تقسیم کرو اور حکومت کرو: ایک پالیسی، ایک زہر


تاریخ کی ورق گردانی سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ ”تقسیم کرو اور حکومت کرو“ کی پالیسی محض ایک سیاسی حکمتِ عملی نہیں بلکہ ایک طویل المدتی ذہنی منصوبہ بندی تھی، جسے پہلے منگولوں اور بازنطینیوں نے اپنایا اور پھر انگریزوں نے برصغیر میں اس کو کمال مہارت سے لاگو کیا۔ انہوں نے صرف زمینوں کو نہیں بلکہ انسانوں کے اذہان، زبانوں، اور نظریات کو بھی تقسیم کیا۔ مسلمانوں کی طاقت کو توڑنے کے لیے ان ہی کے لوگوں کو دولت، شہرت اور اقتدار کا لالچ دے کر اصل مقصد سے دور کیا گیا۔ برصغیر میں کچھ حملہ آور آئے، لوٹا اور چلے گئے، کچھ نے حکومتیں قائم کیں، لیکن مسلمان حکمرانوں نے جب بھی حکومت کی، کم از کم قانون، مذہب اور زبان کی سطح پر تفریق سے گریز کیا۔

انگریزوں نے جب برصغیر میں قدم رکھا، تو سو سالہ منصوبہ بندی کے ساتھ ایک نفسیاتی جنگ کا آغاز کیا۔ یہ جنگ میدانِ جنگ میں نہیں، بلکہ ذہنوں میں لڑی گئی۔ ان کا مقصد ہندوستانیوں کو ترقی دینا نہیں تھا، بلکہ انہیں اس حد تک الجھانا تھا کہ وہ اپنی پہچان، زبان، ثقافت اور اتحاد کو فراموش کر بیٹھیں۔

انگریزوں نے نہ صرف جغرافیائی بلکہ لسانی اور مذہبی تقسیم کو بھی فروغ دیا۔ انہوں نے زبانوں کو لڑا دیا، لہجوں کو کمتر و برتر بنا دیا، اور مذہب کو سیاست کا ہتھیار بنا دیا۔ آج ہمیں اگر اپنی زبان میں کوئی ہندی الاصل لفظ سنائی دے تو ہمیں فوراً زبان پر ”خطرہ“ محسوس ہوتا ہے، جیسے ہماری شناخت چھن جائے گی۔ لیکن انگریزی کا کوئی بھی لفظ اگر روزمرہ میں استعمال ہو تو وہ ترقی، مہذب ہونے، اور تعلیم یافتہ ہونے کی علامت بن جاتا ہے۔

گیارہویں جماعت میں انگریزی کی کلاس کے دوران ایک طالبعلم نے جب لفظ ”شکتی“ استعمال کیا تو ہماری میم نے فوراً روکتے ہوئے سونیا گاندھی کا وہ جملہ دہرایا جو اُس نے ایک انٹرویو میں کہا تھا ”ایک دن ایسا آئے گا جب پاکستانی قوم کے بچے بچے کی زبان پر ہندی الفاظ ہوں گے۔“

میم کہا کرتی تھیں ”میرے بچے اگر انگریزی بولیں تو مجھے فرق نہیں پڑتا، لیکن اگر وہ ہندی بولیں تو مجھے سونیا گاندھی کے الفاظ یاد آتے ہیں۔“ یہ جملے صرف کسی استاد کی رائے نہیں تھے، بلکہ اس ذہنی غلامی کی جھلک تھے جو ہمیں ورثے میں ملی۔

آج جب میرے کزن نے کھانے کو ”بھوجن“ کہا تو گھر کی خواتین نے اسے خوب ڈانٹا ”بھوجن کیا ہے؟ کھانا نہیں کہہ سکتے؟“ حالانکہ یہی خواتین ”لنچ“ اور ”ڈنر“ جیسے الفاظ بلا جھجک بولتی ہیں، اور تب انہیں اپنی زبان کے مرنے کا کوئی دکھ محسوس نہیں ہوتا۔ بلکہ خود کو پڑھا لکھا اور باوقار سمجھتی ہیں۔

المیہ یہ ہے کہ ہمیں اپنی زبان میں لفظوں کا خاتمہ ہندی، پنجابی، یا دیگر علاقائی زبانوں کے الفاظ کے اضافے سے نظر آتا ہے، جبکہ اصل خطرہ انگریزی الفاظ کے اس طوفان سے ہے جو ہماری زبان کی جڑیں کھوکھلی کر رہا ہے۔ اردو بولتے ہوئے اگر پنجابی یا سندھی کا کوئی لفظ شامل ہو جائے تو اسے ”ناخالص“ اردو کہہ کر رد کر دیا جاتا ہے، لیکن اگر ہم ”presentation“ ، ”project“ ، ”goal“ یا ”deadline“ جیسے الفاظ استعمال کریں تو وہ ذہانت، مہارت اور شائستگی کی علامت بن جاتے ہیں۔

ہمارے ایوانوں میں اردو قومی زبان ہونے کے باوجود انگریزی کو فوقیت حاصل ہے، مگر علاقائی زبانوں پر خاموش قدغن لگا دی گئی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے اردو کا اصل دشمن کوئی اور زبان نہیں، صرف وہ زبانیں ہیں جو ”اپنی“ ہیں۔ ہندی، پنجابی، سرائیکی، پشتو، بلوچی۔ جنہیں بولنے سے ہم کمتر لگنے لگتے ہیں، اور انگریزی بولنے سے برتر۔

اصل دکھ یہ نہیں کہ ہم انگریزی بولتے ہیں، دکھ یہ ہے کہ ہم اپنی زبان بولتے ہوئے شرمندہ ہوتے ہیں۔ دکھ یہ ہے کہ ہم اپنی شناخت سے ڈرتے ہیں، اور دوسروں کی شناخت اوڑھ کر جینے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔

ہمیں سوچنا ہو گا کہ زبان صرف اظہار کا ذریعہ نہیں، یہ ایک قوم کی پہچان، تہذیب، اور روح ہوتی ہے۔ اگر زبان پر حملہ ہو تو محض الفاظ نہیں چھنتے بلکہ نسلیں، سوچیں اور احساسات چھن جاتے ہیں۔

Facebook Comments HS