کینیا کا مشہور ناول نگار نگوگی واتھیونگو
بیرونِ ملک مقیم میرے بھائیوں سے بھی بڑھ کر ایک دوست بخوبی جانتے ہیں کہ پاکستان میں رہتے ہوئے بھارتی اخبارات تک رسائی بہت مشکل ہے۔ میری پیشہ وارانہ ضرورتوں کا احساس کرتے ہوئے وہ لمحہ بہ لمحہ واٹس ایپ کے ذریعے بھارت کی تازہ ترین خبروں سے آگاہ رکھتے ہیں اور ان ہی کی بدولت گزری جمعرات کی سہ پہر مجھے اطلاع ملی کہ بھارتی سینا کے پتی یوپی اور مدھیہ پردیش کی سرحد پر واقع ایک پہاڑی مقام پر پہنچے۔ وہاں موصوف کے گرو نے ایک آشرم بنا رکھا ہے۔ گرو کے چرن چھونے کے بعد انھیں حکم ہوا کہ بھگوان کی رحمتوں سے مالا مال ہونا چاہتے ہو تو پاکستان کے حصے میں موجود کشمیر کو ہر طرح کے جتن لگاکر ’آزاد‘ کروانے کو ڈٹ جائو۔ یہ خبر اور اس سے متعلق تصاویر اور وڈیو دیکھ کر میں غصے سے تلملااٹھا۔ اپنے ٹی وی شو اور سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارموں پر ہذیانی غصے کے اظہار کے باوجود تسلی نہیں ہوتی۔ کافی دن گزرنے کے بعد بھی انتہائی دکھ یہ سوچتے ہوئے محسوس ہو رہا ہے کہ بھارتی فوج کے سربراہ کی فوجی وردی پہن کر اپنے گرو کے ہاں حاضری کو ہمارے میڈیا نے سنجیدگی سے نہیں لیا۔ اسے بنیادی طور پر پھکڑپن کا نشانہ بنا کر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ ارادہ باندھا تھا کہ اتوار کی صبح اٹھ کر جو کالم لکھوں گا وہ بھارتی آرمی چیف کی اپنے گرو کے ہاں حاضری کو جامع انداز میں زیر بحث لانے پر توجہ دے گا۔
ہفتے کی صبح اٹھا تو ٹویٹر کے ذریعے خبر ملی کہ کینیا کے مشہور ناول نگار نگوگی واتھیونگوجہان فانی سے رخصت ہو گئے۔ میں نے ان کا لکھا صرف ایک ناول پڑھا تھا۔ نام ہے اس کا "Devil on the Cross”۔اس عنوان کا سادہ ترین ترجمہ ’صلیب پر لٹکا ہوا شیطان‘ ہو سکتا ہے۔ یہ ناول نگوگی نے کینیا میں جیل میں قید کے دوران لکھا تھا۔ اسے ’باغیانہ خیالات‘ کے وقتاً فوقتاً اظہار کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ایک سال جیل میں رکھنے کے باوجود برطانوی سامراج کی انتظامیہ مگر طے نہ کر پائی کہ اس کے خلاف کس انداز میں فردِ جرم عائد کرتے ہوئے طویل سزا یقینی بنائی جائے۔
فردِ جرم کی تصنیف سے قاصر جیل حکام نے مگر نگوگی پر کڑی نگاہ رکھی۔ بنیادی مقصد ان کا یہ رہا کہ قید کے دوران وہ کوئی اور ناول یا ڈرامہ تحریر نہ کر پائے۔ اس کی گرفتاری کی وجہ اس کا لکھا ہوا ایک ڈرامہ تھا جو ’سٹریٹ تھیٹر‘ کی ابتدائی شکل تھا۔ اس میں لوک موسیقی اور رقص کے ذریعے کہانی کو یوں آگے بڑھایا گیا جو ڈرامے کے شائقین کو اس امر پر اُکساتی کہ وہ اپنی نشستوں سے اٹھ کر سٹیج پر چلے جائیں اور لوک گیتوں میں بیان ہوئی خواہشِ بغاوت کے اظہار کے لیے اداکاروں کے ساتھ مل جائیں۔ بظاہر نگوگی نے اپنی جانب سے اس ڈرامے کے لیے غالباً چند ہی سطریں لکھی تھیں۔ اپنے ملک کی لوک داستانوں، گیتوں اور رقص کو اس انداز میں مرتب کیا کہ تماشائی برطانیہ کی غلامی کا احساس کرتے ہوئے اپنی زنجیریں توڑنے کو بے چین ہوجائیں۔ خود پر کڑی نگاہ کے باوجود نگوگی نے ’صلیب پر لٹکا ہواشیطان‘ یہ بہانہ تراش کر مکمل کیا کہ اسے دست لگ گئے ہیں۔ جیلر حکام کا فراہم کردہ علاج اسے شفایاب نہیں کر پا رہا۔ جیل کے غسل خانے میں متعدد بار جا کر وہ ٹائلٹ پیپر پر یہ ناول لکھتا رہا۔
