ڈاکٹر رفیق گجر کی ضمانت اور ڈاکٹر عفان قیصر سے چند سوالات


ہم کوئی قانون کے طالب علم نہیں ہیں اور نا ہی اس ضمن میں کوئی ماہرانہ رائے کے مجاز، ہاں زندگی کا ایک ادنی سا طالب علم ہونے کی حیثیت سے اپنی رائے یا مشاہدہ بانٹنے میں کوئی مضائقہ نہیں، زندگی واقعات و حوادث کا مجموعہ ہوتی ہے، مہذب انداز میں اختلاف رائے رکھنا اور مختلف موضوعات پر گفتگو کرنا زندہ اور باشعور معاشروں کی علامت ہوا کرتی ہے۔

ڈاکٹر رفیق گجر کا کیس جس میں کوئی شبہ نہیں جو اپنی نوعیت میں پروفیشنل بددیانتی اور مسیحائی کے اصول و ضوابط کے منافی ایک معاملہ تھا، جب سوشل میڈیا پر ہائی لائٹ ہوا تو معاشرتی رائے خاصی منقسم ہو گئی، سماج کی بہت ساری پرتیں عوام سے پوشیدہ ہوتی ہیں، انہیں بس وہی پتا ہوتا ہے جو ان کے سامنے ہوتا ہے، زیادہ کچھ جاننے کی وہ تگ و دو ہی نہیں کرتے۔

کچھ کی نظر میں یہ سب ڈرامہ ٹھہرا اور ڈاکٹر صاحب کو فرشتہ صفت انسان اپنے تئیں ڈیکلیئر کر دیا گیا۔

سماج کا ایک حصہ ایسا بھی تھا جن کی نظر میں یہ سب سستی شہرت اور پیسہ بنانے کا چکر تھا جس کے لیے خاتون کو مہرہ بنایا گیا۔

کچھ نے وکٹم بلیمنگ کی بجائے متاثرہ فیملی کا بھرپور ساتھ دیا، خاتون اور اس کے شوہر کو ان کی ہمت پر داد دی جن کی بدولت یہ سارا کچا چٹھا سامنے آیا۔

ایک لمحے کے لیے خود کو متاثرہ فریق کی جگہ پر رکھ کر دیکھیں کہ اس کیفیت میں دل پر کیا گزرتی ہے؟

آپ کی بہو یا بیٹی ڈاکٹر کے کیبن سے باہر نکل کر بتائے کہ ڈاکٹر نے اس کے ساتھ جنسی اٹکھیلیاں کی ہیں تو آپ پر اس لمحے کیا بیتے گی؟

اس لمحے بہت سارے تو عزت کے ڈر سے چپ کر جاتے ہیں کیونکہ عزت ہر ایک کو عزیز ہوتی ہے۔

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ابھی ہم سماجی سطح پر اس قدر میچور یا بلند خیال نہیں بن پائے کہ بلا جھجک مظلوم کے ساتھ کھڑے ہو پائیں، ظلم کی انتہا تو یہ ہے کہ متاثرہ فریق پر پیسے بٹورنے کا الزام لگا دیا گیا، ذہنی گراوٹ کی پست ترین سطح ملاحظہ کریں، یہ تک کہا گیا کہ ڈاکٹر کے 40 سالہ کیرئیر کو داؤ پر لگانے کے لیے یہ گھناؤنا کھیل کھیلا گیا۔

سوال یہ ہے کہ کتنوں میں اتنی ہمت یا جرات ہے کہ وہ اپنی گھر کی عزت کو داؤ پر لگا کر پیسہ و شہرت کمانے کا سوچ سکیں؟

سوچ کر ہی پسینے چھوٹ جائیں گے، باتیں کرنا بہت آسان ہوتا ہے لیکن اپنی عزت کو داؤ پر لگا کر کسی کو بے نقاب کرنا بڑے دل گردے کی بات ہوتی ہے اور اسی ہمت کا مظاہرہ متاثرہ خاتون کے شوہر نے کیا ہے، اس کے بعد ہی تو بہت ساری کہانیاں منظر عام پر آنا شروع ہوئیں، بڑے بڑے گونگے بول پڑے۔

