تیاگ: سکون کا راستہ، سکون: خوشی کی کنجی


ایک ایسی دنیا میں جہاں بھاگ دوڑ اور ہنگامہ خیزی ہماری روزمرہ کا حصہ بن چکی ہے، وہاں سکون اور خوشی کی تلاش ایک مشکل امر دکھائی دیتی ہے۔ لیکن کیا یہ محض ایک خواب ہے یا ایک حقیقت جسے پایا جا سکتا ہے؟ مذاہب عالم ہمیں ایک ایسے راستے کی طرف رہنمائی کرتے ہیں جو تیاگ، قربانی اور ایثار کے ذریعے سکون اور پھر خوشی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔

”تیاگ“ ، جسے ہم عرف عام میں قربانی کہتے ہیں، درحقیقت کسی بڑی نیکی یا بہتر مقصد کے لیے کسی چیز سے دستبرداری کا نام ہے۔ قدیم ادوار میں قربانی کا مفہوم کسی شے یا شخص کو مقدس بنانا تھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس کا معنی تبدیل ہو کر خدا کی رضا کے لیے دنیاوی اشیاء کو ترک کرنا یا ان کے نقصان کو برداشت کرنا ہو گیا ہے۔ اس کا حتمی مقصد انسانیت کی فلاح و بہبود ہے۔

تاریخی طور پر مذاہب نے قربانی کی مختلف صورتوں پر زور دیا ہے، جن میں جانوروں کی قربانی، انسانی قربانی (جو اب کسی بھی ریاست میں جائز نہیں، لیکن ماضی میں دنیا بھر کی سوسائٹیز میں رائج تھی) ، اور جدوجہد کے ذریعے قربانی شامل ہیں۔ جدوجہد کی دو اہم صورتیں ہیں : ایک شیطانی قوتوں کے خلاف لڑنا اور دوسری نفسانی خواہشات کے خلاف جدوجہد کرنا۔ ان دونوں کو تمام بڑے مذاہب نے اپنی تعلیمات کا حصہ بنایا ہے۔

اسلامی تناظر میں ’جہاد‘ کا مفہوم اپنے نفس کی برائیوں کے خلاف جدوجہد کرنا ہے۔ اس کا مطلب معاشرے کو بہتر بنانا بھی ہے۔ اس میں اپنے دفاع یا ظلم و جبر کے خلاف میدان جنگ میں لڑنے کا حق بھی شامل ہے۔ اسلامی سیاق و سباق میں جہاد کا مطلب ’اللہ کی راہ میں نیک مقصد کے لیے جدوجہد کرنا‘ ہے، جسے ’جہاد فی سبیل اللہ‘ کہا جاتا ہے۔ یہ ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے کہ ہر وہ جنگ جو کوئی مسلمان لڑے، وہ جہاد ہے۔ درحقیقت، جہاد کی کئی صورتوں میں سے ایک جنگ ہے۔ لفظ ’جہاد‘ کو ’مقدس جنگ‘ سے تعبیر کرنا نہ صرف غیر مسلم بلکہ بعض مسلم علماء میں بھی ایک عام غلطی ہے۔ عربی میں ’مقدس جنگ‘ کے لیے لفظ ’حرب مقدسہ‘ استعمال ہوتا ہے، اور یہ لفظ نہ تو قرآن میں کہیں ملتا ہے اور نہ ہی کسی حدیث میں۔

عیسائیت میں بھی جہاد کا تصور موجود ہے۔ انجیل متی ( 26 : 53 ) میں حضرت عیسیٰؑ نے اپنے پیروکاروں سے فرمایا: ”جو تلوار اٹھائے گا وہ تلوار ہی سے ہلاک ہو گا۔“ حضرت عیسیٰؑ نے اپنے شاگردوں کو یہ سکھایا کہ جب انہیں مایوسی یا اشتعال انگیزی کا سامنا ہو تو وہ طاقت کے استعمال کی خواہش کے خلاف جدوجہد کریں۔

اسی طرح، بھگوت گیتا کے باب 2، آیت 31 میں جہاد کا ایک پہلو یوں بیان کیا گیا ہے : ”اپنے فرض کو شتریہ کے طور پر دیکھتے ہوئے، تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ مذہبی اصولوں پر لڑنے سے بہتر تمہارے لیے کوئی مصروفیت نہیں ہے، لہٰذا ہچکچاہٹ کی کوئی ضرورت نہیں۔“ یہ آیت فرض کی انجام دہی اور دھرم کے تحفظ کے لیے جدوجہد کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔

