کائنات کا پہلا گیت


بھنبور یونیورسٹی کے قدیم مخزنِ کتب میں وہ دراز الماری آہستہ سے کھولی گئی جسے برسوں سے کسی نے ہاتھ نہ لگایا تھا۔ اس لیے نہیں کہ وہ ٹوٹ چکی تھی، بلکہ وہ خود وقت کی ایک بند کھڑکی بن چکی تھی۔

یہ یونیورسٹی جو کبھی دیبل کے تاریخی شہر کی جان ہوا کرتی تھی ہنوز سمندر کنارے ایک خاموش گواہ کی صورت باقی تھی۔ یہیں سے میر بحر پرانے جہاز رانی کے ماہر بابل میسوپوٹیمیا یونان اور روم تک تجارتی راستے نکالتے تھے۔ یہی وہ جگہ تھی جہاں علم سوداگر صدا اور سونا ایک ہی بندرگاہ پر اترتے تھے۔

پروفیسر زیبا حسن جن کی شہرت اس بات پر ہی قائم نہ تھی کہ وہ تاریخ پڑھاتی ہیں بلکہ اس پر بھی کہ وہ تاریخ کو سن لیتی ہیں، اس الماری کے سامنے کھڑی تھیں۔ سفید دستانے ہاتھوں میں آنکھوں میں حیرت اور دل میں وہی بے چینی جو خواب کے دروازے پر کھڑے ہونے سے پہلے محسوس ہوتی ہے۔

انہوں نے جیسے ہی اس پرانے مخطوطے کو نکالا، ایک ہوا کا جھونکا فضا میں ارتعاش پیدا کر گیا۔ کاغذ زرد اور نازک مگر اس پر لکھے الفاظ تازہ جیسے ابھی کسی نے سوچ کر لکھے ہوں۔

”وقت جامد تھا جبکہ آواز زندہ۔ لفظ مر بھی گئے آہنگ باقی رہا۔ وہی آہنگ وائی ہے کائنات کی پہلی دھن۔“

یہ وہ لمحہ تھا جہاں دیبل کے ساحلوں پر اترتی کشتیوں کی صدائیں روم کی لائبریریوں کی سرگوشیاں اور یونانی فلاسفہ کے کاندھوں پر رکھے گئے بابل کے تختے سب یکجا ہو گئے۔

ڈاکٹر زیبا سمیت چار غیر معمولی اذہان محققین اور مصنفین جو مختلف علموں کے پرچم بردار تھے، جامع بھنبور کی پہچان تھے۔ ڈاکٹر پرویز بھائی جدید طبیعیات کی طلسماتی زبان میں ماورائی آوازوں کی گونج سننے والے۔ نیر نگار شاعر نقاد جو طنز میں چھپی ہوئی سچائی کو مزاح کی چادر میں لپیٹتے تھے۔ ڈاکٹر مہک ملہوترا زبانوں کی کوکھ میں چھپے قدیم وائیوں کو جگانے والی لسانیات ماہر۔ جب یہ چاروں ایک ہی مسودے پر جھکے جو کسی میر بحر نے شاید دیبل سے روم کے سفر پر جاتے ہوئے چپکے سے لکھا تھا تو علم کا پرانا بحری راستہ پھر سے جاگا۔

”وائی درحقیقت وہ مقام ہے جہاں عدد صوت اور شعور کا امتزاج ایک تکون ہوتا ہے۔ تکون جو آواز کی لہری ساخت ہوا کرتی ہے عمودی بھی افقی بھی۔“

رات گئے بھنبور کی گلیوں میں خاموشی پھیل جاتی ہے اور پرانی دیبل کی مٹی ہوا میں ہلکے ارتعاش سے اڑنے لگتی ہے، کائنات ایک کہنہ گیت بن کر اپنے سروں کو دہرانے لگتی ہے۔ نہ اعلان نہ افتتاحی کلمات۔ بس ایک لمحہ! یہی لمحہ یادداشت جاگنے کا ہوتا ہے جب علم سننے والے کو اپنی آغوش میں لیتا ہے۔

