ سے زائد پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے۔ یہ ذخیرہ سندھ کو ملنے والے پانی کو روک کر مکمل کیا جائے گا، جس کا مطلب ہے کہ سندھ کو پہلے ہی محدود مقدار میں ملنے والا پانی مزید کم کر دیا جائے گا۔
یہاں یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ کوٹری بیراج سے نیچے کم از کم سالانہ 10 لاکھ ایکڑ فٹ پانی کا بہاؤ ماحولیاتی بقا کے لیے ضروری ہے۔ مگر سیلابی ایّام کے سوا، وہاں ایک قطرہ بھی نہیں چھوڑا جاتا۔ اب اگر بھاشا ڈیم، اس کے ساتھ ساتھ چھ نئی نہریں، اور دیگر پانی موڑنے والے منصوبے مکمل کیے گئے، تو یہی تباہ کن صورتحال گڈو اور سکھر بیراج تک پہنچ جائے گی۔
معاملہ صرف دیامر بھاشا ڈیم تک محدود نہیں ہے۔ چھ نئی نہروں کی تلوار اب بھی سندھ کے سر پر لٹک رہی ہے، اور اب ایک اور خطرناک پیش رفت سامنے آئی ہے کہ داسو ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کے بجٹ میں 240 فیصد کا غیرمعمولی اضافہ کر دیا گیا ہے۔ گزشتہ ماہ اس منصوبے کا بجٹ بڑھا کر 1.74 ٹریلین روپے کر دیا گیا۔ اس منصوبے کے تحت دریائے سندھ کے مکمل بہاؤ کو موڑنے کا ہدف ہے، جس کا کامیاب تجربہ گزشتہ سال کیا جا چکا ہے۔ اگر یہ منصوبہ مکمل ہو گیا، تو پنجاب کے ہاتھ میں یہ اختیار آ جائے گا کہ وہ سندھ کو پانی دے یا نہ دے۔ فی الحال پنجاب کے پاس دریائے سندھ کا سارا پانی روکنے کی گنجائش نہیں، لیکن جیسے ہی یہ ڈیم اور نہری نظام مکمل ہو جائے گا، پنجاب دریائے سندھ کے پانی کا واحد مالک بن جائے گا۔ اس کے بعد سندھ کا باشندہ پینے کے پانی کے ایک ایک قطرے کے لیے ترسے گا، اور سندھ کی زمینیں، جو دریائے سندھ کی زندگی سے جڑی ہوئی ہیں، بنجر صحرا میں تبدیل ہو جائیں گی۔ اسی لیے ان تمام منصوبوں کو روکنا سندھ کے ہر بچے، ہر بزرگ، اور ہر نوجوان کا قومی و اخلاقی فرض ہے، تاکہ سندھ کا وجود، اس کی زمین، اس کی زراعت اور اس کی تہذیب کو بچایا جا سکے۔
یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ دنیا اب ڈیموں سے پیچھا چھڑانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ امریکہ اب تک 200 سے زائد ڈیم گرا چکا ہے، اور مزید ڈیم ختم کرنے کے منصوبے بنا رہا ہے۔ سائنسدانوں نے ڈیموں کو ماحولیاتی، انسانی اور حیاتیاتی نظام کا دشمن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ حال ہی میں کیلیفورنیا اور اوریگن کی سرحد کے قریب واقع کلامت دریا پر قائم چار بڑے ڈیموں اور پانی ذخیرہ کرنے کے تین دیگر منصوبوں کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ ان ڈیموں کو گرا کر دریا کے قدرتی بہاؤ کو بحال کیا گیا، جس کے حیران کن نتائج سامنے آئے۔ وہ لوگ جو ان ڈیموں کی وجہ سے دریا کے خشک ہونے کے بعد اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے تھے، اب واپس اپنے علاقوں کو لوٹ آئے ہیں۔ کلامت ڈیلٹا میں پانی کے آزاد بہاؤ نے فطری خوبصورتی کو بحال کیا، ماحول میں ہریالی اور خوشحالی کی نئی لہر دوڑ گئی۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا منصوبہ تھا جس میں ڈیم گرا کر کسی دریا کو بحال کیا گیا اور اس کے نتیجے میں ایک مرتا ہوا دریا دوبارہ زندہ ہو گیا۔ بالکل اسی طرح، جس طرح کلامت دریا کی زندگی واپس لائی گئی، دریائے سندھ کا انڈس ڈیلٹا بھی بحالی کا منتظر ہے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ سندھ کے پانی پر بنائے گئے مصنوعی بندشوں، ڈیموں، اور نہروں کے ظالمانہ جال کو ختم کیا جائے۔
