چائلڈ میرج رسٹرین بل 25۔ 2024 اور مُلّا
سب سے پہلے تو شکر ہے کہ دیر سے ہی سہی مگر یہ بل پاس ہو گیا۔ افسوس اس بات کا ہے کہ مائیک والے مولوی سے لے کر اسلامی نظریاتی کونسل میں بیٹھے ہوئے سند یافتہ تک کو یہ بل بے دینی اور غیر اسلامی لگ رہا ہے۔ سوال ہے کہ کیا اٹھارہ سال سے کم عمر لڑکی یا لڑکی کی شادی پر پابندی سے دینی احکام میں کوئی خلل واقع ہو رہا ہے؟ چائلڈ میرج رسٹرین بل 25۔ 2024 پر جس طرح علماء حضرات رد عمل دے رہے ہیں یوں لگتا ہے جیسے اسلام پر حملہ ہوا ہے۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہمارا معاشرہ بیوہ، طلاق یافتہ اور ان خواتین کی شادی پر زور دیتا جن کی شادی کسی خاندانی یا سماجی مسئلہ کی وجہ سے بر وقت نہ ہو سکی۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ معاملہ اس سے الٹ ہے۔ جن کے ساتھ کسی بھی قسم کا کوئی نام نہاد سوشل سٹگما نہیں ہے ان کی شادی پر زور دیا جا رہا ہے اور جن کو واقعتاً شادی کی شکل میں سہارے اور آسرے کی ضرورت ہے اس پر علما لب سی کر بیٹھے ہیں۔ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ یہاں معاشرہ دین کے پردے میں نفس پرستی اور مفاد پرستی دکھا رہا ہے؟ اگر یہ دین کے لیے اتنے ہی مخلص اور صادق ہوتے تو اوپر ذکر کئی گئی خواتین کی شادیوں پر بھی اسی طرح بات کرتے، تحریک چلاتے۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ آخر سب کو کم عمر، معصوم، اور بقول بانو قدسیہ ”ڈبہ پیک“ لڑکی چاہیے۔ پہلی ترجیح وہی ہے۔ اسی لیے جب چائلڈ میرج پر پابندی کی بات ہوتی ہے تو ملا صاحبان اسے خلاف شریعت قرار دیتے ہیں۔ جب کہ شریعت میں کم عمر کی شادی کی محض ”اجازت“ ہے۔ اس کا ”حکم“ نہیں ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے ہمارے لیے ہر سبزی اور صحت کے لیے غیر مضر نباتات حلال ہے، لیکن اگر کسی وجہ سے اس کے استعمال یا کھانے پر پابندی لگا دی جائے تو دین بھرشٹ نہیں ہو جاتا۔
اللہ نے انسان کو عقل اسی لیے دی کہ وہ اسے استعمال کرے، اجتہاد کرے۔ اگر ہم نے طبی اور سائنسی علوم، تحقیقات اور ان کے نتائج کو رد کرنا ہے تو شاید ہم دین پر کبھی بھی پورا پورا عمل نہ کر سکیں۔ ریپ (زنا بالجبر) کا کیس ہو تو اسلام میں چار گواہ لانے کی شرط ہے۔ لیکن اگر گواہ نہ ہوں تو کیا کیا جائے؟ گواہ کی عدم موجودگی میں عورت اللہ کو گواہ بنا کر چار بار یہ اعتراف کرتی ہے، قسم کھاتی ہے اور پانچویں بار یہ کہ اگر وہ جھوٹ بولے تو اللہ کا عذاب اس پہ نازل ہو اسی طرح مرد بھی۔ یہ شرعی نکتہ ہے۔ عدالت میں ثبوت چاہیے ہوتا ہے اور قسم کو ثبوت نہیں مانا جاتا۔ ویسے بھی جو شخص قتل، ریپ یا ڈکیتی جیسے سنگین گناہ اور جرائم کر لیتا ہے اس کے لیے جھوٹی قسم کھانا کوئی بہت بڑی بات نہیں ہے۔ تو پھر کیا ملزمان کو بری کیا جائے؟ اور بری کرنا انصاف کا تقاضا ہے؟ نہیں نا؟ اس صورت میں ملزم کا ڈی این اے ٹیسٹ کیا جائے گا اور اگر ڈی این سے شواہد ثابت ہو جاتے ہیں تو دین میں کوئی سختی نہیں ہے کہ وہ تو سائنسی طریقہ تھا لہذا یہ قابل اعتبار نہیں، بہر صورت چار گواہ ہی حاضر کیے جائیں۔ ریپ کے لیے ہم سائنس کی مدد لیتے ہیں اس پر بھروسا کر لیتے ہیں تو چائلڈ میرج میں جو مسائل آتے ہیں وہ بھی میڈیکل سائنس ہی بتا رہی ہے اس پر بھی بھروسا کر لیں۔ یہ آپ کا مذہب ضائع نہیں کروا رہی۔
علماء حضرات سے بصد ادب گزارش ہے کہ اللہ کا نام لیں اور ہاتھ ہولا رکھیں۔ نان ایشو کو ایشو نا بنائیں اور بند دماغ کی کوئی کھڑکی کھول دیں۔ ورنہ ظاہر بات ہے کہ آج کی نسل بھی آپ کو وہی کچھ کہے گی جو علامہ اقبال ایک صدی پہلے آپ کو ”ارمغان حجاز“ میں کہہ گئے ہیں۔
بہ مدرسہ ملاّ را ببین، اندر صفِ کہنہ پرست
ز علم و حکمت بے خبر، از دین فقط رسم و ہنر
نہ سوز و ساز زندگی، نہ ذوقِ تحقیق و نظر
کمالِ او در گفت و گو، جنجالِ اَبجد با زَبر
نگہت آلودۂ حیل، عمل ز تقلیدش ضرر
حریمِ دین از کارِ او ناپاک و تارِش بے اثر
نمی داند ز اسرارِ درونِ سینۂ بشر
کہ داند آنکو نازَد از تقلیدِ افکارِ دگر؟
ترجمہ:
مدرسے کے ملا کو دیکھ، وہ پرانی رسموں کی صف میں کھڑا ہے۔
وہ علم و حکمت سے بے خبر ہے، اس کے نزدیک دین صرف رسم و رواج ہے۔
نہ اس میں زندگی کا جوش ہے، نہ تحقیق کی چاہ۔
اس کا کمال صرف فضول گفتگو ہے، صرف الفاظ کا کھیل۔
اس کی نظر دھوکے سے آلودہ ہے، اور اس کے عمل سے صرف نقصان ہے۔
اس کے ہاتھوں دین کی حرمت ناپاک ہوئی ہے، اور اس کی باتیں بے اثر ہیں۔
وہ انسان کے باطن کے رازوں سے ناواقف ہے،
کیونکہ جو صرف دوسروں کی باتوں کی نقالی کرے، وہ بھلا کیا جانے؟

