سندھ طاس معاہدہ اور جنوبی ایشیا کا امن


سندھ طاس / دریائے سندھ کے پانی کا معاہدہ (IWT) ، جو 1960 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان عالمی بینک کی ثالثی سے ہوا، طویل عرصے سے ہائیڈرو ڈپلومیسی / پانی والی سفارت کاری کی ایک بڑی کامیابی کے طور پر سراہا جاتا رہا ہے۔ سندھ، ماحولیات اور ڈیلٹا اگرچہ اس کے متاثرین ہیں۔ معاہدے کے تحت بھارت کو مشرقی دریاؤں (ستلج، راوی، اور بیاس) کے لامحدود استعمال کا حق ملا اور پاکستان کو مغربی دریاؤں (سندھ، جہلم، اور چناب) کا حق ملا۔ چھ دہائیوں سے زائد عرصے تک، یہ معاہدہ جنگوں اور سفارتی کشیدگی کے باوجود حیرت انگیز طور پر قائم رہا، جو اس کی مضبوط ساخت اور پانی کے معاملات کو وسیع جغرافیائی سیاسی کشیدگی سے الگ رکھنے کی صلاحیت کا ثبوت ہے۔

اپریل 2025 میں، بھارت نے یک طرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو ”معطل“ قرار دیا، جس کی وجہ پہلگام میں ایک حملے کے بعد کسی ثبوت کے بغیر پاکستان پر سرحد پار دہشت گردی کا بیہودہ الزام لگایا گیا۔ اس کے بعد ، جلد ہی بھارت کی طرف سے جہلم اور چناب دریاؤں میں غیر علانیہ پانی چھوڑا گیا۔ اس وقت سے اب تک چناب کے پانی کو کبھی کم تو کبھی بڑھایا جا رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں، چناب پر پاکستان کے اندر پہلے بیراج مرالہ سے نکلنے والے نہروں پر برا اثر پڑ رہا ہے۔

بھارت کا سندھ طاس معاہدے کو ”معطل“ کرنے کا فیصلہ قانونی پیچیدگیوں سے بھرا ہوا ہے۔ بین الاقوامی قانون، خاص طور پر روایتی / کسٹمری عالمی قانون، سرحدی پانی کے بہاؤ کے بارے میں ریاستوں پر واضح ذمہ داریاں عائد کرتا ہے۔ ”کوئی نقصان نہ پہنچانے کا اصول“ (no harm rule) ، جو آئلینڈ آف پالماس (پالماس جزیرہ) آربٹریشن اور ٹریل سمیلٹر آربٹریشن جیسے کیسز میں قائم کیا گیا، ریاستوں کو اپنے علاقے کے اندر ہونے والی سرگرمیوں / کاموں اور اعمال کی وجہ سے دوسری ریاستوں کو اہم سرحدی نقصان پہنچانے سے روکنے کا پابند کرتا ہے۔ اسی طرح، ”منصفانہ اور مناسب استعمال“ کا اصول، جو 1997 کے اقوام متحدہ کے عالمی پانی کے بہاؤ کی آمد و رفت والی (نیویگیشنل) کے علاوہ استعمالات کے بارے میں کنونشن (UNWC) میں شامل ہے، اس میں ایسے اقدامات کی بروقت اطلاع دینا ضروری ہوتا ہے جو اسی دریا یا پانی سے متعلقہ دوسرے ملک پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ بھارت کا غیر علانیہ پانی چھوڑنا، یا مرالہ کے اوپر پانی کو کم زیادہ کرنا یہ سیدھا سیدھا ان بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

دوسرا یہ کہ سندھ طاس معاہدے میں یک طرفہ معطلی یا ختم کرنے کی کوئی شق موجود نہیں ہے۔ آرٹیکل XII ( 4 ) واضح طور پر کہتا ہے کہ معاہدہ ”اس وقت تک نافذ رہے گا جب تک دونوں حکومتوں کے درمیان اس مقصد کے لیے باقاعدہ تصدیق شدہ معاہدے کے ذریعے ختم نہ کیا جائے۔“ پاکستان کے نقطہ نظر سے، سندھ طاس معاہدے کو یک طرفہ طور پر ختم نہیں کیا جاسکتا اور یہ پہلے کی طرح ہی مکمل طور پر نافذ ہے۔

بین الاقوامی قانون اور ذمہ داریاں :

