اسلام آباد میں کم عمری کی شادی پر پابندی


صدر مملکت آصف علی زرداری کا اسلام آباد میں 18 سال سے کم عمر لڑکیوں اور لڑکوں کی شادی کو ”غیر آئینی اور غیر قانونی“ قرار دینے والے بل پر دستخط کرنا ایک اہم اور خوش آئند اقدام ہے۔ تاہم، یہ قانون ”فی الحال صرف اسلام آباد کیپٹل ٹریٹری (ICT) اسلام آباد تک محدود ہے“۔

1۔ کیا اس قانون کا اطلاق اقلیتوں پر بھی ہو گا جی ہاں، بالکل یہ قانون کوئی مذہبی تفریق نہیں کرتا۔ یہ تمام شہریوں پر لاگو ہوتا ہے، چاہے وہ کسی بھی مذہب (مسلمان، مسیحی، ہندو، سکھ، احمدی، وغیرہ) سے تعلق رکھتے ہوں، جو اسلام آباد میں رہائش پذیر ہوں یا یہاں شادی کا انعقاد کریں۔

وجہ: یہ قانون ایک عام ”عمر“ کی حد ( 18 سال) مقرر کرتا ہے، جو شادی کرنے والے افراد کے مذہب سے بالاتر ہے۔ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 20 اور 25 تمام شہریوں کو مذہبی آزادی اور مساوات کا حق دیتے ہیں، اور اس قانون کا نفاذ بھی اسی اصول کے تحت ہو گا۔

نوٹ: دیگر صوبوں میں، اقلیتوں کی شادیاں ان کے ذاتی قوانین (مسیحی میرج ایکٹ، ہندو میرج ایکٹ) کے تحت رجسٹر ہوتی ہیں، جن میں اکثر عمر کی واضح حد نہیں ہوتی یا کم ہوتی ہے (اسلام آباد) کی حدود میں مقدم اور نافذ العمل ہو گا۔

2۔ کیا یہ قانون جبری تبدیلی مذہب اور اقلیتی لڑکیوں کی جبری شادیاں روکے گا؟
براہ راست نہیں، لیکن بالواسطہ طور پر اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

جبری شادی کے خلاف: چونکہ جبری شادیاں اکثر کم عمری میں ہوتی ہیں، خاص طور پر اقلیتی لڑکیوں کے ساتھ، اس لیے 18 سال کی عمر کی پابندی براہ راست رکاوٹ بنے گی۔ اگر لڑکی 18 سال سے کم ہے تو اس کی کوئی بھی شادی، چاہے جبری ہو یا رضامندی سے، قانوناً باطل ہوگی اور اسے روکا جا سکے گا۔ یہ جبر کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

جبری تبدیلی مذہب کے خلاف: یہ قانون براہ راست جبری تبدیلی مذہب کو نشانہ نہیں بناتا۔ جبری تبدیلی مذہب اکثر کم عمر لڑکیوں کو اغوا کرنے، جبر کرنے اور پھر شادی کرانے کے عمل کا حصہ ہوتی ہے۔ اگرچہ عمر کی پابندی اس عمل میں ایک رکاوٹ پیدا کرتی ہے (کیونکہ کم عمری کی شادی نہیں ہو سکتی) ، لیکن جبری تبدیلی مذہب کو روکنے کے لیے مخصوص اور مضبوط قوانین کی اشد ضرورت ہے۔ سندھ نے اس سمت میں ایک قانون پاس کیا ہے، لیکن وفاقی یا دیگر صوبائی سطح پر ایسا جامع قانون نہ ہونے کے برابر ہے۔

اقلیتی لڑکیوں کے لیے تحفظ: اس قانون سے اقلیتی لڑکیوں کو خاص فائدہ ہو سکتا ہے، کیونکہ وہ جبری تبدیلی مذہب اور جبری شادی کا زیادہ شکار ہوتی ہیں۔ عمر کی قانونی حد انہیں مزید تحفظ فراہم کرے گی۔

3۔ کیا اسٹامپ فروش، گواہ اور نکاح پڑھنے والا مولوی قانون کی زد میں آئیں گے؟ جی ہاں، بالکل اور واضح طور پر۔ قانون کا نفاذ اور سزاؤں کا اطلاق صرف شادی کرنے والوں یا ان کے والدین پر ہی نہیں، بلکہ شادی کے عمل میں ملوث تمام اہم فریقین پر ہو گا:

