لورالائی کی ثقافت اور ماحولیاتی تبدیلی


Tahir Zaland

لورالائی، جو جنوبی بلوچستان کے نیم پہاڑی اور نیم میدانی علاقے میں واقع ہے، محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک مکمل تمدنی اور ثقافتی اکائی ہے، جو نسلوں سے زرعی معیشت، چراگاہی زندگی، آبادی کی سادہ طرزِ حیات، مقامی اقدار، اور قدرتی وسائل پر انحصار کے گرد گھومتی رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب قدرتی ماحول میں تبدیلی واقع ہوئی، بارشوں کی مقدار میں کمی آئی، چشمے سوکھنے لگے اور کاریزات بند ہونے لگے، تو اس کے اثرات صرف زراعت، روزگار یا خوراک تک محدود نہ رہے بلکہ اس نے پورے ثقافتی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ ایک ایسا زلزلہ تھا جو دکھائی نہیں دیتا مگر اس کی تھرتھراہٹ انسان کے وجود، یادداشت، شناخت اور زبان تک کو متاثر کرتی ہے۔

تحقیق نگار طاہر نے جامعہ کراچی کے ”ایریا اسٹڈی سینٹر فار یورپ“ میں اپنے ایم فل مقالے میں لورالائی کے اسی ثقافتی بحران کو موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں پرکھا ہے۔ انہوں نے صرف مقامی حالات کا جائزہ نہیں لیا بلکہ ان تبدیلیوں کو عالمی سطح پر جاری پالیسی اقدامات، خاص طور پر اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف اور یورپی یونین کی ثقافتی ماحولیاتی حکمتِ عملی کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ اس تحقیق کی سب سے نمایاں خوبی یہ ہے کہ اس نے زمینی حقیقت کو علمی فریم ورک سے جوڑا اور ساتھ ہی ایک اضافی پشتو فیلڈ رپورٹ کے ذریعے ان تمام ثقافتی اور نفسیاتی اثرات کو عوامی مشاہدے کے ساتھ زندہ انداز میں پیش کیا جو اعداد و شمار میں نہیں آتے، مگر سینوں میں محفوظ ہوتے ہیں۔

لورالائی کی ثقافت کا مرکز صرف مادی عناصر جیسے مکان، لباس یا کھانے کے طریقے نہیں بلکہ وہ مقامات اور روایات تھیں جہاں انسان آپس میں جڑتے تھے۔ مثلاً گودر، ایک ایسا مقام جہاں خواتین پانی بھرنے کے بہانے آپس میں دلوں کے بوجھ ہلکے کرتیں، دکھ درد بانٹتیں، اور اجتماعی شعور کو منتقل کرتیں۔ جب چشمے سوکھے اور پانی کے حصول کے لیے لمبے فاصلے طے کرنا پڑے، تو وہ گودر ختم ہوا۔ اس کے ساتھ نہ صرف پانی کا ایک ذریعہ گیا بلکہ ایک تہذیبی مرکز بھی چھن گیا۔ اسی طرح دراوئی، جو محبت کے اظہار کی ایک نوجوانوں کی ثقافتی روایت تھی، اب معدوم ہو چکی ہے۔ دراوئی کے قصے اب صرف بزرگوں کی یادداشت میں محفوظ ہیں، اور نئے نوجوانوں کے لیے وہ اجنبی چیز بن چکی ہے۔

لوک ادب بھی انہی روایات سے جنم لیتا تھا۔ چیغکہ، ایک مخصوص مقامی موسیقی کا آلہ، نوجوانوں کے لیے صرف تفریح کا ذریعہ نہیں تھا بلکہ اجتماعی تخلیق کا محور بھی تھا۔ جب سردیوں کی راتوں میں کام رک جاتا تھا، تو گاؤں کے حجرے یا حجری بانڈار محفلوں، گیتوں، اور تبادلۂ خیال کا مرکز بن جاتے تھے۔ وہاں چیغکہ بجتا، روایتی گیت گائے جاتے، اور پرانی کہانیاں تازہ ہوتیں۔ لیکن جب خشک سالی کی شدت بڑھی، مال مویشی ختم ہوئے، فصلیں ناکام ہوئیں، تو یہ ساری سرگرمیاں بھی دھیرے دھیرے بند ہوتی گئیں۔ موسیقی کا شور مایوسی کی خاموشی میں بدل گیا۔