گزشتہ چند دہائیوں میں، جب دنیا ایک عالمی گاؤں بن چکی ہے اور تمام اقوام سماجی، ثقافتی اور معاشی طور پر ایک دوسرے پر منحصر ہیں، اور فوجی ترقی اور جوہری ٹیکنالوجی نے مطلق کامیابی یا شکست کے امکانات کو محدود کر دیا ہے، تو دنیا یہ سمجھ رہی ہے کہ جنگی صورت میں جدوجہد برائی اور جارحیت کو ختم کرنے کا واحد حل نہیں ہے۔ اس کے برعکس، ’قربانی‘ کا تصور، جس میں غیر جنگی جہاد اور قربانی کی دیگر کئی شکلیں شامل ہیں، ہماری زندگیوں میں حیرت انگیز طور پر قدر حاصل کر رہی ہیں۔ مختلف قسم کی قربانیوں میں، ’خود قربانی‘ کو سب سے اہم سمجھا جاتا ہے۔

خود قربانی عظیم روحانی اساتذہ کی تعلیمات کا ایک بنیادی اصول ہے۔ اس میں خودی یا خود غرضی کو ترک کرنا شامل ہے تاکہ سچائی ہمارے طرز عمل کا سرچشمہ بن سکے۔ خودی کوئی ایسی ہستی نہیں جسے نکال پھینکنا ہے، بلکہ یہ ایک ذہنی حالت ہے جسے تبدیل کرنا ہے۔ خودی کی نفی کا مطلب ذہین وجود کو مٹانا نہیں، بلکہ ہر تاریک اور خود غرض خواہش کا خاتمہ ہے۔ خودی فانی چیزوں اور عارضی لذتوں سے اندھی چمٹ کا نام ہے، جو نیکی اور راستبازی کی ذہانت پر مبنی عمل سے مختلف ہے۔ خودی دل کی ہوس، لالچ اور خواہش کا نام ہے، اور سچائی کو جاننے، اس کے پائیدار سکون اور ابدی امن تک پہنچنے سے پہلے اسے ترک کرنا ضروری ہے۔

صرف چیزوں کو چھوڑنے سے کام نہیں بنے گا؛ بلکہ چیزوں کی ہوس کو قربان کرنا ہو گا۔ اگرچہ انسان مال و دولت، مرتبہ، دوستوں، خاندان، شہرت، گھر، بیوی، بچے اور زندگی کو بھی قربان کر دے۔ ، لیکن اگر خودی ترک نہ کی جائے تو اس سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔

بدھ نے دنیا اور ہر اس چیز کو ترک کر دیا جو ان کے لیے عزیز تھی، لیکن چھ سال تک وہ بھٹکتے رہے، تلاش کرتے رہے اور دکھ اٹھاتے رہے، اور جب تک انہوں نے دل کی خواہشات کو ترک نہ کیا، تب تک انہیں روشن خیالی حاصل نہ ہوئی اور نہ ہی وہ سکون تک پہنچے۔

ہندوؤں کے لیے، قربانی (دینا) ان کے ’دھرم‘ (مذہبی فرض) کا ایک اہم حصہ ہے۔ دھرم کے وسیع معانی ہیں جیسے ابدی قانون، فرض، طرز عمل، اخلاقیات اور راستبازی۔ ہر شخص کا خاندان، معاشرے، دنیا اور تمام جانداروں کے تئیں ایک دھرم ہوتا ہے۔ دھرم کا تقاضا ہے کہ جو چیزیں کوئی شخص حاصل کرتا ہے وہ اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کی فلاح و بہبود کے لیے ہوں۔ ایک شخص کی ذمہ داری ان لوگوں کے تئیں ہے جو اپنا گزارا نہیں کر سکتے۔ بعض حالات میں ایک فرد کے پاس پورے (معاشرے ) کی بہتری کے لیے خود کو قربان کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔

صرف نفسانی لذتوں کو ترک کرنے سے سکون حاصل نہیں ہو گا، بلکہ اس کے نتیجے میں اذیت آئے گی۔ یہ نفسانی لذت، اس چیز کی خواہش ہے جسے ترک کرنا ضروری ہے۔ تب ہی سکون دل میں داخل ہو گا۔

قربانی اس وقت تک تکلیف دہ رہتی ہے جب تک دل میں خودی کا کوئی نشان باقی رہے۔ جب تک دل میں کسی ناپسندیدہ چیز یا خوشی کی چھپی ہوئی خواہش باقی رہتی ہے جسے قربان کیا گیا ہے، تب تک شدید تکلیف اور شدید آزمائش کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لیکن جب ناپسندیدہ چیز یا خوشی کی خواہش ذہن سے ہمیشہ کے لیے دور کر دی جائے اور قربانی مکمل اور کامل ہو جائے، تو اس مخصوص چیز یا خوشی کے بارے میں مزید تکلیف یا آزمائش نہیں ہو سکتی۔ لہٰذا جب خودی کو مکمل طور پر قربان کر دیا جائے، تو قربانی اپنے تکلیف دہ پہلو میں ختم ہو جاتی ہے، اور کامل علم اور کامل سکون حاصل ہو جاتا ہے۔

نفرت خودی ہے۔ لالچ خودی ہے۔ حسد اور جلن خودی ہیں۔ غرور اور شیخی خودی ہیں۔ پیٹ بھرنا اور شہوت پرستی خودی ہے۔ جھوٹ بولنا اور دھوکہ دینا خودی ہیں۔ پڑوسی کی برائی کرنا خودی ہے۔ غصہ اور انتقام خودی ہیں۔

خود قربانی میں ان تمام تاریک ذہنی اور قلبی کیفیات کو ترک کرنا شامل ہے۔ یہ عمل ابتدائی مراحل میں تکلیف دہ ہوتا ہے، لیکن جلد ہی ایک الہی سکون وقفے وقفے سے مسافر پر نازل ہوتا ہے۔ بعد میں، یہ سکون زیادہ دیر تک اندر رہتا ہے، اور بالآخر، جب حقیقت کی کرنیں دل میں پھیلنا شروع ہوتی ہیں، تو ہمیشہ ساتھ رہتا ہے۔

یہ خود قربانی سکون کی طرف لے جاتی ہے ؛ کیونکہ سچائی کی کامل زندگی میں مزید قربانی نہیں، اور مزید درد اور غم نہیں ہے۔ کیونکہ جہاں خودی نہیں، وہاں کچھ ترک کرنے کو نہیں ہے۔ جہاں ذہن کا فانی چیزوں سے کوئی لگاؤ نہیں، وہاں کچھ چھوڑنے کو نہیں ہے۔ جہاں سب کچھ سچائی کی قربان گاہ پر رکھ دیا گیا ہے، وہاں خود غرضانہ محبت الہی محبت میں جذب ہو جاتی ہے۔ اور الہی محبت میں خودی کا کوئی خیال نہیں ہوتا، کیونکہ وہاں بصیرت، روشن خیالی اور لافانیت کی کاملیت ہے، اور اس لیے کامل اندرونی سکون ہے۔

اندرونی سکون کے لیے انتہائی بہادرانہ محنت اور سب سے مشکل قربانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے لیے جنگ سے زیادہ بہادری درکار ہے۔ اس کے لیے سچائی کے ساتھ زیادہ وفاداری اور ضمیر کی بہت زیادہ کامل پاکیزگی درکار ہے۔

اندرونی سکون بیرونی امن کے لیے ناگزیر ہے : اندرونی سکون یا ذہنی سکون کا مطلب ذہنی اور روحانی طور پر پرسکون ہونا ہے۔ ’پرسکون ہونا‘ دباؤ میں ہونے کے برعکس ہے۔ ذہنی سکون کا تعلق مسرت اور خوشی سے ہے۔ اندرونی سکون کو شعور اور روشن خیالی کی ایک ایسی حالت بھی سمجھا جاتا ہے جو دعا، مراقبہ یا یوگا کے ذریعے پروان چڑھائی جاتی ہے۔

مراقبہ کے علاوہ، آپ چند عادات کو اپنی زندگی کا حصہ بنا کر خود کو پرسکون اور امن کی حالت میں رکھ سکتے ہیں۔ اپنے طرز زندگی کو اس کے مطابق تبدیل کرنے سے، آپ خوشی اور آزادی کا احساس کریں گے۔