نکاح خوان (مولوی/پادری/پنڈت) : وہ شخص جو نکاح پڑھاتا ہے، اس کی سب سے بڑی ذمہ داری ہو گی۔ اس پر لازم ہو گا کہ وہ دولہا اور دلہن کی عمر کی تصدیق کرے (قومی شناختی کارڈ یا پیدائش سرٹیفکیٹ دیکھ کر) ۔ اگر وہ جان بوجھ کر یا لاپرواہی سے کم عمری کی شادی پڑھاتا ہے، تو وہ قانون کی زد میں آئے گا اور سزا (قید، جرمانہ یا دونوں ) کا مستحق ہو گا۔

گواہ: شادی کی دستاویزات پر دستخط کرنے والے گواہ بھی ذمہ دار ہوں گے۔ اگر انہیں علم ہو یا معقول اندازہ ہو کہ شادی کرنے والے کم عمر ہیں اور پھر بھی وہ گواہی دیتے ہیں، تو ان کے خلاف بھی کارروائی ہو سکتی ہے۔

رجسٹرار/اسٹامپ فروش: شادی کو رجسٹر کرنے والا افسر یا اسٹامپ فروش (اگر اسٹیمپ پیپر جعلی طور پر یا عمر چھپا کر حاصل کیا جاتا ہے ) بھی مجرمانہ غفلت یا تعاون کا مرتکب ہو سکتا ہے اور قانونی چارہ جوئی کا نشانہ بن سکتا ہے۔

سزائیں : عام طور پر ایسے قوانین میں مجرمان پر جرمانے اور قید کی سزائیں ہوتی ہیں۔ نکاح خواں کا لائسنس منسوخ ہونے کا بھی امکان ہوتا ہے۔

اہم نکات اور چیلنجز

1۔ صرف اسلام آباد تک محدود: اس قانون کا فوری اثر صرف اسلام آباد میں ہو گا۔ پورے پاکستان میں اس کے نفاذ کے لیے یا تو ایک وفاقی قانون بنانا ہو گا یا پھر ہر صوبے کو اپنے ہاں اسی طرز کا قانون پاس کرنا ہو گا۔

2۔ نفاذ سب سے بڑا امتحان: پاکستان میں سخت ترین قوانین کے باوجود ان کا کمزور نفاذ ایک بڑا مسئلہ رہا ہے۔ پولیس کی تربیت، عدالتی نظام کی استعداد، اور عوامی بیداری اس قانون کو کامیاب بنانے کے لیے نہایت ضروری ہیں۔

3۔ سماجی و معاشی عوامل: غربت، تعلیم کی کمی اور پدرانہ سوچ جیسے عوامل کم عمری کی شادیوں کی بنیادی وجوہات ہیں۔ ان پر قابو پائے بغیر محض قانونی پابندی کا اثر محدود رہے گا۔

4۔ آگاہی اور تعلیم:عوام بالخصوص والدین، مذہبی رہنماؤں اور نوجوانوں کو کم عمری کی شادیوں کے صحت، تعلیم اور معاشرتی نقصانات کے بارے میں آگاہ کرنا بہت ضروری ہے۔

5۔ اقلیتوں کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات: اقلیتی لڑکیوں کے تحفظ کے لیے جبری تبدیلی مذہب کے خلاف موثر وفاقی قانون اور پولیس میں اقلیتوں کے حوالے سے حساسیت کی تربیت ناگزیر ہے۔

اسلام آباد میں 18 سال سے کم عمر کی شادی پر پابندی کا قانون ایک مثبت اور ضروری قدم ہے۔ یہ قانون تمام شہریوں بشمول اقلیتوں پر لاگو ہو گا اور جبری شادیوں کو روکنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر اقلیتی لڑکیوں کے لیے۔ شادی کے عمل میں ملوث کلیدی افراد (نکاح خواں، گواہ، رجسٹرار) بھی قانونی ذمہ داری کا شکار ہوں گے۔ تاہم، اصل کامیابی مضبوط نفاذ، سماجی بیداری، غربت و جہالت کے خلاف جنگ، اور جبری تبدیلی مذہب کے خلاف علیحدہ اور سخت قانون پر منحصر ہے۔ یہ قانون صرف ایک شہر میں لاگو ہونے کی وجہ سے محدود ہے، اسے پورے ملک میں نافذ کرنے اور نفاذ کے چیلنجز پر قابو پانے کی فوری ضرورت ہے تاکہ پاکستان کے تمام بچوں، بالخصوص کمزور اقلیتی برادریوں کی لڑکیوں کو حقیقی تحفظ مل سکے۔