اب آتے ہیں کیس کی طرف، کہتے ہیں کہ جج نہیں بولتے بلکہ ان کے فیصلے بولتے ہیں، درخواست ضمانت مسترد ہونے کے بعد فیصلہ کی روشنی میں ڈاکٹر صاحب کے اس عمل کو

Heinous offence

کہا گیا ہے جو ان کے نوبل پروفیشن کے تقدس پر کئی سارے سوالات کھڑے کرتا ہے اور اس پیشے پر انمٹ نقوش چھوڑتا ہے۔

اس فیصلے میں Moral turpitude کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کا واضح مطلب ایسا انتہائی غیر اخلاقی کنڈکٹ جو معاشرے کی تسلیم شدہ اخلاقی اقدار کے منافی ہو اور اخلاقی گراوٹ کا موجب بنے۔

اس کے علاوہ فیصلے میں Ignominy اور Incriminating ایسے الفاظ بھی استعمال کیے گئے ہیں جن کا واضح مطلب ایسا رویہ اور عمل ہوتا ہے جو عوام میں بدنامی اور بدنیتی کے علاوہ اپنے پروفیشن سے انحراف کا سبب بنے۔

جبکہ مدمقابل وکلاء کی ٹیم کے دامن میں سوائے ان دو باتوں کے کچھ نہیں تھا کہ
ڈاکٹر صاحب کو پراپرٹی جھگڑے کی وجہ سے رگیدا جا رہا ہے۔
دوسرا ان کی سیاسی وابستگی کسی پارٹی کے ساتھ ہے۔

بظاہر یہ دو عوامل کتنی مضبوط گراؤنڈ کے حامل ہیں اس کے متعلق تو قانونی ماہرین ہی بہتر رائے دے سکتے ہیں۔

اب رہا یہ سوال کہ جو معاملہ ڈاکٹر اور مریضہ کے درمیان ہوا ہے وہ ایک ایسا واقعہ ہے جو ایک بند کمرے میں ہوا ہے اور جو کچھ مریضہ کے ساتھ ہوا وہ اس نے روتے ہوئے اپنے شوہر کو بتا دیا اور وہ رپورٹ بھی ہو گیا، اب جو بندے باہر بیٹھے وکٹم بلیمنگ کر رہے ہیں کیا ان کی رائے کو معتبر تسلیم کیا جا سکتا ہے؟

ڈاکٹر عفان قیصر نے یک طرفہ کہانی بنا کر ڈاکٹر صاحب کو بری کر دیا اور مظلوم کو مجرم ڈیکلیئر کر دیا، کیا ڈاکٹر عفان قیصر اس واقعے کا چشم دید گواہ ہے؟

کیا وہ وقوعہ کے وقت کمرے میں موجود تھا؟
عفان قیصر سے چند سنجیدہ سوالات ہمارے بھی ہیں، کیا عفان قیصر بتانا پسند کریں گے کہ
Internal ultra sound
Touch breasts & suck the tongue & order patient to close her eyes during this medical process..
یہ میڈیکل کے کون سے ٹیسٹ ہیں رہنمائی فرمائیں۔

دوسرا سوال یہ ہے کہ جب آپ وہاں موجود ہی نہیں تھے تو پھر کسی کے کنڈکٹ کے متعلق سویپنگ اسٹیٹمنٹ دیتے ہوئے کسی کو گڈ کریکٹر سرٹیفکیٹ کیسے عطا کیا جا سکتا ہے؟

بہرحال مقدمے کے ابھی کئی مراحل باقی ہیں، ہمیں بہرحال مظلوم کے ساتھ کھڑے ہونا چاہیے، ملزم کون ہے اور کھرا کون یہ عدالت پر چھوڑ دینا چاہیے۔

Facebook Comments HS