خوشی ذہنی اور جذباتی بہبود کی ایک حالت ہے۔ خوشی مثبت اور خوشگوار جذبات کی نمائندگی کرتی ہے جو اطمینان سے لے کر شدید خوشی تک پھیلے ہوئے ہیں۔ خوشی اور سکون آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ خوشی کی تلاش میں، ہمیں وہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو ہمیں سکون حاصل کرنے میں ہوتا ہے۔ خوشی اور سکون کی پیمائش کے لیے ایک ہی اشارے اور ڈیٹا سیٹس استعمال کیے جاتے ہیں۔ ایک پرامن معاشرے میں وہی بنیادی ڈھانچے ہوتے ہیں جو ایک خوشحال معاشرے کے لیے درکار ہوتے ہیں۔

خوشی اچھا محسوس کرنے کی ایک جذباتی حالت ہے۔ یہ درد اور ناخوشگوار جذبات سے آزادی دیتی ہے۔ حقیقی طور پر خوش اور مطمئن رہنے کے لیے، انسان کو اپنے آپ سے سچا اور دوسروں کے ساتھ ایماندار ہونا چاہیے۔ انسان کو دوسرے لوگوں کے ساتھ منصفانہ سلوک کرنا چاہیے۔ اگر آپ حقیقی اور پائیدار خوشی چاہتے ہیں، تو اندرونی سکون کو پروان چڑھانے اور برقرار رکھنے کی کوشش کریں۔

پائیدار اندرونی سکون اور خوشی کی کلید بین المذاہب ہم آہنگی اور دہشت گردی کو کم کرنے میں مضمر ہے ؛ جو بدلے میں تعلیم کے ذریعے یقینی بنائی جا سکتی ہے۔ ایک کثیر الثقافتی تعلیم جو تکثیریت کو فروغ دیتی ہے۔ صحیح تعلیم وہ ہے جو فطرت میں تنوع کا احترام پیدا کرے اور پوری دنیا کے ساتھ تعلق کا احساس دلائے۔ سیکھنے والے کے ذہن کو دوسرے مذاہب کا احترام کرنے کے لیے کھولنا، سیکھنے والے کو ایسی دنیا میں پروان چڑھانا جو انسانی اقدار جیسے دوسروں کے ساتھ یکجہتی، اعتماد اور ہمدردی کے احساس کو فروغ دے، پائیدار حل ہے۔ جب ہم سمجھتے ہیں کہ انسانی اقدار تمام عظیم روایات میں موجود ہیں ؛ جب ہم دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کی انسانیت کو دیکھتے ہیں ؛ اور جب ہم جانتے ہیں کہ سچائی ہمارے اپنے مذہب کے باہر بھی ظاہر ہوتی ہے، تو تنگ نظری، جو دہشت گردی کی جڑ ہے، باقی نہیں رہے گی۔

دنیا میں بنیاد پرستی سے چھٹکارا پانے کا واحد راستہ ایسی تعلیم ہے جو وسیع البنیاد، کثیر الثقافتی اور کثیر المذہبی ہو، اس نظریے کی نفی کرتی ہو کہ صرف ہمارا مذہب ہی سچائی رکھتا ہے۔ جب کثیر الثقافتی تعلیم اثر انداز ہوگی تو مستقبل کی ہم آہنگی، امن اور ابدی خوشی یقینی ہے۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر سنتوش کامرانی

ڈاکٹر سنتوش کامرانی حیدرآباد، سندھ کی ایک نجی یونیورسٹی میں انسانی رویے، منطق و تنقیدی سوچ، فلسفہ، انسانی علوم اور تعلیمی نفسیات جیسے مضامین کی تدریس میں مشغول ہیں۔ ان کے تعلیمی پس منظر میں میڈیکل سائنسز، ماس کمیونیکیشن، تعلیم، اور پبلک ایڈمنسٹریشن شامل ہیں۔ آپ یونیسکو پاکستان کے پلیٹ فارم سے امن، انسانی حقوق اور تنازعہ حل کرنے کی تعلیم پر مرکزی کردار ادا کرتے رہے ہیں

dr-santosh-kamrani has 33 posts and counting.See all posts by dr-santosh-kamrani