جاوید اقبال اعوان سے آخری ملاقات


لاہور جانا ہوتا ہے تو مادر علمی گورنمنٹ کالج، جو اب گورنمنٹ کالج یونیورسٹی ہے، میں حاضری دینا تقریباً لازمی فریضہ ہوتا ہے۔ بالعموم شعبہ اردو کے زیر اہتمام طلبہ سے ملاقات کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایسا ہی ہوا۔ چونکہ یہ ناصر کاظمی کی سو سالہ ولادت کا سال ہے لہذا تقریب، جس کی منتظم صدر شعبہ اردو ڈاکٹر صائمہ ارم تھیں، ’ناصر کاظمی صدی سیمینار‘ کے زیر عنوان 17 اپریل کو ہوئی۔ تقریب سے پہلے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے نئے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد عمر چوہدری کی دعوت پر ہم ان سے ان کے آفس میں ملے۔ معلوم ہوا کہ وہ ہمارے ادیب دوست محمد نواز چوہدری کے بھتیجے ہیں۔ اس کے بعد ہم کچھ دیر شعبہ فارسی کے ایک کمرے میں بیٹھے جو پروفیسر آر اے خان مرحوم کا آفس ہوتا تھا جب وہ کالج کے وائس پرنسپل تھے۔ اس کے ساتھ ہی وہ کمرہ تھا جو کبھی سٹوڈنٹس یونین آفس تھا۔ میں 1972 ء میں یونین کا سیکرٹری منتخب ہوا تھا اور اس سے اگلے برس ساجد علی صدر۔ ہم نے سوچا کہ اپنا آفس دیکھا جائے۔ سٹوڈنٹس یونینوں پر عرصہ ہوا پابندی لگا دی گئی تھی۔ چنانچہ اب یہ ڈبیٹنگ سوسائٹی کا کمرہ تھا۔ طلبہ مباحثے یا اس کی مشق میں مصروف تھے۔ ہم نے مخل ہونے پر معذرت چاہی اور اپنا تعارف کرایا۔ دیوار پر لگے ایک بورڈ پر سٹوڈنٹس یونین کے سابقہ صدور اور سیکرٹریز کے نام لکھے ہوئے تھے۔ ہم نے اس کے آگے کھڑے ہو کر تصویریں بنوائیں اور طلبہ سے اجازت چاہی۔ تقریب فضل حسین ریڈنگ روم میں ہونا تھی۔ اس کے ساتھ ہی کالج کے مجلے ”راوی“ اور کالج گزٹ کے دفاتر تھے۔ میں ”راوی“ کے حصہ اردو کا اور جاوید حصہ پنجابی کا مدیر رہا تھا اور ساجد علی گزٹ کا۔ میں نے استفسار کیا کہ آیا ہم وہ کمرے بھی دیکھ سکتے تھے۔ بتایا گیا کہ جن طلبہ کے پاس ان کی چابیاں ہیں انہیں ڈھونڈنا پڑے گا۔
سیمینار کی صدارت ڈاکٹر سعادت سعید نے کی۔ شرکا میں ڈاکٹر محمد نعیم ورک، ڈاکٹر خالد محمود سنجرانی، ڈاکٹر الماس خانم، پروفیسر صدیق اعوان اور پوسٹ گریجویٹ طلبہ شامل تھے۔ مہمان ہم تین تھے، یعنی میں، ساجد علی اور جاوید اقبال اعوان۔ ہم نے اپنے زمانے کو یاد کیا اور اپنے تجربات شیئر کیے۔ میں نے کہا کہ اس ریڈنگ روم کے نیچے جو فضل حسین لیکچر تھیٹر ہے، اس میں ستاون برس قبل اردو کی کلاس میں میری اور جاوید کی پہلی ملاقات ہوئی تھی۔ یہ کالج میں ہمارا پہلا دن تھا۔ ہمارے سیکشن میں پہلا رول نمبر جاوید کا تھا اور دوسرا میرا۔ پروفیسر مشرف انصاری نے کہا کہ آپ لوگ رول نمبر کے حساب سے بیٹھا کریں گے تاکہ حاضری لگانے میں آسانی رہے۔ انہوں نے جاوید کا رول نمبر پکارا اور اسے اگلے بنچ کی پہلی نشست پر بیٹھنے کو کہا۔ پھر میرا رول نمبر پکارا اور جاوید کے ساتھ بٹھا دیا۔ اور ایسا بٹھایا کہ آج اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی ہم اسی جگہ اسی طرح بیٹھے ہیں۔


