پرانی یادیں: اسکول کے سال


میں پشاور کے جس کنٹونمنٹ بورڈ ہائی سکول میں پڑھتا تھا وہ ایک لوئر مڈل کلاس طبقے کے افراد کے بچوں کا سکول تھا۔ عموماً ایسے سکول کی حالت حکام کی عدم توجہی کی وجہ سے نا گفتہ بہ ہوتی تھی اور اساتذہ کا اپنا معیارِ تعلیم بھی کچھ خاص قابل ذِکر نہیں ہوتا۔ مگر میں اور میرے ہم جماعت خوش قسمت تھے کہ ہمیں چند ایسے اساتذہ ملے جنھوں نے ذاتی دلچسپی اور محنت کی بدولت اس اسکول میں تعلیم کا وہ معیار قائم کیا جو عموماً بالائی طبقات کے لیے مختص اسکولوں سے وابستہ تھا۔ اساتذہ کی قابلیت اور ان کی لگن کسی بھی سکول کا سب سے بڑا سرمایہ ہوتے ہیں۔

میں بذات خود بطور ایک استاد یہ سمجھتا ہوں کہ ایک استاد کا کام صرف معلومات دینا نہیں ہوتا بلکہ شخصیت سازی اس کا اصل کام ہے۔ وہ لوگ یقیناً خوش قسمت ہوتے ہیں جن کو آغازِ زندگی اور سکول کے دنوں میں جب شخصیت تشکیل پا رہی ہوتی ہے متاثر کن استاد میسر آ جاتے ہیں۔ کسی متاثر کن ٹیچر کی اسکول کے زمانے میں کی گئی تربیت طالبِ علم کی ساری عُمر پر اثر انداز ہوتی ہے۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے، کہ اس عام سے سکول سے فارغ ہو کر جب میں نے کالج کی زندگی میں قدم رکھا تو اپنے ارد گرد اُمرا کے بچوں کو پایا۔ جو اُمرا کے لئے مُختص انگلش میڈیم سکولوں سے فارغ التحصیل ہو کر ایڈورڈز کالج میں پہنچے تھے۔ میں اپنے سکول کے اساتذہ کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں کہ ان کی سکول کے دنوں میں دی گئی تعلیم کی بدولت، میں نے ایک لمحہ بھی اُن انگلش میڈیم والے بچوں کے درمیان، اپنے آپ کو علمی طور پر کمتر محسوس نہ کیا۔ اور بعد ازاں، پاکستان اور امریکہ کی یونیورسٹیوں میں تعلیم کے دوران بھی ایسی ہی مثبت صورت حال رہی، بلکہ اکثر اوقات میں نے اپنے آپ کو اُن طالب علموں سے زیادہ علم یافتہ پایا۔

ہائی سکول کے دنوں میں میری دلچسپی سماجی مسائل میں بہت زیادہ تھی۔ یہ سوچ اس وقت بھی تھی اور آج تک برقرار ہے کہ اگر ہر انسان چند بنیادی خصوصیات اپنا لے تو معاشرہ کتنا ترقی یافتہ بن سکتا ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب ٹیلی ویژن لوگوں کی زندگی میں نہیں آیا تھا۔ انسان کی معلومات کا ذریعہ محض کتابیں تھیں یا پھر اخبار۔ ریڈیو بھی معلومات اور انٹرٹینمنٹ کا ذریعہ تھا۔ اس وقت تک مجھے ترقی یافتہ ممالک میں افراد کے کردار اور اقدار کو براہ راست دیکھنے کا موقعہ نہیں ملا تھا۔