پہلے لوگ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے کہ کسی دریا پر بھی قبضہ ہو سکتا ہے، یا دریا کو روکا جا سکتا ہے۔ خصوصاً دریائے سندھ جیسے عظیم دریا کی روانی کو کون روک سکتا تھا؟ لیکن افسوس، آج یہ سب کچھ ممکن ہو چکا ہے۔ اس فطری نظام میں چھیڑ چھاڑ کی انسانیت کو بہت بھاری قیمت چکانی پڑے گی، مگر پاکستان کی ریاستی طاقت میں شامل کچھ مفاد پرست اور ملک دشمن عناصر ایسے ڈیموں اور نہروں کا جال بچھا کر سندھ کا پانی روک کر ماحولیاتی تباہی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ یہ محض سندھ کے خلاف نہیں، بلکہ پورے پاکستان کے ماحولیاتی اور زرعی نظام کے خلاف ایک خطرناک سازش ہے۔
ایسی صورتحال میں سندھ کو ہر لمحہ چوکنا اور بیدار رہنا ہو گا۔ پرامن مگر مضبوط جمہوری جدوجہد کے ذریعے ہمیں اپنے دریا، اپنی زمین، اور اپنی زندگی کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرنا ہو گی۔
دنیا کے کئی دریا آج مر رہے ہیں۔ کیلیفورنیا کا کلامت دریا تو بچا لیا گیا، مگر کئی ایسے دریا بھی ہیں جو تباہی کے دہانے پر ہیں۔ وسطی ایشیا میں ایک دریا آج گرد اڑا رہا ہے، اس کے کنارے کی زمینیں کوٹری بیراج کے نیچے سندھ کے ان علاقوں سے کچھ مختلف نہیں، آس پاس کی آبادی اس گرد سے پریشان ہے۔ اسی طرح وسطی ایشیا کے ایک ملک میں بھی یہی صورتحال ہے۔ علاوہ ازیں، بھارت کی جانب سے دریائے سندھ کا پانی روکنے کی کوشش نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے ماحولیاتی تباہی کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ بھارتی ماہرین ماحولیات، جامعات کے اساتذہ، اور ماحولیات دان مودی حکومت کے اس فیصلے کے خلاف لکھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ منصوبے بھارت کے اندر بھی شدید ماحولیاتی بحران پیدا کریں گے۔ اس صورتحال پر ہم اگلے مضمون میں تفصیلی روشنی ڈالیں گے۔ فی الحال ہم یہ ضرور کہتے ہیں کہ پاکستان کی وفاقی حکومت اپنا قبلہ درست کرے۔ سندھ کے پانی کو روکنے والے تمام منصوبوں سے دستبردار ہو، کیونکہ یہ منصوبے نہ صرف سندھیوں کی نسل کشی ہیں بلکہ بین الاقوامی فورمز پر بھارت کو فائدہ پہنچانے والے منصوبے ہیں۔
اگر وفاقی حکومت سندھ ڈیلٹا کو پانی سے محروم رکھتی ہے، تو بھارت عالمی فورمز پر یہ موقف اختیار کرے گا: ”جب پاکستان (یعنی پنجاب) خود اپنے دریا کے آخری کنارے (ڈیلٹا) تک پانی نہیں چھوڑتا، جب وہ خود ماحولیات کی تباہی کا باعث بن رہا ہے، ڈیم اور نہریں بنا رہا ہے، تو ہمیں کیوں روکا جا رہا ہے؟ ہم نے کیا جرم کیا ہے؟“ یہ وہ خطرناک جواز ہے جو پاکستان کے حکمران طبقے نے بھارت کے ہاتھ میں دے دیا ہے۔ لہٰذا پاکستان کے حکمران طبقے، بلاول۔ شہباز کی اتحادی حکومت کو جنرل ایوب جیسے غدارانہ فیصلوں سے باز آنا چاہیے اور دریائے سندھ پر بننے والے تمام ڈیموں اور نہروں کے منصوبوں کو ختم کرنا چاہیے۔