یہی وہ وقت تھا پروفیسر زیبا حسن اپنے کمرے میں پرانے بحری نقشہ جات کھولے بیٹھی تھیں۔ ان کے سامنے یونانی بحری چارٹ فونیشیائی تجارتی کتبے اور میسوپوٹیمیائی تختیاں پڑی تھیں۔ سب میں ایک لفظ ایک صدا بار بار ابھرتی تھی: ”ما۔“

ڈاکٹر مہک ملہوترا نے اس رمز کو سب سے پہلے سمجھا۔ وہ بولیں :

”یہ صدا صرف لفظ نہیں، یہ وہ زنجیر ہے جو بکھری ہوئی زبانوں کو ایک نسائی مرکز سے جوڑتی ہے جہاں صوت شعور اور محبت یکجا ہوتے ہیں۔“

اسی لمحے ڈاکٹر نیر نگار جو کائناتی ارتعاشات کی ماہر تھیں بول اٹھیں :
”اگر بگ بینگ کائنات کی پہلی سانس تھی، تو ما اس کا پہلا سرگم تھا۔“

ان کے کمپیوٹر اسکرین پر آواز کی وہ فریکوئنسی نمایاں ہوئی جو پوری کائنات میں سب سے زیادہ قدرتی طور پر نکلتی ہے :

”وائی“ وہ لہجہ جو نہ صرف انسانی گلے سے بلکہ پانی کی لہروں پرندوں کی پکار اور کشتیوں کی چٹختی لکڑیوں سے بھی پیدا ہوتا ہے۔

پرویز بھائی جنہوں نے دیبل بندرگاہ پر لگی ایک قدیم تختی کی نظم کا ترجمہ کیا، بڑے پرخلوص لہجے میں بولے :

”یہی وہ لوری ہے جو سمندروں میں سفر کرتی تھی۔ وہ قوم جو بحری راستوں سے نکلی اپنے ساتھ یہ لفظ لے گئی ماں۔“

اور پھر وہ شعر سنایا جو شاید کسی قدیم میر بحر نے روم کی طرف روانہ ہوتے ہوئے لکھا تھا:

جب لہروں نے لوری گائی
تو کشتیوں نے ماں کو پکارا

ڈاکٹر مہک نے ایک نقشہ کھولا:

”یہ دیکھیں۔ بھنبور سے نکلنے والی صوتی علامت ما بابل کی سمیری تختیوں میں بھی وہی ہے۔ یہ اتفاق نہیں۔ تمام زبانیں ماؤں کی لوریاں ہیں جو وقت کے سمندر میں تیرتی رہی ہیں۔“

پروفیسر زیبا حسن نے اس پر اضافہ کیا:

”ہم شاید تاریخ لکھتے وقت بادشاہوں جنگوں اور فتوحات کا ذکر کرتے ہیں مگر اصل تہذیب ان ماؤں کی تھی جنہوں نے گھروں کو گودوں سے تعمیر کیا جن کی آوازوں نے نسلوں کو زبان دی۔“

مسودے کے آخری صفحے پر وہی سطر پھر نمایاں ہوئی:
”تم سب واپس آ جاؤ۔ ماں تمہارا انتظار کر رہی ہے۔“

بھنبور یونیورسٹی کا کمرہ جو کبھی کتب خانہ تھا اب دیبل کی بندرگاہ بن چکا تھا جہاں چار محققین جہاز پر سوار ہونے سے پہلے آخری بار افق کو دیکھتے ہیں۔ انہیں معلوم ہے یہ سفر نئے علم کی تلاش کا نہیں، بلکہ اصل کی بازیافت کا ہے۔

اصل جو شاید نسائی صدا میں پوشیدہ ہے۔
اصل، جو ”ماں“ ہے۔

Facebook Comments HS