کم عمر شادی پر پابندی کا قانون: ”دیر آید درُست آید“
انسانی حقوق کے محافظین، بچوں اور اقلیتوں کے حقوق کے کارکنان ایک عرصہ سے اس جدوجہد میں مشغول تھے کہ بچوں کے وقارِ زندگی کو بلند کرنے کے لئے کم عمری کی شادی پر پابندی عائد کی جائے نیز شادی کے لئے عمر کی کم از کم حد مقرر کی جائے۔ قومی اور بین الاقوامی سطح پر برسوں سے جاری کوششوں اور وکالت کے بعد آخر کار 29 مئی 2025 کو صدرِ پاکستان کے دستخط نے اس قانون کا راستہ ہموار کر دیا ہے۔ یہ قانون بے شک اسلام آباد کی حدود تک ہی محدود ہو گا مگر ایک طویل سفر طے کرنے کے لئے یہ ابتدائی اہم قدم ہے۔ اس اہم پیش رفت سے جہاں ایک طرف انسانی حقوق کے کارکنوں میں خوشی کی لہر چلی ہے وہیں مذہبی حلقوں کی جانب سے شدید مخالفت کا سامنا بھی ہے۔
قیامِ پاکستان سے قبل 1929 کے چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ سے لے کر حالیہ بل تک، یہ سفر طویل اور دشوار گزار رہا ہے۔ مذہبی حلقوں کی جانب سے سخت مزاحمت نے کئی کوششوں کو ناکام بنایا اور قانون سازی کا عمل سست روی کا شکار رہا۔ دیر سے سہی، اب یہ درست قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ اس قانون کا مقصد بچوں کو صحت، تعلیم، اور ذہنی پختگی کے مناسب مواقع فراہم کرنا اور جبری تبدیلی مذہب سے محفوظ بنانا ہے۔ یہ اُن کے لئے امید کی کرن ہے جنہیں کم عمری میں ہی تعلیم سے محروم کر کے، نفسیاتی اور جسمانی دباؤ کا شکار بنا کر، اور صحت کے سنگین خطرات میں ڈال کر شادی کے بندھن میں باندھ دیا جاتا ہے۔
مذہبی اقلیتوں کے نقطہ نظر سے یہ قانون جبری شادیوں، اغوا اور اس کے نتیجے میں جبری تبدیلی مذہب جیسے جرائم سے بچانے میں بھی بالواسطہ طور پر مددگار ثابت ہو گا۔ ایک واضح قانونی حد موجود ہونے سے پولیس اور عدالتی نظام کے لیے ایسے کیسز میں کارروائی کرنا آسان ہو جائے گا۔
بلاشبہ، یہ قانون سازی ایک بڑا کارنامہ ہے، لیکن اس کی حقیقی کامیابی اس کے موثر نفاذ پر منحصر ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ عوامی آگاہی کی وسیع مہم چلائی جائے، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدلیہ کو اس قانون کے بارے میں تربیت دی جائے۔ مذہبی حلقوں کے ساتھ مستقل مکالمہ جاری رکھا جائے تاکہ ان کے تحفظات کو دور کیا جا سکے اور انہیں اس قانون کی افادیت کے بارے میں قائل کیا جا سکے۔
پاکستان میں کم عمری کی شادی کی روک تھام کے لیے قانون سازی کا آغاز برطانوی ہند میں ”چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 1929“ سے ہوا، جس میں لڑکی کی شادی کی عمر 14 سال (بعد میں 16 سال) اور لڑکے کی 18 سال مقرر کی گئی۔ مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کے تحت لڑکی کی شادی کی عمر 14 سال سے بڑھا کر 16 سال اور لڑکے کی عمر 21 سال سے کم کر کے 18 سال کر دی گئی۔ یہ آرڈیننس تمام صوبوں میں لاگو کیا گیا تھا۔
سندھ میں 2013 میں ”سندھ چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2014“ منظور ہوا، جس کے تحت لڑکے اور لڑکی دونوں کی شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کی گئی۔ پنجاب میں ”پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ (ترمیمی) ایکٹ 2015“ کے تحت سزاؤں میں اضافہ کیا گیا، لیکن لڑکی کی عمر کی حد 16 سال ہی رکھی گئی۔ خیبر پختونخوا میں بھی اس حوالے سے بل پیش کیے گئے لیکن انہیں منظور کروانے میں تاحال دشواریوں کا سامنا ہے۔
اس سے قبل بھی کم عمری کی شادی کی روک تھام کے لیے قومی اسمبلی میں بل پیش کیے گئے، لیکن انہیں مذہبی حلقوں کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا اور وہ مسترد یا التواء کا شکار ہوتے رہے۔ 2015 میں مسلم لیگ (ن) کی رکن پارلیمان ماروی میمن نے کم عمری کی شادی سے متعلق قانون میں ترمیم پیش کی تھی۔ تاہم اسلامی نظریاتی کونسل نے اس کی شدید مخالفت کی۔
کم عمری کی شادی پر پابندی کے قانون سے توقع ہے کہ یہ قانون جبری تبدیلی مذہب میں کمی لانے میں بالواسطہ طور پر مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اگرچہ یہ براہ راست جبری تبدیلی مذہب کو نشانہ نہیں بناتا، بہرحال کم عمر اقلیتی لڑکیوں کو اکثر جبری طور پر اغوا کر کے، ان کا مذہب تبدیل کروا کر اور پھر جبری شادی کروا کر زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے، ان جرائم میں کمی متوقع ہے۔
جبری تبدیلی مذہب کے اکثر کیسز میں لڑکیوں کی عمر شادی کے سرٹیفیکیٹس پر غلط درج کی جاتی ہے تاکہ انہیں بالغ دکھایا جا سکے۔ نئے قانون کے تحت ایسے فراڈ کو روکنے میں مدد ملے گی نیز پولیس اور عدالتی حکام کے لیے ایسے کیسز میں کارروائی کرنا آسان ہو جائے گا جہاں کم عمر لڑکی کو اغوا کر کے جبری شادی اور تبدیلی مذہب پر مجبور کیا گیا ہو۔
جبری تبدیلی مذہب کے خلاف بہرحال الگ سے جامع قانون سازی کی ضرورت ہے، جو دباؤ، لالچ یا دھوکہ دہی کے ذریعے مذہب تبدیل کروانے کو جرم قرار دے اور اس کے لیے سخت سزائیں مقرر کرے۔ پاکستان میں جبری تبدیلی مذہب کے خلاف کئی بل پیش کیے گئے ہیں، لیکن مذہبی جماعتوں کی مخالفت کی وجہ سے انہیں ابھی تک منظور نہیں کیا جا سکا ہے۔
کم عمری کی شادی پر پابندی کا یہ قانون پاکستان کو ایک جدید، باشعور اور انسانی حقوق کا احترام کرنے والے معاشرے کی طرف لے جائے گا۔ یہ امید کی جانی چاہیے کہ یہ قانون ملک بھر میں بچوں کے تحفظ اور ترقی کی ایک نئی تاریخ رقم کرے گا، اور اس کے مثبت اثرات دور رس ہوں گے۔


