زرداری کا دور صدارت اور فرحت اللہ بابر


mahnaz rahman

صحافیوں کے حلقے میں اس وقت جس کتاب کے انکشافات نے سنسنی پھیلا دی ہے اور پاکستانی عوام کی اکثریت جنہیں سیاست کے بارے میں بات کیے بغیر نہ کھانا ہضم ہوتا ہے نہ ٹھیک سے نیند آتی ہے، جس کتاب کو پڑھنے کے خواہشمند ہیں، وہ ہے لائٹ اسٹون کی شائع کردہ فرحت اللہ بابر کی آصف علی زرداری کے بارے میں کتاب جس میں ان کے 2008۔ 2013 کے دور صدارت کا احاطہ کیا گیا ہے۔ یہ اور بات کہ عوام کی اکثریت انگریزی پڑھ نہیں سکتی اور جو پڑھ سکتے ہیں، ان میں سے اکثر مہنگی کتابیں خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ اس کتاب پر تبصرے کے لئے ساڑھے چار سو سے زائد صفحات کا مطالعہ ضروری ہے۔ اس لئے مصنف کے اپنے الفاظ میں اس کتاب کے تعارف پر اکتفا کرتے ہیں۔ اپنی رائے تو کتاب مکمل کرنے کے بعد ہی دیں گے۔ جو ہم نے چند گھنٹے قبل ہی خریدی ہے۔ فرحت اللہ بابر صاحب کتاب کے مقدمے میں لکھتے ہیں کہ یہ کتاب صدارتی ترجمان کی حیثیت سے ان کی آصف زرداری کے 2008۔ 2013 دور صدارت کی یادداشتوں پر مشتمل ہے۔ یہ ذاتی یادیں زرداری کے دور صدارت کے پوری قوم پر اثر انداز ہونے والے ان یادگار لمحات اور واقعات کے بارے میں ایک مقام افضل سے اس شخص کی یادیں ہیں جو ان واقعات کا عینی شاہد بھی ہے اور ان میں شامل بھی رہا ہے۔

ان واقعات کا خلاصہ کچھ یوں پیش کیا جا سکتا ہے :
٭ڈیپ اسٹیٹ کا زرداری پر زبردست دباؤ
٭ایک متعصب چیف جسٹس جو ہاتھ دھو کر اس کے پیچھے پڑا ہوا تھا۔
٭جھوٹی کہانیاں اور سازشیں جیسے زرداری کو قربانی کا بکرا بنانے اور دیوار سے لگانے کے لئے اسامہ بن لادن کے واقعے کے بعد میمو گیٹ۔
٭ایک سرکش زرداری کو دھونس اور دھمکی سے قابو میں لانے کے لئے ٹرپل ون بریگیڈ کے فوجیوں کا رات گئے ایوان صدر میں داخل ہونا۔

اس کتاب کو لکھنے کا مقصد ایک غیر متوازن پاور اسٹرکچر میں چوہے اور بلی کے درمیان ہونے والے کھیلوں کی فہرست مرتب کرنا ہے۔ جن میں ایک ازروئے قانون بننے والی جواب دہ حکومت ایک فی الواقع اور احتساب سے بالاتر ڈیپ اسٹیٹ کے سامنے پسپائی اختیار کرتی اور اسے جگہ دیتی چلی گئی۔ اس کتاب میں اس آدمی کی غیر معمولی صدارت کا احوال بتایا گیا ہے جس نے نا موافق حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ جس پر طنز کے تیر برسائے گئے اور جس کا مذاق اڑایا گیا۔ جس نے ریاست کے آلے میں موجود جمہوریت اور جمہوری اداروں پر اعتماد نہ کرنے والے جاہ پسند عناصر کی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ اس کتاب میں زرداری کے ذہن میں بھی جھانکنے کی کوشش کی گئی ہے کہ وہ مسائل و معاملات خواہ گہرے قسم کے ہوں یا دنیا داری سے متعلق ہوں، کیسے سوچتے ہیں۔ اس کتاب کا مقصد اس دور کے اشخاص، واقعات اور ہونے والے فیصلوں کے بارے میں بصیرت فراہم کر کے تاریخ میں نئی جان ڈالنا بھی ہے۔

