آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور طلبا کا مستقبل


میری رائے میں، صنعتی انقلاب یا پرنٹنگ پریس کی ایجاد کے بعد انسانیت نے ایسی بنیادی تبدیلی شاید ہی دیکھی ہو۔ جہاں پہلے فلورنس، برطانیہ اور سلیکون ویلی کی بات ہوتی تھی، آج دنیا ابوظہبی کا ذکر کر رہی ہے۔ صدر ٹرمپ کا حالیہ دورہ، امارات۔ امریکہ کی AI شراکت داری، اور دنیا کا سب سے بڑا AI کیمپس، یہ صرف کاروباری اعلانات نہیں ہیں، بلکہ عالمی سطح پر تبدیلی کے ایک نئے دور کا آغاز ہیں۔

جب میں ان لمحات کے بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے کچھ غیر معمولی ہوتا ہوا محسوس ہوتا ہے :

ٹیکنالوجی کی جدت کا مرکز اور عالمی معیشت کی دھڑکن، سب کچھ بدلتا دکھائی دے رہا ہے۔ یہ تبدیلی مغرب سے مشرق کی طرف ہو رہی ہے۔ اور آپ، ہمارے فارغ التحصیل طلباء، محض ناظر نہیں بلکہ اس تبدیلی کے معمار ہیں۔ یہ آپ کا وقت ہے۔ یہ آپ کی پکار ہے۔ یہ وہ لہر ہے جو نہ صرف آپ کے کیریئر بلکہ عالمی ٹیکنالوجی اور سماجی و معاشی منظرنامے کی سمت طے کرے گی۔

MENA (مشرق وسطی اور شمالی افریقہ) وہ خطہ ہے جہاں مستقبل بسایا جا رہا ہے، اور AI وہ بنیاد ہے جس پر یہ مستقبل قائم ہو گا۔ ایک یونیورسٹی کے صدر کی حیثیت سے، میں آج آپ کے سامنے صرف امید نہیں بلکہ فخر کے جذبے سے کھڑا ہوں، کیونکہ جو تبدیلی ہم دیکھ رہے ہیں، وہ بے مثال ہے اور جو کچھ آپ دنیا میں لے کر آنے والے ہیں، وہ انقلابی ہو گا۔

مجھے کیوں فخر ہے؟ کیونکہ مجھے یقین ہے آپ دنیا میں تبدیلی کا سبب بنیں گے۔
لیکن میں یہ سوال ضرور اٹھاؤں گا:

کیا ہم اس بنیادی تبدیلی کے لیے واقعی تیار ہیں؟ کیا ہمارے اندر وہ ذہن، حوصلہ، اور قابلیت ہے جو اس سفر کے لیے درکار ہے؟

مجھے اس کی وضاحت کرنے دیجیے :
1۔ ہمیں یقین (Conviction) ہونا چاہیے۔

ہمیں پرانی سوچ سے آزاد ہونا ہو گا؛ شکوک کا خیر مقدم کرنا ہو گا؛ علمی آزادی، مباحثے اور مختلف آراء کو قبول کرنا ہو گا؛ اور میرٹ اور عمدگی کے حصول میں کبھی شرمندگی محسوس نہیں کرنی ہو گی۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہر بڑی سائنسی پیش رفت ابتدا میں مزاحمت کا شکار رہی۔ کاپر نیکس، آئن سٹائن، اور کوانٹم مکینکس کے موجدین کو پہلے پہل شکوک اور مخالفت کا سامنا کرنا پڑا مگر بعد میں انہی خیالات نے حقیقت کا تصور بدل کر رکھ دیا۔

2۔ ہمیں حوصلہ (Courage) چاہیے۔

یہ صرف خطرہ مول لینے کی بات نہیں بلکہ بنیادی اقدار کی حفاظت اور ان پر ثابت قدم رہنے کی بات ہے۔ ہمیں آرام دہ ماحول سے باہر آنا ہو گا، خود کو چیلنج دینا ہو گا، مشکل مسائل سے نمٹنا ہو گا، اور اپنی سوچ کو بدلنے کے لیے تیار رہنا ہو گا۔

3۔ ہمیں قابلیت (Capability) چاہیے۔

نئی مہارتیں، بامقصد سوچ، اور نتائج پر مبنی رویہ درکار ہے۔ AI جیسے نئے آلات کے ساتھ مہارت، اور انسانی تخلیقیت، تنقیدی سوچ، اور مطابقت پذیری ہی ہمیں اصل لیڈر بناتی ہے۔ یہی وہ صفات ہیں جو سدا بہار ہیں۔