سیمینار کے بعد ہم نیچے آ گئے۔ اولڈ ہال سے ملحق ایک کمرے میں ناصر کاظمی کی سالگرہ کا کیک کاٹا گیا۔ رجسٹرار ڈاکٹر شوکت علی نے کہا کہ چائے ان کے کمرے میں پی جائے جو کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ میں تھا۔ ہم نے ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آپ کی چائے، انشا اللہ اگلے وزٹ میں۔ اپنے میزبانوں سے اجازت لینے کے بعد ہم گاڑی میں بیٹھنے لگے تھے کہ صدیق اعوان صاحب نے بتایا کہ جس لڑکے کے پاس ”راوی“ آفس کی چابی ہے وہ مل گیا ہے۔ میں نے ساجد اور جاوید سے کہا کہ وہ ڈاکٹر صاحب کے ساتھ چائے پئیں، میں آتا ہوں۔ میں صدیق اعوان صاحب کے ساتھ ”راوی“ آفس گیا اور وہاں سابق مدیران کے ناموں والے بورڈ کے ساتھ تصاویر بنوائیں۔ بعد میں جاوید نے کہا کہ تم تو اس طرح ”راوی“ آفس گئے تھے جیسے دوبارہ جی سی آنا ہی نہیں۔

لاہور میں قیام کے دوران جن دوستوں سے زیادہ ملاقات رہتی ہے ان میں ہمدم دیرینہ شعیب بن عزیز بھی ہیں۔ ان کا یہ بھی اصرار ہوتا ہے کہ میں کم از کم ایک دن ان کے ہاں قیام بھی کروں۔ اس بار ان سے ملاقات تو رہی لیکن ان کے ہاں جانا نہ ہو سکا، یہاں تک کہ میری برطانیہ واپسی کا دن آ پہنچا۔ جب سے جاوید نے ریٹائرمنٹ کے بعد لاہور میں مستقل رہائش اختیار کر لی تھی، ہمارا طور یہ ہو گیا تھا کہ میں اپنی روانگی سے ایک روز قبل اس کے ہاں چلا جاتا تھا۔ شام کو دیر تک دوستوں کی محفل جمتی اور صبح کو جاوید مجھے ائر پورٹ، جو اس کے گھر کے قریب ہی ہے، چھوڑ آتا۔ اس بار، حسب سابق، جاوید نے پوچھا کہ وہ کس وقت مجھے لینے آئے یا ڈرائیور کو بھیجے۔ میں نے کہا کہ میری خالہ ہسپتال داخل ہیں، میں ان سے ملتا ہوا تمہارے پاس آ جاؤں گا۔ اس نے کہا کہ وہ بھی خالہ کی عیادت کرے گا۔ ہم سروسز ہسپتال سے نکلے تو میں نے کہا کہ دن میں کئی بار تم سے بات ہوئی لیکن اصل جو تھی وہی بات نہ کی۔ اس نے پوچھا: ”وہ کیا؟“ میں نے کہا: ”آج اکیس اپریل ہے۔ ہیپی برتھ ڈے! اور ابھی کیک بھی لینا ہے۔“ جاوید کا خیال تھا کہ اس اہتمام کی ضرورت نہیں لیکن میری تجویز ضد بن چکی تھی۔


کچھ دیر بعد میں نے جاوید سے کہا کہ اب دوستوں سے فراغت ملے گی تو جلد اپنا اگلا مضمون مکمل کرنا۔ گزشتہ چار برسوں کے دوران میں اس کی چند تحریریں ’ہم سب‘ میں شائع ہوئیں اور فیس بک پر شیئر کی گئیں، جنہیں بے حد سراہا گیا۔ ان میں سے بیشتر تحریریں ”مقبول ترین“ اور ”منتخب تحریروں“ میں شامل رہیں۔ جاوید دوران ملازمت متعدد اہم مناصب پر فائز رہا۔ ہم اسے اپنے تجربات قلمبند کرنے کا اس لیے کہتے تھے کہ قارئین کو ایک تو نہایت عمدہ اور منفرد نثر پڑھنے کو ملے گی، دوسرے وہ یہ بھی دیکھ سکیں گے کہ اہل اور فرض شناس منتظم کیسے کام کرتے ہیں۔ یہ گفتگو جاری تھی کہ اس کا گھر قریب آ گیا۔ اس نے اقبال سے، جو گاڑی چلا رہے تھے، پنجابی میں کہا کہ تو مجھے تو گھر اتار دے کہ میری نماز کا وقت ہو رہا ہے اور صاحب کو لے جا، جہاں انہیں کیک ملے۔
دوستوں کی محفل دیر تک جمی۔ خوب ہنسے بولے، عمدہ کھانا کھایا۔ شعیب نے اقبال سے کہہ دیا تھا کہ میرا سامان جاوید کی گاڑی سے اتار کے اندر لانے کی بجائے ان کی گاڑی میں منتقل کیا جانا تھا۔ گیارہ بجے تک سب دوست رخصت ہو گئے۔ میں نے شعیب سے کہا کہ یہیں مزید تھوڑی دیر گپ شپ کرتے ہیں۔ کافی دیر ہو چکی ہے، آپ کو زحمت ہوگی۔ لیکن شعیب کوئی ارادہ کر لیں تو اسے تبدیل کرانا بہت مشکل ہوتا ہے اور ان کے اصرار کے آگے مدافعت کرنا اس سے بھی مشکل۔ ان کی محبت میرا نہایت قیمتی اثاثہ ہے۔ ہم چلنے لگے تو ماحول پر طاری اداسی کو کم کرنے کے لیے شعیب نے کہا: ”آپ تو ایسے مل رہے ہیں جیسے آخری بار مل رہے ہوں۔“ یعنی، چیئر اپ۔ میرا جواب تھا کہ ہم جو باہر سے آتے ہیں، جاتے وقت عزیزوں، دوستوں اور عمارتوں سے اسی طرح ملتے ہیں۔ پھر میں نے جاوید سے کہا کہ صبح ناشتے کے بعد میں اس کے پاس آؤں گا۔ مجھے حسب روایت ائر پورٹ وہ ہی چھوڑے گا۔ اور ایسا ہی ہوا۔ مانچسٹر آنے کے بعد جاوید سے ایک دن (یکم مئی) دو بار بات ہوئی۔ میرے موبائل کے مطابق، پہلے پانچ منٹ پھر سترہ منٹ۔ اس کے پانچ روز بعد صبح سویرے ساجد کا فون آیا۔ اس نے کہا: ”جاوید چلا گیا ہے۔“

