صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 43 : لرزاں قدم
”خدا کا وعدہ ہے : میں تجھے ہرگز نہ چھوڑوں گا اور نہ کبھی ترک کروں گا۔ چنانچہ ہم دلیری سے کہہ سکتے ہیں : خداوند میرا مددگار ہے، میں نہیں ڈروں گا۔ انسان میرا کیا کر سکتا ہے؟“ عبرانیوں 13 : 5۔ 6
ڈئیر عادل، سلام اور خداوند یسوع مسیح میں محبت کے ساتھ،
تمھارا خط دوستی کی اُس راہ سے آیا ہے جس پر برسوں کی رفاقت کے نشان ثبت ہیں۔ بچپن سے لے کر آج تک، ہم نے کتنے موڑ ایک ساتھ دیکھے ہیں، کتنی دعائیں ایک دوسرے کو دی ہیں، اور اب وہ وقت آن پہنچا ہے کہ تمھارا بیٹا اور میری بیٹی ایک ہی راہ کے ہم سفر بننے جا رہے ہیں۔ یہ کیا کم خوش نصیبی ہے؟
مریم جب سے تمہارے پاس سے آئی ہے، تم لوگوں کے ہی گُن گاتی ہے۔ گلوریا، عارف، اور تم نے جس محبت سے اُسے اپنایا، وہ بیان سے باہر ہے۔ تحفوں کا ذکر تو اُس نے کیا، لیکن اُن میں لپٹی ہوئی تمہارے دوستوں کی اپنائیت اور نیک تمناؤں کا ذکر زیادہ تھا۔ کل تمہارا بھیجا ہوا پارسل بھی مل گیا۔ مریم اور بچوں کے لیے تو وہ گویا کھلونوں کا ڈبّہ تھا۔ دن بھر مریم وہ تحفے نکال نکال کر بچوں کو دکھاتی رہی۔
جہاں تک شادی کی تاریخ کا تعلق ہے، تو ہم نے مریم سے مشورہ کر لیا ہے۔ اس کی پڑھائی ختم ہونے میں ابھی تین مہینے باقی ہیں۔ پھر فائنل امتحان تو شادی کے بعد بھی دے سکتی ہے، لہٰذا ہم سب نے دعا کرنے کے بعد یہی طے کیا کہ شادی تین ماہ بعد ہو، جب دونوں مکمل سکون کے ساتھ ایک دوسرے کا ہاتھ تھامیں۔ ہماری خواہش ہے کہ تقریب سادہ، مگر روحانی ہو، اور دعائیہ فضا ہو جس میں وعدے صرف انسانوں کے درمیان نہ ہوں بلکہ خدا کی گواہی کے ساتھ ہوں۔ تم بھی ہماری طرح سادگی پسند ہو، اور امید ہے کہ اس تقریب میں بھی سادگی کا رنگ غالب رہے گا۔
عارف کے لیے دل سے دعا نکلتی ہے۔ وہ جس وقار، شائستگی اور خلوص کا حامل ہے، وہ آج کل کے نوجوانوں میں کم دکھائی دیتا ہے۔ دعا ہے کہ وہ مریم کے لیے نہ صرف اچھا شوہر ثابت ہو، بلکہ سچا رفیق، دوست، اور ایمان میں ہم قدم بنے۔ خدا کرے کہ یہ رشتہ اُس وعدے کی بنیاد پر قائم ہو، جس میں نہ خوف ہو، نہ شک، صرف بھروسا، محبت اور خدا کی حضوری ہو۔
ختم کرنے سے پہلے ایک آیت جو میرے دل کو چھو گئی، تم سے بانٹنا چاہتا ہوں : ”اور اِن سب کے اُوپر محبّت کو جو کمال کا پٹکا ہے باندھ لو۔“ کلسیوں 3 : 14
تمہارا دیرینہ دوست، شاہد
***
انکل شاہد کی فیملی سے ملے بغیر ڈیڑھ ماہ سے زیادہ گزر چکا تھا۔ دانی ایل کے پنڈی جانے کے بعد میں بھی اسکول میں کافی مصروف ہو گیا تھا۔ ہفتے میں دو شامیں اسکول میں بچوں کو کھیل کے میدان میں نگرانی کرنے میں نکل جاتیں اور بقیہ اُن کا ہوم ورک چیک کرنے اور اگلے روز کی تیاری میں گزر جاتیں۔ آخر ایک روز، میں وقت نکال کر انکل شاہد کے گھر پہنچ گیا۔ دروازے پر لگی زنجیر کھٹکھٹائی تو مریم دروازے پر ٹنگا ہوا پردہ ہٹا کر سامنے آ گئی اور لہک کر بولی، ”اخاہ! تو آپ ہیں؟ زہے نصیب!“