خود کو محدود نہ کریں : خود حوالہ جاتی سوچ سے بچیں۔ ہمیں اس خطرناک سوچ سے بچنا ہو گا جسے میں ”self referential thinking“ کہتا ہوں، یعنی ہمیشہ پرانے نظریات کی روشنی میں نئی تبدیلی کو دیکھنا۔ AI کا مقصد یہ نہیں کہ کل کے پرانے کام بہتر کیے جائیں، بلکہ یہ کہ کل کی ناممکنات کو ممکن بنایا جائے۔ جیسے پرنٹنگ پریس نے علم کو عام کیا، ویسے ہی AI ذہانت کو عام کر رہا ہے۔ مستقبل میں جیو، ماضی میں نہیں۔ جب آپ اگلے سفر کی تیاری کریں، اپنے ماضی کو اپنی حدود نہ بننے دیں۔

اکثر لوگ کہتے ہیں :
”میرا تعلیمی میجر X تھا، میں نے Y سیکھا، تجربہ Z کا ہے تو میں X+Y+Z کر سکتا ہوں۔“
میرا طریقہ مختلف ہے :

پہلا سوال یہ ہونا چاہیے : مسئلہ کیا ہے؟ اگر میرا تجربہ ہے، تو تیزی سے حل کی طرف جاؤں گا۔ اگر نہیں ہے، سیکھ لوں گا۔ میری منزل میری راہنمائی کرے گی، میرا ماضی نہیں۔

میں خود چین سے امریکہ گیا۔ وسائل محدود تھے، مگر میں نے یقین رکھا۔ 30 سال کی عمر تک مجھے کمپیوٹر سائنس نہیں آتی تھی۔ میں نے UC Berkeley میں شروع سے کمپیوٹر سائنس سیکھی، پانچ سال میں CMU کا پروفیسر بن گیا، اور آج Computational Biology میں کام کر رہا ہوں۔

اسی طرح، جب میں اس یونیورسٹی کا صدر بنا، میرے پاس ایڈمنسٹریشن کا تجربہ نہیں تھا۔ مگر وژن تھا: MENA خطے میں ایک نئی، انقلابی یونیورسٹی بنانا جو عالمی AIمنظر پر چھا جائے۔

AI سے متعلق سب کا سوال: کیا یہ انسانوں سے زیادہ طاقتور ہو جائے گا؟

یہ سوال ہی غلط فہمی کو ظاہر کرتا ہے۔ انسانی ذہانت ہمیشہ ٹیکنالوجی سے بڑھی ہے مثلاً تحریر، پرنٹنگ، بجلی، انٹرنیٹ اور اب AI۔

AI کوئی خطرہ نہیں، بلکہ موقع ہے۔ یہ ایک ابھرتی ہوئی لہر ہے اور انسانیت ایک کشتی جو اس پر پروان چڑھ رہی ہے۔ موجودہ عالمی حالات میں AI کی دوڑ میں دو طرح کے مسائل ہیں۔ ایک، دوسروں کو روکنا؛ دوسرا، خود آگے بڑھنا۔

UAE۔ US شراکت داری دوسرا راستہ ہے، ہم جدت سے، تعلیم سے، اور نئے آئیڈیاز سے مشکلات کا مقابلہ کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔

MBZUAI کا وژن: صرف ایک اور یونیورسٹی نہیں بلکہ ایک مشعل راہ۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری جامعہ، تعلیم اور جدت کا ایک نیا ادارہ ہو۔ جہاں big tech کی وسعت اور تعلیمی تحقیق کی شفافیت ایک جگہ اکٹھی ہوں۔ یہ عمل آسان نہیں ہو گا۔ یہ تکلیف دہ ہو گا۔ مگر دنیا کے بڑے مسائل جیسے موسمیاتی تبدیلی، صحت عامہ، اور پائیدار ترقی، یہی تقاضا کرتے ہیں۔ ہمیں بنیادی تحقیق کو وقت دینا ہو گا کیونکہ یہی وہ بیج ہیں جو کل کے انقلاب کو جنم دیں گے۔

آپ کا مشن: تبدیلی بننا، آج آپ صرف ایک ڈگری نہیں لے رہے بلکہ انسان۔ AI اشتراک کو بہتر بنانے کی ذمہ داری لے رہے ہیں۔ دنیا کو ایسے افراد کی ضرورت ہے جو تکنیکی مہارت، اخلاقی اقدار، کاروباری جذبے، اور سماجی ذمہ داری کا امتزاج رکھتے ہوں۔
مستقبل آپ کے ہاتھ میں ہے۔ قدم بڑھائیں، اور نئی دنیائیں تلاش کریں۔

Facebook Comments HS