Facebook Comments HS

4 thoughts on “جاوید اقبال اعوان سے آخری ملاقات

  • 30/05/2025 at 7:38 شام
    Permalink

    اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ان کے حساب کتاب میں آسانیاں فرمائے اور وہاں بھی ہر اچھی جگہ رول نمبر ایک ملے۔ آمین

    راوی کے ایک مدیر ۔۔۔ قدیر ہاشمی بھی ہوتے تھے آپ کے آگے پیچھے کے ہی ہونگے۔ کیا آپ کو یاد ہیں ؟

    • 30/05/2025 at 10:17 شام
      Permalink

      جی، ان سے رابطہ ہے ۔ وہ ائر فورس کے ایک سینئر آ فیسر کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے اور اسلام آباد میں رہائش پذیر ہیں ۔

    • 31/05/2025 at 1:09 صبح
      Permalink

      جنگ پبلشرز کے روح رواں شاید مظفر محمد علی ہوتے تھے کوئی 2002 میں۔ انہوں نے مجھے بہت محبتیں اور ستائشیں دیں بدقسمتی سے ملاقات نہ ہوسکی۔ کیا لوگ تھے۔

    • 31/05/2025 at 3:19 شام
      Permalink

      ہاشمی صاحب نے بہت دلچسپ واقعات سنائے کہ ایک کتاب بن سکتی ہے۔ اس میں اس دور کے واقعات بھی ہیں جب وہ راوی کے مدیر تھے۔ اس میں ایک واقعہ تھا کہ یونیورسٹی میں محفل مشاعرہ کرانا تھا اور لاہور کے بڑے بڑے نامی گرامی شعرا کو یہ لوگ گھیر گھار کر کسی طرح لے آئے۔ مشکل مگر یہ تھی کہ مہمان خصوصی کس کو بنایا جائے۔ منیر نیازی، حفیظ، دانش، قاسمی ایک کہکشاں تھی جن میں ایک نمایاں نام استاد دامن کا تھا جن کی فرمائش تھی کہ وہ اسی صورت آئیں گے اگر ان کے پینے کا خیال رکھا جائے گا/ اس دور میں مال بکثرت ملتا تھا کہ پابندی نہیں لگی تھی مگر مشکل یہ تھی کہ اگر دوسرے شعرا کو علم ہوا تو وہ بھی پھیل جائیں گے۔ استاد کا مشاعرے میں آنا بہت بڑی بات تھی۔
      سو جگاڑ یہ نکالی گئی کے ایک پیکدان کا بندوبست کیا گیا جس میں اندر دو چھوٹی بوتلیں ٹھنسی ہوئی تھیں ساتھ ایک اسٹرا۔
      استاد گاہے بگاہے پیکدان میں اسٹیج پر بیٹھے پیکدان میں منہ ڈالتے اور چند چسکیاں لے کر لمحہ موجود میں آجاتے۔ باقی شعراء کو جب تک علم ہوتا مشاعرہ ختم ہوگیا۔
      مشاعرے کے اختتام پر استاد نے ہاشمی صاحب سے پوچھا۔ برخوردار اگلا مشاعرہ کب ہے ؟

Comments are closed.