مشتاق احمد یوسفی اور اپنی چارپائی
کیا ادیب اپنے ادبی انداز کو ترک کر سکتا ہے؟ نیا ادبی اسلوب اختیار کرنے کے لیے ادیب کو کتنی قیمت ادا کرنا پڑے گی؟ مشتاق احمد یوسفی اپنے افسانہ ”چارپائی اور کلچر“ میں حقیقت پسندی کے اسلوب کو اختیار کر کے دنیا کو چارپائی سے تشبیہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ چارپائی دنیا سے مختلف نہیں، جو انسانیت کے عروج و زوال کی گواہی دینے کے باوجود ہمیشہ ایک وفادار گواہ رہتا ہے جس کے اندر انسانی امکانات بستے ہیں۔ مصنف کے مطابق، چارپائی ایک نون غنہ سے مختلف نہیں، کہ جب لوگ اس پر بیٹھتے ہوئے اس کے احساس مقصد کو مکمل کر کے ایک ”نون غنہ“ سے ایک مکمل ”ن“ میں تبدیل ہو جاتے ہیں، چارپائی منقوطہ کے بغیر ہی اپنا خود کفیل وجود رکھتی ہے۔ اس افسانہ سے جو سبق ہمیں ملتا ہے، وہ یہ ہے کہ لوگوں کو چارپائی کی طرح بننا سیکھنا چاہیے، کہ ہمارے کندھوں پر کتنا ہی بوجھ کیوں نہ ڈالا جائے، ہم پھر بھی خود کفیل رہ سکتے ہیں۔
مصنف کے مطابق، چارپائی ”خودکفیل تہذیب کی آخری نشانی ہے“ ، کیوں کہ متعدد تخلیقی طریقے جن سے چارپائی کو استعمال کیا جا سکتا ہے انسانی ذہانت کا ثبوت ہے۔ یہ وہ چارپائی ہے جس پر بچے پیدا ہوتے ہیں، جس پر مولوی صاحب بچوں کو اخلاقیات کی اہمیت سکھاتے ہیں، جو سٹریچر میں تبدیل ہو کر اس پر مریضوں کو ہسپتال بھیجا جاتا ہے، جس پر لوگ ان کے آخری ایام کا بھی مشاہدہ کرتے ہیں۔ چارپائی پر بیٹھتے لوگ شکایت کرتے ہیں کہ آٹا کتنا مہنگا ہو گیا ہے، جب کہ چارپائی کبھی بھی شکایت کی آواز نہیں نکالتی۔ اس کے علاوہ، مصنف کے نزدیک چارپائی بغیر کسی سجاوٹ کے اپنی خوبصورتی کا اظہار کرتی ہے، جو استقامت، سادگی اور انہماک والی شخصیات کو مجسم کرتا ہے۔ چارپائی کا ”اقلیدس“ دنیا کے اقلیدس سے مختلف نہیں ہے۔
کیا چارپائی محسوس کر سکتی ہے؟ جب کہ چارپائی محسوس نہیں کرتی، لوگوں کو تسلی دیتی ہے جس میں ”آئندہ سمجھوتے اور میل ملاپ کی گنجائش باقی رہتی ہے“ ۔ یہی چارپائی کسی ایک طبقے اور اسٹیٹس کی بنیاد پر فیصلہ اور امتیازی سلوک کرتی ہے، خواہ کوئی اشرافیہ ہو یا فقیر، چارپائی پر بیٹھنے کے حق سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ لیکن یوسفی صاحب کے نزدیک چارپائی ایشیائی مزاج کا ایک مجسمہ ہے جو عمل پر زور دیتا ہے اور اس کے برکس ”صوفہ“ جو مغربی اقدار کا عکاس ہے آرام فراہم کرنے کے علاوہ کوئی کام نہیں کرتا۔ اسی کے ساتھ ساتھ، جہاں مغرب میں ذاتی شناخت پر بہت زیادہ زور دیا جاتا ہے، ایشیائی زیادہ مفید اقدار پر توجہ دیتے ہیں، لہذا آپ کسی طرح چارپائی کہنا چاہیں، چارپائی اپنے موجودہ نام پر انحصار نہیں کرتی بلکہ عملی اقدار پر انحصار کرتی ہے۔
یوسفی صاحب نے اس افسانے میں طنز و مزاح کا اسلوب کیوں اختیار نہیں کیا، جو ان کی جمالیاتی شخصیت کا خاصہ ہے؟ جہاں ہم گیس کے بل پر کتے کی تصویر چھاپ کر اس کا مذاق اڑا سکتے ہیں، کیا کسی میں اس چارپائی کا مذاق اڑانے کی ہمت ہے جس پر خیبر پختونخوا میں رہنے والے ایک بابا جی اپنے بچے کی دیکھ بھال کرتے ہوئے دوسروں سے کہتے ہیں کہ انہیں اپنی زندگی پر کوئی پشیمانی نہیں ہے۔ آخر چارپائی ہمیں کیا سکھاتی ہے؟ جبکہ چارپائی ہمیں اس حقیقت کی یاد دلاتی ہے کہ ہر چیز کی اپنی خصوصیات ہوتی ہیں، کیا انسان اپنی خصوصیات کو صحیح طریقے سے استعمال کرتا ہے؟ کیا انسان اپنے پیروں کے ساتھ تفریحی پارک میں جانے کا انتخاب نہیں کر سکتا، بلکہ کائنات کی حقیقت اور ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے مسجد میں جا سکتا ہے؟ عید آنے والی ہے، ہم اپنی پیروں کو استعمال کر کے عید گاہ جا کر ضرورت مندوں کی مدد کیوں نہیں کر سکتے؟ ہمیں یہ بنیادی اخلاق سمجھنے کے لیے کسی طنز و مزاح کی ضرورت نہیں ہے۔ عید مبارک۔