یہ تبدیلی صرف مردوں تک محدود نہیں رہی۔ خواتین، جو ثقافت کی خاموش نگہبان ہوتی ہیں، وہ سب سے زیادہ متاثر ہوئیں۔ وہ لباس جو صدیوں کی شناخت تھے، جیسے بھاری کڑھائی والے کپڑے، روایتی دوپٹے اور زیورات، اب یا تو گرمی کی شدت کے باعث ترک کر دیے گئے یا اس لیے کہ نئے میڈیا نے ان میں احساسِ کمتری پیدا کر دیا۔ اب یہ لباس نہ تو عملی رہے نہ فخر کی علامت، بلکہ ایک بوجھ بن گئے۔ کشیدہ کاری، جو نسلوں سے منتقل ہونے والا فن تھا، اب سیکھنے والے نہیں ملتے۔ کوئی لڑکی اب گاؤں سے باہر نکلتے ہوئے اپنے علاقائی لباس میں فخر محسوس نہیں کرتی، بلکہ شرمندگی سی محسوس کرتی ہے۔

معاشی بحران، پانی کی قلت، اور خوراک کی کمی نے اس خطے کے رہنے والوں کو شہروں کی طرف ہجرت پر مجبور کیا۔ یہ اربن مائیگریشن ایک سادہ سا عمل معلوم ہوتا ہے مگر درحقیقت یہ ایک مکمل ثقافتی شِکست ہے۔ دیہاتی شناخت، روایات، زبان، لباس، اور طرزِ معاشرت سب کچھ شہروں کی تیز رفتار، مصنوعی اور اجنبی دنیا میں تحلیل ہونے لگتا ہے۔ جو نوجوان گاؤں میں گیت گاتا تھا، وہ شہر میں مزدوری کرتا ہے۔ جس کی تربیت چیغکہ کی دھن پر ہوئی تھی، وہ اب شور مچاتی مشینوں کے بیچ رہتا ہے۔ یہ شناخت کا بحران صرف زبان یا ادب کا نقصان نہیں بلکہ ایک انسان کی اپنی ذات سے بیگانگی کی کیفیت ہے۔

یہی بیگانگی اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب نوجوان شہری اداروں سے تعلیم حاصل کرتے ہوئے نئی اصطلاحات، نئی زبان، اور نئے سماجی رویوں کا سامنا کرتے ہیں۔ نہ وہ اپنے پرانے لب و لہجے میں بات کر پاتے ہیں، نہ اپنے گیتوں کی زبان میں، اور نہ اپنے لباس و مزاج میں۔ وہ نہ مکمل شہری ہوتے ہیں، نہ مکمل دیہاتی۔ وہ ایک ایسی عبوری ثقافت میں پناہ لیتے ہیں جس میں نہ جڑ ہے، نہ تاریخ، نہ پہچان۔ یوں وہ ایک ”ہائبرڈ کلچر“ کے اسیر بن جاتے ہیں۔ نیم ماضی، نیم حال، اور مکمل تذبذب۔ یہ شناختی بحران صرف ایک شخصی مسئلہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی ثقافتی زوال کی علامت ہے۔

اسی دوران جب حالیہ سیلابی تباہ کاریوں نے لورالائی جیسے علاقوں کو شدید متاثر کیا، تو جن علاقوں نے سب سے زیادہ نقصان اٹھایا، وہ فنڈز کی تقسیم میں پسِ پشت چلے گئے۔ سیاسی وابستگیوں اور انتظامی ترجیحات کی بنیاد پر بعض نسبتاً محفوظ علاقوں کو بحالی منصوبوں میں سرفہرست رکھا گیا، جب کہ لورالائی جیسے دیہی علاقے، جنہوں نے ان تباہیوں کو جھیلا، نظرانداز کر دیے گئے۔ یہ عمل مقامی باشندوں میں احساسِ محرومی، بداعتمادی اور لاچاری کو مزید گہرا کرتا ہے، اور سماجی توازن کو متزلزل کر دیتا ہے۔ لوگ جب ریاستی نظام سے مایوس ہو جاتے ہیں تو وہ یا تو ہجرت کرتے ہیں، یا مزاحمت اختیار کرتے ہیں، یا خود ساختہ الگ تھلگ دنیاؤں میں پناہ لیتے ہیں۔ جن میں نہ ترقی ہوتی ہے، نہ امید۔