مجھے اپنے اسکول کے دنوں میں یہ احساس تھا کہ ایک سوسائٹی میں شائستگی، صفائی، مساوات، اور انصاف کی موجودگی کا تعلق معاشی حالات سے ہرگز نہیں ہوتا۔ ان اقدار کو بنانے میں سب سے اہم رول تو گھر کا ماحول ادا کرتا ہے۔ والدین تقریباً سب بچوں کے پہلے رول ماڈل ہوتے ہیں۔ صحیح اور غلط کا تصور گھر کی تربیت سے وابستہ ہوتا ہے۔ لیکن اسکول اور کالج وہ جگہیں ہوتے ہیں جہاں شخصیت کی نشو و نما ہوتی ہے۔ ایک اچھے تعلیمی ادارے سے پڑھے ہوئے افراد فوراً پہچانے جاتے ہیں۔

اچھے تعلیمی اداروں میں شخصیت سازی ایک بنیادی مقصد ہوتا ہے۔ یہاں بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کی آبیاری کی جاتی ہے۔ اچھی تعلیم کی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ یہ کسی بھی موضوع پر منطقی انداز میں سوچنے اور ایک مربوط انداز میں اظہار کرنے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے۔ اور پھر حکمرانوں کا بہت اہم رول ہوتا ہے۔ ان کی ترجیحات اور رویہ بعض اوقات قوم کا مستقبل تبدیل کر سکتے ہیں۔

میرے لیے سب سے دکھ کی بات معاشرے کی طبقاتی نوعیت تھی۔ شاید اس لیے کہ میں خود کو اس نا انصافی کا شکار سمجھتا تھا۔ تعلیمی ادارے، صحت کی سہولتیں، اور آگے بڑھنے کے مواقع معاشرے کے مختلف طبقات کے لیے مختلف تھے۔ بعض معمولی چیزوں سے یہ فرق واضح ہو جاتا تھا۔

مثال کے طور پر اپر کلاس کے لیے مختص انگریزی میڈیم سکولوں اور عوام کے لیے مختص گورنمنٹ سکولوں میں بچوں کی یونیفارم سے ہی سماجی فرق واضح ہو جاتا تھا۔ ایک عام سکول کی یونیفارم عموماً ملیشیا کی شلوار یا پتلون اور ملیشیا کی قمیض پر مشتمل ہوتی تھی جس میں نفاست کا فقدان تھا۔ دوسری طرف اپر کلاس کے لیے مختص سکولوں میں سبز۔ نیلا یا سرخ کوٹ، سفید قمیض اور گرے یا خاکی رنگ کی پتلون پر مشتمل یونیفارم عام تھی۔

اسی طرح اپر کلاس کے لیے مختص سکولوں میں کلاس ورک کے لیے کاپیاں اور پین اول جماعت ہی سے بستے کا حصہ ہوتے تھے جبکہ عوام کے لیے مختص سکولوں میں تختی کا رواج تھا جس کو دھو کر بار بار استعمال کیا جاتا تھا۔

پھر انگریزی میڈیم سکولوں میں تمام مضامین انگریزی میں پڑھائے جاتے تھے جبکہ اردو میڈیم سکولوں میں انگریزی کا مضمون پہلی دفعہ پانچویں جماعت میں کورس میں شامل ہوتا تھا اور تمام مضامین بشمول ریاضی اور سائنس اردو میں پڑھائے جاتے تھے۔ چونکہ ملک کا سارا نظام انگریزی میں چلتا تھا، ہر اہم پوزیشن کے لیے انٹرویو انگریزی میں ہوتے تھے، ہر فارم انگریزی میں بھرا جاتا تھا، اور اعلی سطح کی بیشتر میٹنگز کی کارروائی انگریزی میں ہوتی تھی، اس طور انگریزی میڈیم کے طلبا کو وہ سبقت حاصل ہو جاتی تھی جس کو ایک اردو میڈیم سکول سے تعلیم یافتہ شخص کے لیے پورا کرنا زندگی بھر مشکل رہتا تھا۔ اردو اور علاقائی زبانوں کو انگریزی کے مقابلے میں دوسرے اور تیسرے درجے کی اہمیت ملی ہوئی تھی۔