جن دنوں وہ یہ ناول لکھنے میں مصروف تھا کینیا میں ’مائو مائو‘ تحریک کا آغاز ہو چکا تھا۔ فرانس اور سپین کے مقابلے میں برطانیہ کے غلام ہوئے ملکوں میں گوریلا جنگوں کی گنجائش نکالنا بہت مشکل تھا۔ مکار سامراج نے ’قانون کی حکمرانی‘ کے نام پر ہمیں غلام بنائے رکھا۔ مہاتما گاندھی کا متعارف کردہ ’عدم تشدد‘ بھی اس ضمن میں بہت کام آیا۔ کینیا میں لیکن گوریلا جنگ کے جواز واسباب نمایاں ہو گئے۔ بنیادی طور پر یہ ’جنگ‘ کسانوں کی بغاوت تھی جو اپنی زمین پر غیروں (گوروں) کے قبضے کے خلاف لڑی گئی۔ برطانیہ کو گوریلا جنگوں سے نبرد آزما ہونے کی عادت نہیں تھی۔ خود کو اس کے روبرو بے بس محسوس کرتے ہوئے وہ مزید وحشی ہو گیا۔ کتابوں کے ذریعے علم ہوا ہے کہ جب ریاستی تشدد ’مائو مائو تحریک‘ پر قابو پانے میں مسلسل ناکام رہا تو ہمارے بلوچستان میں سردار اور ان کی لیویز کا نظام متعارف کروانے والے رابرٹ سینڈیمن کو کینیا طلب کر کے مذکورہ تحریک کو سیاسی چالوں سے ختم کرنے کا ٹاسک سونپا گیا۔ بالآخر وہ تحریک ناکام ہو گئی۔ اس میں حصہ لینے کے جرم میں لیکن نگوگی کے بھائی کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ آبائی گائوں میں اس کے والدین اور قریبی رشتے داروں کے گھر مسمار کر دیے گئے۔ نگوگی کی زندگی میں حیران کن ڈرامہ یہ بھی ہوا کہ اس کا ایک سوتیلا بھائی مائو مائو تحریک کے خلاف مخبری کے فرائض سرانجام دیتا رہا۔
برطانوی سامراج کے ہاتھوں ملی برسوں تک اپنے خاندان سمیت ذلت و مشقت برداشت کرنے کے باوجود برطانیہ سے ’آزادی‘ کے بعد کینیا میں جو حکومت آئی اس نے بھی اس کے خیالات کو ’باغیانہ‘ ہی شمار کیا۔ اپنی جان بچانے وہ مختلف ملکوں سے ہوتا ہوا بالآخر امریکا پہنچ کر ایک یونیورسٹی میں پڑھانے لگا۔ وطن سے دوری اور قطع تعلقی بھی لیکن اس کے کام نہ آئی۔ کینیا کی ’آزادی‘ کے کئی برس بعد وہ 2004ء میں وہاں اپنی بیوی سمیت گیا تو جس کمرے میں ٹھہرا ہوا تھا وہاں ’ڈاکو‘ آ گئے۔ ’ڈاکہ‘ مگر برائے نام تھا۔ نگوگی کو ’سبق‘ سکھانے کے لیے اس کی بیوی کو اس کی آنکھوں کے سامنے گینگ ریپ کا نشانہ بنایا گیا۔ کینیا کی حکومت ’ڈاکوئوں‘ کا سراغ لگانے میں آج تک کامیاب نہیں ہو پائی۔
نگوگی کا لکھا فقط ایک ناول پڑھنے کے باوجود میں اس کے لکھے مضامین پڑھ کر چونک جاتا تھا۔ اس کے لکھے مضامین اس خیال کو تکرار سے اجاگر کرتے ہیں کہ سامراج ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت غلام بنائے ملکوں کے باسیوں کو ان کی زبان کے بارے میں شرمندہ محسوس کرنے کو مجبور کرتا ہے۔ برطانیہ نے مثال کے طورپر انڈیا، کینیا اور نائیجریا جیسے ملکوں میں انگریزی زبان کے فروغ پر توجہ دی۔ افریقہ میں نوبت یہاں تک پہنچی کہ لوگ اس بحث میں الجھ جاتے ہیں کہ ’نائیجیریا کی انگریزی‘ اچھی ہے یا ’کینیا کی‘۔ نگوگی کی نگاہ میں اپنی مادری زبان چھوڑ کر بالآخر اسے بھلا دینا غلامی کی حقیقی پہچان ہے۔ اس پہچان کو وہ ’باعثِ شرم‘ پکارتا رہا۔ اسی باعث عمر کے آخری برسوں میں وہ ناول پہلے مادری زبان میں لکھتا اور بعدازاں اسے عالمی دنیا تک پہنچانے کے لیے خود ہی اس کا انگریزی ترجمہ کرتا۔ میں اس کے مضامین پڑھ کر کئی دنوں تک شرمسار رہتا۔ نہایت شرمندگی سے یہ حقیقت سینے کو جلائے رکھتی کہ میں اپنی مادری زبان یعنی پنجابی میں ایک سطر بھی نہیں لکھ سکتا۔ عمر کا بیشتر حصہ انگریزی اخبارات کے لیے لکھنے میں صرف کر دیا۔ ہمیشہ مگر یہ خوف لا حق رہتا کہ میری گرامر غلط نہ ہو۔ اردو میں یہ کالم لکھتے ہوئے بھی یہ ہی دھڑکا لگا رہتا ہے۔ میرا ذہن لہٰذا غلام محسوس ہو تو حیران نہیں ہونا چاہیے۔
(بشکریہ نوائے وقت)