”جی، میں ہی ہوں!“ میں نے اسی انداز میں جواب دیا اور گھر میں داخل ہو گیا۔
”آپ سے ملے ہوئے مہینہ بھر تو ہو گیا ہو گا؟“ مریم نے کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا اور وہ دوسری کرسی پر بیٹھ گئی۔
”بس، ملازمت ملنے کے بعد معلوم ہوا کہ اسکول ٹیچر کی زندگی کتنی مصروف ہوتی ہے،“ میں نے کہا، ”اسکول کے علاوہ زیادہ تر وقت بچوں کی کاپیاں چیک کرنے میں گزر جاتا ہے۔“
”ہمارے گھر میں اکثر آپ کا تذکرہ ہوتا رہتا ہے۔ بچے آپ کو کافی مِس کرتے ہیں۔“
”مگر سب لوگ ہیں کہاں، کوئی نظر نہیں آ رہا،“ میں نے اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے کہا۔
”پاپا اور ماما ایک دوست کی عیادت کرنے کے لیے سول اسپتال گئے ہیں، اور باہر میدان میں وکٹر کی ٹیم کا کرکٹ میچ ہو رہا ہے۔ سب بچے وہاں میچ دیکھ رہے ہیں۔“
انکل شاہد کی گلی کا اختتام ایک چٹیل میدان پر ہوتا تھا جس کے بیچوں بیچ محلّے کے بچوں نے کرکٹ کی پچ بنالی تھی۔ پورے حیدرآباد سے گاہے بہ گاہے بچوں کی ٹیمیں آ کر وہاں میچ کھیلتی تھیں اور اپنے اپنے محلے کے لوگوں کو بطور تماشائی ساتھ لے کر آتی تھیں۔ وکٹر کی ٹیم اُن کی میزبانی کرتی تھی اور ہر ٹیم سے دس روپے فی میچ کے حساب سے فیس لیتی تھی جس سے پِچ کی دیکھ بھال اور ٹیم کے لیے کرکٹ کا سامان خریدا جاتا تھا۔
”اِس دوران کیا ہوتا رہا؟“ مریم نے پوچھا۔
”بس، نوکری کے علاوہ کچھ بھی نہیں، میرا وقت یا تو پڑھانے میں گزرتا ہے یا پڑھانے کی تیاری میں۔“
”اس لیے کہ پہلا سال ہے۔ اگلے سال سے تیاری میں اتنا وقت نہیں لگے گا کیوں کہ آپ نصاب سے واقف ہوں گے۔“
”امید تو یہی ہے،“ میں نے کہا، ”آپ سنائیں، اس دوران کیا مصروفیت رہی؟“
”میری منگنی ہو گئی،“ مریم نے مسکرا کر جواب دیا۔
”مجھے معلوم ہے، اور میں نے انکل شاہد کے ذریعے مبارک باد بھی بھیج دی تھی۔“
”مجھے امید تھی کہ آپ مجھے بالمشافہ مبارک باد دینے کے لیے تشریف لائیں گے۔“
”تو میں حاضر ہو گیا نا،“ میں نے ہنس کر کہا۔
”ٹھیریں، میں آپ کے لیے چائے بنا کر لاتی ہوں،“ مریم نے اٹھتے ہوئے کہا۔
”ارے چائے وائے کا تکلف چھوڑیں۔“
”نہیں بھئی چائے تو پی جائے گی۔“
”واقعی چھوڑیں، میں ابھی چائے پی کر آ رہا ہوں۔“
”آپ تکلف کر رہے ہیں،“ مریم نے بیٹھتے ہوئے کہا۔
”اب آپ بتائیے کہ اِس دوران کیا کچھ ہوتا رہا؟“
”اِس دوران، میں عارف کی فیملی سے مل آئی۔“
”اچھا، آپ ایسٹ پاکستان گئی تھیں؟“
”جی، واپس آئے بھی دو ہفتے ہو گئے۔“
”آپ خوش واپس آئی ہیں نا؟“
”ہاں، انکل عادل اور آنٹی گلوریا نے بڑی خاطر کی۔“
”زبردست، اس کا مطلب ہے کہ انہوں نے آپ کو بہو کی حیثیت سے قبول کر لیا ہے۔“
