کیا ہماری نانیاں اور دادیاں ان پڑھ تھیں؟


صاحب عرفان اور معلم مہربان محترم رسول بخش رئیس کا تازہ کالم پیارے بابوں کے متعلق پڑھا تو خیال آیا کہ ہماری نسل اپنی بوڑھی ماؤں، نانیوں، دادیوں، خالاؤں، چاچیوں، ممانیوں اور پھپھیوں کے بارے میں کم جانتی ہے اور جو کہا جاتا ہے وہ بھی محض تقدس بھرا بیانیہ ہے، اس کے علاوہ ہم ان کی زندگیوں کو کسی اور ماڈل میں دیکھنے، سوچنے اور لکھنے میں اکثر متَامل رہتے ہیں۔ یہ گمان بھی رہا کہ ان برگذیدہ ہستیوں کی پہلی نسل کو بحیثیت مجموعی ناخواندہ کہہ کر غالب بیانیہ سے باہر رکھا جاتا ہے جبکہ ان میں سے اکثر ابتدائی مذہبی تعلیم، عربی اور فارسی کے ساتھ ساتھ مقامی محاورے، قصے اور لسانی مہارتوں کی واحد امین رہی ہیں۔

کولونیل پنجاب کی طالب علم ہونے کے ناتے پنجابی عورتوں کی لیڈرشپ اور فیصلہ سازی پہ تو کئی ایک تحقیقی کام نظر سے گزرے مگر پنجابی سماج (کولونیل اور پوسٹ کولونیل دونوں ) میں موجود ثقافتی و معاشی حرکیت میں عورتوں کے بنیادی کردار پر کم بات ہوئی ہے۔ تقسیم سے پہلے کے پنجاب میں جس سرعت سے عورتوں کی تعلیم کا دائرہ وسیع ہوتا گیا تقریباً اتنی ہی رفتار سے اُن کے سماجی ادراک کا محیط غیر مبہم اور دبیز ہوتا چلا گیا۔

یقیناً اس میں دو بڑی جنگوں کے دوران اور بعد کے زرعی سماج میں نوجوان اور بالغ مردوں کی روزگار کی خاطر شہروں کی طرف ہجرت اور ملکی دفاع میں تاریخ ساز شراکت تھی جو عورتوں کی بیرونِ خانہ زرعی ذمہ داریوں کی بڑھوتی کا سب سے اہم سبب بنی۔ فرائض کار کی بجاآوری کی بُنیاد پہ مقامی سرگرمیوں میں مردوں کی وقتاً فوقتاً غیر حاضری نے کم عمر اور جوان لڑکیوں میں (جن میں اکثر شادی شدہ تھیں ) ایک نئی سماجی تفہیم پیدا کی جو روزمرہ کی خانگی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ بیرون خانہ سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کرنے کے نسبتاً نئے تجربوں سے معمور تھی۔ مگر اس نسل کو دو بڑی غیر شعوری تبدیلیوں کا سامنا ہوا جو اُن کے نئے کرداروں کے لئے ناگزیر تھیں۔ اولاً اُنہیں اپنی پوری صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرنا تھا اور اس کے لئے اُنہیں اپنی ہم جنسوں سے ہی اخلاقی اور معاشرتی مدد مل سکتی تھی یوں عورتوں کا ایک غیر مرئی مگر مضبوط نیٹ ورک (نظام) وجود میں آیا۔ جس کی بنیاد ہر قصبے کے اپنے ثقافتی محاسن اور متعین مدارج پر ہی رکھی گئی۔ ثانیاٗ انہیں اپنے خاندانوں کے ساتھ غیر مشروط وفاداری کا ثبوت دینا تھا اور یہ دونوں مظاہر ان تھک محنت اور پیہم جدوجہد کے متقاضی تھے، جو قیام پاکستان کے بعد عورتوں کی دو نسلوں نے بخوبی نبھائے۔

اپنے بچپن سے ہی اپنے گرد ایک مستحکم شخصیت اپنی نانی کو متحرک پایا۔ ان کے اعزاء و اقربا اور بڑی تعداد میں رشتے کی بہنوں، چاچیوں، ممانیوں، پھپھوزاد اور ماموں زاد بہنوں (دیہات کے باسی ابھی تک ’کزن‘ کے لفظ سے آشنا نہ ہوئے تھے ) کا وسیع حلقہ دیکھا۔ نانی کی سگی بہن کوئی نہ تھی دو بھائی تھے جن کے طویل قامت اور وجاہت مقامی النسل ہونے اور اعوان کاری کے خصائل کا کماحقہ ثبوت فراہم کرتے تھے ساتھ ہی پیشہً سپاہ گری کی عوامی مقبولیت بھی ہر سُو عیاں تھی۔ گھنے دو رنگے قراقل گیسوؤں والے یہ توانا مرد بدیسی فوج کے ماتحت کئی سمندر ناپ چکے تھے (ان کی کہانی پھر کبھی) ۔

