عمران خان: انصاف کی تلاش اور امید کی کرن


sultan ayaz

پاکستان کی سیاست ایک بار پھر ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ ملک کے سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ ان کے خلاف کئی مقدمات زیر سماعت یا فیصلہ ہو چکے ہیں جنہیں تحریک انصاف اور ان کے حامی مکمل طور پر سیاسی انتقام قرار دیتے ہیں۔

عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں 14 سال قید کی سزا سنائی گئی جبکہ توشہ خانہ کیس میں انہیں 3 سال کی سزا دی گئی۔ سائفر کیس اور 9 مئی کے واقعات سے متعلق مقدمات بھی ان کے خلاف قائم ہیں جن میں انہیں ریاستی راز افشا کرنے اور پرتشدد واقعات کی منصوبہ بندی یا معاونت کا مرتکب ٹھہرایا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ان پر ساٹھ سے زائد مقدمات اور متعدد انکوائریز بھی جاری ہیں۔

تاہم ان تمام مقدمات کے پس منظر پر اگر ایک غیر جانب دار نگاہ ڈالی جائے تو کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔ عوام کی ایک بڑی اکثریت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے اور عمران خان کو بے گناہ تصور کرتی ہے۔ ان کے مطابق یہ تمام مقدمات ایک ہی سیاسی اسکرپٹ کا حصہ ہیں جس کا مقصد انہیں سیاست سے باہر رکھنا ہے۔

پاکستانی عدلیہ جو کبھی ریاست کے تین ستونوں میں سے ایک تصور کی جاتی تھی آج خود عوامی اعتماد کے بحران سے گزر رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر انصاف کا گلہ گھونٹا گیا تو ریاست کس بنیاد پر کھڑی رہے گی؟ تحریک انصاف کے کارکنان اور حامیوں کے لیے یہ سوال صرف ایک رہنما کی رہائی کا نہیں بلکہ ریاستی ڈھانچے اور جمہوری اقدار کی بقا کا ہے۔

ایسے میں ایک نئی پیش رفت کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ تحریک انصاف اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مذاکرات کا آغاز وقت کی ضرورت اور زمینی حقائق کی پکار بن چکا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ایک بریک تھرو کسی بھی وقت ممکن ہے۔ اطلاعات ہیں کہ 5 تاریخ انتہائی اہم ہے اور امکان ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ سے عمران خان کی رہائی عمل میں آ جائے گی۔

اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ نہ صرف عمران خان کے لیے بلکہ پوری قوم کے لیے تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ موقع ہے کہ ادارے، عوامی نمائندے اور تمام فریقین آگے بڑھ کر پاکستان کو اس دلدل سے نکالیں جس میں وہ گزشتہ کئی برسوں سے پھنسا ہوا ہے۔

وقت کا تقاضا ہے کہ ذاتی مفادات اور سیاسی انا سے بالاتر ہو کر ریاست، عوام اور آئین کی بالادستی کو ترجیح دی جائے۔ عمران خان کی رہائی اگر انصاف کے اصولوں پر ہو تو یہ محض ایک فرد کی آزادی نہیں بلکہ جمہوریت کی بحالی کی علامت بن سکتی ہے۔

Facebook Comments HS