اگرچہ بھارت ویانا کنونشن آن دی لاء آف ٹریٹیز (VCLT) پر دستخط کرنے والا نہیں ہے، لیکن اس کی شقیں، خاص طور پر آرٹیکل 60 (مادی / مٹیریل خلاف ورزی) اور 62 (حالات میں بنیادی تبدیلی، یا rebus sic stantibus) ، روایتی بین الاقوامی قانون کی عکاسی کے طور پر بڑے پیمانے پر مانی جاتی ہیں اور اس طرح اس معاہدے پر دستخط کرنے کے بغیر بھی لاگو ہوتی ہیں۔ بھارت rebus sic stantibus کے تحت اپنے ان اقدامات کا جواز پیش کرنے کی کوئی بھی کوشش کرے لیکن ثبوتوں کے بغیر وہ جھوٹ اور گمراہ کرنے کے سوا کچھ نہیں ہیں۔ سندھ طاس معاہدے کی اپنی واضح خاتمے والی شق rebus sic stantibus کی دلیل کو اور بھی کمزور کرتی ہے۔

اسی طرح بھارت، عالمی سطح پر غلط اعمال کے لیے ریاستوں کی ذمہ داری کے بارے میں آرٹیکلز (رسپانسبلٹی آف اسٹیٹس فارانٹرنیشنلی رانگ فل ایکٹس (ARSIWA) پر ممکنہ انحصار اس لیے نہیں کر سکتا کیونکہ اس کے پاس صرف جھوٹے الزامات ہیں۔ بھارت نے پہلگام حملے کو براہ راست پاکستان سے منسوب کرنے کے لیے کوئی بھی حتمی ثبوت پیش نہیں کیا ہے، اپنے جوابی اقدامات کے بارے میں پاکستان کو باقاعدہ اطلاع دینے میں ناکام رہا ہے، اور سندھ طاس معاہدے کے تفصیلی تنازعہ حل کرنے والے نظام کو نظر انداز کیا ہے، جو سب ARSIWA کے تحت جائز جوابی اقدامات کے لیے پیشگی شرط ہیں۔

موسمی تبدیلی اور پانی کی تقسیم کے دیگر پہلو

یہ بحران جنوبی ایشیا میں پانی کی سخت قلت کے پس منظر میں سامنے آیا ہے، جو موسمی تبدیلی کے تیزی سے بڑھتے اثرات کی وجہ سے مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔ ہندو کش ہمالیہ (HKH) کے گلیشیئر، جو سندھ دریا کے بہاؤ کے لیے اہم ذرائع ہیں، تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس سے 2050 تک سندھ کے بہاؤ میں اہم کمی کا خطرہ ہے۔ پاکستان کے لوئر ریپیرین سندھ اور بلوچستان کے لیے اس کے اثرات ابھی خطرناک ثابت ہوں گے کیونکہ سندھ کو اکثر اپنے پانی کے حقوق لینے کے لیے مسلسل جدوجہد کرنی پڑی ہے۔ پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے ابھی تقسیم کے لیے مسائل پیدا ہوں گے۔

سندھ طاس معاہدہ، ایسی گہری ہائیڈرولوجیکل تبدیلیوں کا سامنا کرنے کے لیے بنایا ہی نہیں گیا تھا۔

سندھ طاس معاہدے کی ایک اہم خامی یہ ہے کہ اس میں ماحولیاتی بہاؤ کے بارے میں کوئی بھی باب موجود نہیں ہے، جو ڈیلٹا کی لچک اور ماحولیاتی استحکام کی اہم ضرورت کو نظر انداز کرتا ہے۔ کم شدہ ماحولیاتی بہاؤ، خاص طور پر سندھ میں کوٹری بیراج سے نیچے، ایک ماحولیاتی اور حیاتیاتی فرقوں / بائیو ڈائیورسٹی کی تباہ کاری ہوئی ہے۔ سندھ طاس کے سبھی دریاؤں کے لیے ماحولیاتی بہاؤ کو یقینی بنانا اور ڈیلٹا کو بچانا، علاقے کی ماحولیاتی صحت اور اس کے رہائشیوں کی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہے۔

ایک اور پیچیدہ عنصر پاکستان میں صوبوں کے درمیان پانی کا طویل چلنے والا تنازعہ ہے، خاص طور پر سندھ اور پنجاب کے درمیان۔ یہ تنازعات 1947 کی تقسیم سے پہلے کے ہیں، جس میں سندھ، نچلا دریائی صوبہ ہونے کی وجہ سے، تاریخی طور پر پنجاب کے بالائی آبپاشی منصوبوں سے نقصان سہتا رہا ہے۔ اگرچہ 1945 کے معاہدے میں سندھ کے پانی کے حقوق کو اولیت دے کر اس تنازعہ کو حل کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن تقسیم کے بعد وہ غیر موثر ہو گیا۔ 1991 کے واٹر اپورشنمنٹ ایکارڈ (WAA) کا مقصد صوبائی حصوں کو باقاعدہ بنانا تھا، لیکن اس کی تشریح اور عمل درآمد کے بارے میں تنازعات برقرار ہیں۔