یہ معمر عورتیں ہلکے نیلے رنگ کے تہبند، ہاتھ سے سلے کھلے کرتوں اور خالص چمڑے سے موچی کی بنی دیسی چپل پہنتیں۔ خالص پہاڑی گھیبی لہجے میں بات کرتیں۔ جو عموماً روزمرہ کے معاملات سے متعلق ہوتی۔ محلے برادری میں گلے، گالی اور گندی سوچ سے احتراز کی نصیحت کی جاتی۔ دین و دنیا میں توازن کا رواج تھا اور مخلوط تقاریب پہ گہری نظر رکھی جاتی تھی۔

زراعت پہ منحصر دیہی معاشرہ کی روایتی فراخی، صاف ماحول اور وسیع پیمانے پہ برادری کی جُڑت کا گہرا احساس ہی اس کمیونٹی کا بنیادی جوہر تھا۔ سادہ خوراک اور شراکت کار پہ مبنی رہن سہن نے ان مرد و زن کو آنے والی کئی دہائیوں میں سماجی فعالیت پر مبنی ترقی کے روشن مستقبل کے قابل بنایا اور اس خطے کو علمی و فکری سالمیت سے روشناس کیا۔

قیام پاکستان کے بعد کی مجھ جیسی دوسری نسل کا لڑکپن سفید اور ہلکے رنگوں سے بُنے دیسی کپڑے میں ملبوس ایسی ہی خواتین کی گود اور شفقت آمیز صحبت میں گزرا۔ جن کی شناخت جدید ڈیزائنر لباس اور بالوں کے متنوع رنگوں سے نہیں بلکہ اپنی ہمدردی اور اطوار سے ہوتی تھی جو روزانہ کپڑے نہیں بدلتی تھیں بلکہ صرف اپنا سفید براق نماز کا دوپٹہ اوڑھ کے اپنی عزیزوں کی خیریت دریافت کرنا فرض سمجھتی تھیں۔ دور پار کے رشتہ داروں میں شادی اور غمی کے علاوہ روزمرہ کاموں میں بھی ہاتھ بٹانے کی نصیحت کی جاتی تھی اپنے ضعیف والدین کی خدمت سے لے کر دور کی قرابت داری تک سب کا خیال رکھنے والی نیک روحیں تھیں۔ ’انگریزی لام‘ کے زمانے میں صوبہ پنجاب مدر سری نظام (matriarch) کی ایک خام شکل سے آشنا ہو چکا تھا جب فوجی بھرتی کے نتیجے میں گاؤں کے گاؤں مردوں سے خالی ہو گئے نئے اور پرانے دفاعی اور معاشی محاذ کھلنے سے گھریلو خواتین کی جملہ ذمہ داریاں ایک نئی اہمیت اختیار کر گئیں جس میں تعلیم ہی ایسا واحد ہتھیار تھا جس سے انہوں نے بچوں کی تربیت سے لے کر بیشتر عورتوں پہ مشتمل نئے سماجی ڈھانچے کا حصہ بن کر زندگی کا نئے ڈھنگ سے مقابلہ کیا۔ یہی ہتھیار نوخیز بیٹیوں اور نئی نویلی دلہنوں کے بھی کام آیا۔ پہلی نسل کی خواتین کے پاس مہنگے تحفوں کی بجائے حقیقی زندگی کے گراں قدر تجربات تھے اور ذاتی جدوجہد سے بھرے مقصدِ زیست کے ابواب۔

مجھے یاد ہے اسکول کالج کی چھٹیوں کی طویل گرمائی دوپہریں ہوادار ٹھنڈے برآمدوں میں کروشیا اور چارسوتی کی چادروں پہ مشق آزمائی میں گزرتی تھیں۔ رنگ برنگے دھاگوں سے نوجوان بچیوں کو صبر، لگاتار محنت اور زندگی کی سفید چادر پہ دکھ سُکھ کے گل بوٹے بنانے کی مہارت سکھائی جاتی تھی، سادگی اور پُرکاری! یہی دو تربیتی ماڈل تھے اب سوچوں تو عمر بھر وہ ہی جُزیات نگاری کام آئی۔ کاشتکاری سے تدریس کے شعبے تک کا سبق ہماری نانیوں دادیوں کی پہلی نسل کا سکھایا علم تھا۔

میری نسل کو یاد رہے گا کہ اکیسویں صدی کے مروجہ تربیتی ماڈل تانیثیت ( womanhood) ، شراکت داری پہ مبنی طریقہ کار (participatory approach) اور اسپورٹ گروپوں کی تشکیل کے علاوہ کثیر الجہتی انجمن خواتین ان سب کا آغاز اور تربیت اُنہی ناخواندہ، اور مشقت بھرے ناتواں ہاتھوں نے کیے جو زندگی کے نصاب ہم سے بہتر پڑھ پائیں۔

ہمدردی اور مروت کے موقلم سے زندگی کو گُلرنگ کرنے والیاں کیا واقعی ناخواندہ تھیں؟

 

Facebook Comments HS