جب 2008 میں عسکریت پسندوں نے ان کی بیگم کو قتل کیا اور خیبر پختونخوا کے کچھ حصوں پر قبضہ کر لیا۔ تو اپنی مرحومہ بیگم کی ذمہ داریاں جو ان کی استعداد سے زیادہ تھیں، انہوں نے اس جذباتی وعدے کے ساتھ سنبھالیں کہ ”جمہوریت بہترین انتقام ہے“ ۔ اس وقت اس کتاب کے مصنف سمیت بہت سے لوگوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ شخص جسے حادثاتی طور پر اعلیٰ ترین عہدہ مل گیا ہے، اپنی صدارت کی مدت مکمل کر پائے گا۔ اس کتاب سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ تاریخ نے واقعات کو کیسے مختلف شکل دی۔

زرداری نے نہ صرف اپنی صدارت کی میعاد مکمل کی بلکہ وہ دوسری بار بھی صدر بنے۔ فوجی انقلابات، عدالتی ایکٹوزم، سیاسی اور سماجی ہلچل اور عسکریت پسندی اور انتہا پسندی سے بھر پور ملکی تاریخ میں کسی بھی سویلین صدر کے حصے میں یہ اعزاز نہیں آیا تھا۔

زرداری اپنے دور صدارت میں سیاسی مصالحت اور مفاہمت کو کچھ زیادہ ہی آگے لے گئے۔ انہوں نے پاکستان کی سیاسی اور لسانی تقسیم کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ اٹھارہویں ترمیم جس کا مقصد اختیارات کو صدارت سے پارلیمنٹ کو منتقل کرنا، اور پارلیمان کی بالادستی قائم کرنا تھا، ان ہی کی نگرانی میں لائی گئی۔ وہ پی پی پی کے بھی صدر تھے، اس وقت جمہوریت پسندوں کو مایوسی ہوئی جب پیپلز پارٹی کے بنیادی اصولوں پر سمجھوتہ کیا گیا اور ڈیپ اسٹیٹ کو اپنے دائرہ کار کو بڑھانے کا موقع دیا گیا۔

اس کتاب میں زرداری صدارت کے کچھ تضادات بھی سامنے لائے گئے ہیں۔ ایک ایسا صدر جو پارلیمنٹ کو مضبوط کرنے کے لئے رضاکارانہ طور پر اپنے اختیارات پارلیمنٹ کو منتقل کرتا ہے جو کہ پاکستان کی سیاست میں پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ وہی صدر ہائبرڈ سسٹم کو اپنی جڑیں مضبوط کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ کئی دفعہ موقع ملنے کے باوجود ہائبرڈ کو برقرار رکھنے والے احتساب سے بالا تر انٹلیجنس اداروں کو اوور ہال کرنے کا موقع گنوا دیتا ہے۔ زرداری کے دور صدارت میں ہی ایبٹ آباد کے ملٹری کنٹونمنٹ کے ایک علاقے میں یو ایس کے نیول سیل (ہیلی کاپٹروں ) نے چھاپہ مارا اور دنیا کے سب سے زیادہ مطلوب دہشت گرد اسامہ بن لادن جو کوئی دس سال سے پاکستان میں چھپا ہوا تھا کو مار کے اس کی لاش اپنے ساتھ لے گئے۔ اس کے علاوہ چیف جسٹس سے لڑائی، میمو گیٹ اسکینڈل اور ریمنڈ ڈیوس کے معاملے جیسے بہت سے واقعات اس کتاب میں تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں۔

سیاست سے ہٹ کر اس کتاب میں زرداری کی شخصی خوبیاں اور خامیاں اور ذاتی کہانیاں بھی بیان کی گئی ہیں۔ جن میں وہ اسٹیریو ٹائپس سے بغاوت کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جس نے غیر معمولی چیلنجز کا سامنا کیا۔ اوت ایک ایسا ورثہ چھوڑا جسے گہرائی میں جا کر سمجھنے کی ضرورت ہے۔ فرحت اللہ بابر کے بقول زرداری ایک ایسا لیڈر ہے جس نے دوسروں کے ساتھ اتنا برا نہیں کیا جتنا برا خود اس کے ساتھ ہوا۔ مصنف کا کہنا ہے کہ وہ قارئین کی تنقید کو خوش آمدید کہیں گے۔

Facebook Comments HS