میرے لیے ایک اور بات ان اسکول کے دنوں میں اور آج بھی بہت تکلیف کا باعث رہی ہے وہ ایک گھریلو نوکر کا تصور ہے۔ ہر مڈل کلاس فیملی میں مائیوں اور ماسیوں کا کچن کا کام اور گھر کی صفائی کر نا معمول کی بات ہے۔ ذرا زیادہ امیر فیملیوں میں فل ٹائم نوکر اور خانساماں کا تصور موجود ہے۔ فوج میں بیٹ مین کا وہ تصور موجود ہے جو ہم کو غلامانہ دور کی یاد دلاتا ہے۔ ان نوکروں کے ساتھ برتاؤ انسانیت کی تذلیل لگتا ہے۔ نوکروں کے بچوں کا مستقبل عمومی طور پر نوکر بننا رہا ہے۔ اکثر گھروں میں یہ تصور محال ہے کہ یہ گھریلو نوکر برابر صوفے پر بیٹھنے کی جرات کر سکیں یا اسی میز پر کھانا کھا سکیں۔ جب مجھے اپنی آگے کی زندگی میں دنیا کے بہت سے ممالک میں جانے اور ان کی سوسائٹی کو قریب سے دیکھنے کا موقعہ ملا تو کہیں بھی یہ غیر انسانی رویہ دیکھنے کو نہیں ملا۔

سماجی مسائل پر میری گہری دلچسپی اس حد تک تھی کہ ہائی سکول کے دوران میں نے ان موضوعات پر پشاور کے اخبار انجام میں لکھنا شروع کیا جو اس وقت ایک مقبول اخبار شمار ہوتا تھا۔ یہ کوئی ادب پارے تو نہیں تھے مگر ایک ہائی اسکول کے طالب علم کے دل کی آواز تھے۔ یہ اس خواہش کا مظہر تھے کہ کاش ہماری سوسائٹی میں ہر شخص کو عزت اور احترام میسر ہو۔ مساوات ہو اور انصاف ہر شخص کے لیے برابر ہو۔ ہر فرد کو بنیادی حقوق حاصل ہوں اور آگے بڑھنے کے برابر مواقع میسر ہوں۔ طبقاتی ناہمواری کا خاتمہ ہو۔ اس وقت تو مجھے احساس نہیں تھا لیکن میرا آئیڈیل موجودہ دور میں یورپ کے کئی ممالک میں رائج سوشلسٹ معاشرہ تھا۔ سوشلزم کا لفظ تو ملکی سیاست میں پہلی دفعہ 1970 کے انتخابات میں سامنے آیا۔ صحیح بات یہ ہے کہ اس وقت معاشرے میں مذہب کے کردار کے بارے میں میرے کوئی خاص تاثرات نہیں تھے۔ 1957 سے 1967 تک مذہبی جنونیت معاشرے کا حصہ نہیں بنی تھی۔

اس دور کی ایک بات جو مجھے خصوصی طور پر یاد ہے وہ یہ کہ ایک مرتبہ انجام اخبار کے ایڈیٹر مسعود انور ثقفی نے میرے مضامین کی تعریف کرتے ہوئے مجھے اپنے ہاں آنے کی دعوت دی۔ جب میں ان کے ہاں پہنچا تو وہ ایک ہائی اسکول کے طالب علم کو دیکھ کر کچھ حیران ہوئے۔ میں شاید ان کی توقع سے بہت چھوٹا تھا۔ بہرحال انہوں نے مجھے بہت عزت سے خوش آمدید کہا اور یہ احساس قطعاً نہیں ہونے دیا کہ وہ ایک بڑی عمر کے مصنف کی امید کر رہے تھے۔