Facebook Comments HS

One thought on “اسلام آباد میں کم عمری کی شادی پر پابندی

  • 03/06/2025 at 6:57 شام
    Permalink

    آپ واحد لکھاری ہیں جنہوں نے دو معاملات میں درست الفاظ کا استعمال کیا۔
    ایک کہ یہ صرف اسلام آباد کی حدود میں نافذ العمل ہے اور دوسرا درست لفظ کے کم عمری کی شادی۔
    سید مجاہد علی کہتے ہیں بچپن میں شادیوں کے لیے ملاؤں کی مہم جوئی

    آ جب کہ ملاؤں نے بچپن کی کبھی بات نہیں کی۔ بلوغت کی بات کی ہے۔ بعض اوقات 15 سال کی لڑکی زمانے کے سردو گرم دیکھ کر پکی ہوچکی ہوتی ہے اور گھریلو امور میں طاق۔ علاقے میں تعلیم کی سہولت نہیں ہوتی تو اس کو گھر بٹھاکر ماں باپ کیوں مصیبت پالیں گے۔ ْ
    بعض خاندانوں یا علاقوں میں مہر یا شادی کے لئے لڑکی کا باپ رقم بھی لیتا ہے تو اس بلا کو تین سال وہ کیوں گھر بٹھاکر رکھے گا۔ اؤل تو یہ اسلام آباد کی حدود ہے مگر باپ اپنی بیٹی کو کسی دوسرے صوبے میں لے جاکر اس کی شادی مثلاً سندھ یا بلوچستان میں کردے گا جہاں 16 سال کی لڑکی کی شادی ممکن ہے۔ پھر قانون کیا کرلے گا !

    اسی طرح محترمہ نبیلہ فیروز بھٹی نے بھی بچپن کی شادی، اسلامی نظریاتی کونسل اور صدر پاکستان
    میں بچپن کا لفظ غلط استعمال کیا ہے۔ ٹی وی کی متعدد اداکاراؤں، ماڈل اور ٹک ٹاک پر موجود بچیوں کی اپ لوڈ دیکھیں کہیں سے نہیں لگے گا کہ یہ خواتین ہیں یا 16 سال کی بچیاں۔ کم عمر ان کو بدستور کہا جاسکتا ہے۔

    آپ بہرحال واحد لکھاری ہیں جنہوں نے دو معاملات میں درست الفاظ کا استعمال کیا۔
    ایک کہ یہ صرف اسلام آباد کی حدود میں نافذ العمل ہے اور دوسرا درست لفظ کے کم عمری کی شادی۔
    سید مجاہد علی کہتے ہیں بچپن میں شادیوں کے لیے ملاؤں کی مہم جوئی

    جب کہ ملاؤں نے بچپن کی کبھی بات نہیں کی۔ بلوغت کی بات کی ہے۔ بعض اوقات 15 سال کی لڑکی زمانے کے سردو گرم دیکھ کر پکی ہوچکی ہوتی ہے اور گھریلو امور میں طاق۔ علاقے میں تعلیم کی سہولت نہیں ہوتی تو اس کو گھر بٹھاکر ماں باپ کیوں مصیبت پالیں گے۔ ْ
    بعض خاندانوں یا علاقوں میں مہر یا شادی کے لئے لڑکی کا باپ رقم بھی لیتا ہے تو اس بلا کو تین سال وہ کیوں گھر بٹھاکر رکھے گا۔ اؤل تو یہ قانون اسلام آباد کی حدود میں نافذ العمل ہے مگر باپ اپنی بیٹی کو اسلام آباد سے کسی دوسرے صوبے میں لے جاکر اس کی شادی مثلاً سندھ یا بلوچستان میں کردے گا جہاں 16 سال کی لڑکی کی شادی ممکن ہے۔ پھر قانون کیا کرلے گا ! نیا شناختی کارڈ نئے پتے پر بنوانے کا اضافی خرچ دولہا خوشی خوشی ادا کردے گا۔

Comments are closed.