عمران خان کی زندگی بھر کی غلطیاں جو انہوں نے تسلیم کیں
عمران خان، ایک نام جو کرکٹ کے میدان سے لے کر سیاست کے ایوانوں تک اپنی دھاک بٹھا چکا ہے۔ لیکن اس عظیم شخصیت کی زندگی بھی غلطیوں سے خالی نہیں۔ اپنی کتابوں، انٹرویوز، اور مختلف مواقع پر عمران خان نے خود کئی ایسی غلطیاں تسلیم کی ہیں جو ان کی زندگی کے مختلف مراحل میں سامنے آئیں، چاہے وہ کرکٹ کا دور ہو، اقتدار سے پہلے کا سیاسی سفر ہو، یا پھر اقتدار کے بعد کا مرحلہ۔ اس کالم میں انہی غلطیوں کا ذکر کریں گے جو عمران خان نے خود تسلیم کیں یا جن کے بارے میں ان کے رویے نے ان کے تضادات کو اجاگر کیا۔ عمران خان نے اپنی کتاب * ”Imran Khan: The Autobiography“ * ( 1983 ) اور بعد میں * ”Pakistan: A Personal History“ * ( 2011 ) میں اپنی ذاتی زندگی کے کئی گوشوں پر بات کی۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ کرکٹ کے ابتدائی دنوں میں وہ کافی عیاش زندگی گزارتے تھے۔ لندن کے کلبوں میں راتیں گزارنا، پارٹیوں میں وقت ضائع کرنا، اور ذاتی تعلقات میں لاپرواہی ان کی زندگی کا حصہ رہی۔ انہوں نے خود لکھا کہ وہ اس دور میں ”playboy“ کے طور پر مشہور ہو گئے تھے، جو ان کے کرکٹ کیریئر کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا تھا۔ اسی دور میں انہوں نے جوا کھیلنے کا بھی اعتراف کیا۔ اپنی کتاب میں انہوں نے بتایا کہ وہ لندن میں اپنے ابتدائی دنوں میں جوا کھیلتے تھے، خاص طور پر بلیک جیک اور رولیٹی جیسے گیمز پر پیسہ لگاتے تھے، جو ان کے لیے مالی طور پر نقصان دہ تھی اور اسے چھوڑنے کے لیے انہوں نے کافی جدوجہد کی۔ کرکٹ کے دوران انہوں نے ایک تکلیف دہ غلطی کا ذکر بھی کیا کہ کاونٹی کرکٹ کھیلنے کی وجہ سے وہ اپنی والدہ کے جنازے میں شرکت نہ کر سکے، جس پر انہیں بعد میں گہرے دکھ کا احساس ہوا۔ اسی طرح انہوں نے اپنی کتابوں اور انٹرویوز میں اپنے والد کے بارے میں بھی منفی باتیں کیں، ان کے ساتھ تعلقات کو تنقید کا نشانہ بنایا، اور ان کے جنازے میں برائے نام شرکت کے بعد رسمِ قل سے پہلے ہی میانوالی سے لاہور آ گئے، جو ان کے خاندانی فرائض سے کترانے کی عکاسی کرتا ہے۔ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد کمنٹری کے دوران انہوں نے ایک اور غلطی کا اعتراف کیا کہ انہوں نے کچھ میچوں میں غیر مناسب انداز اپنایا، خاص طور پر جب انہوں نے 1990 کی دہائی میں میچ فکسنگ یا ہیر پھیر کے بارے میں باتیں کیں، جو کئی کھلاڑیوں اور ٹیموں کے لیے غلط فہمی کا باعث بنی۔ سیاست میں آنے سے پہلے عمران خان نے 1996 میں پاکستان تحریکِ انصاف بنائی، لیکن انہوں نے تسلیم کیا کہ انہیں اس وقت سیاست کا تجربہ نہ تھا۔ انہوں نے مانا کہ ان کی پارٹی کا ابتدائی ڈھانچہ کمزور تھا اور 1997 کے انتخابات میں کوئی سیٹ نہ جیتنے کی وجہ ان کی ووٹرز تک رسائی کی ناکامی تھی۔ تاہم، ان کا سیاسی رویہ وقت کے ساتھ تضادات سے بھر گیا۔ اقتدار سے پہلے وہ احتجاج کو اپنا حق قرار دیتے تھے، لیکن اقتدار میں آ کر احتجاج کرنے والوں کو غدار کہنے لگے۔ اقتدار سے پہلے اور اقتدار میں وہ فوج کی شان میں زمین و آسمان کے قصیدے پڑھتے تھے، لیکن اقتدار کے بعد فوج کو میر صادق اور میر جعفر بنا کر پیش کیا۔ اقتدار میں جنرل باجوہ کے حق میں ”ایک پیج“ پر ہونے کے بیانات دیتے رہے، لیکن اقتدار سے دوری پر انہی باجوہ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ اقتدار سے پہلے وہ کہتے تھے کہ وہ ڈکٹیشن نہیں لیں گے اور آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے، لیکن اقتدار میں آ کر نہ صرف آئی ایم ایف کے آگے گھٹنے ٹیکے بلکہ سٹیٹ بینک آف پاکستان تک گروی رکھ دیا، اور اقتدار سے محرومی پر الزام لگایا کہ سارے فیصلے فوج کرتی تھی اور وہ ”ڈمی وزیراعظم“ تھے۔ 2018 میں اقتدار میں آنے کے بعد انہوں نے معاشی ٹیم کے غلط انتخاب کو تسلیم کیا، خاص طور پر اسد عمر کو و زیرِ خزانہ بنانا اور پھر ہٹانا، جو ان کی حکمتِ عملی کی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل رپورٹس کے مطابق ان کے دور میں سب سے زیادہ کرپشن ہوئی، جو ان کے ”نیا پاکستان“ کے وعدوں سے متصادم ہے۔ اقتدار میں وہ سیاسی قیدیوں کے حقوق کی بات کو نظر انداز کرتے رہے، لیکن اقتدار سے محرومی کے بعد اچانک انہیں سیاسی قیدیوں کے حقوق یاد آ گئے۔ مختلف سیاسی شخصیات جیسے محمود اچکزئی، مولانا فضل الرحمن، اور دیگر کے بارے میں توہین آمیز گفتگو کرتے رہے، لیکن اب ان کی تعریف میں کلام سنائی دیتا ہے۔ دھرنے کے دوران رات کو کسی سیاستدان کو برا بھلا کہہ کر صبح ناشتہ پر اسے اپنے ساتھ ملا کر ”صادق الامین“ کہلوانا ان کے تضادات کا سب سے واضح ثبوت ہے۔
عمران خان کی زندگی کامیابیوں سے بھری ہوئی ہے، لیکن انہوں نے اپنی غلطیوں سے سیکھنے کی کوشش بھی کی۔ ان کی کتابوں اور بیانات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ اپنی کمزوریوں کو تسلیم کرنے سے نہیں گھبراتے، لیکن ان کے رویے میں مستقل تبدیلی اور تناقض نے ان کی ساکھ کو سوالات کے دائرے میں لا کھڑا کیا۔ کیا وہ ان غلطیوں سے سیکھ کر مستقبل میں بہتر فیصلے کر پائیں گے؟ یہ وقت ہی بتائے گا۔