مجھے ان کے ساتھ ہونے والی گفتگو تو یاد نہیں لیکن یہ یاد ہے کہ انہوں نے مجھے کھانے پر روک لیا تھا۔ چلتے ہوئے انہوں نے مشورہ دیا کہ اگر میں ایک مصنف بننا چاہتا ہوں تو مجھے سید محمد حسین جاہ کی لکھی ہوئی طلسم ہوش ربا ضرور پڑھنی چاہیے۔ مجھے آج بھی ان کا مشفقانہ رویہ یاد آتا ہے تو شکر کے جذبات امڈ آتے ہیں کہ کس عزت کے ساتھ اس وقت کے پشاور کے سب سے بڑے اخبار کے ایڈیٹر نے ایک ہائی سکول کے طالب علم کی حوصلہ افزائی کی تھی۔

لیکن ہوا یوں کہ کالج میں آتے ہی میری زندگی کا محور تبدیل ہو گیا۔ جس سوچ نے میری باقی زندگی کو مستقل طور پر متاثر کیا وہ یہ تھی کہ میں ایک کامیاب سائنسدان بننا چاہتا تھا۔ اگر اس دور کے ساتھی طلبا اور ٹیچرز مجھے یاد رکھتے ہوں گے تو میری اس غیر روایتی سوچ کی بدولت۔ اس مقصد کے حصول کی راہ میں میں ہر اس چیز سے دور ہوتا گیا جس کو اس مقصد کی تکمیل میں رکاوٹ تصور کرتا تھا۔

اس طور سماجی مسائل پر اور وہ بھی اردو میں لکھنے کا طویل عرصے کے لیے یہ میرا آخری تجربہ تھا۔ اگلے پچاس سال سے بھی زیادہ عرصہ کے دوران میری تحاریر ہمیشہ سائنسی موضوعات اور طبیعات میں ریسرچ مقالات پر محدود رہیں۔ 2022 میں ستر سال کی عمر میں ایک انتہائی طویل وقفے کے بعد میں نے دوبارہ اردو میں سماجی، مذہبی اور سائنسی مضامین لکھنے کی ابتدا کی۔

یہ مقولہ تو زبان زد عوام ہے کہ کسی انسان کی شخصیت کا اندازہ اس کے دوستوں سے ہوتا ہے۔ سکول کے اس دور میں میں نے بہت کم دوست بنائے۔ مجھے دوست بنانے کبھی نہیں آئے اور میرا حلقہ احباب ہمیشہ بہت محدود ہی رہا۔ لیکن یہ میری خوش قسمتی تھی کہ پھر بھی اس زندگی میں میرا ساتھ بہت سے ایسے افراد سے رہا جو بہت نفیس، دلچسپ، اور مخلص تھے۔ اسکول کے دنوں میں بھی میرے چند دوست ایسے تھے جن کے ساتھ گزارے ہوئے دن اتنا عرصہ گزرنے کے بعد بھی اچھی طرح یاد ہیں۔ یہاں میں ایک ایسے دوست کا خاص طور پر ذکر کرنا چاہتا ہوں جن کو اپنی سکول کی زندگی کا سب سے قریبی دوست گردانتا ہوں۔

خالد سہیل اس دور کے میرے قریب ترین دوستوں میں شامل تھے۔ ان کے والد اسی سکول میں ریاضی کے استاد تھے جس میں ہم پڑھتے تھے۔ ہم دونوں میں قربت کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ ہم سنجیدہ سوچ کے مالک تھے اور ایک دوسرے سے کسی بھی سنجیدہ موضوع پر پر مغز گفتگو میں دلچسپی رکھتے تھے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس وقت ہم بمشکل تیرہ چودہ سال کے ہوں گے جب ہم زندگی کی حقیقت کے بارے میں کئی گھنٹوں تک مسلسل گفتگو کرتے رہتے تھے۔

