خان کی رہائی بڑی عید سے پہلے کیوں ضروری ہے؟


بڑی عید اس لئے بھی بڑی ہوتی ہے کہ ذمہ داریوں کا بھار بڑا ہوتا ہے۔ بنی گالہ جیسے علاقے میں جہاں گھر بڑے ہیں وہیں مارکیٹیں، دکانیں اور آبادی بہت کم۔ گنجان آباد محلوں اور آبادیوں میں رہنے والے ہم لوگ قصائی باآسانی ڈھونڈ لیتے ہیں۔ بنی گالہ میں رہنے والوں کو قصائی آسانی سے مہیا نہیں ہوتا۔ قربانی کا جانور اور مالک قصائی کے انتظار میں ہلکان ہوتے رہتے ہیں اور قصائی ندارد۔

خان عید سے پہلے رہا ہو جائے تو بنی گالہ کے چند رہائشی قربانی سے مستفید ہو جائیں گے۔ خان کو پیسوں کی کمی نہیں، وہ فری میں جانور ذبح کرے گا، خان گوشت کی بوٹیاں بھی نفاست سے کرے گا جیسے اس نے ملکی جمہوریت کی کیں۔ قربانی کے لئے بیل کو زمین پر گرانا مشکل ترین عمل ہے۔ کہتے ہیں خان نے مقتدرہ جیسے بیل کو نتھ ڈال رکھی ہے۔ قربانی والے بیل کے لئے تو خان اکیلا ہی کافی ہو گا۔

خان عید پر قصائی نہ بھی بنے تو عوامی خدمت کے درجن راستے کھلے ہیں۔ کوفتے اور کبابوں کا قیمہ بنانا اہم کام ہے۔ بنی گالہ کے کسی کوچے پر خان قیمے والی مشین رکھ کر بڑے گوشت کا بہترین قیمہ بنا سکتا ہے۔ قربانی میں وصول ہونے والے پائے اور سریاں صاف کرنا تو سب سے مشکل ترین عمل ہے۔ پائے کے بال اتارنے اور سریوں کو صاف کرنے کے واسطے خان قومی خدمات پیش کر سکتا ہے۔

قربانی کے لئے پائیدار اور کم قیمت مڈیاں حاصل کرنا بھی کسی کار لاحاصل سے کم نہیں۔ خان چاہے تو بنی گالہ کے جنگلوں سے لکڑیاں کاٹ کر خوبصورت اور مضبوط مڈیاں بھی تیار کر کے بیچ سکتا ہے۔ ٹوکے چھریاں کاٹ دار نہ ہوں تو قربانی کا مزہ ادھورا رہ جاتا ہے۔ خان بڑی عید سے پہلے رہا ہو جائے تو ٹوکے چھریاں تیز کرنے کا ٹھیا کھول سکتا ہے۔

جانور کو خرید کر لائیں تو کھلائیں گے کیا؟ خان چاہے تو غذائیت سے بھرپور اور زود ہضم چارے کی دکان بھی کھول سکتا ہے۔ قربانی کے بعد قربانی کا گوشت ٹھیک طرح سے نہ کھایا تو قربانی ادھوری رہ جاتی ہے۔ باربی کیو ہی اصل چیز ہے جس سے قربانی اپنے تمام تر لوازم کے ساتھ مکمل ہوتی ہے۔ خان چاہے تو باربی کیو انگیٹھیاں، سیخیں اور کوئلے بھی بیچ سکتا ہے۔

خان کے بغیر بڑی عید ادھوری ہے۔ ہم طاقتور حلقوں سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ اہالیان بنی گالہ پر رحم کریں اور خان کو بڑی عید سے پہلے رہا کریں تاکہ لوگ بڑی عید کا لطف اٹھا سکیں۔

Facebook Comments HS