”میرا خیال ہے کہ وہ دونوں ہی محبت کرنے والے لوگ ہیں۔“
”عارف نے بھی آپ کو خوب گھمایا پھرایا ہو گا؟“
”نہیں، عارف کے ساتھ وقت گزارنے کا اتنا موقع نہیں ملا۔ وہ کسی پروجیکٹ کے سلسلے میں کافی مصروف تھا۔“
میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ظاہر ہے کہ میں کیا رائے زنی کرتا۔ آخر اس نے ہی خاموشی توڑی۔
”پرویز، مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے،“ اس کے ہونٹوں پر پھیکی سی مسکراہٹ تھی مگر آنکھوں سے گھبراہٹ جھانک رہی تھی۔
”کیوں، ڈرنے کی کیا بات ہے؟“ میں نے پوچھا۔
”وہ لوگ بہت امیر ہیں اور ان کا لائف اسٹائل مختلف ہے۔“
”اگر امیر ہیں تو اچھا ہے۔ آپ عیش کریں گی،“ میں نے مسکرا کر کہا۔
”آپ سمجھے نہیں،“ اس کے لہجے میں ناگواری تھی، ”انہوں نے مجھ سے ملانے کے لیے اپنے دوستوں کی دعوت کی۔ ایسی پارٹی میں نے کبھی پوری زندگی میں نہیں دیکھی۔ ایک سو سے زیادہ مہمان تھے اور مجھے ایسا لگا جیسے مجھے کسی دیوی کے روپ میں پیش کیا جا رہا ہے۔ آنٹی گلوریا نے میرے لیے ایک خاص ڈریس بنوایا اور پورے ایک سو مہمانوں سے مجھے ہاتھ ملانا پڑا اور خواتین سے رخسار ملانے پڑے۔ میں احساسِ کمتری سے پیچھا نہیں چھڑا سکی۔“
”احساسِ کمتری وقتی ہے۔ آہستہ آہستہ آپ وہ لائف اسٹائل سیکھ جائیں گی۔ خدا جب حسن دیتا ہے نزاکت آ ہی جاتی ہے۔“
”مگر مجھے تو وہ لائف اسٹائل بڑا کھوکھلا لگتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ ہر ایک اپنی قیمت ِفروخت میں اضافہ کرنے کے چکر میں لگا رہتا ہے۔“
”امیر ہونا کوئی گناہ نہیں ہے۔ آپ امیر ہونے کے باوجود دوسروں سے بے لوث محبت کر سکتی ہیں۔“
مریم نے کوئی جواب نہیں دیا۔ غالباً وہ میری بات پر غور کر رہی تھی۔ میں بھی خاموشی سے اُسے گھورتا رہا۔ آخر اُس نے بڑی بے جان سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، ”فادر پال بتا رہے تھے کہ دانی ایل پنڈی چلا گیا ہے۔“
”کون دانی ایل؟“ میں نے چبھتے ہوئے انداز سے پوچھا۔
”مجھے تو بس یہ دکھ ہے کہ میری وجہ سے اُسے اتنا دکھ پہنچا ہے۔“
”نہ آپ چھوٹی سی بچی ہیں اور نہ وہ بچہ ہے کہ دکھ پہنچنے پر چیخنا چلانا شروع کردیں۔ دکھ تو زندگی کا حصہ ہیں۔“
”پھر بھی، اگر میری طرف سے کسی کو دکھ پہنچے تو مجھے افسوس تو ہو گا۔“
”افسوس بھی وقتی ہوتا ہے۔“
مریم ہونٹوں پر زبان پھیر کر رہ گئی مگر کہا کچھ نہیں۔
”اچھا اب مجھے اجازت دیں،“ میں نے اٹھتے ہوئے کہا۔
”آپ آتے رہیں گے نا؟“ اُس نے سرگوشی میں پوچھا اور کھڑی ہو گئی۔
”کیوں نہیں، آپ کو یاد ہے نا، کہ ہماری پہلی ملاقات میں آپ نے دوستی کا ہاتھ بڑھایا تھا۔ آپ ہمیشہ مجھے ہم درد دوست پائیں گی۔“
”شکریہ۔“
وہ مجھے چھوڑنے کے لیے دروازے تک آئی۔ میں نے آگے بڑھ کر اس کی پیٹھ تھپتھپائی اور باہر نکل آیا۔