ہمارے والدین حیران ہوتے تھے کہ اتنے چھوٹے سے بچے اتنی دیر تک ایسے سنجیدہ موضوعات پر گفتگو کیسے کر سکتے تھے؟ ہماری جب بھی ملاقات ہوتی ہم میں سے کوئی ایک مذہب یا فلسفے کے بارے میں کوئی سوال کر دیتا تھا۔ اس سوال کے جواب میں اور سوالات پیدا ہوتے، اس طرح ایک سوال کئی سوالات کو جنم دیتا۔ اس گفتگو کا کمال یہ تھا کہ ہم انتہائی ایمانداری سے اپنی رائے کا اظہار کرتے تھے، اس سوچ کے بغیر کہ ہمارے خیالات رائج شدہ مذہبی اور سماجی اقدار سے کتنے مختلف ہیں۔ اگر یوں کہا جائے کہ ہم سچائی کی تلاش میں تھے اس احساس کے بغیر کہ یہ تلاش ہمیں کہیں بھی لے جا سکتی تھی۔ ہماری گفتگو ہمیشہ باہمی عزت کے ماحول میں ہوتی تھی۔ مجھے ایسا کوئی موقعہ یاد نہیں جب ہم میں سے کسی کی آواز بلند ہوئی ہو۔

مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ میں خالد سہیل سے ملنے ان کے گھر گیا۔ ان کا گھر میرے گھر سے تقریباً ایک میل کے فاصلے پر تھا۔ ملتے ہی بغیر علیک سلیک کے انہوں نے پوچھا، آپ کا کیا خیال ہے خدا اس وقت کیا کر رہا ہے؟ اس کے جواب میں میں نے کہا کہ اس سوال کا جواب دینے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ ہمیں وقت کی نوعیت کا ادراک ہو۔ میں نے ان سے جوابی سوال کیا کہ کیا خدا کے نزدیک وقت کا وہی تصور ہے جو ہم انسانوں کے نزدیک ہے؟

غرض ایک سادہ سوال سے گفتگو کا رخ زمان و مکاں کی نوعیت اور ان کی حقیقت کی طرف مڑ گیا۔ کئی گھنٹوں کی گفتگو کے بعد جب میں گھر واپس پہنچا تو ذہن میں بہت سے نئے سوالات جنم لے چکے تھے، کچھ ایسے سوال جن کا پوری زندگی گزارنے کے بعد بھی مجھے ابھی تک جواب نہیں معلوم۔ ہمارے مابین گفتگو کا یہ خاصہ آج تک موجود ہے۔

خالد سہیل سے میرا رابطہ ایف ایس سی تک رہا۔ اس کے بعد وہ میڈیکل کالج چلے گئے اور میں نے فزکس میں گریجویشن اور ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ ستر کی دہائی کے وسط میں ہم دونوں نے پاکستان چھوڑ دیا۔ میں فزکس میں پی ایچ ڈی کرنے امریکہ چلا گیا اور خالد سہیل ماہر نفسیات بننے کینیڈا سدھار گئے۔ 45 سال کے اس درمیانی عرصے میں ہم دونوں صرف تین یا چار مرتبہ ملے ہوں گے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ جب ہم 2021 میں طویل عرصے کے بعد ملے تو ہم اسی انداز میں انہی موضوعات میں دلچسپی رکھتے تھے۔ 2021 کے بعد وہ اور میں مسلسل رابطے میں رہے ہیں۔ خالد سہیل سے گفتگو میں وہ بچپن والی تر و تازگی اب بھی برقرار ہے۔ ان کو سوال کرنے کا شوق ہے اور مجھے ان کو ایمانداری اور لگی لپٹے بغیر جواب دیتے ہوئے بعض اوقات ان موضوعات پر اظہار خیال کرنے کا موقعہ مل جاتا ہے جو عرصے سے دل کے نہاں خانے میں محفوظ تھے۔ اس ڈائیلاگ نے مجھے اپنے خول سے نکلنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر سہیل زبیری

ڈاکٹر سہیل زبیری ٹیکساس یونیورسٹی میں کوانٹم سائنس  کے Distinguished Professor ہیں اور اس ادارے میں کوانٹم آپٹکس کے شعبہ میں Munnerlyn-Heep Chair پر فائز ہیں۔

suhail-zubairy has 93 posts and counting.See all posts by suhail-zubairy