بھارت کی سندھ طاس معاہدے کی معطلی سے ان اندرونی کشیدگیوں میں مزید شدت آنے کا امکان ہے، جس سے پاکستان کے اندر ”پانی کے تنازعات“ کو بڑھاوا مل سکتا ہے۔

آگے کا راستہ

موجودہ کشیدگی کے کئی اہم اور گہرے اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔ بھارت کے لیے، ایک یک طرفہ، عالمی طور پر ثالثی شدہ اور ضمانت شدہ معاہدے کی خلاف ورزی کرنا، اسے ایک غیر ذمہ دار ملک کی حیثیت سے ظاہر کرتا ہے اور اس کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔ پاکستان کی طرف سے، جو اپنی زرعی معیشت کے لیے سندھ طاس پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، بھارت کا یہ عمل ”پانی کو ہتھیار بنانا“ کے طور پر دیکھا گیا ہے۔ یہ عمل ایک وجودی خطرہ پیدا کرتا ہے اور حادثاتی طور پر کشیدگی بڑھانے کا سبب ہو سکتا ہے۔ معطلی سے اہم ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا / پانی کے بارے میں معلومات کا تبادلہ بھی رکا ہوا ہے جس سے پاکستان کو موسمی تبدیلی سے یا اس کے علاوہ بھی اپنے پیشگی وارننگ سسٹم کو بہت بہتر کرنا پڑے گا۔

وسیع اثرات کے علاوہ، بھارت کے اقدامات نے پاکستان کی پانی کی ساخت پر براہ راست اثر ڈالا ہے۔ بھارت چناب دریا سے پانی کے بہاؤ کو بہت کم کرتا یا اچانک چھوڑتا رہا ہے۔ یہ اچانک تبدیلیاں نہ صرف سیلاب کے خطرات کو بڑھاتی ہیں بلکہ خریف کی فصلوں اور مجموعی زرعی پیداوار پر بھی سخت اثر ڈالتی ہیں۔

سندھ طاس معاہدے کی یہ نئی حقیقت، جس میں بھارت نے مکمل بے اصولی سے اسے اپنے طور پر معطل کیا ہے، اس بات کو اجاگر کرتی ہے کہ کیسے ایک ہی وقت میں مضبوط تنازعہ روکنے والے نظام جغرافیائی سیاسی کشیدگی کی وجہ سے کمزور ہو سکتے ہیں۔ آگے کا راستہ فوری سفارتی اور عالمی کوششوں میں ہی ہے جس میں عالمی بینک، اہم ثالث کی حیثیت سے، معاہدے کی حفاظت کے لیے دونوں فریقین کو دوبارہ مذاکرات کی طرف لانے کے لیے راضی کر سکتا ہے۔ اس کے لیے بینک کو فوری اور بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

حل کی ضرورت

کشیدگی کم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بھارت معطلی والی بات سے پیچھے ہٹے پھر دوسرے تعمیری راستے کھولے جائیں۔

سندھ طاس معاہدہ، سفارتی لچک کی علامت، اب ایک خطرناک موڑ پر کھڑا ہے۔ اس کا مستقبل اور علاقائی امن و استحکام آپس میں گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ دونوں ملکوں میں اب جنگ کی خطرناک للکاروں سے نکل کر امن کی تلاش انتہائی ضروری ہے۔ یہی واحد راستہ ہے۔ دونوں ملکوں کے پونے دو ارب لوگوں کی زندگیوں کو خطرے سے باہر نکال سکتا ہے۔ مذاکرات کی طرف لوٹنا، بین الاقوامی قانون کی پاسداری، اور موسمی تبدیلی کے لچکدار پانی کے انتظام کے لیے مشترکہ ویژن جنوبی ایشیا کے مستقبل کے لیے نہ صرف ضروری ہیں، بلکہ وہ اٹل ہیں۔ جنگ تباہی کے سوا کچھ نہیں ؛ دو ایٹمی ملکوں کی جنگ قیامت جیسی ہی ہو گی۔

(اس مضمون کے لیے ریشاب باجوریہ کے بلاگ جو 27 مئی کو عالمی قوانین کے یورپی جرنل EJIL:Talk میں چھپا، اس کی اور دیگر تحقیقات کی مدد لی گئی)

Facebook Comments HS