رپورٹ میں بیان کیا گیا ہے کہ کیسے خشک سالی اور قدرتی آفات نے نہ صرف باغات کو تباہ کیا بلکہ اس سے وابستہ روزگار، خوراک، اور ثقافتی سرگرمیوں کو بھی برباد کر دیا۔ وہ باغات جہاں انار، سیب، خوبانی، بادام اور آڑو جیسے پھل اگتے تھے، اب لق و دق میدان بن چکے ہیں۔ زمیندار، جو محدود وسائل اور روایتی زرعی علم پر انحصار کرتا تھا، قدرتی آفات کے بعد نہ صرف اپنی زمین کھو بیٹھا بلکہ وہ شہری زندگی کے لیے بھی تیار نہ تھا۔ بہت سے لوگ اپنی جمع پونجی خرچ کر کے آخر میں بے یار و مددگار شہروں میں آ بسے، جہاں وہ نہ اپنے علم کا استعمال کر سکے، نہ اپنی تہذیب کو زندہ رکھ سکے۔

مزید یہ کہ روایتی رسوم جیسے اشر، پرگوڑ، اور بوہلی، جو اجتماعی رضاکارانہ کاموں اور سماجی ہم آہنگی کی علامات تھیں، وہ بھی ختم ہو چکی ہیں۔ پہلے جب درختوں اور ندیوں کی صفائی کے لیے لوگ اکٹھے ہوتے تھے، وہ صرف ماحولیاتی عمل نہ تھا بلکہ ایک ثقافتی تقریب ہوتی تھی۔ مگر اب جب نہ وہ پانی رہا، نہ وہ درخت، تو نہ وہ رسم باقی رہی نہ ہی اس کی روح۔ اسی طرح گرٹ اور کمرہ امئی جیسے مشترکہ میل جول کی تقریبات جن میں خوشی، خوراک، رقص، اور موسیقی اکٹھے ہوتے تھے، اب محض یادداشت کا حصہ رہ گئے ہیں۔

خواتین کی دنیا میں اس ثقافتی زوال کی شدت اور بھی نمایاں ہے۔ وہ فنکارانہ کام جن میں لباس کی تیاری، کشیدہ کاری، رنگوں کا انتخاب، اور زیورات کی تیاری شامل تھے، اب رفتہ رفتہ ختم ہو چکے ہیں۔ اس کی ایک وجہ تو معاشی زوال ہے، لیکن اس سے بھی بڑی وجہ یہ ہے کہ نئی نسل کو نہ وہ ماحول ملا، نہ وہ ترغیب، اور نہ وہ عزت۔ اب جو کچھ میڈیا میں دکھایا جاتا ہے، وہ اس سے یکسر مختلف ہے جو ان کے بزرگوں کی وراثت تھی۔ یوں نسلوں کے درمیان فکری رابطہ ٹوٹ گیا، اور ثقافت صرف بزرگوں کی باتوں میں، یا کسی میلاد، شادی یا جنازے کی تقریب میں تھوڑا بہت نمودار ہوتی ہے، لیکن وہ روزمرہ کی زندگی کا حصہ نہیں رہی۔

جب کسی معاشرے کی ثقافت زوال کا شکار ہوتی ہے تو وہ صرف مادی اثاثوں کو نہیں کھوتا، بلکہ اپنے اخلاقی، فکری، اور معنوی سرمایہ سے بھی محروم ہو جاتا ہے۔ ایسے میں مذہب اکثر وہ واحد حوالہ بن جاتا ہے جو لوگوں کو کسی قسم کی تشریح یا وضاحت فراہم کرتا ہے۔ لورالائی اور اس جیسے دیگر دیہی معاشروں میں موسمیاتی تبدیلی کو مذہبی نکتہ نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ بعض مذہبی حلقے خشک سالی، بارشوں کی کمی، اور قدرتی آفات کو خدا کی ناراضی سے تعبیر کرتے ہیں۔ ان کے مطابق چونکہ لوگ دین سے دور ہو چکے ہیں، نماز نہیں پڑھتے، بے پردگی عام ہے، اس لیے خدا قہر نازل کر رہا ہے۔ یہ تشریح ایک مخصوص قسم کی ”مورالٹی پولیس“ پیدا کرتی ہے جو سائنسی اور معاشی وجوہات کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک اخلاقی بیانیہ قائم کرتی ہے۔

اس بیانیے کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ وہ اصل عالمی ذمہ داریوں سے توجہ ہٹا دیتا ہے۔ تحقیق اور اعداد و شمار کے مطابق دنیا کا 40 فیصد کاربن اخراج محض 16 فیصد امیر ترین آبادی کی جانب سے ہوتا ہے۔ ان میں وہ ممالک شامل ہیں جن کی صنعتی ترقی اور ماحولیاتی استحصال نے آج دنیا کو اس نہج پر پہنچایا ہے۔ لیکن جب مذہبی نکتہ نظر صرف انفرادی گناہوں کو موسمیاتی تغیر کی وجہ قرار دیتا ہے، تو وہ عالمی سیاسی و اقتصادی ذمہ داروں کو بے قصور بنا دیتا ہے۔ یہ بات نہ صرف فکری سطح پر خطرناک ہے بلکہ مقامی افراد کی قوتِ فہم کو بھی محدود کرتی ہے۔

یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ اسلامی تعلیمات اگر حقیقی روح کے ساتھ سمجھی جائیں تو وہ ماحولیاتی تحفظ کے لیے بے حد کارآمد ہیں۔ درخت کاٹنے سے منع کیا گیا، پانی کے اصراف سے بچنے کی تلقین کی گئی، غیر ضروری شکار سے روکا گیا، اور یہاں تک کہا گیا کہ بہتے دریا کے کنارے بھی وضو کرتے وقت پانی کم سے کم استعمال کیا جائے۔ اگر ان تعلیمات کو جدید سائنسی شعور کے ساتھ جوڑا جائے تو مذہب ایک ماحولیاتی حلیف بن سکتا ہے، نہ کہ سادہ اخلاقی الزام تراشی کا آلہ۔

اسی بین الاقوامی تناظر میں جب اقوام متحدہ کے ”ایجنڈا 2030“ کی طرف دیکھا جائے تو اس میں پائیدار ترقی کے 17 اہداف میں سے کئی کا تعلق براہ راست ثقافت، ماحول، تعلیم، اور مساوات سے ہے۔ خاص طور پر اہداف 11، 13 اور 16 مقامی ثقافتوں کے تحفظ، موسمیاتی عمل، اور سماجی انصاف سے متعلق ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان جیسے ممالک میں ان اہداف کو صرف رپورٹوں اور بین الاقوامی کانفرنسوں تک محدود رکھا گیا ہے۔ لورالائی جیسے علاقے ان پالیسیوں کے فائدے سے محروم رہے ہیں کیونکہ نہ مقامی سطح پر ان کی اہمیت کو سمجھا گیا اور نہ ہی ان کے لیے وسائل مختص کیے گئے۔

یورپی یونین کا ”Creative Europe“ پروگرام اور ”Climate۔ Driven Cultural Initiatives“ (CDCI) جیسے منصوبے واضح طور پر اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی محض ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک ثقافتی بحران بھی ہے۔ ان پروگراموں میں لوک روایات، علاقائی زبانیں، اور مقامی دستکاری کو زندہ رکھنے کے لیے فنڈز دیے جاتے ہیں، تاکہ جب زمین بدلتی ہے تو انسان اپنی شناخت نہ کھو بیٹھے۔ یہی فلسفہ لورالائی جیسے علاقوں پر بھی منطبق ہوتا ہے، جہاں نہ صرف زمین سوکھ رہی ہے بلکہ زبان، گیت، اور پہچان بھی۔

اس ثقافتی زوال میں زبان کا کردار نہایت اہم ہے۔ پشتو زبان جو یہاں کی بنیادی لسانی اساس ہے، اب صرف گفت و شنید تک محدود رہ گئی ہے۔ نوجوان پشتو میں محاورے نہیں سیکھتے، لوک گیتوں سے ناآشنا ہیں۔ حالانکہ زبان صرف ابلاغ کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی ورثہ ہے، ایک ایسا خزانہ جس میں پوری قوم کی سوچ، خواب، تاریخ، اور جدوجہد محفوظ ہوتی ہے۔ جب یہ زبان صرف گھر کی دیواروں تک محدود ہو جائے اور باہر انگریزی یا اردو کا اثر ہو، تو پھر ثقافت صرف اندرونی احساس بن کر رہ جاتی ہے، اجتماعی اظہار نہیں رہتا۔

یہ سارا منظرنامہ ہمیں بتاتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی ایک کثیر الجہتی بحران ہے جو صرف درجہ حرارت، بارش یا خشک سالی تک محدود نہیں، بلکہ اس کا براہِ راست اثر انسانی تہذیب، ثقافت، زبان، شناخت، اور سماجی تنظیم پر بھی ہوتا ہے۔ لورالائی جیسے خطے جہاں کل تک زندگی کا ہر پہلو قدرت کے ساتھ جڑا ہوا تھا، اب وہ تہذیبی اور ماحولیاتی انقطاع کا شکار ہو چکے ہیں۔ یہ انقطاع محض زمینی یا موسمی نہیں، بلکہ فکری اور جذباتی ہے۔ جہاں انسان خود کو اپنے ماضی سے کاٹتا محسوس کرتا ہے، اور اس کا حال اس قدر غیر یقینی بن جاتا ہے کہ مستقبل کی کوئی واضح شکل باقی نہیں رہتی۔

ان حالات میں سب سے اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس عمل کو روکا جا سکتا ہے؟ یا کیا ہم اس زوال کو کسی نئی تہذیبی ساخت میں تبدیل کر سکتے ہیں؟ جواب مکمل طور پر منفی بھی نہیں، اور مثبت بھی نہیں۔ ہمیں سب سے پہلے یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ یہ بحران صرف قدرتی نہیں بلکہ پالیسی، تعلیم، معیشت، اور ثقافتی لاشعور کا بھی نتیجہ ہے۔ جب تک ہم اپنے منصوبہ بندی کے انداز، ریاستی ترجیحات، تعلیمی نصاب، اور فنڈز کی تقسیم کے اصولوں میں تبدیلی نہیں لاتے، اس وقت تک صرف بارش کے لیے دعائیں یا موسمیاتی کانفرنسیں ہمیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ مقامی ثقافت کو قومی ترقی کا حصہ بنایا جائے۔ حکومت، تعلیمی ادارے، سول سوسائٹی، بین الاقوامی ادارے اور مقامی قیادت مل کر ایسے منصوبے ترتیب دیں جو ثقافت کو صرف تحفظ دینے کے بجائے اسے ترقی کا ذریعہ بنائیں۔ لوک زبانوں کو تعلیمی اداروں میں داخل کیا جائے، علاقائی لباس، موسیقی، اور کشیدہ کاری جیسے فنون کو فنی تعلیم کا حصہ بنایا جائے، نوجوانوں کو مائگریشن سے پہلے ہی تربیت دی جائے کہ وہ شہری زندگی میں اپنی شناخت نہ کھو بیٹھیں۔ مقامی علماء اور مذہبی رہنماؤں کو ماحول دوست اسلامی تعلیمات سے واقف کر کے انہیں موسمیاتی شعور کی تبلیغ کے لیے تیار کیا جائے۔ اقوام متحدہ اور یورپی یونین جیسے ادارے لورالائی جیسے علاقوں میں براہِ راست ثقافتی پروگرام لانچ کریں جن کا تعلق لوک فن، ماحول، اور تعلیم سے ہو۔

لورالائی میں ثقافت اور ماحول کا تعلق کسی تجریدی یا فنی سطح کا مسئلہ نہیں، بلکہ زندہ رہنے، پہچانے جانے، اور خود کو برقرار رکھنے کی جنگ ہے۔ جب ایک لڑکی گرمی کی شدت یا احساسِ کمتری کی وجہ سے اپنا لباس ترک کرتی ہے، تو وہ صرف ایک کپڑا نہیں اتارتی بلکہ اپنے وجود کا ایک پرت چھوڑ دیتی ہے۔ جب ایک نوجوان چیغکہ بجانا چھوڑتا ہے، تو وہ صرف ایک ساز نہیں بلکہ ایک نسل کی صدا کو خاموش کرتا ہے۔ یہ خاموشیاں، یہ ترقیاں، یہ اجنبیتیں۔ یہی اصل زوال ہے۔

لیکن ہر زوال میں ایک امکان بھی پوشیدہ ہوتا ہے۔ اگر اس زوال کو سنجیدگی سے دیکھا جائے، اسے صرف مایوسی کی کہانی کے بجائے نئی ساخت کی ضرورت سمجھا جائے، تو شاید ہم اس ملبے سے ایک نئی بنیاد رکھ سکیں۔ وہ بنیاد جہاں مقامی ثقافت کو عالمی تناظر میں پہچانا جائے، جہاں لورالائی کے گیت یونیسکو کی ثقافتی فہرستوں میں آئیں، جہاں گودر، دراوئی، اور گرٹ جیسی رسوم تحقیق کا حصہ ہوں، اور جہاں بوہلی، اتن، اور پرگوڑ صرف یادداشت کا حصہ نہ ہوں بلکہ دوبارہ زندہ ہوں۔

یہ مضمون اسی امید کے ساتھ ختم ہوتا ہے کہ شاید ہم سب، تھوڑا تھوڑا سہی، مگر مل کر اس تہذیبی زوال کے خلاف اٹھیں۔ قلم سے، فن سے، شعور سے، اور عمل سے۔ کیونکہ ثقافت صرف ماضی کا ورثہ نہیں بلکہ مستقبل کی روح ہے۔ اور اگر ہم نے اپنی روح کو بچا لیا، تو پھر شاید زمین سوکھ بھی جائے، مگر تہذیب نہیں۔

Facebook Comments HS